حیدرآباد کی سولہ کروڑ کی پرتعیش شادی اور امام کی تنخواہ میں کٹوتی پر مولانا سجاد نعمانی کی لعنت ملامت

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 31-01-2026
حیدرآباد کی سولہ کروڑ کی پرتعیش شادی اور امام کی تنخواہ میں کٹوتی پر مولانا سجاد نعمانی کی لعنت ملامت
حیدرآباد کی سولہ کروڑ کی پرتعیش شادی اور امام کی تنخواہ میں کٹوتی پر مولانا سجاد نعمانی کی لعنت ملامت

 



 نئی دہلی  :آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ  مختلف مسلم تنظمیں  آسان نکاح اور سادہ شادی کی مہم چلانے  میں جٹی ہیں ،عام بیداری پیدا کرنے کی کوشش اور دعوی کررہی ہیں لیکن  مہنگی شادیوں کا چلن  دم توڑنے کا  نام نہیں لے رہا ہے ۔ حال ہی میں  حیدرآباد میں  ایسی   ہی  ایک شادی خبروں میں آئی ۔ جس  کے بعد  سوشل میڈیا  پر ایک طوفان آیا  ۔اس  پرتعیش شادی کو لے کر معروف عالم دین مولانا سجاد نعمانی نے انتہائی سخت  بیان دیا اور اسے قوم کے زوال کی علامت قرار دیا ۔ 

سوشل میڈیا پر رواں دواں ایک ویڈیو میں مولانا سجاد نعمانی  نے  امت کے رویوں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ ویڈیو کب کی ہے اور کہاں کی ہے ۔ اس بارے میں تو  کچھ تصدیق نہیں ہوسکی ہے لیکن جس محفل میں وہ خطاب کررہے ہیں ۔ اس میں وہ بہت ناراض نظر آئے ۔
 انہوں نے کہا کہ ایک بااثر صنعت کار نے اپنی بیٹی کی شادی پر تقریباً سولہ کروڑ روپے خرچ کیے۔ چراغاں۔ دعوتیں۔ آرائش۔ اور نمود و نمائش میں بے دریغ دولت لٹائی گئی۔ لیکن اسی شخص کا رویہ اپنی ہی مسجد کے امام کے ساتھ انتہائی افسوس ناک رہا۔
مولانا سجاد نعمانی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسی سیٹھ کی فیکٹری کے اندر ایک مسجد قائم ہے۔ اس مسجد کے امام کی اہلیہ بیمار ہو گئیں تو امام صاحب نے اجازت لے کر گھر جا کر تیمارداری کی۔ انہیں ایک ہفتے کی چھٹی ملی تھی لیکن مجبوری کی وجہ سے چار پانچ دن دیر ہو گئی۔ واپسی پر اس سیٹھ نے جو اپنی بیٹی کی شادی پر سولہ کروڑ روپے خرچ کرچکا تھا امام کی تنخواہ سے چار ہزار روپے کاٹ لیے۔
مولانا نے کہا کہ یہی وہ تضاد ہے جو قوم کو کمزور کرتا ہے۔ جہاں دولت نمود و نمائش میں لٹائی جائے اور انسانوں کے حقوق پامال کیے جائیں وہاں ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مال صحیح جگہ خرچ ہو تو قوم کو اوپر اٹھا دیتا ہے۔ لیکن اگر مال غلط جگہ لگے تو سو فیصد لوگ حج کرلیں۔ سو فیصد لوگ پچاس عمرے کرلیں۔ تب بھی ذلت سے نجات نہیں مل سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب قوم اپنے ہی لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کرے گی تو نہ لنچنگ رکے گی۔ نہ نوجوان جیلوں سے بچیں گے۔ نہ عالمی طاقتوں کا دباؤ ختم ہوگا۔ مولانا سجاد نعمانی کے مطابق اصل اصلاح عبادات کی کثرت سے نہیں بلکہ عدل۔ رحم۔ اور صحیح مصرف سے ہوتی ہے۔ یہی پیغام انہوں نے اس واقعے کے ذریعے امت کے سامنے رکھا۔