راہی معصوم رضا: جس مسلمان نے ’’مہابھارت‘‘ کو ہر گھر کی کہانی بنا دیا

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 06-09-2026
راہی معصوم رضا: جس مسلمان نے ’’مہابھارت‘‘ کو ہر گھر کی کہانی بنا دیا
راہی معصوم رضا: جس مسلمان نے ’’مہابھارت‘‘ کو ہر گھر کی کہانی بنا دیا

 



منصور الدین فریدی / نئی دہلی
  کیا سارے ہندو مر گئے ہیں جو آپ ایک مسلمان سے مہابھارت کے مکالمے لکھوا رہے ہیں؟
یہ سوال اس بھونچال کا نتیجہ تھا ،جو بی آر چوپڑا کے اس اعلان نے برپا کیا تھا کہ ان کے عظیم ٹی وی سیریل ’’مہابھارت‘‘ کے اسکرپٹ اور مکالمے ڈاکٹر راہی معصوم رضا لکھیں گے۔
بی آر چوپڑا کو اس اعلان کے بعد لاتعداد  خطوط ملے ،جن میں یہ ناراضگی ظاہر کی گئی تھی کہ مہابھارت پر سیریل بنے گا تو قلم ایک مسلمان کا کیوں ؟
مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ ذمہ داری ابتدا میں راہی معصوم رضا نے خود قبول نہیں کی تھی۔ جب بی آر چوپڑا نے ان سے ’’مہابھارت‘‘ کے لیے اسکرپٹ اور مکالمے لکھنے کی درخواست کی تو راہی نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ لیکن چوپڑا صاحب نے انکار کو آخری جواب نہیں سمجھا۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کردیا کہ ’’مہابھارت‘‘ کے اسکرپٹ اور مکالمے راہی معصوم رضا ہی لکھیں گے۔یہ اعلان راہی کے لیے بھی حیران کن تھا۔
دوسری طرف چوپڑا صاحب کو اعتراضات سے بھرے خطوط ملنے لگے۔ بعض لوگوں نے سوال اٹھایا کہ ایک مسلمان مصنف کو ہندوؤں کی عظیم رزمیہ داستان لکھنے کی ذمہ داری کیوں دی گئی۔ یہاں تک کہ دوردرشن نے بھی یہی اعتراض کیا تھا، لوگ کہہ رہے تھے کہ  کیا سارے ہندو مر گئے ہیں جو آپ ایک مسلمان سے مہابھارت کے مکالمے لکھوا رہے ہیں؟‘‘ بی آر چوپڑا نے یہ تمام توہین آمیز خطوط ڈاکٹر راہی معصوم رضا کو بھیج دیے۔
آگیا تاو  اور راہی ہوگئے تیار 
لیکن ان خطوط نے راہی کو پیچھے ہٹانے کے بجائے جیسے ایک نئے عزم سے بھر دیا۔اگلے ہی روز وہ بی آر چوپڑا کی رہائش گاہ پہنچے اور کہا۔ ’’چوپڑا صاحب! میں مہابھارت لکھوں گا۔ میں گنگا کا بیٹا ہوں۔ مجھ سے بہتر اس سرزمین کی تہذیب اور ثقافت کو کون جانتا ہے؟
یہ جواب صرف ایک مصنف کی جانب سے اپنے انتخاب کا دفاع نہیں تھا بلکہ اس سرزمین کی مشترکہ تہذیبی روایت پر ایک پُراعتماد اظہار تھا۔انہوں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور بی آر چوپڑا کی درخواست مان لی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں اس ملک کا حصہ ہوں۔ ہندی اردو اور سنسکرت زبانیں میری رگوں میں دوڑتی ہیں۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ راہی معصوم رضا کے تحریر کردہ مہابھارت کے مکالموں نے نہ صرف ٹیلی ویژن کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ زبان اور تہذیب کسی ایک مذہب کی میراث نہیں ہوتیں۔غازی پور میں گنگا کے کنارے پیدا ہونے والے راہی معصوم رضا کے لیے گنگا محض ایک دریا نہیں تھی بلکہ اس تہذیب اور ثقافت کی علامت تھی جس میں مختلف مذاہب اور برادریوں نے صدیوں سے مل جل کر زندگی گزاری تھی۔
بی آر چوپڑا کی 94 اقساط پر مشتمل رزمیہ ٹی وی سیریز ’مہابھارت‘ جو دوردرشن پر 1988 سے 1990 تک نشر ہوئی تھی اپنی مقبولیت کی بلندی پر تقریباً 86 فیصد ریٹنگ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس غیر معمولی مقبولیت کا بڑا سہرا ڈاکٹر راہی معصوم رضا کے سر جاتا ہے جنہوں نے اس سیریز کے مکالمے تحریر کیے تھے۔
اہم بات یہ ہے کہ بی آر چوپڑا بھی ’’مہابھارت‘‘ کو محض ایک مذہبی داستان کے طور پر نہیں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ انسانی زندگی اور خاندانی رشتوں کی ایسی کہانی تھی جس میں ہر گھر اپنا عکس دیکھ سکتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ہر خاندان میں اختلافات ہوتے ہیں اور ہر گھر کو اپنی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں ’’مہابھارت‘‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی سوچ نے راہی معصوم رضا کی تحریر کو ایک وسیع انسانی معنویت دی اور یہ داستان مذہبی حدود سے نکل کر خاندان رشتوں خواہشات کشمکش اور انسانی فیصلوں کی کہانی بن گئی۔
گنگا کے کنارے سے ادب کی دنیا تک
ڈاکٹر راہی معصوم رضا کا تعلق غازی پور کے ایک معزز اور علمی خاندان سے تھا۔ ان کے خاندان میں تعلیم اور علمی سرگرمیوں کی روایت نمایاں تھی۔ ان کے بھائی ڈاکٹر مونس رضا جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے بانی چیئرمینوں میں شامل تھے اور دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ ایک اور بھائی پروفیسر مہدی رضا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ کے سربراہ رہے۔ ان کے چوتھے بھائی احمد رضا ماہر اقتصادیات تھے اور واشنگٹن میں ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ان کی بہن ثریا نے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی تھی۔اسی علمی ماحول میں راہی معصوم رضا کی شخصیت پروان چڑھی۔ وہ شاعر ڈرامہ نگار ناول نگار فلمی اسکرپٹ اور مکالمہ نگار ہونے کے ساتھ ماہر لسانیات بھی تھے۔ انہیں ہندی اردو سنسکرت اور انگریزی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ان کی تحریروں میں زبان کی یہ وسعت ہندوستانی معاشرے کی تہذیبی گہرائی کے ساتھ ملتی نظر آتی ہے۔ وہ کسی ایک ادبی یا مذہبی دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ مختلف تہذیبی تجربات کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ بناتے رہے۔
’’آدھا گاؤں‘‘ سے ’’کٹرہ بی آرزو‘‘ تک
راہی معصوم رضا کا ناول ’’آدھا گاؤں‘‘ ہندوستانی ادب کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں انہوں نے مشرقی اتر پردیش کی دیہی زندگی انسانی رشتوں تہذیبی تبدیلیوں اور تقسیم کے اثرات کو نہایت گہرائی سے پیش کیا۔’’ٹوپی شکلا‘‘ ’’اوس کی بوند‘‘ اور ’’کٹرہ بی آرزو‘‘ بھی ان کی نمایاں تخلیقات میں شامل ہیں۔ انہوں نے ’’ہمت جونپوری‘‘ 1969’دل ایک سادہ کاغذ‘‘ 1973 اور ’’چھوٹے آدمی کی بڑی کہانی‘‘ بھی تحریر کی۔ ’’چھوٹے آدمی کی بڑی کہانی‘‘ پرم ویر چکر سے سرفراز حوالدار عبدالحمید کی زندگی اور قربانی پر مبنی تھی۔اپنی غیر افسانوی تحریروں کو انہوں نے ’’لگتا ہے بیکار گئے ہم‘‘ کے عنوان سے بھی مرتب کیا۔ان کے ادب میں دیہی زندگی انسانی رشتے سماجی حقیقتیں تہذیبی کشمکش اور ہندوستانی معاشرے کی پیچیدگیاں نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں۔
فلمی دنیا میں 300 سے زائد فلموں کا سفر
راہی معصوم رضا کی تخلیقی صلاحیت صرف ادب تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے 300 سے زائد فلموں کے اسکرپٹ اور مکالمے تحریر کیے۔’’میں تلسی تیرے آنگن کی‘‘ اور ’’ملی‘‘ کے مکالموں پر انہیں باوقار فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ ان کے مکالموں میں زبان کی سادگی کے ساتھ انسانی نفسیات اور معاشرتی زندگی کی گہری سمجھ دکھائی دیتی تھی۔ان کا ٹی وی سیریل ’’نیم کا پیڑ‘‘ بھی ملک بھر میں مقبول ہوا اور اس نے ٹیلی ویژن کی دنیا میں ان کی شناخت کو مزید مضبوط کیا۔
مہابھارت کو عام ناظرین تک پہنچانے کا چیلنج
 ابتدا میں راہی صاحب کو پنڈت نریندر شرما کی صورت میں ایک مضبوط معاون حاصل تھا۔ پنڈت نریندر شرما ویدوں اور ہندو اساطیر کے بارے میں غیر معمولی علم رکھتے تھے اور کسی بھی ممکنہ ابہام یا الجھن کو دور کرنے کے لیے راہی صاحب ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔ لیکن پنڈت جی کا بہت کم عمری میں انتقال ہوگیا اور اس کے بعد راہی صاحب اس پورے کام میں تقریباً تنہا رہ گئے۔مہابھارت کو ٹیلی ویژن پر پیش کرنا ایک غیر معمولی چیلنج تھا۔ سیکڑوں کرداروں پیچیدہ رشتوں اور واقعات کی طویل کڑی کو اس انداز میں پیش کرنا ضروری تھا کہ عام ناظر بھی پوری داستان کو آسانی سے سمجھ سکے۔کہانی میں کرداروں کے باہمی تعلقات واقعات کی ترتیب اور ان کے اخلاقی پہلو واضح ہونا ضروری تھے۔ ایک ایسی تحریری ساخت درکار تھی جو مختلف واقعات اور کرداروں کو ایک مضبوط ربط میں جوڑ سکے۔راہی معصوم رضا نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اس عظیم داستان کو ایسے انداز میں لکھا جس میں اس کی روایتی عظمت بھی برقرار رہی اور جدید ناظر کے لیے اس کی معنویت بھی واضح ہوگئی۔
’’میں سمے ہوں‘‘ نے داستان کو نئی آواز دی
مہابھارت‘‘ کے لیے ’’سمے‘‘ یعنی وقت کو راوی بنانے کا خیال راہی معصوم رضا ہی کا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک ایسا راوی ہونا چاہیے جو ہر قسط کے آغاز میں ناظرین کو آنے والے واقعات کا پس منظر سمجھائے اور پوری داستان کو ایک مربوط ربط میں باندھے۔
اسی تصور سے وہ تاریخی جملہ وجود میں آیا
’’میں سمے ہوں۔‘‘
بی آر چوپڑا کو یہ خیال فوراً پسند آیا اور اسے منظوری دے دی گئی۔راہی نے ’’پتاشری‘‘ اور ’’ماتاشری‘‘ جیسے الفاظ بھی تخلیق کیے جو اتنے مقبول ہوئے کہ ناظرین کو محسوس ہونے لگا جیسے قدیم کردار واقعی اسی انداز میں ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے تھے۔یہ ان کی تخلیقی بصیرت تھی کہ انہوں نے ایک قدیم رزمیہ داستان کے لیے ایسی زبان وضع کی جو ناظرین کے لیے اجنبی بھی نہ تھی اور داستان کے ماحول سے الگ بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
ایک مسلمان مصنف کی غیر معمولی ذمہ داری’
’مہابھارت‘‘ لکھنا راہی معصوم رضا کے لیے محض ایک پیشہ ورانہ کام نہیں تھا۔ ان کے بیٹے ندیم خان کے مطابق اس عظیم داستان پر کام نے ان کی صحت پر گہرا اثر ڈالا۔راہی مسلسل مطالعہ کرتے رہے۔ انہوں نے مذہبی اور تاریخی مواد کا وسیع مطالعہ کیا اور انہیں ہر وقت یہ احساس رہتا تھا کہ اس حساس اور عظیم داستان کو لکھتے ہوئے وہ ایک قدم بھی غلط نہیں اٹھا سکتے۔ندیم خان کے مطابق ’’مہابھارت‘‘ نے ان کے والد کو جیسے کئی برس بوڑھا کردیا تھا۔ اس کام کی ذمہ داری اور مسلسل ذہنی دباؤ نے ان کی صحت کو متاثر کیا۔راہی معصوم رضا بھگوان شیو کے عقیدت مند تھے۔ ’’مہابھارت‘‘ کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ ’’اوم نمہ شیوائے‘‘ کے لیے بھی اسکرپٹ لکھیں لیکن یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔
شہرت کے باوجود سادگی
’’مہابھارت‘‘ کی غیر معمولی کامیابی کے بعد ندیم خان نے اپنے والد سے کہا کہ انہیں اپنے کام کی زیادہ فیس لینی چاہیے لیکن راہی معصوم رضا نے ہمیشہ اس سے گریز کیا۔ان کے گھر کا دسترخوان بھی کھلا رہتا تھا۔ ندیم خان کے مطابق روزانہ دس سے پندرہ افراد وہاں کھانا کھاتے تھے۔ راہی کئی مرتبہ فلموں کے لیے بغیر معاوضے کے لکھ دیتے تھے اور بعض اوقات محض ایک پان کے عوض بھی کام کرنے پر آمادہ ہوجاتے تھے۔یہ سادگی ان کی شخصیت کا مستقل حصہ تھی۔ شہرت اور کامیابی کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی کو دولت اور معاوضے کے گرد نہیں گھمایا۔
قلم کی آزادی اور ایمرجنسی کی مخالفت
راہی معصوم رضا صرف ادیب اور تخلیق کار نہیں تھے بلکہ اپنے سیاسی اور جمہوری شعور کے حوالے سے بھی واضح موقف رکھتے تھے۔اندرا گاندھی کے دور حکومت میں جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تو فلم رائٹرز ایسوسی ایشن اور فلمی دنیا کی متعدد شخصیات نے اس کی حمایت کی۔ تاہم راہی معصوم رضا ایسوسی ایشن میں وہ واحد مصنف تھے جنہوں نے ایمرجنسی کی مخالفت کی۔ان کا یہ موقف اس بات کی علامت تھا کہ ان کے لیے قلم صرف روزگار یا شہرت کا ذریعہ نہیں تھا۔ وہ اسے آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کے دفاع کا وسیلہ بھی سمجھتے تھے۔
ایک ایسا قلم جو مذہبی خانوں میں محدود نہ ہوا
راہی معصوم رضا کی زندگی اور تخلیق کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے خود کو مذہبی شناخت کے محدود خانوں میں قید نہیں ہونے دیا۔انہوں نے اردو اور ہندی دونوں کی ادبی روایتوں سے فیض حاصل کیا۔ سنسکرت پر دسترس پیدا کی اور ہندوستانی تہذیب کے مختلف مذہبی اور ثقافتی مظاہر کو سمجھا۔ان کے لیے ’’مہابھارت‘‘ لکھنا کسی دوسرے مذہب کی داستان لکھنے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اس سرزمین کی ایک عظیم تہذیبی روایت کو سمجھنے اور اسے نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش تھی۔اسی لیے ان کا جواب بھی مذہبی بحث سے زیادہ تہذیبی تھا۔ ’’میں گنگا کا بیٹا ہوں‘‘ میں ایک ایسے ہندوستان کا تصور پوشیدہ تھا جہاں کسی داستان کو سمجھنے کے لیے مذہبی شناخت شرط نہیں بلکہ اس سرزمین کی تہذیب اور اس کے اجتماعی حافظے سے واقفیت زیادہ اہم ہے۔یہی سوچ ’’مہابھارت‘‘ کی تحریر میں بھی نظر آئی۔ داستان میں مذہبی روایت اپنی جگہ موجود رہی لیکن اس کے ساتھ خاندان انسانی رشتوں اقتدار اخلاق اور انسانی فیصلوں کے ایسے سوالات بھی نمایاں ہوئے جو ہر دور اور ہر معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔
راہی معصوم رضا کی میراث
راہی معصوم رضا 65 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ان کا قلم آج بھی زندہ ہے۔’’آدھا گاؤں‘‘ جیسے ناول سے لے کر 300 سے زائد فلموں کے اسکرپٹ اور مکالموں تک ’’نیم کا پیڑ‘‘ سے ’’مہابھارت‘‘ تک ان کا تخلیقی سفر غیر معمولی وسعت رکھتا ہے۔ان کی میراث صرف ان کی کتابوں فلموں یا ٹی وی پروگراموں تک محدود نہیں۔ ان کی اصل میراث وہ فکری رویہ ہے جس نے مذہبی شناخت سے اوپر اٹھ کر ہندوستانی تہذیب کے مختلف رنگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی۔’’مہابھارت‘‘ میں ان کا جملہ ’’میں سمے ہوں‘‘ آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن راہی معصوم رضا کی اپنی زندگی بھی جیسے وقت کے سامنے ایک سوال رکھتی ہے کہ انسان کی شناخت آخر کس چیز سے بنتی ہے۔
نام سے؟ مذہب سے؟ زبان سے؟ یا پھر علم کردار اور تخلیق سے؟
راہی معصوم رضا کا جواب ان کی پوری زندگی میں موجود ہے۔
انہوں نے ایک ایسی داستان کو اپنے قلم سے گھر گھر پہنچایا جسے بعض لوگ صرف ایک مذہبی روایت سمجھتے تھے۔ انہوں نے اسے انسانی رشتوں اخلاقی فیصلوں خاندان کی کشمکش اور زندگی کے بنیادی سوالات کی کہانی بنا دیا۔اسی لیے راہی معصوم رضا کی کہانی صرف ’’مہابھارت‘‘ لکھنے والے ایک مسلمان مصنف کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے ادیب کی داستان ہے جس نے اپنے قلم سے یہ دکھایا کہ ہندوستانی تہذیب کی اصل طاقت اس کے تنوع میں ہے اور ادب کی سب سے بڑی قوت انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ہے۔گنگا کے کنارے پیدا ہونے والے اس ادیب نے اپنے قلم سے ایک ایسی داستان لکھی جسے کروڑوں لوگوں نے سنا اور دیکھا۔ وقت گزرتا گیا مگر ’’میں سمے ہوں‘‘ کی آواز باقی رہی۔اور شاید یہی راہی معصوم رضا کی سب سے بڑی شناخت ہے کہ انہوں نے وقت کے ایک عظیم قصے کو لکھتے ہوئے خود بھی وقت کی تہذیبی یادداشت کا حصہ بننے کا سفر طے کیا۔