دانش علی : سری نگر
سن 2018 میں ان کا سفر ایک نئی سمت میں اس وقت بڑھا جب انہوں نے نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے ساتھ کام شروع کیا۔ اس پلیٹ فارم نے انہیں نہ صرف ہنر سکھایا بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ بھی دیا۔ ہر مشکل میں دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

ان کی پہچان بنا ادھم پور کی مشہور روایتی ڈش کلاڑی۔ یہ ایک خاص دودھ سے تیار ہونے والی غذا ہے جسے جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے اور جو صرف اسی علاقے میں ملتی ہے۔ ریکھا اور منور نہایت محبت سے کلاڑی تیار کرتی ہیں اور اسے انار دانے کی چٹنی اور دیگر لذیذ مصالحوں کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ لوگ صرف اس کا ذائقہ چکھنے نہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی دیکھنے بھی آتے ہیں۔
سال 2023 میں انہوں نے اپنے اس ہنر کو باقاعدہ کاروبار کی شکل دی اور مختلف نمائشوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ جہاں بھی جاتی ہیں، ایک ساتھ جاتی ہیں، ایک ساتھ کام کرتی ہیں اور ایک ساتھ ہی واپس آتی ہیں۔ ان کی دوستی اس قدر گہری ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ انہیں صرف موت ہی جدا کر سکتی ہے۔یہ دونوں لڑکیاں صرف کاروبار تک محدود نہیں رہیں بلکہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بی ایڈ کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ ان کے خاندان بھی ہر قدم پر ان کا ساتھ دیتے ہیں جس نے ان کے حوصلے کو مزید مضبوط کیا۔
ان کی یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پورے گاؤں کی مشترکہ کوشش بھی ہے جہاں کئی خواتین مل کر کلاڑی تیار کرتی ہیں اور پھر اسے ایک ساتھ بازار تک پہنچاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ خواتین خود کفیل بھی بنیں۔
ریکھا کماری اور منور سلطانہ کی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت، دوستی اور اتحاد کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ مذہب، ذات یا فرقے سے بالاتر ہو کر اگر انسان ایک دوسرے کا ساتھ دے تو نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔