ریکھا کماری اور منور سلطانہ : ادھم پور کی بیٹیاں محبت اور بھائی چارے کی مثال

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-04-2026
ریکھا کماری اور منور سلطانہ : ادھم پور کی بیٹیاں محبت اور بھائی چارے کی  مثال
ریکھا کماری اور منور سلطانہ : ادھم پور کی بیٹیاں محبت اور بھائی چارے کی مثال

 



   دانش علی : سری نگر

ادھم پور کے ایک سادہ سے علاقے سے شروع ہونے والی یہ کہانی محبت، دوستی اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ یہاں کی دو لڑکیاں ریکھا کماری اور منور سلطانہ نے نہ صرف اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی بلکہ سماج کو ایک مضبوط پیغام بھی دیا۔ریکھا کماری کا تعلق ہندو برادری سے ہے جبکہ منور سلطانہ مسلم کمیونٹی سے وابستہ ہیں۔ مگر ان کی پہچان صرف مذہب سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ان کے اٹوٹ رشتے سے ہے۔ یہ دونوں بچپن سے ہی ایک ساتھ ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی دوستی ایک مثال بن گئی۔ لوگ انہیں دو الگ لڑکیاں نہیں بلکہ دو بہنوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔

سن 2018 میں ان کا سفر ایک نئی سمت میں اس وقت بڑھا جب انہوں نے نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے ساتھ کام شروع کیا۔ اس پلیٹ فارم نے انہیں نہ صرف ہنر سکھایا بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ بھی دیا۔ ہر مشکل میں دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

ان کی پہچان بنا ادھم پور کی مشہور روایتی ڈش کلاڑی۔ یہ ایک خاص دودھ سے تیار ہونے والی غذا ہے جسے جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے اور جو صرف اسی علاقے میں ملتی ہے۔ ریکھا اور منور نہایت محبت سے کلاڑی تیار کرتی ہیں اور اسے انار دانے کی چٹنی اور دیگر لذیذ مصالحوں کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ لوگ صرف اس کا ذائقہ چکھنے نہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی دیکھنے بھی آتے ہیں۔

سال 2023 میں انہوں نے اپنے اس ہنر کو باقاعدہ کاروبار کی شکل دی اور مختلف نمائشوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ جہاں بھی جاتی ہیں، ایک ساتھ جاتی ہیں، ایک ساتھ کام کرتی ہیں اور ایک ساتھ ہی واپس آتی ہیں۔ ان کی دوستی اس قدر گہری ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ انہیں صرف موت ہی جدا کر سکتی ہے۔یہ دونوں لڑکیاں صرف کاروبار تک محدود نہیں رہیں بلکہ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور بی ایڈ کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ ان کے خاندان بھی ہر قدم پر ان کا ساتھ دیتے ہیں جس نے ان کے حوصلے کو مزید مضبوط کیا۔

ان کی یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پورے گاؤں کی مشترکہ کوشش بھی ہے جہاں کئی خواتین مل کر کلاڑی تیار کرتی ہیں اور پھر اسے ایک ساتھ بازار تک پہنچاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ خواتین خود کفیل بھی بنیں۔

ریکھا کماری اور منور سلطانہ کی یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت، دوستی اور اتحاد کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ مذہب، ذات یا فرقے سے بالاتر ہو کر اگر انسان ایک دوسرے کا ساتھ دے تو نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔