نئی دہلی : آواز دی وائس
مہر نکاح کے وقت عورت کو دیا جانے والا محض ایک تحفہ نہیں بلکہ اس کا شرعی اور قانونی حق ہے۔ مہر شوہر پر واجب الادا قرض ہے جس کا مقصد عورت کی عزت۔ وقار۔ اور مالی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ کہ مساجد کے ائمہ۔ علما۔ اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ مہر کی اہمیت پر آگاہی پھیلائیں تاکہ عورت کے حقوق محفوظ رہیں
مہر کے سلسلے میں دین اور دنیا پوڈ کاسٹ میں ان خیالات کا اظہار مفتی افروز عالم قاسمی نے کیا ۔ممتاز تاریخ داں ثاقب سلیم کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے مہر کے موضوع پر تفصیلی وضاحت پیش کی۔مہر کی شرعی حیثیت۔ اس کی مقدار۔ ادائیگی۔ اور معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں پر روشنی ڈالی۔

مہر ایک تحفہ نہیں حق ہے
مفتی افروز عالم قاسمی نے کہا کہ مہر نکاح کے وقت عورت کو دیا جانے والا محض ایک تحفہ نہیں بلکہ اس کا شرعی اور قانونی حق ہے۔ مہر شوہر پر واجب الادا قرض ہے جس کا مقصد عورت کی عزت۔ وقار۔ اور مالی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہر کے ذریعے عورت کو شادی کے آغاز سے ہی معاشی استحکام دیا جاتا ہے تاکہ کسی مشکل وقت میں وہ محتاج نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ شریعت میں مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم مقرر کی گئی ہے اور اس سے کم مہر درست نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق پانچ سو درہم کے قریب مہر رکھا گیا جسے مہر فاطمی کہا جاتا ہے۔ مفتی صاحب کے مطابق سنت کے مطابق مہر رکھنا زیادہ بہتر اور باعث برکت ہے۔

مہر اور شوہر کی مالی حیثیت
مفتی افروز عالم قاسمی نے اس بات پر زور دیا کہ مہر کی مقدار شوہر کی مالی حیثیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر شوہر مالدار ہے تو اسے کشادگی کے ساتھ مہر ادا کرنا چاہیے اور اگر کم حیثیت ہے تو اپنی استطاعت کے مطابق لیکن شرعی حد کے اندر رہتے ہوئے مہر مقرر کرے۔
انہوں نے مہر کی ادائیگی کے وقت کے بارے میں کہا کہ مہر کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ معجل اور غیر معجل۔ معجل مہر وہ ہے جو نکاح کے وقت یا فوراً ادا کر دیا جائے اور شریعت نے اسی طریقے کو پسند کیا ہے۔ غیر معجل مہر بعد میں ادا کیا جاتا ہے لیکن اس میں یہ شرط ضروری ہے کہ عورت کے مطالبے پر فوراً ادا کیا جائے۔
شوہر پر لازم قرض ہے
مفتی صاحب نے اس تصور کو غلط قرار دیا کہ مہر صرف طلاق کے وقت دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہر کا طلاق سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ شوہر پر لازم قرض ہے جسے زندگی میں ادا کرنا ضروری ہے۔ طلاق یا موت کے وقت عورت پر مہر معاف کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ظلم اور ناانصافی ہے۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اگر عورت اپنی خوش دلی سے بغیر کسی دباؤ کے مہر ہبہ کر دے تو یہ درست ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر دباؤ۔ خوف۔ یا مجبوری کے تحت مہر معاف کرایا جائے تو شریعت میں ایسی معافی معتبر نہیں ہوتی۔
مفتی افروز عالم قاسمی نے اس خیال کو بھی رد کیا کہ قرآن پڑھانا یا عبادت کو مہر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادات انسان کا ذاتی عمل ہیں اور انہیں عورت کے مالی حق کا بدل نہیں بنایا جا سکتا۔ مہر کے لیے مالی قدر رکھنے والی چیز کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے معاشرے میں جہیز اور فضول خرچی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شادیوں میں لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن عورت کے حق یعنی مہر میں کنجوسی کی جاتی ہے۔ اسلام اس رویے کی سخت مخالفت کرتا ہے اور عورت کے حقوق کی مکمل ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔مفتی افروز عالم قاسمی نے آخر میں کہا کہ مساجد کے ائمہ۔ علما۔ اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ مہر کی اہمیت پر آگاہی پھیلائیں تاکہ عورت کے حقوق محفوظ رہیں اور نکاح کا اسلامی تصور صحیح معنوں میں معاشرے میں قائم ہو سکے۔