خرم شہزاد نور۔فوجی وردی میں شاعری کا سفر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-08-2026
خرم شہزاد نور۔فوجی وردی میں شاعری کا سفر
خرم شہزاد نور۔فوجی وردی میں شاعری کا سفر

 



نئی دہلی

"ایک دن ظاہر ہو جائے گا شان و شوکت کس کے ہیں
گُلک بھی سمجھا کرتی تھی سارے سکے اس کے ہیں۔"

یہ جذباتی تاثرات نہیں بلکہ عملی بنیاد پر تجربہ ہے جسے سابق ریئر ایڈمرل ڈاکٹر خرم شہزاد نور نے اس شعر کی شکل میں پیش کیا ہے۔ یہ شعر دراصل عہدے۔ اختیار اور انسان کے زعم کی ایک گہری تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ شعر ریٹائرمنٹ کے بعد کہا ۔کیونکہ  فوج میں ایک اعلیٰ منصب پر رہتے ہوئے انسان کے گرد اختیار۔ عزت اور ذمہ داری کا ایک پورا نظام ہوتا ہے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سب پیچھے رہ جاتا ہے اور انسان اپنی اصل ذات کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔

 یہ باتیں ڈاکٹر خرم شہزاد نور نے "آواز دی وائس" کے خصوصی انٹرویو میں کہیں جہاں وہ مہمان کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ گفتگو کی میزبانی ثاقب سلیم اور انجلی ادا نے کی۔ اس گفتگو میں سابق ریئر ایڈمرل نے اپنی فوجی زندگی۔ تعلیم۔ شاعری۔ افسانہ نگاری۔ انسانی رشتوں اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

اس شعر میں ڈاکٹر نور نے گُلک کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ گُلک میں سکے جمع ہوتے رہتے ہیں اور اسے بظاہر یہ گمان ہوتا ہے کہ اس کے پاس سب کچھ ہے۔ لیکن جب گُلک ٹوٹتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر موجود سکے اس کی اپنی ملکیت نہیں تھے۔ اسی طرح انسان بھی عہدے اور منصب کے دوران بہت سی چیزوں کو اپنی ذات کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ تاہم عہدہ ختم ہونے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ بہت سی شان و شوکت دراصل کرسی سے وابستہ تھی۔یہی احساس ان کی شاعری کا ایک اہم موضوع ہے۔ زندگی کے تجربات۔ مشاہدات اور مختلف حالات ان کے ذہن میں ایسے خیالات پیدا کرتے ہیں جو بعد میں اشعار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

35 سالہ بحری زندگی سے ادب کے سفر تک

ہندوستانی بحریہ میں 35 سال کی خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر خرم شہزاد نور ریئر ایڈمرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ وہ انڈین نیول اکیڈمی ایزھی مالا کے پرنسپل بھی رہ چکے ہیں۔ فوجی زندگی میں انہوں نے تعلیم اور تربیت کے شعبے میں اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور مختلف پروفیشنل تربیتی اداروں کی قیادت کی۔ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں ادب کی مضبوط روایت موجود تھی۔ ان کے والد نور الدین احمد نور فشری المعروف نور بدایونی شاعر تھے جبکہ ان کی والدہ ستارہ نور افسانہ نگار اور ڈراما نگار تھیں۔ اسی ادبی ماحول نے بچپن ہی سے ان کے اندر لفظ اور احساس سے تعلق پیدا کیا۔تاہم ان کا ابتدائی ارادہ فوج میں جانے کا نہیں تھا۔ ایم ایس سی کے بعد وہ مرادآباد کے ایک کالج میں فزکس کے لیکچرر بنے۔ اسی کالج کے پرنسپل ایک ریٹائرڈ کرنل تھے جنہوں نے انہیں فوج میں جانے کی ترغیب دی۔ بعد میں نیول ایجوکیشن کا اشتہار آیا اور وہ بحریہ میں شامل ہوگئے۔

30 امیدواروں میں واحد مسلمان

انٹرویو کے دوران ہندوستانی فوج میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے سوال پر ڈاکٹر نور نے اپنا تجربہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سروس سلیکشن بورڈ بھوپال میں 30 امیدوار تھے اور وہ واحد مسلمان تھے۔ ان 30 امیدواروں میں صرف وہ منتخب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بحریہ میں اپنی پوری سروس کے دوران انہیں کبھی تعصب یا حق تلفی کا احساس نہیں ہوا۔ ان کے خیال میں فوج میں کم نمائندگی کی وجوہات میں نوجوانوں کی ترجیحات اور بعض غلط فہمیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

فوجی تربیت بھی علم کا ایک وسیع میدان

ڈاکٹر خرم شہزاد نور کے مطابق بحریہ میں تعلیم اور تربیت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ نئے آنے والے نوجوانوں کو فوجی تربیت دینے سے لے کر افسران کو مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں مہارت فراہم کرنے تک متعدد ادارے کام کرتے ہیں۔انہوں نے سیلرز اور افسران کی تربیت سے وابستہ اداروں کی قیادت کی۔ نیوی گیشن۔ گنری۔ کمیونیکیشن۔ انجینئرنگ اور اینٹی سب میرین وارفیئر جیسے شعبوں میں تربیت بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ وہ خود اینٹی سب میرین وارفیئر کے ماہر رہے۔

فوجی زندگی میں شاعری کیسے جاری رہی

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ فوجی زندگی کے سخت نظم و ضبط میں ادب اور شاعری کے لیے وقت نہیں ملتا لیکن ڈاکٹر نور اس تصور سے اتفاق نہیں کرتے۔ان کے مطابق شعر کسی مخصوص وقت کا پابند نہیں ہوتا۔ خیال صبح 4 بجے بھی آ سکتا ہے اور رات 12 بجے بھی۔ ڈیوٹی کے دوران بھی کوئی خیال ذہن میں آئے تو اسے لکھ لیا جاتا ہے اور بعد میں اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ان کی مختلف تعیناتیاں بھی ان کی شاعری کے لیے باعث تحریک بنیں۔ اڑیسہ۔ وشاکھاپٹنم۔ گوا۔ ممبئی اور کیرالہ جیسے مقامات کی خوبصورتی نے انہیں فطرت کے قریب رکھا۔ ان کے مطابق ہندوستان کے خوبصورت مقامات پر رہتے ہوئے شاعری کرنا مزید آسان ہو جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد پیدا ہونے والا شعر

اسی زندگی کے تجربے سے ان کا یہ شعر سامنے آیا۔

"ایک دن ظاہر ہو جائے گا شان و شوکت کس کے ہیں
گُلک بھی سمجھا کرتی تھی سارے سکے اس کے ہیں۔"

ریٹائرمنٹ نے انہیں یہ سوچنے کا موقع دیا کہ انسان کی شان و شوکت میں اس کے عہدے کا کتنا حصہ ہوتا ہے۔ کرسی چھوٹنے کے بعد انسان صرف وہ رہ جاتا ہے جو حقیقت میں وہ خود ہے۔یہ شعر دراصل منصب کی عارضی حیثیت اور انسانی ذات کی مستقل حقیقت کے درمیان فرق کو بیان کرتا ہے۔

بزرگوں کی تنہائی بھی شاعری کا موضوع

ڈاکٹر نور کے اشعار میں معاشرتی مشاہدات بھی نمایاں ہیں۔ بزرگوں کو ان کے اپنے بچوں کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے تجربے نے انہیں یہ شعر لکھنے کی تحریک دی۔

"زمیں و آسماں اس کو زوال دیتے ہیں
جو گھر سے نیو کا پتھر نکال دیتے ہیں۔"

وہ ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہیں جو بزرگوں کی دیکھ بھال سے متعلق کام کرتی ہے۔ وہاں کے تجربات نے انہیں یہ احساس دیا کہ جن لوگوں نے اپنی پوری زندگی گھر کی بنیاد مضبوط کرنے میں صرف کی۔ اگر انہی کو بڑھاپے میں گھر سے الگ کر دیا جائے تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہے۔اسی طرح اصولوں پر قائم رہنے والے انسان کی زندگی کی مشکلات کو انہوں نے یوں بیان کیا۔

"پھولوں پہ چلا ہے نہ یہ شُولوں پہ چلا ہے
تلوے بتا رہے ہیں اصولوں پہ چلا ہے۔"

ان کے مطابق کوئی واقعہ۔ کوئی منظر یا کوئی انسانی رویہ اچانک ذہن میں ایک خیال پیدا کرتا ہے اور وہ خیال شعر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

محبت کی پہلی شاعری بھی ایک دلچسپ داستان

ڈاکٹر نور کی شاعری کا آغاز بھی ایک دلچسپ واقعے سے ہوا۔ 1981 میں وردھمان کالج بجنور میں تعلیم کے دوران انہیں اپنی ایک ہم جماعت پسند تھی۔ چونکہ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی تھیں اور اس وقت براہ راست اظہار محبت آسان نہیں تھا اس لیے انہوں نے ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔انہوں نے اس اخبار میں جگہ خرید کر چار سطری شاعری شائع کرائی جو اس لڑکی کے گھر بھی پہنچتا تھا۔ اس نظم میں انہوں نے لکھا۔

"کہ راہ کے پتھر ہیں ہم دنیا ہے ٹھوکر مارتی
منزل پہ پہنچا دے ہمیں بن کر ہمارا سارتھی
یا تو ہمیں تراش کے ایک سجدہ گاہ میں ڈھال دے
یا مورتی بنا ہمیں کہ ہو ہماری آرتی۔"

یہی آرتی بعد میں ان کی شریک حیات بنیں۔ ڈاکٹر نور آج بھی اپنی نئی تحریر سب سے پہلے اپنی اہلیہ کو سناتے ہیں اور انہیں اپنا بہترین ناقد قرار دیتے ہیں۔

"سولہ آنے سچ" میں زندگی کے حقیقی واقعات

ڈاکٹر خرم شہزاد نور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ کہانی کار بھی ہیں۔ ان کی کتاب "سولہ آنے سچ" میں 16 سچی کہانیاں شامل ہیں۔ان کے مطابق یہ کہانیاں یا تو ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہیں یا انہوں نے انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھا ہے۔ ان کہانیوں میں انسانی اقدار۔ رشتے۔ قربانی اور ہمدردی بنیادی موضوعات ہیں۔ان کے افسانوں کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ کہانی کے اختتام پر اچانک ایک نیا موڑ آتا ہے۔ قاری جس واقعے کو ایک خاص زاویے سے دیکھ رہا ہوتا ہے آخر میں اس کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی عموماً خوشگوار ہوتی ہے اور قاری کے اندر انسانیت اور رشتوں کے لیے احساس کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ان کی دیگر کتابوں میں "خواب خیال اور خواہشیں" اور "ریشہ ریشہ ریشم سا" شامل ہیں۔

خودمختاری کو زندگی کا آخری اصول بنانے کی کوشش

ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر نور نے خود کو محدود نہیں کیا۔ ادب اور شاعری کے ساتھ وہ نوجوانوں کی تربیت کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کی اکیڈمی میں نوجوانوں کو دفاعی افواج میں کیریئر بنانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ان کی ایک نظم کا مرکزی خیال بھی یہی ہے کہ انسان کو زندگی کے آخری حصے تک خودمختار رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق لمبی عمر کی خواہش اپنی جگہ لیکن ایسی زندگی زیادہ بامعنی ہے جس میں انسان آخری وقت تک اپنے فیصلے خود کر سکے۔ اپنے کام خود انجام دے سکے اور اپنے چاہنے والوں کا سہارا بن سکے۔ڈاکٹر خرم شہزاد نور کی شخصیت میں ایک طرف 35 سالہ فوجی زندگی کا نظم و ضبط ہے تو دوسری طرف شاعر کی حساسیت۔ ایک طرف ریئر ایڈمرل کا منصب ہے تو دوسری طرف لفظوں سے انسانی زندگی کے باریک تجربات کو بیان کرنے والا قلم۔"گُلک بھی سمجھا کرتی تھی سارے سکے اس کے ہیں" سے شروع ہونے والی یہ گفتگو دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عہدے اور شان و شوکت عارضی ہیں لیکن انسان کی اصل شناخت اس کے کردار۔ اس کے علم۔ اس کے احساس اور اس کے کام سے بنتی ہے۔ یہی شاید ڈاکٹر خرم شہزاد نور کے وردی سے ادب تک کے سفر کا سب سے اہم سبق بھی ہے۔

دراصل اس بات چیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  ڈاکٹر خرم شہزاد نور کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ فوجی نظم و ضبط اور ادبی حساسیت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ ہندوستانی بحریہ میں اعلیٰ ترین ذمہ داریوں تک پہنچنے والے اس افسر نے ریٹائرمنٹ کے بعد قلم کو اپنی نئی شناخت بنایا۔ان کی گفتگو میں فوجی زندگی کا تجربہ بھی ہے۔ استاد کی بصیرت بھی ہے۔ شاعر کا احساس بھی ہے اور ایک ایسے انسان کی فکر بھی جو نئی نسل کو خودمختار۔ باصلاحیت اور ذمہ دار دیکھنا چاہتا ہے۔وردی سے ادب تک کا یہ سفر ڈاکٹر خرم شہزاد نور کی شخصیت کے ان مختلف پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے جو عام طور پر ایک ہی انسان میں بیک وقت دکھائی نہیں دیتے۔