نئی دہلی / کولکاتہ
جتنی بھی سرکاریں آتی رہی تو مسلمان سے ووٹ لیتی رہی اور اس کو صرف گوشت کھانے کی چھوٹ دیتی رہی ہی، اگر گائے قربانی کرنے میں اتنے سارے پروبلم ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ گائے کی قربانی چھوڑ دیں اور مسلمان مکمل گائے کھانا چھوڑ دیں گے
یہ اپیل مسجد ناخدا کولکاتہ کے امام مولانا محمد شفیق قاسمی نے مسلمانوں سے کی ہے - انہوں نے کہا کہ اگر گائے کی قربانی اور گائے کے گوشت کے معاملے پر مسلسل تنازع اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں تو مسلمان رضاکارانہ طور پر گائے کا گوشت کھانا چھوڑ دیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گائے کو پورے ملک میں قومی جانور قرار دیا جائے اور اس کی خرید و فروخت، ذبیحہ اور گوشت کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام اور بقرعید سے متعلق سرکاری ہدایات کے بعد مسجد ناخدا کولکاتا کے امام مولانا محمد شفیق قاسمی کے ایک بیان پر وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔ مولانا قاسمی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑے جانوروں خصوصاً گائے کی قربانی سے گریز کریں اور اس کے بجائے بکری، خسی اور دوسرے چھوٹے جانوروں کی قربانی پر توجہ دیں
مولانا شفیق قاسمی کا کہنا ہے کہ ان کی تجویز کو مسلمانوں میں منظوری مل رہی ہے لوگ اس کی تائید کر رہے ہیں کیونکہ ہر کوئی اس بات کو محسوس کر رہا ہے کہ اس تنازع سے بچنے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ گائے کی قربانی ترک کی جائے اور اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے
قانون نیا نہیں
مولانا محمد شفیق قاسمی نے ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ گائے کی قربانی کے سلسلے میں نافذ قوانین نئے نہیں بلکہ 1950 سے موجود ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کی حکومتیں ان قوانین پر سختی سے عمل نہیں کروا رہی تھیں جبکہ موجودہ حکومت ان ضوابط کو نافذ کر رہی ہے۔
مسلمان قانون کے مطابق عمل کریں
انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قربانی کریں اور کسی بھی غیر قانونی اقدام سے بچیں۔
ان کے مطابق موجودہ ضوابط کے تحت:
قربانی کے جانور کی عمر چودہ سال سے کم نہیں ہونی چاہیے۔
سرکاری ویٹرنری سرجن کا سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔
قربانی صرف سلاٹر ہاؤس میں کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے عوام کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرے اور اس کے بعد سختی سے قانون نافذ کرے۔
سہولیات کی کمی عوام کے لیے پریشانی
مولانا قاسمی نے کہا کہ کولکاتا جیسے بڑے شہر میں بھی سرکاری ویٹرنری ڈاکٹروں کی کمی ہے جبکہ سلاٹر ہاؤس بھی محدود تعداد میں ہیں۔ ایسی صورت حال میں عام لوگوں کے لیے تمام قانونی شرائط پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہر علاقے میں سلاٹر ہاؤس اور جانوروں کے ڈاکٹروں کی سہولت فراہم کر دے تو عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
گائے کے کاروبار سے ہندو برادری کو فائدہ
انہوں نے کہا کہ گائے پالنے کا کام زیادہ تر ہندو برادری کرتی ہے۔ جب گائے دودھ دینے کے قابل نہیں رہتی تو اسے مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کیا جاتا ہے اور اس طرح گائے پالنے والے اپنا سرمایہ واپس حاصل کر لیتے ہیں۔ اگر مسلمان گائے خریدنا اور کھانا چھوڑ دیں گے تو اس کا سب سے زیادہ معاشی نقصان انہی لوگوں کو ہوگا جو اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ عام دنوں میں کم قیمت والی گائے بقرعید کے موقع پر کئی گنا زیادہ قیمت میں فروخت ہوتی ہے۔ان کے مطابق اگر مسلمان گائے خریدنا بند کر دیں تو اس سے گائے پالنے والوں کا معاشی نقصان ہوگا اور ان کا کاروبار متاثر ہوگا۔
بکری اور دوسرے جانوروں کی قربانی کو فروغ دیا جائے
مولانا محمد شفیق قاسمی نے کہا کہ مسلمان بکری خسی اور دوسرے جانوروں کی قربانی کو فروغ دیں تاکہ مسلم مویشی پالنے والوں کو معاشی فائدہ حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہتر ہوگی اور سماج میں غیر ضروری تنازعات سے بھی بچا جا سکے گا۔
حکومت سے تصادم نہیں چاہتے
انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے مذہبی فرائض ادا کرنا چاہتے ہیں اور کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تصادم کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر مزید کہا کہ ایک مسلمان سبزی، مچھلی، مرغی اور بکرے کا گوشت کھا کر بھی اچھا مسلمان رہ سکتا ہے۔ اگر ہمارے ہندو بھائیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے
گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے
لیکن اگر حکومت واقعی گائے کے تحفظ کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو پھر پورے ملک میں یکساں پالیسی نافذ کی جائے اور تمام بڑے سلاٹر ہاؤس بند کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے بڑے بیف ایکسپورٹر ممالک میں شامل ہے اس لیے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا درست نہیں
#WATCH | Kolkata, West Bengal | On West Bengal CM Suvendu Adhikari's call for stricter laws on mic and loudspeaker, Imam of Nakhoda Masjid Maulana Mohammad Shafiq Qasmi says, “This rule was not made by the BJP government but by the Pollution Control Board… As per the law, there… pic.twitter.com/7eZyyfnCUv
— ANI (@ANI) May 17, 2026
گفتگو کے اختتام پر مولانا محمد شفیق قاسمی نے سماجی ہم آہنگی اور امن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسائل کو تحمل دانشمندی اور قانونی راستے سے حل کیا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر جو ویڈیو دستیاب ہیں ان سے ظاہر ہو رہا ہے کہ مولانا قاسمی کی اپیل کے بعد بنگال کے مختلف علاقوں میں گائے کی خرید و فروخت تقریبا بند ہو گئی ہے , جو لوگ گائے کو پالتے تھے اور بکر عید کے موقع پر اسے فروخت کرتے تھے ان کے سامنے بھی ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے کیونکہ مختلف علاقوں سے خبریں ا رہی ہیں کہ مسلمان گائے خریدنے سے انکار کر رہے ہیں