آواز دی وائس : نئی دہلی
مدارس کا تعلیمی نظام اور درس نظامی کا نصاب ایک عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا مدارس میں آج بھی وہی نصاب پڑھایا جا رہا ہے جو دو یا تین صدی پہلے مرتب کیا گیا تھا۔ کیا وقت کے بدلتے تقاضوں کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یا یہ صرف ایک عام تاثر ہے۔انہی اہم سوالات کے جواب جاننے کے لیے دین اور دنیا کے اس خصوصی پوڈکاسٹ میں ممتاز نوجوان تاریخ داں ثاقب سلیم نے معروف محقق اور جامعہ ہمدرد کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے استاد وارث مظہری سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔
گفتگو میں برصغیر کے مدارس کے مختلف نظام ہائے تعلیم۔ درس نظامی کی تاریخ۔ دیوبندی بریلوی اہل حدیث شیعہ اور ندوۃ العلماء کے نصاب کے درمیان فرق۔ نیز وقت کے ساتھ نصاب میں ہونے والی تبدیلیوں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات کے امکانات پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

سوال:برصغیر کے مدارس میں سب سے زیادہ رائج نصاب کون سا ہے؟
جواب:برصغیر میں مدارس کی سب سے بڑی اور معروف جماعت وہ ہے جہاں درس نظامی پڑھایا جاتا ہے۔ یہ نصاب تقریباً 250 سے 300 سال پہلے ملا نظام الدین سہالوی نے مرتب کیا تھا اور انہی کے نام کی نسبت سے اسے درس نظامی کہا جاتا ہے۔ دیوبندی اور بریلوی مدارس کی تقریباً 95 فیصد تعداد اسی نصاب پر عمل کرتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں بھی بنیادی طور پر یہی نصاب رائج ہے۔
سوال:کیا برصغیر کے تمام مدارس درس نظامی ہی پڑھاتے ہیں؟
جواب:نہیں۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے۔ ندوۃ العلماء کے بہت سے مدارس۔ اہل حدیث کے متعدد مدارس۔ شیعہ مدارس۔ جامعۃ الاصلاح۔ جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ اور جنوبی ہندوستان کے کئی مدارس کا درس نظامی سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ ان کے اپنے الگ نصاب اور تعلیمی نظام ہیں۔
سوال:درس نظامی کی عمر کتنی ہے اور اس کی بنیادی خصوصیت کیا ہے؟
جواب:درس نظامی کی عمر تقریباً ڈھائی سے تین سو سال ہے۔ اس میں شامل بیشتر کتابیں قرون وسطیٰ میں لکھی گئی تھیں۔ ان میں منطق۔ فلسفہ۔ اصول فقہ اور دیگر علوم کی کتابیں شامل ہیں۔ اسی وجہ سے بعض حلقوں کی جانب سے اس نصاب پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔
سوال:درس نظامی پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟
جواب:ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نصاب اپنے دور کی ضروریات کو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیا تھا۔ اس وقت مغلیہ حکومت قائم تھی اور ایسے افراد تیار کرنے کی ضرورت تھی جو سرکاری انتظامیہ اور علمی میدان میں خدمات انجام دے سکیں۔ اسی مقصد کے تحت نصاب کی تشکیل کی گئی تھی۔
سوال:اس زمانے میں نصاب میں کن علوم کو زیادہ اہمیت دی گئی تھی؟
جواب:اس دور میں درس نظامی میں معقولات یعنی عقلی علوم کو زیادہ اہمیت دی گئی تھی۔ منطق۔ فلسفہ اور دیگر عقلی علوم کی متعدد کتابیں نصاب کا حصہ تھیں۔ اس کے مقابلے میں حدیث۔ تفسیر اور فقہ جیسے بنیادی دینی علوم کی کتابوں کی تعداد نسبتاً کم تھی۔
سوال:معقولات یا عقلی علوم سے کیا مراد ہے؟
جواب:معقولات سے مراد وہ علوم ہیں جو عقل اور استدلال پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثلاً منطق۔ فلسفہ۔ علم کلام اور ایسے دیگر مضامین جن کے ذریعے طالب علم کی فکری اور استدلالی صلاحیت کو مضبوط بنایا جاتا تھا۔

سوال:ابتدائی درس نظامی میں کون سے علوم شامل تھے؟
جواب:ابتدائی درس نظامی میں منطق اور فلسفے کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ یونانی منطق اور فلسفے کی متعدد کتابیں نصاب کا حصہ تھیں۔ اس کے علاوہ ریاضی۔ فلکیات اور طب جیسے مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ اس دور میں دینی علوم کے ساتھ عقلی اور سائنسی علوم کو بھی نصاب میں نمایاں مقام حاصل تھا۔
سوال:کیا آج بھی درس نظامی میں یہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں؟
جواب:نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ نصاب میں مسلسل تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ منطق۔ فلسفہ۔ ریاضی۔ فلکیات اور طب سے متعلق بہت سی کتابیں آہستہ آہستہ نصاب سے نکال دی گئیں۔ عام لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ آج کا درس نظامی وہی ہے جو تین سو سال پہلے تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں وقتاً فوقتاً کئی اصلاحات اور تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔ البتہ اس کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی برقرار ہے۔ اسی لیے اسے آج بھی درس نظامی کہا جاتا ہے۔
سوال:آج کے مدارس میں ریاضی۔ فلکیات اور طبیعیات کس حد تک پڑھائی جاتی ہیں؟
جواب:موجودہ درس نظامی میں ریاضی۔ فلکیات یا طبیعیات جیسے مضامین شامل نہیں ہیں۔ عربی کی باقاعدہ تعلیم شروع ہونے سے پہلے چند ابتدائی درجات میں فارسی۔ اردو اور بعض بنیادی مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد جو سات یا آٹھ سالہ درس نظامی کا نصاب دیوبندی اور بریلوی مدارس میں رائج ہے اس میں فلکیات۔ طبیعیات یا ریاضی کو باقاعدہ مضمون کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا۔
سوال:اگر پہلے یہ مضامین نصاب کا حصہ تھے تو انہیں کیوں نکالا گیا؟
جواب:اگر صرف ہندوستان کی بات کی جائے تو سلطنت اور مغلیہ دور میں یہ تمام علوم مدارس کے نصاب میں شامل تھے۔ بعد میں مختلف تعلیمی ضروریات کے پیش نظر انہیں بتدریج کم کیا گیا اور آخرکار بیشتر مضامین نصاب سے خارج ہو گئے۔
سوال:دارالعلوم دیوبند کے قیام کے وقت نصاب میں کیا تبدیلیاں کی گئیں؟
جواب:جب 1866 میں دارالعلوم دیوبند قائم ہوا اور اس کا نصاب مرتب کیا گیا تو اس میں بھی بعض عقلی اور سائنسی علوم کو کم یا ختم کر دیا گیا۔ اس پر اس وقت اعتراضات بھی سامنے آئے۔ بعض اہل علم کا کہنا تھا کہ نیا نصاب اس قدیم علمی روایت سے مختلف ہے جو برصغیر میں مدتوں سے رائج تھی اور جس میں ریاضی۔ فلکیات۔ طب اور دیگر عقلی علوم کو بھی اہم مقام حاصل تھا۔

سوال:دارالعلوم دیوبند کے قیام کے وقت جدید علوم کو نصاب سے الگ کرنے کی وجہ کیا تھی؟
جواب:مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا موقف یہ تھا کہ اس وقت برطانوی حکومت نے دینی نظامِ تعلیم کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی ضرورت یہ تھی کہ پہلے دینی تعلیم کی گرتی ہوئی بنیاد کو مضبوط کیا جائے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اس وقت دینی تعلیمی نظام کی دیوار گر رہی ہے۔ پہلے اس دیوار کو سہارا دینا اور مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد دوسرے علوم کو شامل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بعد کے ادوار میں یہ مرحلہ اس صورت میں سامنے نہیں آ سکا جس کی توقع کی گئی تھی۔
سوال:کیا بعد میں مدارس میں جدید علوم کو دوبارہ شامل کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی؟
جواب:جی ہاں۔ وقت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوا کہ ریاضی۔ طبیعیات۔ جدید سائنس۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی جیسے مضامین کی بھی ضرورت ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اثر سے پورے ہندوستان میں دیوبندی طرز کے مدارس تیزی سے قائم ہوئے۔ اس کے بعد علما اور دانشوروں کے ایک طبقے نے محسوس کیا کہ اگرچہ دینی تعلیم مضبوط ہو گئی ہے لیکن جدید تعلیم کے میدان میں ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔اس زمانے میں یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ اچھے اسکول اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں تاکہ مسلم معاشرے کی بڑی اکثریت جدید تعلیم بھی حاصل کر سکے۔ ساتھ ہی یہ رائے بھی سامنے آئی کہ مدارس کے نصاب میں ایسی تبدیلیاں ہونی چاہئیں جن سے ایسے علما تیار ہوں جو مسجد اور مدرسے کے ساتھ ساتھ جدید معاشرے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
سوال:اسی سوچ کے نتیجے میں کون سے ادارے وجود میں آئے؟
جواب:اسی فکر کی بنیاد پر ندوۃ العلماء جیسے ادارے قائم ہوئے۔ علما کے ایک طبقے نے محسوس کیا کہ ایسا نصاب تیار ہونا چاہیے جو ایک طرف اسلامی علمی روایت سے پوری طرح وابستہ ہو اور دوسری طرف جدید دور کے تقاضوں کو بھی پورا کرے۔
سوال:علامہ شبلی نعمانی کا اس حوالے سے کیا تصور تھا؟
جواب:علامہ شبلی نعمانی کی خواہش تھی کہ ایسا مدرسہ قائم ہو جس کا ایک حصہ مشرقی علوم پر مشتمل ہو اور دوسرا حصہ مغربی علوم پر۔ ان کے نزدیک دینی روایت اور جدید علوم کا امتزاج ہی بہترین تعلیمی ماڈل تھا۔ انہوں نے ندوۃ العلماء کو اسی تصور کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی۔
سوال:کیا شبلی نعمانی اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوئے؟
جواب:بعد کے زمانے میں خود شبلی نعمانی کو یہ شکایت رہی کہ ندوۃ العلماء اس سمت میں مکمل طور پر آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کے بقول افسوس کی بات یہ ہے کہ ندوۃ العلماء بھی رفتہ رفتہ دیوبند کی طرز پر چلنے لگا اور وہ منفرد تعلیمی ماڈل پوری طرح تشکیل نہ پا سکا جس کا وہ خواب دیکھ رہے تھے۔
سوال:مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن وہ زیادہ کامیاب کیوں نہ ہو سکیں؟
جواب:یہ واقعی ایک اہم سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ علامہ شبلی نعمانی۔ عبیداللہ سندھی۔ مولانا وحید الدین خان اور دوسرے متعدد اہل علم نے وقتاً فوقتاً مدارس کے نصاب میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ بعض ادارے بھی قائم ہوئے لیکن ان کوششوں کا اثر اتنا وسیع نہ ہو سکا جتنا روایتی مدارس کے نظام کا رہا۔ اس کی ایک بڑی وجہ دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی ماڈل کا غیر معمولی اثر اور مقبولیت تھی جس نے پورے برصغیر میں گہرا اثر چھوڑا۔
سوال:کیا دارالعلوم دیوبند کے بانیوں کا یہ تصور تھا کہ نصاب ہمیشہ کے لیے تبدیل نہیں ہوگا؟
جواب:ہرگز نہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے اکابر خصوصاً مولانا محمد قاسم نانوتوی کا یہ تصور نہیں تھا کہ جو نصاب اس وقت مرتب کیا جا رہا ہے وہ قیامت تک اسی صورت میں باقی رہے گا۔ ان کے نزدیک یہ اپنے دور کی ضرورت کے مطابق تیار کیا گیا نصاب تھا۔ وہ اسے کوئی مقدس یا ناقابلِ ترمیم چیز نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرے کی ضروریات کے مطابق نصاب میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ البتہ دینی تعلیم کی روح اور بنیادی مقاصد محفوظ رہنے چاہئیں۔
سوال:پھر بعد میں نصاب میں تبدیلی کیوں مشکل ہو گئی؟
جواب:وقت گزرنے کے ساتھ نصاب پر ایک طرح کا تقدس طاری ہو گیا۔ بعد کی نسلوں نے یہ سوچ اختیار کر لی کہ چونکہ ہمارے اکابر نے یہی نصاب مرتب کیا تھا اور اسی کے ذریعے بڑے بڑے علما پیدا ہوئے اس لیے اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ نتیجتاً اصلاح کی ہر تجویز کو احتیاط یا مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
سوال:مدارس میں اصلاحات کی مخالفت کرنے والوں کی بنیادی دلیل کیا ہوتی ہے؟
جواب:عموماً یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اسی نصاب نے ماضی میں عظیم علما اور علمی شخصیات پیدا کیں۔ اس لیے اسے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس رائے کی حمایت کرنے والے بہت سے افراد خود مدارس میں تعلیم حاصل نہیں کر چکے ہوتے لیکن وہ بھی موجودہ نصاب کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔ یہی سوچ مدارس میں اصلاحات کی بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

سوال:مدارس میں اصلاحات کی مخالفت کرنے والوں کی سوچ کہاں سے آتی ہے؟
جواب:حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر رائے دینے والے بہت سے لوگ مدارس کی روایت۔ نصاب۔ مزاج اور تعلیمی نظام سے واقف نہیں ہوتے۔ جب تک کوئی شخص مدارس کی پوری علمی روایت اور اس کے پس منظر کو نہ سمجھے اس کے لیے اس پر متوازن رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ دوسری طرف جو لوگ مدارس کو قریب سے جانتے ہیں وہ عموماً اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مدارس نے ماضی میں بھی اور آج بھی مسلم معاشرے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی رائے یہ نہیں ہوتی کہ مدارس ختم کر دیے جائیں بلکہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر اور زیادہ مؤثر بنایا جائے۔
سوال:کیا پرانے نصاب کو ہمیشہ برقرار رکھنا درست ہے؟
جواب:ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ امام غزالی۔ ابن تیمیہ۔ ابن رشد۔ ابن سینا اور فارابی کے زمانے کے علوم آج اسی شکل میں نہیں پڑھائے جا سکتے۔ انیسویں صدی میں جب دارالعلوم دیوبند قائم ہوا تو دنیا کا تعلیمی نظام بھی مختلف تھا۔ آج سائنس۔ ٹیکنالوجی۔ مصنوعی ذہانت اور جدید تحقیق نے علم کی دنیا کو بدل دیا ہے۔ اس لیے نصاب میں بھی وقت کے مطابق تبدیلیاں ضروری ہیں۔ البتہ دینی تعلیم کی روح اور بنیادی مقصد برقرار رہنا چاہیے۔
سوال:کیا مدارس کا مقصد ڈاکٹر اور انجینئر تیار کرنا ہے؟
جواب:نہیں۔ مدارس کا بنیادی مقصد ایسے علما تیار کرنا ہے جو قرآن۔ حدیث۔ فقہ۔ اصول فقہ اور دیگر دینی علوم پر گہری نظر رکھتے ہوں۔ ڈاکٹر۔ انجینئر یا دوسرے پیشہ ور افراد تیار کرنا مدارس کی اصل ذمہ داری نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ضروری ہے کہ علما جدید معاشرے کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
سوال:کیا آج بھی اتنی ہی بڑی تعداد میں علما کی ضرورت ہے جتنی ماضی میں تھی؟
جواب:یہ ایک اہم سوال ہے۔ برطانوی دور میں دینی تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچا تھا اس لیے بڑی تعداد میں علما تیار کرنا وقت کی ضرورت تھی تاکہ اس خلا کو پُر کیا جا سکے۔ لیکن 1947 کے بعد حالات بدل گئے۔ مدارس کی تعداد تیزی سے بڑھی اور ملک کے تقریباً ہر علاقے میں مدارس قائم ہو گئے۔
سوال:دینی اور عصری تعلیم کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:دینی اور دنیاوی تعلیم کی یہ تقسیم بنیادی طور پر درست نہیں ہے۔ اگر کوئی طالب علم سائنس۔ فلسفہ۔ طب۔ انجینئرنگ یا دیگر جدید علوم اپنے مذہبی تشخص اور اخلاقی اقدار کے ساتھ حاصل کرتا ہے تو یہ بھی ایک دینی خدمت ہے۔ اسلام جدید علوم کے حصول سے منع نہیں کرتا بلکہ انہیں مفید مقصد کے لیے استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ آپ کو بتا دوں کہ بہت سے مسلم ممالک میں مختلف ماڈل اختیار کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا میں نہضۃ العلماء ہزاروں اسکول بھی چلاتی ہے۔ وہاں دینی اداروں نے صرف مدارس تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جدید تعلیمی ادارے بھی قائم کیے ہیں۔
سوال:کیا ہندوستان کے مدارس بھی اسکول اور جدید تعلیمی ادارے قائم کر سکتے ہیں؟
جواب:یقیناً کر سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ ذہنیت کا ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ زکوٰۃ اور عطیات صرف مدارس کو دینے چاہئیں جبکہ اگر دینی ادارے اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اسکول۔ کالج۔ اسپتال اور دیگر عوامی فلاحی ادارے قائم کریں تو یہ بھی اتنی ہی اہم خدمت ہوگی۔ آپ دیکھئے ! گجرات میں اشاعت العلوم جیسے اداروں نے انجینئرنگ کالج اور میڈیکل کالج قائم کیے ہیں۔ اس طرح کی مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ مدارس اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے جدید تعلیمی ادارے بھی کامیابی سے چلا سکتے ہیں۔ اگر اس ماڈل کو فروغ دیا جائے تو مسلم معاشرے کی تعلیمی اور سماجی ضروریات زیادہ بہتر انداز میں پوری کی جا سکتی ہیں۔
سوال:کیا ماضی میں مدارس میں ہنر مندی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی؟
جواب:تاریخی طور پر بعض مدارس میں کتابوں کی جلد سازی۔ درزی کا کام۔ کڑھائی۔ جوتے بنانے اور دیگر پیشہ ورانہ ہنر بھی سکھائے جاتے تھے تاکہ طلبہ صرف امامت یا تدریس پر منحصر نہ رہیں بلکہ اپنے لیے باعزت روزگار بھی حاصل کر سکیں۔ آج کے دور میں بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس جدید اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام متعارف کرائیں تاکہ فارغین دینی خدمات کے ساتھ مختلف پیشہ ورانہ میدانوں میں بھی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مدارس کے بانیوں کے پیش نظر یہ بات تھی کہ فارغ ہونے والے طلبہ کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے نصاب کے ساتھ کچھ ہنر بھی شامل کیے تھے۔ مثلاً کتابت۔ درزی کا کام۔ جلد سازی اور دیگر پیشہ ورانہ مہارتیں سکھائی جاتی تھیں تاکہ طلبہ دینی خدمات کے ساتھ اپنی روزی بھی کما سکیں۔

سوال:آج کے دور میں ان ہنروں کی جگہ کیا ہونا چاہیے؟
جواب:آج زمانہ بدل چکا ہے۔ ہاتھ سے کتابت کا دور ختم ہو گیا ہے۔ کتابوں کی جلد سازی بھی پہلے جیسی ضرورت نہیں رہی۔ اس لیے ان پرانے ہنروں کی جگہ کمپیوٹر۔ کوڈنگ۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی۔ اسکل ڈیولپمنٹ اور دیگر جدید پیشہ ورانہ کورسز کو شامل کیا جانا چاہیے۔ مقصد وہی ہے لیکن اس کی شکل وقت کے مطابق بدلنی چاہیے۔
سوال:کیا مدارس میں اسکل ڈیولپمنٹ کو شامل کرنا نئی بات ہوگی؟
جواب:نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی بلکہ مدارس کی اپنی قدیم روایت کا تسلسل ہوگا۔ پہلے بھی طلبہ کو عملی ہنر سکھائے جاتے تھے۔ آج صرف ان ہنروں کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال:کیا دارالعلوم دیوبند میں طب کی تعلیم بھی دی جاتی تھی؟
جواب:جی ہاں۔ ایک زمانے میں دارالعلوم دیوبند سے وابستہ طبیہ کالج بھی موجود تھا جو طلبہ کو طب کی تعلیم دیتا تھا۔ بعد میں یہ ادارہ الگ انتظام کے تحت چلنے لگا اور دارالعلوم کے مرکزی نظام کا حصہ نہیں رہا۔
سوال:مدارس میں معاشی خود کفالت کا تصور کیوں کمزور پڑ گیا؟
جواب:وقت گزرنے کے ساتھ مدارس کے نصاب میں معاشی خود کفالت اور پیشہ ورانہ تربیت کا پہلو کمزور ہوتا گیا۔ حالانکہ سلطنت اور مغلیہ دور میں نصاب اس انداز سے ترتیب دیا جاتا تھا کہ طالب علم صرف مسجد یا مدرسے تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے مختلف شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکے اور باعزت روزگار حاصل کر سکے۔
سوال:آج مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کی صورت حال کیا ہے؟
جواب:آج زیادہ تر طلبہ مدارس سے فارغ ہونے کے بعد دوبارہ مدارس میں تدریس یا مساجد میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نصاب میں جدید پیشہ ورانہ مہارتوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
سوال:کیا طب جیسے مضامین کو بھی نئے دور کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے؟
جواب:یقیناً۔ جس طرح ماضی میں یونانی طب کی اہمیت تھی ویسے ہی آج جدید میڈیکل سائنس کا دور ہے۔ اسی اصول کے تحت مدارس کو بھی اپنی بنیادی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے جدید مہارتوں اور نئے علوم کو مناسب انداز میں شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے تاکہ فارغین بدلتے ہوئے معاشرے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
سوال:کیا مدارس میں جدید طب اور سائنسی علوم کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے؟
جواب:زمانہ بدل چکا ہے۔ ماضی میں یونانی طب کی اہمیت تھی لیکن آج جدید میڈیکل سائنس کا دور ہے۔ ایم بی بی ایس۔ ایم ڈی اور دیگر جدید طبی علوم نے طب کے میدان میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کو ان شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدارس اپنا بنیادی مقصد چھوڑ دیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق نئے امکانات پیدا کریں۔
سوال:آج کی صورت حال اس سے کس طرح مختلف ہے؟
جواب:آج بہت سے دینی ادارے عوامی عطیات اور چندوں پر چلتے ہیں۔ اس صورت میں اگر کوئی منتظم یا عالم ایسی بات کہے جو عوام کو پسند نہ آئے تو اسے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ چندہ کم ہو جائے گا۔ اس طرح بعض اوقات مالی انحصار آزادانہ علمی اظہار پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جبکہ میرا ماننا ہے کہ گر مدارس میں جدید پیشہ ورانہ مہارتوں اور معاشی خود کفالت کو فروغ دیا جائے تو علما اپنی روزی کے لیے صرف چندے یا اداروں پر منحصر نہیں رہیں گے۔ اس سے وہ زیادہ خود مختار ہوں گے اور دینی خدمات بھی زیادہ آزادی اور اعتماد کے ساتھ انجام دے سکیں گے۔ یہی وہ روایت ہے جو اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
سوال:بعض اوقات علما معاشرے کی غلطیوں پر کھل کر بات کیوں نہیں کر پاتے؟
جواب:یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر کوئی عالم یا دینی ادارہ ایسی بات کرے جو عوام کو ناگوار گزرے تو اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ ادارے کی مالی معاونت متاثر ہوگی۔ چونکہ بہت سے مدارس عوامی چندوں پر چلتے ہیں اس لیے بعض اوقات منتظمین یا علما سماجی اصلاح کی بعض ضروری باتیں کھل کر نہیں کہہ پاتے۔ مالی خود کفالت کی کمی آزادانہ رائے کے اظہار میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
سوال:آپ کے نزدیک دین اور دنیا میں توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟
جواب:قرآن مجید دونوں کے درمیان توازن کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا سکھائی گئی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما۔ اسی طرح قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ دنیا میں اپنے حصے کو فراموش نہ کرو۔ یعنی انسان صرف آخرت کی فکر میں دنیا کی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہو۔
سوال:حدیث کی روشنی میں دنیا اور آخرت کا تعلق کیا ہے؟
جواب:حدیث میں دنیا کو آخرت کی کھیتی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کیے جانے والے اعمال ہی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس لیے دنیا اور دین ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔مسلمان کو اپنے معاشرے۔ اپنے ملک اور پوری انسانیت کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ جدید دور کی سائنسی۔ تعلیمی اور سماجی ترقی کے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاہیے۔ زمانے کے نئے چیلنجوں کو سمجھنا اور ان کا سامنا کرنا چاہیے۔ اسی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ دین اور دنیا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ ایک کامیاب مسلمان وہ ہے جو اپنی دینی ذمہ داریاں بھی ادا کرے اور دنیا میں بھی علم۔ اخلاق۔ خدمت اور ترقی کے میدان میں مؤثر کردار نبھائے۔ یہی قرآن اور اسلامی تعلیمات کا متوازن تصور ہے۔