پنجاب : مسلم خاندان نے دی مندر کے لیے 80 لاکھ روپے کی مالیت کی زمین، تعمیراتی خرچ بھی کرے گا ادا

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 17-02-2026
پنجاب : مسلم خاندان نے دی مندر کے لیے 80 لاکھ روپے مالیت کی زمین، تعمیراتی  خرچ بھی کرے گا ادا
پنجاب : مسلم خاندان نے دی مندر کے لیے 80 لاکھ روپے مالیت کی زمین، تعمیراتی خرچ بھی کرے گا ادا

 



نئی دہلی: پنجاب سےٹھنڈی ہوا کا ایک اور جھونکا آیا ہے، جہاں ابتک سکھوں اور ہندووٕں کی جانب سے پرانی مساجد کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کی خبریں آتی رہی ہیں لیکن اب ضلع موہالی کے علاقے جھامپور نے ہم آہنگی اور باہمی احترام کی عملی مثال پیش کی ہے۔ ایک مسلم خاندان نے مندر کی تعمیر کے لیے اپنی نجی زمین عطیہ کر کے اتحاد اور رواداری کا پیغام دیا ہے۔
تقریبا  325 گز زمین کا عطیہ
محمد عمران عرف ہیپی ملک نے سناتن دھرم سبھا جھامپور کو325 گز زمین عطیہ کی جس کی مالیت تقریباً 80 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی ہندو برادری کے پاس مندر کی تعمیر کے لیے زمین موجود نہیں تھی۔ جب انہیں اس صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمٰان لدھیانوی سے مشورہ کیا اور رہنمائی حاصل کی۔
 رجسٹری کی تکمیل اور تعمیر کا آغاز
12 فروری کو شاہی امام کی موجودگی میں زمین کی رجسٹری کے کاغذات مندر کمیٹی کے حوالے کیے گئے۔ ہون یگیہ کے بعد باقاعدہ تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔ منصوبے کے تحت ہنومان جی کا مندر اور سناتن دھرم مندر تعمیر کیا جائے گا۔
 شاہی امام کا پیغام
شاہی امام مولانا عثمان لدھیانوی نے کہا کہ پنجاب کی مٹی میں بھائی چارہ رچا بسا ہے اور یہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اسلامی ممالک میں غیر مسلم عبادت گاہوں کا احترام کیا جاتا ہے اسی طرح یہاں بھی تمام مذاہب کا احترام ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چند روز قبل دو ہندو بھائیوں اور ایک سکھ بزرگ خاتون نے مسجد کے لیے زمین عطیہ کی تھی اور آج ایک مسلم نوجوان نے مندر کے لیے زمین دے کر اتحاد کا پیغام دیا ہے۔
 تعمیراتی اخراجات بھی عطیہ کنندہ کے ذمے
محمد عمران ہیپی ملک نے اعلان کیا کہ وہ صرف زمین ہی نہیں بلکہ مندر کی تعمیر پر آنے والے اخراجات بھی خود برداشت کریں گے۔ ان کے دوست سنجے جندل بھی اس کار خیر میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے مسجد اور چرچ کے لیے بھی زمین فراہم کی تاکہ یہ پیغام جائے کہ انسانیت مذہبی شناخت سے بالاتر ہے۔
 فلاحی خواب اور سماجی خدمات
محمد عمران نے کہا کہ ان کا خواب ایک اسپتال قائم کرنا ہے جہاں غریب افراد کو علاج کی سہولت مل سکے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے رئیل اسٹیٹ کے کاروباری ہیں اور ان کی عمر 37 سال ہے۔ ان کے خاندان میں والدہ اہلیہ اور بچے شامل ہیں جبکہ مرحوم بھائی کے بچے بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں۔
 مندر کمیٹی کا اظہار تشکر
مندر کمیٹی کے رکن پنڈت راجارام نے کہا کہ اتنی بڑی زمین عطیہ کرنا آسان نہیں ہوتا اور یہ محمد عمران کی نیک نیتی کا ثبوت ہے۔ سناتن دھرم سبھا کی جانب سے پنڈت راجارام صدر ہرپریت سنگھ گل اور روبی سدھو نے شاہی امام اور محمد عمران ہیپی کو اعزاز سے نوازا۔
 تنوع میں اتحاد کی پہچان
شاہی امام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی اصل شناخت تنوع میں اتحاد ہے اور کوئی طاقت اس رشتے کو کمزور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے پیغمبر اسلام کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاں بھی رہیں تمام مذاہب اور برادریوں کا احترام کریں۔
یہ واقعہ پنجاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کی ایک مضبوط مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو معاشرے کو محبت اور یکجہتی کی نئی سمت دکھاتا ہے۔