مہندی ۔ ثقافتی ورثے، محبت اور جشن کی علامت ہے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-03-2026
مہندی کی روایت ثقافت حسن اور روحانیت کا حسین امتزاج
مہندی کی روایت ثقافت حسن اور روحانیت کا حسین امتزاج

 



زیبا نسیم : ممبئی  

رمضان المبارک کے بعد عید کی خوشی میں جب تک  خواتین کے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ نظر نہیں آتے ، تب تک یہ خوشی ادھوری نظر آتی ہے ۔ مہندی صرف ایک سجاوٹ نہیں بلکہ کسی زیور  کی مانند ہوتی ہے ۔ ہاتھوں پر بنے ڈیزائنز اور ان کے رنگ کی چمک  بھی کسی مقابلے سے کم نہیں ہوتی ہے ۔ کوئی بھی مذہب ہو ۔ہر مذہب کے کسی نہ کسی تہوار میں مہندی کے رنگ سب سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں ۔ عید کے ساتھ  شادیوں کے علاوہ مہندی مختلف تہواروں جیسے عید،کروا چوتھ دیوالی اور تیج  کے موقع پر بھی لگائی جاتی ہے۔ مہندی جسے حنا بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی علاقوں میں گہری ثقافتی اہمیت رکھتی ہے خاص طور پر جنوبی ایشیا مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں۔خوشی کے مواقع پر مہندی لگانا خوشی حسن اور روحانی حفاظت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ قدیم روایات کو جدید تقاریب کے ساتھ جوڑنے والی ایک خوبصورت روایت ہے۔ 

 عید پر مہندی لگانا صرف سجاوٹ کا عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی رسم بھی ہے۔ خواتین ایک جگہ جمع ہوتی ہیں روایتی گیت گاتی ہیں اور خوشی کا ماحول بناتی ہیں۔ اس طرح یہ روایت معاشرتی ربط اور باہمی خوشی کو مضبوط کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ مہندی کے ڈیزائن اور طریقے جدید ہو گئے ہیں مگر اس کی ثقافتی روح آج بھی برقرار ہے۔اس طرح مہندی صرف ایک فن نہیں بلکہ ثقافتی ورثے محبت اور جشن کی علامت ہے۔

آئیے نظر ڈالتے ہیں مہندی کی تاریخ پر ایک نظر ۔ کہاں سے شروع ہوا اس کا سفر اور آج کیوں بن گئی مہندی ایک صنعت 

مہندی کی تاریخ

اس سلسلے میں الگ الگ دعوے اور اندازے ہیں،مہندی کی تاریخ تقریباً نو ہزار سال پرانی ہے -پہلے دعوے کے مطابق اس کا تعلق قدیم مصر سے جوڑا جاتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ اپنے بالوں اور ناخنوں کو رنگنے کے لیے مہندی استعمال کرتے تھے تاکہ اپنی خوبصورتی میں اضافہ کر سکیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ملکہ کلیوپیٹرا بھی اپنی خوبصورتی بڑھانے کے لیے مہندی استعمال کرتی تھیںدلچسپ بات یہ ہے کہ مصریوں میں یہ رواج بھی تھا کہ ممیوں کو دفنانے سے پہلے ان کے ناخنوں کو مہندی سے رنگا جاتا تھا-

  کچھ مورخین کے مطابق مہندی کی ابتدا ہندوستان میں ہوئی جبکہ بعض دیگر کا خیال ہے کہ اسے باہر سے یہاں لایا گیا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ مغل اسے بارہویں صدی عیسوی میں برصغیر میں لے کر آئے۔یہ بحث یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ مہندی کا آغاز مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہوا جہاں سے یہ مختلف علاقوں میں پھیلی -

کہا جاتا ہے کہ مصر سے یہ روایت تجارتی راستوں کے ذریعے ثقافتی تبادلوں کے ساتھ ہندستان پہنچی اور وقت کے ساتھ یہاں کی روایات کا اہم حصہ بن گئی۔قدیم مصر سے لے کر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی روایات تک اس کا سفر اس کی مستقل دلکشی اور گہری ثقافتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہہے-آج کے دور میں، مہندی کو فن و ہر کلچر خوبصورتی کا نمائندہ مانا جاتا ہے جس نےدنیا بھر میں مختلف فیشن اور ترتیبات کے اہم مواقع پر اپنی جگہ بنائی ہے۔

 اسلام میں مہندی کی اہمیت

اسلامی ثقافت میں مہندی کو سنت سمجھا جاتا ہے کیونکہ نبی کریم نے اس کی ترغیب دی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی مذہبی اہمیت بھی ہے۔تہواروں جیسے عید الفطر اور عید الاضحیٰ اور شادی بیاہ کے مواقع پر۔مہندی زیادہ تر خواتین میں مقبول ہے جو اپنے ہاتھوں پر اسے سجا کر نسوانی حسن کو نمایاں کرتی ہیں۔تاہم مرد بھی اپنے بالوں اور داڑھی میں مہندی استعمال کرسکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفید بالوں کو تبدیل کرنے کے لیے سب سے بہترین چیزیں مہندی اور کتم ہیں۔ یہ روایت ترمذی 1753 میں مذکور ہے۔

تاریخ اور کلچر کی عکاسی
 مہندی کا طریقہ اور ڈیزائن بھی تاریخ اور کلچر کی عکاسی کرتا ہے۔ مختلف علاقوں میں خصوصی روایات اور رواج کے مطابق مہندی کی ڈیزائن میں مختلفیت ہوتی ہے۔ 
جنوبی ایشیائی مہندی کے ڈیزائن
جنوبی ایشیائی مہندی کے ڈیزائن عموماً پھولوں اور پیسلے نمونوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور بہت باریک اور تفصیلی ہوتے ہیں۔ دلہن کی مہندی میں اس طرز کے سب سے زیادہ پیچیدہ اور خوبصورت ڈیزائن دیکھے جاتے ہیں۔ ان ڈیزائنوں میں انگلیوں پر بھی خاص انداز میں مہندی بھری جاتی ہے تاکہ مکمل اور بھرپور ڈیزائن کا تاثر پیدا ہو۔
عربی مہندی کے ڈیزائن۔
عربی مہندی کے ڈیزائن میں عموماً پھول اور محراب نما شکلیں شامل ہوتی ہیں اور یہ جنوبی ایشیائی ڈیزائنوں کے مقابلے میں نسبتاً سادہ ہوتے ہیں۔ اکثر عربی مہندی میں ایک انگلی پر نمایاں انداز میں مہندی لگائی جاتی ہے جو اس کے سادہ اور خوبصورت انداز کو ظاہر کرتی ہے۔
شمالی افریقی مہندی کے ڈیزائن 
شمالی افریقی مہندی کے ڈیزائن میں گنبد مربع مثلث اور مختلف لکیری نمونے شامل ہوتے ہیں۔ یہ ڈیزائن کسی حد تک جنوبی ایشیائی ڈیزائنوں سے مشابہ ہوتے ہیں کیونکہ ان میں بھی باریک اور تفصیلی کام کیا جاتا ہے۔ان ڈیزائنوں کی خاص پہچان ان کی متوازن اور ہم آہنگ شکلیں ہوتی ہیں۔
 
مہندی کیسے ایک صنعت بنی
ایک وقت تھا جب مہندی لگانا وقت طلب اور محنت طلب کام ہوا کرتا تھا۔ اسے سادہ انداز میں ہاتھوں پر ٹکیا کی شکل میں یا انگلیوں کے پوروں پر لگایا جاتا تھا اور گہرا رنگ حاصل کرنے کے لیے اسے پوری رات لگا رہنے دیا جاتا تھا۔وقت کے ساتھ مہندی کے ڈیزائن میں نمایاں تبدیلی آئی۔ آج لڑکیاں انٹرنیٹ سے مختلف اور جدید ڈیزائن تلاش کر کے لگواتی ہیں۔
دراصل1980 کی دہائی میں مہندی کے پیچیدہ ڈیزائن عام نہیں تھے اور لوگوں میں اس حوالے سے زیادہ آگاہی بھی نہیں تھی۔ اس وقت گیلی مہندی کو رات کے وقت ہتھیلی پر لگا کر مٹھی بند کر لی جاتی تھی اور صبح ایک خوبصورت رنگ حاصل ہوتا تھا۔بعد میں انگلی کی مدد سے ہاتھوں پر نقطے اور گول دائروں کے سادہ ڈیزائن بنائے جانے لگے۔
پھر1987 سے 1990 کے درمیان کون مہندی کا رواج عام ہوا جس کے ذریعے ایک مخصوص طرز کا ڈیزائن سب کے ہاتھوں پر بنایا جاتا تھا۔
سال1995 سے 2000 کے درمیان پھولوں کے ڈیزائن مقبول ہونے لگے اور بعد میں بڑے اور نمایاں پھولوں نے ان کی جگہ لے لی۔
آج مہندی ایک مکمل فن کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں پھولوں پتیوں اور دیگر خوبصورت نقش و نگار شامل ہوتے ہیں اور خواتین شوق سے انہیں اپنے ہاتھوں پر سجاتی ہیں۔
 
 
مشرق سے مغرب تک
 مہندی کے دلکش نقش و نگار آج ایک عارضی ٹیٹو کے طور پر بھی استعمال ہو رہے ہیں اور مغربی دنیا میں اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔سال1990 کی دہائی میں یہ روایت تارکین وطن کے ذریعے مغرب پہنچی، جہاں آہستہ آہستہ اسے شہرت حاصل ہونے لگی۔ جلد ہی یہ فن مشہور شخصیات میں بھی مقبول ہو گیا۔ بیونس سے لے کر میڈونا تک کئی عالمی ستاروں نے مہندی کو اپنایا اور اسے نئی پہچان دی۔ اسی طرح کیتھرین زیٹا جونز اور نومی کیمبل جیسی شخصیات نے بھی اس فن کو مغرب میں فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔خاص طور پر میڈونا کی مہندی کے ساتھ نمودار ہونے کو غیر معمولی پذیرائی ملی جس کے بعد اس فن کے لیے ایک نیا رجحان اور دلچسپی پیدا ہوئی۔آج مہندی صرف مشرقی روایت تک محدود نہیں رہی بلکہ مغربی دنیا میں بھی اپنی جگہ بنا چکی ہے۔