محمد ارتضیٰ حسین: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تحریکِ آزادی تک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-09-2026
 محمد ارتضیٰ حسین:  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تحریکِ آزادی تک
محمد ارتضیٰ حسین: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تحریکِ آزادی تک

 



محمد ارتضیٰ حسین (1905–1966) کی سوانح اور جدوجہد

ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی

            محمد ارتضیٰ حسسین یکم نومبر 1905 کو قصبہ ڈبائی، ضلع بلند شہر (اتر پردیش) کے ایک متمول اور رئیس خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ مولوی علی حسین کے صاحبزادے تھے۔ان کا خاندان”فاضلی“ خاندان کے نام سے علاقے میں مشہور تھا۔ معروف شاعر ندا فاضلی (1938–2016) محمد ارتضیٰ حسین کے سگے بھتیجے تھے، جو ان کے بڑے بھائی مرتضیٰ حسین کے فرزند تھے۔ ارتضا حسین کی ابتدائی زندگی ذاتی صدمات و حوادث کا شکار رہی؛ جب ان کی عمر محض دو برس تھی تو والدہ کا انتقال ہو گیا، اور ابھی نو سال کے ہی ہوئے تھے کہ والد کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ برطانوی حکومت کے تحت اعلیٰ انتظامی عہدوں اور القابات سے سرفراز خاندان کے ماحول میں، ان کی پرورش ان کے بڑے بھائی حافظ صدیق حسن فاضلی کی زیرِ سرپرستی میں ہوئی۔ یوں تو ان کے لیے تمام تر دنیوی آسائشیں میسر تھیں، لیکن ان کے اندر قومی جذبہ و حریت اسکول کے زمانے ہی میں بیدار ہو چکا تھا۔ ڈبائی کے کُبیر ہائی اسکول میں تعلیم کے دوران وہ تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدم تعاون سے شدید متاثر ہوئے اور طالب علموں کے ساتھ احتجاجی مظاہروں (پکیٹنگ) میں حصہ لینے لگے —جس پرانہیں خاندانی ناگواری اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

            تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے انہوں نے 1922 میں ڈبائی سے ہائی اسکول پاس کیا اور مسلم یونیورسٹی انٹرمیڈیٹ کالج، علی گڑھ میں داخلہ لیا۔ انہوں نے 1924 میں انٹرمیڈیٹ، 1926 میں بی اے اور 1929 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی(LL.B.) کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے ابتدائی طور پر ڈبائی ہی میں وکالت کی پریکٹس شروع کی اور بعد ازاں کچھ عرصے کے لیے گوالیار منتقل ہو گئے، جہاں خاندانی اثر و رسوخ کی بدولت انہیں جوڈیشل آفیسر (عدالتی افسر) کے عہدے پر منتخب کر لیا گیا۔ تاہم، سماعت میں کچھ دشواری اور بالخصوص اپنے پختہ وطن پرستانہ نظریات و جذبے کے باعث انہوں نے اس سرکاری عہدے کو ٹھکرا دیا اور واپس بلند شہر آ کر وکالت کا آغاز کیا۔ پیشہ ورانہ تحفظ پر قومی تحریک میں شمولیت کو ترجیح دینے کی پاداش میں ان کو مسلسل خاندان سے ملامت و ناراضگی جھیلنا پڑی۔

            1937 تک محمد ارتضیٰ حسین باقاعدہ طور پر انڈین نیشنل کانگریس کے متحرک رکن بن چکے تھے۔ بلند شہر-انوپ شہر حلقے کے ایک اہم ضمنی انتخاب میں، جہاں کانگریس کے امیدوار نثار احمد خان شیروانی کا مقابلہ مسلم لیگ کے امیدوار سے تھا، ارتضیٰ حسین کانگریس کی مہم میں پیش پیش رہے۔ اس دوران الیکشن مہم میں جب ڈبائی میں کانگریسی کارکنوں کو دھمکایا گیا اور ان کی معاونت بند کر دی گئی، تو انہوں نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضاکاروں کو اپنے گھر پر ٹھہرایا اور راشن و سامان فراہم کیا، جس سے  اپنے خاندان سے ان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ 1940 میں جب مہاتما گاندھی نے ’انفرادی ستیہ گرہ‘کا آغاز کیا، تو ارتضیٰ حسین کو ضلع بلند شہر سے پہلا ’ستیہ گرہی‘نامزد کیا گیا۔ 1941 میں گرفتاری دیتے ہوئے انہیں چھ ماہ قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی، جو انہوں نے بالترتیب بلند شہر اور بریلی جیلوں میں کاٹی۔

            1942 کی ’ہندوستان چھوڑ و تحریک‘(Quit India Movement) کے دوران ان کی انقلابی سرگرمیاں اوج پر پہنچ گئیں۔ 9 اگست 1942 کو بابو بنارسی داس جیسے دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ابتداً انہیں بریلی ڈسٹرکٹ جیل میں قید کیا گیا لیکن بعد میں بریلی سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ بقول  ان کے دوست الطاف بریلوی  ان کو سخت دھوپ اور لو میں تین میل پیدل چلوا کر  لے جایا  گیا۔سامان کی گٹھری بھی انہیں کے کاندھے پر لدی ہوئی تھی۔ سنٹرل جیل میں ان پر بہت زیادہ سختی  کی گئی۔ مشقت کے علاوہ  ان کو ایک خونخوار  اور خوفناک ڈاکو کے ساتھ رکھا گیا۔ جس سے انھیں ہمہ وقت جان کا خطرہ رہتا۔ لیکن ان کے استقلال اور پامردی کا یہ عالم تھا کہ ”اے“ اور ”بی“ کلاس کے سیاسی قیدیوں کو جب ان کی بپتا کا علم ہوا تو انہوں نے ان کو اپنے  کپڑے اور کھانا دینا چاہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔اور کہا میں چوری چھپے کوئی سہولت  حاصل کرنا نہیں چاہتا۔“  بعد ازاں انہیں الہ آباد کی تاریخی نینی جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ رفیع احمد قدوائی (1894–1954)، لال بہادر شاستری (1904–1966) اور گوبند سہائے (1906–1967) جیسے جلیل القدر کانگریسی رہنماؤں کے ساتھ قید رہے۔ اگست 1944 میں دو برس بعد رہائی ملنے پر جب وہ ڈبائی لوٹے، تو برطانوی حکام نے ان کے لئے یونائیٹڈ پروونس (یو پی) سے صوبہ بدر کا حکم سنا دیا—یوں وہ ضلع بلند شہر کے واحد قائد تھے جنہیں برطانوی راج نے صوبے سے بدر کیا۔ اس کے باوجود، ان کی حکومت مخالف سرگرمیاں نہ تھم سکیں اور انہیں بارہا قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔

            1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد، ارتضیٰ حسن کو اتر پردیش کے وزیرِ زراعت نثار احمد خان شیروانی (1887–1956) کا پرنسپل پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ تقسیمِ ہند کے دلدوز اور پرتشدد ایام کے دوران، انہوں نے لکھنؤ میں ایبٹس روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ کو متاثرہ اور بے گھر خاندانوں کے لیے ریلیف سینٹر (امدادی مرکز) میں تبدیل کر دیا اور بے شمار پناہ گزینوں کی دستگیری کی جو ان کے یہاں رہتے اور کھانا کھاتے۔ بعد ازاں انہوں نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور کانگریس کے ٹکٹ پر پہلے میرٹھ شہر اور بعد میں بلند شہر نارتھ ویسٹ حلقے سے فتح حاصل کی۔ عوام میں ان کی ہر دل عزیزی بے پناہ تھی جس کے باعث  وہ 1950 سے 1966 تک مسلسل اتر پردیش قانون ساز اسمبلی (ایوانِ نمائندگان) کے رکن رہے۔

            طویل ایوانی و سیاسی خدمات کے باوجود، ارتضیٰ حسین کا طرزِ عمل روایتی سیاست دانوں کے برعکس نمائش سے پاک اور خاموش عوامی خدمت پر مبنی تھا۔ سرکاری ریکارڈز اور آرکائیوز میں محفوظ دستاویزات شاہد ہیں کہ انہوں نے ایوان کے اندر یا باہر کبھی کوئی تقریر کی اور نہ ہی کوئی پریس بیان جاری کیا؛ ان کی تمام تر توجہ عوام کی روزمرہ شکایات اور مسائل کو بلاواسطہ حل کرنے پر مرکوز رہی۔ وہ بے پناہ خود داری، جرأت اور ہمت کی مجسم تصویر تھے؛ انہوں نے کبھی اقتدار یا بااثر سیاسی شخصیات کی چاپلوسی نہیں کی اور ہر محفل میں اپنی عزتِ نفس کو برقرار رکھا۔ مغربی اتر پردیش میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کے دوران، جب مسلمانوں کے لیے نقل و حرکت انتہائی خطرناک تھی، وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر مظلوموں کی حفاظت کے لیے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرتے اور شرپسندوں کے سامنے ڈٹ جاتے۔ بقول  ان کے دوست الطاف بریلوی کے:

ارتضی حسین نے خود چونکہ ساری زندگی تکلیفوں میں بسر کی تھی اس لئے ان کے دل میں غریبوں اور حاجتمندوں کے لئے بڑا درد تھا۔ چنانچہ نہ صرف اس محکمہ سے متعلق جس سے ان  کا تعلق تھا بلکہ گورنمنٹ کے دوسرے محکموں  میں بھی کسی شخص کا کوئی کام ہوتا تو اپنے اثر  ورسوخ سے سینہ سپر ہوکر  اس کو انجام دیتے تھے۔تھوڑے ہی عرصہ میں ان کا گھر  اہل حاجت کا  زبردست مرکز بن گیا۔

            اپنی عوامی زندگی کے دوران وہ تنظیمی و تعلیمی اداروں کی سرپرستی میں بھی پیش پیش رہے۔ وہ دو مرتبہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی(AICC) کے رکن، صوبائی کانگریس کمیٹی(PCC) کے طویل المدتی رکن اور ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی بلند شہر کے نائب صدر رہے۔

            ادارہ جاتی اور تعلیمی ترقی سے بھی ان کا خاص تعلق رہا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ کُبیر انٹر کالج (ڈبائی) کے لائف ٹرسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے منتخب رکن اور آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس (علی گڑھ) کی انتظامی کمیٹی سے ان کی فعال وابستگی رہی۔ اس کے علاوہ وہ ڈبائی کنیا پاٹ شالہ (گرلس اسکول) کی انتظامی کمیٹی کے ممبر نیز گورنمنٹ ایگری کلچر اسکول بلند شہر کے گورننگ باڈی کے ممبر رہے۔ ان کا انتقال13 جون 1966کو بلند شہر میں دل کا دورہ پڑنے سے ہو ا۔ ان کی وفات پر بابو بنارسی داس (1912–1985)—جوان کے بلند شہر کے ساتھی، اس وقت یوپی اسمبلی کے اسپیکر تھے اور بعد میں اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ بھی بنے —سمیت دیگر معاصرین نے انہیں آزادیِ ہند کی جدوجہد میں عظیم قربانیاں دینے والے ایک بے لوث اور قابلِ قدر رہنما کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

حوالہ جات:

  • ایلومنائی ڈائریکٹری (1974)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ۔، کراچی: سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی۔
  • بریلوی، سید الطاف (1969)۔ چند محسن، چند دوست ۔ کراچی: آل پاکستان ایجوکیشنل کانفرنس۔
  • مصنف، جناب رضوان الحسن فاضلی صاحب (فرزند مرحوم ارتضیٰ حسین صاحب) کا ممنون ہے جنہوں نے اپنے والد کی زندگی سے متعلق
  • اہم دستاویزات فراہم کیے۔

مصنف،اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ جرنلزم اینڈ کمیونی کیشن ، منگلا یتن یونیورسٹی، علی گڑھ