: نئی دہلی : گئو رکشک نے فرقہ وارانہ زہر اگلا تو ایک اور گئو رکشک نے امرت چھڑک کر موقع پر ہی اس کا اثر ختم کردیا ۔ ہزاروں افراد کی بھیڑ کے سامنے انتہائی مہذب انداز میں اس نظریئے کو مسترد کردیا بلکہ یاد دلایا کہ ہم بھائی چارے کے ماحول میں رہتے آئے ہیں اور اس کو خراب نہیں ہونے دیں گے ۔
یہ واقعہ ہے راجستھان کے سیکر میں کھارا دودھوا گاؤں کا ۔ جہاں جے پرکاش کسوَا گؤشالہ میں شہیدوں کی یاد میں ایک جاگرن سبھا تھی ، جس میں ہریانہ کے ایک مہمان نے مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض باتیں کیں ۔لیکن اس کے فوراا بعد ایک آرگنائزر وکی دودھوا نے اس بیان کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی اور بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزارنے کے عزم کو دوہرایا۔ وکی دودھوا کی بے باک موقف نے اچانک ہوا کا رخ بدل دیا اور ہزاروں لوگوں نے اس کی بات پر تالیاں بجا کر نفرت کے پیغام کو دفن کردیا ۔ اب یہ جاگرن اور یہ تقریریں سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں
کیا ہوا اور کب ؟
یہ دراصل 4 اپریل کا واقعہ ہے جب وکی دودھوا نے اپنے گاوں میں شہیدوں کی یاد میں جاگرن کرایا تھا جس میں پورا میدان کچھا کچھ بھرا ہوا تھا ۔ ایک مہمان کی قابل اعتراض تقریر کے بعد جب وکی دودھوا نے مائیک ہاتھوں میں لیا تو ان کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ ۔۔۔۔۔۔ بھائی نے جو باتیں کہیں میں ان خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ یہ اس کی اپنی سمجھ ہے لیکن میں اپنے دل سے یہ کہتا ہوں کہ اگر ایسے خیالات ہوں تو میں پروگرام کینسل کر دوں گا۔جتنے بھی بھائی میری بات سے اتفاق نہیں کرتے وہ کھڑے ہو کر جاگرن سےجا سکتے ہیں۔ میں ہندو مسلم بھائی چارے کے ساتھ رہنے والا انسان ہوں۔ میں نے کسی کے لیے بھی برا نہیں کہا اور نہ ہی کسی کو برا کہنا چاہیے۔ہمارا گاؤں جس طرح پیار اور محبت سے چلتا ہے میں اسے ویسے ہی رکھنا چاہتا ہوں۔ کسی کو بھی جانا ہو وہ جا سکتا ہے ۔۔۔
وکی دودھوا نے اسٹیج سے واضح طور پر کہا کہ وہ ایسے خیالات سے متفق نہیں ہیں جو سماج میں نفرت پھیلائیں۔اس واقعہ کے بعدمختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں کچھ افراد نے وکی دودھوا کے موقف کی مخالفت کی جبکہ بڑی تعداد میں لوگ ان کی حمایت میں سامنے آئے۔ وکی کے ساتھیوں اور پروگرام کے منتظمین نے وضاحت کی کہ اسٹیج پر آنے والے مہمانوں کا انتخاب اجتماعی طور پر کیا گیا تھا اور وکی کا کردار صرف مہمانوں کے استقبال تک محدود تھا۔
گئو رکشامیں شامل مسلمان
جب وکی دودھوا نے اس نظریئے کے خلاف مائیک سنبھالا تو اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ گؤ سیوا کے کام میں ہندو اور مسلمان دونوں برابر کے شریک ہیں۔ مقامی سطح پر کئی مسلمان نوجوان گؤشالہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور مختلف طریقوں سے تعاون بھی کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گاؤ سیوا کو کسی ایک مذہب تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وکی دودھوا اور ان کے حامیوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ایک فرد کی غلطی کو پورے سماج سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ وکی دودھوا نے اپنے پیغام میں کہا کہ اختلاف رائے ہونا فطری بات ہے لیکن اس کی بنیاد پر نفرت یا بدتمیزی کوفروغ دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے گاؤں میں ہندو مسلم بھائی چارے کو ہر حال میں برقرار رکھیں گے اور اسی راستے پر آگے بڑھیں گے۔۔
حمایت اور ساتھ
اس واقعہ کے بعد وکی دودھوا کی حمایت میں سوشل میڈیا پر اسی خطہ کے نوجوان آگئے ۔ جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھائی چارہ سب سے اہم ہے ۔ ایسی ہی ایک ویڈیو میں ہریانہ جھر جھر کے راہل چھاہر نامی شخص کہتے ہیں کہ--- میں بھی اس جاگرن میں موجود تھا ۔ یہ سچ ہے کہ مقامی مسلمان گئو شالہ میں ہندووں کے ساتھ خدمت کررہے ہیں ۔ وہاں ایک مسلمان بھائی دن رات گاؤں کی خدمت کرتا ہے اور وکی کا ساتھ دیتا ہے۔ صرف ایک نہیں بلکہ کئی مسلمان بچے جو کالج اور اسکول میں پڑھتے ہیں وہ بھی گاؤ سیوا کرتے ہیں۔ تارا نگر میں جاوید بھائی پرنٹنگ کا کام کرتے ہیں وہ فلیکس لگاتے ہیں اور خدمت کے جذبے سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے شہیدوں کے فلیکس بھی بنائے۔ 135 گاؤں کی مٹی آئی تھی جن میں مسلمان بھی شامل تھے۔ آپ گاؤ سیوا کی مہم چلا رہے ہیں تو آپ کو لوگوں کو جوڑنا چاہیے نہ کہ ان کے خلاف کرنا چاہیے۔
راجستھان بھائی چارے کی زمین ہے اسے بچاؤ۔ یہاں سب مل کر رہتے ہیں اور یہی اس کی پہچان ہے۔ہمارا ملک ایک بڑا خاندان ہے۔ اگر ہم مذہب اور ذات کے نام پر تقسیم ہوں گے تو دشمنوں کے لیے آسان ہوجائے گا۔اگر دہشت گرد مذہب پوچھ کر ماریں تو ہم بھی ویسا ہی کریں گے کیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ہمارے ملک کی بیٹی کرنل صوفیہ قریشی نے بھی ملک کے لیے کام کیا وہ مسلمان تھیں۔ اگر کسی بے گناہ مسلمان کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو ہندو بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
ہر مذہب میں اچھے اور برے لوگ ہیں
ایک اور نوجوان نے بھی جس کا نام راہل پرلکا ہے ایک ویڈیو میں کہا کہ ۔۔۔ گئو رکشک صرف ہندو نہیں بلکہ مقامی سطح پر مسلمان بھی ساتھ ساتھ ہیں ۔اس لیے ایسی کسی زہر افشانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جس سے ماحول خراب ہو ۔ ہم گاؤ سیوک ہیں اور ہمارا مقصد صرف گاؤ سیوا کرنا ہے۔ جو بھی اس کام میں لگا ہوا ہے وہ سیدھے طریقے سے یہ کام کر رہا ہے۔جہاں تک مذہب کی بات ہے تو ہر سماج میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ کسی ایک کی بات کو لے کر پورے سماج کو بدنام نہیں کرنا چاہیے۔ جو بھی لوگ گاؤ سیوا کر رہے ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں ان کا احترام کرنا چاہیے۔مسلمان سماج بھی ساتھ دے رہا ہے اور ہندو سماج بھی ساتھ دے رہا ہے اور یہی سب سے بڑی بات ہے۔
ابھی اس واقعہ پر سوشل میڈیا پر زبردست بحث جاری ہے ۔جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا تھا وہ اس وقت تو غلطی مان کر واپس چلے گئے تھے لیکن اس کے بعد ہریانہ سے وکی دودھورا کو دھمکیاں دینے لگے ۔ اس کے بعد ایک اور ویڈیو میں وکی نے کہا کہ ۔۔۔۔ یہ ہمارا اپنا گاؤں ہے، ہم ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ دن رات ساتھ کھاتے ہیں اور ساتھ رہتے ہیں۔یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے،یہ ایک مثال ہے کہ یہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ہیں۔جاگرن میں بھی سب ساتھ ہوتے ہیں۔اور دوسرے کاموں میں بھی مسلمان بھائی اپنا پورا تعاون دیتے ہیں۔
بہرحال راجستھان کے دودھوا گاوں کے ایک نوجوان کی بے باکی نے ایک مثال قائم کردی ۔جو فرقہ پرستی کا بیج بونے آئے تھے لیکن خالی ہاتھ لوٹ گئے ۔