آواز دی وائس : نئی دہلی
مولانا ابوالکلام آزاد کو وراثت میں ملے ہوئے اسلام سے کچھ اختلاف تھا اور وہ اس میں تبدیلی چاہتے تھے۔ وہ 17 مہینے تک مذہب سے دور رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے اسلام کی ایک نئی تعبیر حاصل کی جس میں تنقیدی سوچ اور شعوری وابستگی پر زور دیا گیا۔
اس کا انکشاف ممتاز تاریخ داں پروفیسرایس عرفان حبیب نے آواز دی وائس کے خاص پوڈ کاسٹ ’’ دین اور دنیا ‘‘ میں کیا ۔ جس میں انہوں نے میزبان ثاقب سلیم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کا ماننا تھا کہ مذہب انسان پر حاوی نہیں ہونا چاہیے بلکہ انسان کے اندر تنقیدی صلاحیت باقی رہنی چاہیے۔ اس طرح مذہب کے اندر دین یعنی روحانی پہلو اور دنیا یعنی عملی زندگی دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہی نہیں مولانا آزاد کے مطابق قرآن ایک مذہبی اور اخلاقی کتاب ہے جو تعلیم کا راستہ دکھاتی ہے لیکن یہ سائنس کی کتاب نہیں ہے۔ انہوں نے سر سید احمد خان کی طرح اس بات کی حمایت کی کہ سائنس کو الگ سے پڑھا جانا چاہیے۔
مولانا آزاد کا خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی
پروفیسر حبیب کے مطابق مولانا آزاد ایک گہرے مذہبی اور علمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد مولانا خیرالدین ایک جید عالم تھے اور عرب دنیا میں تعلیم یافتہ تھے۔ مولانا کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اور وہ کسی باقاعدہ اسکول یا یونیورسٹی میں نہیں گئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک خود ساختہ عالم کے طور پر ابھرے، جنہوں نے کم عمری ہی سے مطالعہ اور غور و فکر کی عادت اپنالی۔


مذہب کے ساتھ تنقیدی تعلق
گفتگو کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ مولانا آزاد نے کم عمری میں مذہب کو تنقیدی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ تقریباً 17 مہینے تک مذہب سے دور رہے۔ تاہم اس دور کے بعد وہ دوبارہ مذہب کی طرف لوٹے، مگر ایک نئی سوچ کے ساتھ۔ ان کے نزدیک مذہب انسان کو قید نہیں کرتا بلکہ اس میں تنقیدی سوچ اور فہم کی گنجائش ہونی چاہیے۔ مولانا آزاد نے زور دیا تھا کہ مذہب کو سمجھنا ضروری ہے نہ کہ صرف یاد کرنا۔ حافظ وہ ہوتا ہے جو صرف رٹتا ہے جبکہ عالم وہ ہے جو سمجھتا ہے۔ مولانا چاہتے تھے کہ عام مسلمان بھی قرآن کو سمجھیں چاہے وہ عربی میں ہی کیوں نہ ہو
وہابیت سے اختلاف اور تعلیمی رجحان
مولانا کے والد وہابیت کے سخت مخالف تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے کی تعلیم ایسے اساتذہ کے ذریعے ہو جو اس فکر سے دور ہوں۔ اسی لیے مولانا کی تعلیم میں خاص احتیاط برتی گئی۔ اس پس منظر نے بھی مولانا کی سوچ کو ایک متوازن اور وسیع زاویہ عطا کیا۔
سائنس اور جدید تعلیم پر نظریہ
مولانا آزاد کا ماننا تھا کہ مذہب کا کام انسان کو اخلاقی رہنمائی دینا ہے، نہ کہ سائنسی معلومات فراہم کرنا۔ انہوں نے سر سید احمد خان کے خیالات سے متاثر ہو کر سائنس اور جدید تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق علم حاصل کرنا ہر انسان کا فرض ہے، چاہے اس کے لیے دنیا کے کسی بھی کونے تک جانا پڑے۔

سر سید احمد خان سے اختلاف
ابتدا میں مولانا آزاد سر سید احمد خان کے خیالات سے متاثر تھے اور جدید تعلیم اور سائنس کو اپنانے کے حامی تھے۔ انہوں نے اپنے والد سے چھپ کر سر سید کی کتابیں پڑھیں کیونکہ ان کے والد سر سید کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے ان کے بعض نظریات پر تنقید بھی کی، خاص طور پر سیاست کے میدان میں۔ سر سید کی کانگریس سے دوری اور انگریزوں کے ساتھ قربت کو مولانا نے درست نہیں سمجھا۔
متحدہ قومیت کا نظریہ
مولانا آزاد کا سب سے اہم نظریہ “متحدہ قومیت” تھا۔ ان کے مطابق ہندوستان ایک مشترکہ تہذیب اور ثقافت کا حامل ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کی سخت مخالفت کی اور ہمیشہ اتحاد اور ہم آہنگی کی بات کی۔ پروفیسر حبیب کے مطابق مولانا آزاد ناکام نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کو یہ یقین دلایا کہ ہندوستان ہی ان کا وطن ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ یہیں رہے اور یہ ان کی کامیابی کی علامت ہے۔
مسلم لیگ اور تقسیم ہند پر موقف
مولانا آزاد نے مسلم لیگ کے اس نظریے کو رد کیا کہ وہ تمام مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ ان کے مطابق ایک بڑی تعداد ایسے مسلمانوں کی تھی جو متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ہندوستان کو اپنا گھر سمجھنا چاہیے۔


تعلیم، سائنس اور ثقافت میں کردار
دوسری بات، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مولانا آزاد صرف وزیر تعلیم نہیں تھے۔ اس کے پاس تین وزارتیں تھیں: وزارت سائنس، وزارت ثقافت، اور وزارت تعلیم۔ وزارتوں کی یہ تقسیم وزارت بننے کے بعد ہوئی۔ اس وقت ایک ہی وزیر تینوں عہدوں پر فائز تھا۔مولانا آزاد جب وزیر تعلیم بنے تو سب سے پہلا چیلنج جو انہیں درپیش تھا وہ مساوات تھا۔ مساوات کیسے حاصل کی جائے؟ تعلیم میں مساوات نہیں۔ وہ جانتے تھے کہ صدیوں سے ہندوستان میں سماج کا ایک بڑا طبقہ ہے جو تعلیمی مواقع سے محروم ہے۔ انہیں مین اسٹریم ایجوکیشن میں شامل کیا جائے۔ یہ ایک ایجنڈا تھا۔ اسے ایک ایسا ملک وراثت میں ملا جس میں 85 فیصد لوگ ناخواندہ تھے، اور ہماری تعلیم کا بجٹ 1 لاکھ روپے تھا۔ ذرا تصور کریں، یہ اتنا بڑا ملک ہے، اور وہ آئین ساز اسمبلی اور بعد میں اس کا مطالبہ کرتے رہے، اور ان کا واحد ایجنڈا یہ تھا کہ ہمارے آئین کے بجٹ کا کم از کم 10 فیصد تعلیم کا ہونا چاہیے۔
دین اور دنیا میں توازن کا تصور
پروفیسر حبیب کے مطابق مولانا آزاد کا سب سے بڑا پیغام یہی تھا کہ انسان کو دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے۔ مذہب کو زندگی پر اس حد تک غالب نہیں آنا چاہیے کہ دنیاوی معاملات متاثر ہوں۔ تعلیم، روزگار، اور سماجی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ مذہب۔ اگر تم کہتے ہو تو میرا مذہب سے بہت کم تعلق ہے۔ میرا دنیا سے زیادہ تعلق ہے۔ اور جو لوگ مذہب سے جڑے ہوئے ہیں ان کو میرا مشورہ ہے کہ اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ دنیا اور دین کے درمیان توازن برقرار رکھیں۔ آپ کی دنیاوی زندگی پر مذہب کا غلبہ نہیں ہونا چاہیے
آج کے دور میں مولانا آزاد کی اہمیت
گفتگو کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مولانا آزاد کی سوچ آج بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ماضی میں تھی۔ انہوں نے ایک ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا جہاں سب لوگ برابر ہوں اور مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ ہو۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ایک بڑی تعداد میں مسلمان ہندوستان میں رہے اور اسے اپنا وطن مانا۔یہ مکالمہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد صرف ایک مذہبی رہنما نہیں بلکہ ایک عظیم مفکر، ماہر تعلیم اور قوم پرست رہنما تھے۔ ان کی زندگی اور نظریات آج بھی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ علم، برداشت، اور توازن ہی کامیاب معاشرے کی بنیاد ہیں۔