نئی دہلی : آواز دی وائس
مسلم عورت کو ایک مخصوص شبیہ میں قید کر دیا گیا ہے۔ سماج اس کے لیے ایک معیار طے کرتا ہے اور وہ اسی کے مطابق پرکھی جاتی ہے۔حالانکہ تاریخ میں مسلم خواتین نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔ خواتین کو دوہری پدرشاہی کا سامنا ہے۔ ایک طرف کمیونٹی کا دباؤ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت۔ ہر طبقہ اپنی سوچ کے مطابق مسلم عورت کو دیکھنا چاہتا ہے جس سے اس کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔
آواز دی وائس کے خاص پوڈ کاسٹ دین اور دنیا میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر فردوس عظمت نے ان خیالات کا اظہار کیا جو وومین اسٹڈیز کی ماہر ہیں۔میزبان تاریخ داں ثاقب سلیم اپنے پوڈکاسٹ میں مسلم عورت کے بارے میں رائج تصورات پر گفتگو کی ۔ اس بات کی نشاندہی کی کہ مسلم عورت کو اکثر ایک خاص زاویے سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی اصل شناخت سامنے نہیں آ پاتی۔
مسلم عورت کی شبیہ اور سماجی دباؤ
ثاقب سلیم سوال کے ایک سوال کے جواب میں کہ کیا مسلم عورت ہمیشہ سے ایسی ہی دیکھی جاتی رہی ہے جیسا کہ آج اسے بے آواز اور محدود سمجھا جاتا ہے۔پروفیسر فردوس عظمت وضاحت کرتی ہیں کہ مسلم عورت کو ایک مخصوص شبیہ میں قید کر دیا گیا ہے۔ سماج اس کے لیے ایک معیار طے کرتا ہے اور وہ اسی کے مطابق پرکھی جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مسلم عورت خود بھی خاندان اور کمیونٹی کی عزت کے تحفظ کے دباؤ میں رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ بعض حساس مسائل پر بات کرنے سے گریز کرتی ہے۔ اس طرح اس پر ایک دوہری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔لیکن آپ کا سوال یہ ہے کہ کیا ہمیشہ سے مسلم عورت کو کسی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے یا اسے اپنی طاقت کا احساس دلانے کے لیے کسی اور کی ضرورت پڑی ہے۔ تو ایسا نہیں ہے۔ اگر آپ تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے دیکھیں تو مسلم خواتین کی ایک نہایت شاندار تاریخ رہی ہے۔ مسلم عورت نے تاریخ کے اہم ادوار میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
تاریخی حقیقت اور مسلم خواتین کا کردار
کیا تاریخ میں بھی مسلم خواتین کی یہی حالت رہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر فردوس عظمت بتاتی ہیں کہ یہ تاثر درست نہیں ہے۔ تاریخ میں مسلم خواتین نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔ وہ مثال دیتی ہیں کہ جہاں آرا شاہنواز نے 1930 1931 1932 کی گول میز کانفرنس میں شرکت کی اور خواتین کے حقوق خصوصاً ووٹنگ رائٹس اور نمائندگی کے لیے آواز بلند کی۔اس بارے میں کیا مسلم خواتین کی جدوجہد صرف انفرادی سطح تک محدود تھی یا تنظیمی شکل بھی رکھتی تھی۔پروفیسر فردوس عظمت جواب نے کہا کہ مسلم خواتین کی تنظیمی سرگرمیاں بہت مضبوط رہی ہیں۔ انجمن خواتین اسلام اور انجمن خواتین ہند جیسی تنظیمیں 1914 یا 1916 میں آل انڈیا سطح پر قائم ہوئیں۔ اس سے پہلے بھی 1890 کے آس پاس لاہور اور دہلی میں خواتین کے چھوٹے گروہ موجود تھے جو تعلیم اور پردے جیسے مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔
اصلاحی تحریکیں اور نمایاں شخصیات
میزبان ثاقب سلیم انیسویں صدی کی اصلاحی تحریکوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو پروفیسر فردوس عظمت بیان کرتی ہیں کہ تو عزیزالنسا بیگم کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے جو سر سید احمد خان کی والدہ تھیں۔ انہوں نے خواتین میں سماجی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں خواتین سے متعلق تین بڑے مسائل زیر بحث تھے۔ ستی کا مسئلہ، بیوہ کی شادی پر پابندیاں اور کم عمری کی شادی۔ عزیزالنسا بیگم خواتین کو یہ سمجھاتی تھیں کہ بیوہ کی شادی ہونی چاہیے اور یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے۔
اسلام اور خواتین کے حقوق
جب خواتین اپنے حقوق کی بات اسلام کے دائرے میں رہ کر کرتی تھیں تو وہ قرآن اور اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتی تھیں۔ اسی اسلامی شناخت کے اندر رہتے ہوئے یہ واضح کیا جاتا تھا کہ اسلام نے عورت کو بہت سے حقوق دیے ہیں جن کی ادائیگی میں کمی رہ گئی ہے۔ اس طرح وہ اپنی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھاتی تھیں۔مولوی ممتاز علی اور محمدی بیگم اس کی نمایاں مثال ہیں۔ مولوی ممتاز علی نے اس دور میں ایک اہم کتاب "حقوق نسواں" لکھی جس میں عورت کے وراثتی حقوق اور دیگر اسلامی حقوق پر تفصیل سے بات کی گئی۔
یہ کتاب اپنے وقت سے بہت آگے تھی۔ ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب وہ یہ کتاب سر سید احمد خان کے پاس لے کر گئے تو انہوں نے اسے ناپسند کیا اور سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اس کے باوجود یہ کتاب اپنی اہمیت کے باعث بعد میں نمایاں ہوئی حالانکہ ایک طویل عرصے تک اسے نظر انداز یا دبایا گیا۔اس کتاب میں ایک اہم نکتہ یہ بھی پیش کیا گیا کہ اسلام میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا ذکر ملتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ ان میں خواتین بھی شامل رہی ہوں۔
یہ بات اس زمانے میں ایک غیر معمولی فکری جرات کی مثال تھیاصل مسئلہ اسلام یا قرآن کا نہیں بلکہ ان کی تعبیر کا رہا ہے۔ اسلام نے تو عورت کو ایک مکمل انسان کے طور پر شناخت دی اور اس کے حقوق کو تسلیم کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ان حقوق کو محدود کیا گیا اور عورت کو حاشیے پر رکھا گیا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تعبیرات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
ادب اور فکری بیداری
جب بات ادب کے کردار پر روشنی ڈالنے کی ہوتی ہے تو پروفیسر فردوس عظمت بتاتی ہیں کہ تہذیب نسواں جیسے رسائل نے خواتین کو اظہار کا موقع دیا۔ خواتین نے ڈائری۔ افسانہ اور سوانح عمری کے ذریعے اپنی بات سامنے رکھی۔ اسی طرح محمدی بیگم کی ادارت میں شائع ہونے والا رسالہ تہذیب نسواں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں خواتین خود لکھتی تھیں اور اپنی آواز پیش کرتی تھیں۔ اس رسالے نے ادبی دنیا میں ایک نئی بیداری پیدا کی۔ طباعت کے فروغ کے ساتھ خواتین میں شعور اور تخلیقی اظہار میں بھی اضافہ ہوا۔
انیسویں صدی کے بعد اردو ادب میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ابتدا میں ڈپٹی نذیر احمد نے ناول نگاری کو فروغ دیا لیکن بعد میں خواتین ادیباؤں نے اس میدان میں انقلابی کام کیا۔ رشید جہاں اور عصمت چغتائی جیسی شخصیات نے نہایت جرات مندانہ تحریریں پیش کیں جنہوں نے سماجی مسائل کو نئی نظر سے دیکھا۔
اگر ہم علاقائی سطح پر دیکھیں تو شمالی ہندوستان، بہار اور بنگال میں مسلم خواتین خاصی ترقی یافتہ اور متحرک تھیں۔ بھوپال اس کی ایک اہم مثال ہے جہاں بیگمات نے تعلیم، صحت اور سماجی اصلاح کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ بیگم شاہجہاں اور بیگم سلطان جہاں نے پردے کے اندر رہتے ہوئے بھی بڑے پیمانے پر کام کیا۔ انہوں نے تعلیمی ادارے، اسپتال اور سماجی تنظیمیں قائم کیں اور خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔
آزادی کے بعد کی صورتحال
آزادی کے بعد مسلم مرد بھی مختلف مسائل میں الجھ گئے۔ سیکیورٹی، شناخت اور نئے ہندوستان کی تشکیل جیسے معاملات سامنے آ گئے۔ اس کے نتیجے میں خواتین کے مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ دانستہ تھا یا حالات کا نتیجہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے مسائل کی شدت کم ہو گئی۔
سوال یہ بھی ہے کہ وہ خواتین کہاں گئیں جو نوآبادیاتی دور میں فعال تھیں۔ آزادی کے بعد اس سطح کی تنظیمیں اور آوازیں کم نظر آتی ہیں۔ شاہ بانو کیس نے ایک بار پھر مسلم خواتین کی تحریک میں نئی جان ڈالی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ مسئلہ ثقافتی شناخت اور یکساں سول کوڈ کی بحث میں الجھ گیا۔
اس کے بعد کچھ تنظیمیں ضرور سامنے آئیں جیسے بھارتی مسلم خواتین تحریک جو 2007 میں قائم ہوئی اور اس نے کئی اہم اقدامات کیے۔ تاہم اسے اندرون کمیونٹی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا خاص طور پر جب نکاح اور قاضی کے کردار جیسے مسائل پر بات کی گئی۔
دوہری پدرشاہی اور موجودہ چیلنجز
موجودہ دور کے مسائل پر پروفیسر فردوس عظمت کہتی ہیں کہ مسلم خواتین کو دوہری پدرشاہی کا سامنا ہے۔ ایک طرف کمیونٹی کا دباؤ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت۔ ہر طبقہ اپنی سوچ کے مطابق مسلم عورت کو دیکھنا چاہتا ہے جس سے اس کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔
ثاقب سلیم کے پردے کے موضوع پر سوال پر پروفیسر فردوس عظمت واضح کرتی ہیں کہ پردہ صرف مذہبی معاملہ نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی پہلو بھی رکھتا ہے۔ ہر عورت کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ وہ کیا اختیار کرنا چاہتی ہے۔ لباس کو ترقی یا پسماندگی کا معیار بنانا درست نہیں ہے۔پروفیسر فردوس عظمت اس بات پر زور دیتی ہیں کہ مسلم عورت کو ایک مخصوص سانچے میں دیکھنے کے بجائے اسے اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے تاکہ اس کی حقیقی آواز سامنے آ سکے۔