زیبا نسیم : ممبئی
رمضان المبارک کے بعد عید کی خوشی میں جب تک خواتین کے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ نظر نہیں آتے ، تب تک یہ خوشی ادھوری نظر آتی ہے ۔ مہندی صرف ایک سجاوٹ نہیں بلکہ کسی زیور کی مانند ہوتی ہے ۔ ہاتھوں پر بنے ڈیزائنز اور ان کے رنگ کی چمک بھی کسی مقابلے سے کم نہیں ہوتی ہے ۔ کوئی بھی مذہب ہو ۔ہر مذہب کے کسی نہ کسی تہوار میں مہندی کے رنگ سب سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں ۔ عید کے ساتھ شادیوں کے علاوہ مہندی مختلف تہواروں جیسے عید،کروا چوتھ دیوالی اور تیج کے موقع پر بھی لگائی جاتی ہے۔ مہندی جسے حنا بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی علاقوں میں گہری ثقافتی اہمیت رکھتی ہے خاص طور پر جنوبی ایشیا مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں۔خوشی کے مواقع پر مہندی لگانا خوشی حسن اور روحانی حفاظت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ قدیم روایات کو جدید تقاریب کے ساتھ جوڑنے والی ایک خوبصورت روایت ہے۔
عید پر مہندی لگانا صرف سجاوٹ کا عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی رسم بھی ہے۔ خواتین ایک جگہ جمع ہوتی ہیں روایتی گیت گاتی ہیں اور خوشی کا ماحول بناتی ہیں۔ اس طرح یہ روایت معاشرتی ربط اور باہمی خوشی کو مضبوط کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ مہندی کے ڈیزائن اور طریقے جدید ہو گئے ہیں مگر اس کی ثقافتی روح آج بھی برقرار ہے۔اس طرح مہندی صرف ایک فن نہیں بلکہ ثقافتی ورثے محبت اور جشن کی علامت ہے۔
آئیے نظر ڈالتے ہیں مہندی کی تاریخ پر ایک نظر ۔ کہاں سے شروع ہوا اس کا سفر اور آج کیوں بن گئی مہندی ایک صنعت
5/ The paste can be applied with many traditional & innovative tools, starting with a basic stick or twig. In Morocco, a syringe is common. A cone similar to those used to pipe icing onto cakes is used in South Asia. Some artists use a Jacquard bottle like those to paint fabric pic.twitter.com/jMEgPCKM8m
— Bayt Al Fann (@BaytAlFann) April 9, 2024
مہندی کی تاریخ
اس سلسلے میں الگ الگ دعوے اور اندازے ہیں،مہندی کی تاریخ تقریباً نو ہزار سال پرانی ہے -پہلے دعوے کے مطابق اس کا تعلق قدیم مصر سے جوڑا جاتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ اپنے بالوں اور ناخنوں کو رنگنے کے لیے مہندی استعمال کرتے تھے تاکہ اپنی خوبصورتی میں اضافہ کر سکیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ملکہ کلیوپیٹرا بھی اپنی خوبصورتی بڑھانے کے لیے مہندی استعمال کرتی تھیںدلچسپ بات یہ ہے کہ مصریوں میں یہ رواج بھی تھا کہ ممیوں کو دفنانے سے پہلے ان کے ناخنوں کو مہندی سے رنگا جاتا تھا-
کچھ مورخین کے مطابق مہندی کی ابتدا ہندوستان میں ہوئی جبکہ بعض دیگر کا خیال ہے کہ اسے باہر سے یہاں لایا گیا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ مغل اسے بارہویں صدی عیسوی میں برصغیر میں لے کر آئے۔یہ بحث یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ مہندی کا آغاز مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہوا جہاں سے یہ مختلف علاقوں میں پھیلی -
کہا جاتا ہے کہ مصر سے یہ روایت تجارتی راستوں کے ذریعے ثقافتی تبادلوں کے ساتھ ہندستان پہنچی اور وقت کے ساتھ یہاں کی روایات کا اہم حصہ بن گئی۔قدیم مصر سے لے کر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی روایات تک اس کا سفر اس کی مستقل دلکشی اور گہری ثقافتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہہے-آج کے دور میں، مہندی کو فن و ہر کلچر خوبصورتی کا نمائندہ مانا جاتا ہے جس نےدنیا بھر میں مختلف فیشن اور ترتیبات کے اہم مواقع پر اپنی جگہ بنائی ہے۔
18. An incredible 3,300-year-old hairstyle on a preserved ancient Egyptian head pic.twitter.com/Ys8pJ95zII
— James Lucas (@JamesLucasIT) March 16, 2025
اسلام میں مہندی کی اہمیت
اسلامی ثقافت میں مہندی کو سنت سمجھا جاتا ہے کیونکہ نبی کریم نے اس کی ترغیب دی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی مذہبی اہمیت بھی ہے۔تہواروں جیسے عید الفطر اور عید الاضحیٰ اور شادی بیاہ کے مواقع پر۔مہندی زیادہ تر خواتین میں مقبول ہے جو اپنے ہاتھوں پر اسے سجا کر نسوانی حسن کو نمایاں کرتی ہیں۔تاہم مرد بھی اپنے بالوں اور داڑھی میں مہندی استعمال کرسکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفید بالوں کو تبدیل کرنے کے لیے سب سے بہترین چیزیں مہندی اور کتم ہیں۔ یہ روایت ترمذی 1753 میں مذکور ہے۔
.webp)
The art of Henna has been practiced in South Asia, Africa & the Middle East for over 5000 years. The botanical name of the henna plant is Lawsonia inermis. A member of the Loosestrife family, henna originally comes from Egypt.
— Bayt Al Fann (@BaytAlFann) April 9, 2024
For Eid, a thread on henna in Muslim cultures… pic.twitter.com/68fauOQRwa

.webp)
.webp)