مولانا عبدالماجد دریابادی کا “سفر حجاز” ۔۔۔۔۔ ایک بے مثل سفر نامہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-05-2026
مولانا عبدالماجد دریابادی کا “سفر حجاز” ۔۔۔۔۔ ایک بے مثل سفر نامہ
مولانا عبدالماجد دریابادی کا “سفر حجاز” ۔۔۔۔۔ ایک بے مثل سفر نامہ

 



 ڈاکٹر تحسین فراقی

اردو میں سفر نامے کی باقاعدہ روایت کا آغاز انیسویں صدی کے وسط سے ہوا اور یوسف خاں کمبل پوش اس اعتبار سے اردو کا پہلا سفر نامہ نگار ہوتا ہے، بلکہ اس کا سفر نامہ 'سفر نامے کی نسبت سیاحت نامے کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اہل نقد کے نزدیک سیاحت من کی موج اور باطن کی آواز کے نتیجے میں اختیار کی جاتی ہے ، جبکہ سفر میں بالعموم ایک طرح کی خارجی مجبوری کو دخل ہوتا ہےاردو کے بیشتر سیاح اس من کی موج پر رہ نور د سفر ہوئے۔ سفر ان میں سے بیشتر کے لیے ایک مذہبی حکم کی حیثیت رکھتا تھا اور یہ سفر جیسا کہ سید سلیمان ندوی نے عبد الماجد دریا باری کے سفر حجاز کے دیباچے میں لکھا ہے اصل میں ابتداء حجاز مقدس کی زیارت ہی کے لیے اختیار کیے جاتے تھے چنانچہ ابن حوقل بغدادی، اصطخری فارسی، حکیم ناصر خسرو ،ابن جبیر اندلسی، ابن بطوطه مغربی اور بیسیوں سیاح اس قسم کے ہیں جنہوں نے اپنے سفر کا آغا ز اسی نیت سے کیا اور پھر جب سیر و سیاحت کی چاٹ لگ گئی تو دنیا کے گوشے گوشے کو چل پھر کر دیکھ لیا اور اپنے مشاہدات کو سفر نامہ کی صورت میں قلمبند کر دیا۔ (۱) اردو کے قدیم سفر نامے اپنے اندر دلچسپی کا کافی سامان رکھتے ہیں مگر ان میں معلومات کا طومار دلچسپی کی دھار کو کہیں کہیں ضرور کند کر دیتا ہے۔

اس نوعیت کے سفر ناموں میں ، جن میں سے بعض دراصل گائیڈ بکس ہیں ، مقامات کی تفصیل، مسافروں کے لیے مراعات مختلف ممالک اور شہروں کی مکمل “ اور ”صحیح مردم شماری کے کوائف نقشے شہروں کے آپس کے فاصلے اور ان مقامات کی تاریخ اور جغرافیائی محل وقوع کی اس قدر گراں بار تفصیلات ملتی ہیں کہ ان سے سیاحت کا مقصد ایک حد تک تو بہر حال مجروح ہوتا ہے۔ چنانچہ جس طرح قدیم اردو سفر نامے گر انبار تاریخی و جغرافیائی معلومات اور بے رس تفصیلات تلے کراہتے نظر آتے ہیں اسی طرح کی صورت حال اردو کے پرانے سفر نامہ ہائے حج کی بھی ہے جبکہ حج و زیارت کا یہ سارا سفر تو عبارت ہی ہے وجود کی نو دریافت سے!

مشهور فارسی شاعر ناصر خسرو حج سے لوٹنے والے ایک دوست سے ملنے گیا۔ دوران ملاقات اس نے دوست سے پوچھایہ تو بتاؤ اس مقدس سرزمین پر تم نے مناسک حج کس طرح ادا کیے ؟ جب تم نے عام لباس تج کر احرام پہنا تو تمہارے کیا تاثرات تھے ؟ کیا تم ان تمام محرمات سے بچے رہے جن سے ممانعت کا حکم آیا ہے ؟ کیا تم نے عجز و تعلیم کا وہی انداز اپنایا تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اختیار کیا تھا۔ کیا میدان عرفات میں تم عارف حق اور منکر خویش ہونے کے تجربے سے گزرے؟ کیا حرم میں داخل ہوتے وقت تم نے اپنی انانیت کو اصحاب کہف اور رقیم کی طرح تج دیا تھا ؟ کیا تم نے جانور کی قربانی کرتے وقت اپنے نفس لئیم کو بھی ذبح کیا ؟ اب جبکہ تم کعبے سے لوٹ آئے ہو کیا تم اپنا نفس دنی دفن کر کے آئے ہو اور کیا تم دوبارہ کعبہ جانے کے لئے بے قرار ہو ؟ دوست نے جب ان سب سوالوں کا جواب نفی میں دیا تو ناصر خسرو کو کہنا پڑاافسوس کہ تم نے اپنا پیسہ اور وقت برباد کیا اور حج کی سعادت سے محروم رہے۔ (۲)

حقیقت یہ ہے کہ زیارت حرمین کا مقصد وحید ذات کے نئے عرفان اور باطن کی قلب ماہیت سے عبارت ہے۔ یہیں آ کے فرد نشاۃ ثانیہ اور خلق جدید کے مرحلے سے گزرتا ہے اور یوں نشاۃ ثانیہ کے اس دائرے میں فرد کی ذات سے پھیل کر پوری ملت اسلامیہ اور بالآخر پوری نوع انسانی کا احاطہ کرنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ حج تو نام ہی ہے کلی انسانی وجود کے کیمیا ہو جانے کا۔ یہ عبارت ہے شناخت سے عدم شناخت اور رنگ سے بے رنگی تک کے اس مرحلے سے جس کے نتیجے میں سب سے بڑی شناخت یعنی صبغة الله کا حصول ممکن ہو تا ہے اور تحقیق کہ من احسن من الله صبغة ،علی شریعتی نے لکھا ہے :حج عبارت ہے انسان کے اللہ کی جانب سفر عروجی سے۔ یہ دراصل تخلیق آدم کے فلسفے کا تخلیقی اظہار ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ حج بیک وقت بہت سے حقائق کا مظہر ہے۔ یہ مظہر ہے تخلیق کا یہ مظہر ہے تاریخ کا یہ مظہر ہے توحید کا اور یہ مظہر ہے اسلامی وحدت اور امت محمدیہ صلى الله عليه وسلم کی ایک دلی اور ہم احساسی کا ۔ (۳)

پر اردو میں حج کے ایسے سفرنامے جن میں

زختم آستیں مردار و گوہر را تماشا کن۔ اور

منم و ہمیں تمنا کہ وقت جاں سپردن

به رخ تو دیده باشم تو درون دیده باشی

کی کیفیتوں کی بجلیاں بھری ہیں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ان سفر ناموں میں حافظ لدھیانوی کا جمال حرمین ،شورش کا شمیری کا ”شب جائے کہ من بودم ،ماہر القادری کا کاروان حجاز " حافظ بصیر پوری کا اس دیار میں " ناصر قریشی کا " سرزمین آرزو ممتاز مفتی کا لبیک " نسیم حجازی کا پاکستان سے دیار حرم تک اور مولانا عبد الماجد دریابادی کا سفر حجاز بہت اہم ہیں۔ 

مولا نا دریا بادی کا سفر نامہ حج کے مندرجہ بالا سفر ناموں میں گل سر سبد کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور اولیت کا شرف بھی ۔ میری دانست میں کامیاب سفر نامہ حج وہی ہے جس میں مسافر حرمین نے اپنی کاوشیں اور کاہشیں اپنے دیدہ تر کی بے خوابیاں اپنے قلب کی پوشیدہ بے تابیاں اپنے احساس گناہ شرم عصیان خالق سے وصل کی شدید تمنائیں اور حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی ذات سے کمال وابستگی اور سپردگی کے احساسات پوری فنکارانہ مہارت سے سموئے ہوں اور جس سے اس کے قارئین کو باور ہو جائے کہ حج و زیارت حرمین کن مقاصد عالیہ کے حصول کا ذریعہ ہے۔ گویا یہ رجعت الی اللہ کا سامان فراہم کرتا ہے۔ حج کی اس معنویت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جیلانی کامران نے لکھا ہےیافت اور نایافت کی جس کشمکش سے انسانی زندگی عمر بھر گزرتی ہے وہ ارضِ مقدس ہی کے دروبام وادی و کو ہسار و صحرا سے سکون حاصل کرتی ہے۔ ایسی گہری واردات قلب ارض مقدس کے جغرافیائی رشتوں کو بدل دیتی ہے اور اسے زیادہ بلند زیادہ گہرے زیادہ پائیدار رشتوں میں قبول کرتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام میں پیدا ہوتی ہوئی ہر نسل ارض مقدس میں پیدا ہوتی ہے اور اپنے آبائی وطن سے بہت پہلے اس روحانی وطن میں وارد ہوتی ہے۔ عالم اسلام کی نسلوں کا بچپن ارض مقدس کی اجتماعی یادداشت میں پرورش پاتا ہے اور عمر کے زیادہ پختہ مقام نظر پر بچپن کی حاصل کی ہوئی اجتماعی یاد داشت کی مدد سے آبائی اور روحانی وطن کی وحدت ظاہر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی فکری تاریخ اسی وحدت کی تاریخ رہی ہے (۴) ۔ “ مولانا دریا بادی نے ۱۹۲۹ء حرمین کا سفر مقدس اختیار کیا۔ تشکیک وار تیاب کی وادی سے گزرے ابھی انہیں زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اس سفر نامے میں ان کے سابقہ الحادی میلانات اور اظہارات کی یاد نے ان کے احساس ندامت کی لو کو اور بھڑکا دیا۔ سفر حجاز " میں مولانا ایک عبد عاجز ایک فرد آثم اور مسلم ملت کی حیات تازہ کے خواب دیکھنے والے ایک ایسے عالم دین کے طور پر نظر آتے ہیں جو مسلم ملت کے زوال پر بے حد دل گرفتہ ہیں۔ انہیں ایک سچے مسلمان کی طرح کامل یقین ہے کہ وہ جس آستانے پر پہنچے ہیں وہاں سے مراد یں حاصل کیے بغیر کیسے لوٹ سکتے ہیں۔ وہ روضہ رسول ﷺ کے سامنے اپنا دل چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ مولانا کا یہ سفر نامہ ان کے قلب کے گہرے احساسات و تاثرات کا ایک ایسا روشن اور لطیف آئینہ ہے جس مین عاشقان ذات حق اور محبان رسول رحمت ﷺ اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ مولانا کا کمال یہ ہے کہ ان کی یہ داستان سفرحجاز ایک فرد کی نہیں ایک پوری نادم اور فرومایہ ملت کی داستان درد بن جاتی ہے۔ حج کا یہ سفر نامہ اصل میں مقامات و افراد کے ذکر سے زیادہ محبت اور والہانہ شیفتگی کا سفر نامہ ہے اور شیفتگی کا یہ سامان تو چودہ صدیوں سے مسلمانوں کا سرمایہ ء افتخار ہے.

اس مقدس سفر کا مقصد کیا تھا سب جانتے ہیں یہ سفر خیر طلبی اور نفس کی کدورتوں سے زنگ اتارنے کے لئے اختیار کیا گیا تھا۔ علمی تحقیق و تفتیش یا دنیا طلبی کے لئے نہیں تھا۔ یہ سفر بقول مولانا دریا بادی چلچلاتی ہوئی ریگ والی سرزمین کی طرف تھا گرمی کے موسم میں آسمان کی چھت کے نیچے تھا جس کا آفتاب تمتمایا ہوا ہوتا ہے۔ ہو ٹلوں اور پارکوں ، آبشاروں اور سبزہ زاروں کی طرف نہ تھا خشک اور چٹیل میدانوں کے بے آب و گیاہ ویرانوں اور خاک برسانے والے ریگستانوں کی جانب تھا۔ ایک گناہگار امتی اپنے شفیع و شفیق آقا کے آستانے پر حاضر ہو رہا تھا۔ بندے کی حاضری اپنے مولا کے دربار میں تھی۔ بھاگا ہو ا غلام تھک کر اور ہار کر پچھتا کر اور شرما کر اپنے مالک کی طرف رخ کر رہا تھا( ۵)حجاز مقدس کا یہ سفر رنگ، نسل، لباس اور لسان کی رنگارنگی کو کس طرح وحدت میں ڈھال دیتا ہے اور تمدن کی مصنوعی دیواروں کو کس طرح گرا دیتا ہے، اس پر مولانا کے تاثرات ملاحظہ فرمائیے : دیکھتے ہی دیکھتے لباس و پوشش کے سارے امتیازات مٹ گئے سنتے چلے آئے ہیں کہ الناس باللباس .......... اب کس لباس سے خادم کو مخدوم سے پہچانا جائے گا اور کس پوشاک سے غلام کو آقا سے الگ کیا جائے گا۔

 ابھی کل تک جہاز کی اس وسیع آبادی میں بڑے بھی تھے اور چھوٹے بھی امیر بھی تھے اور فقیر بھی رئیس بھی اور مزدور بھی خوشحال بھی اور مفلس بھی، عالم بھی اور جاہل بھی، نامور بھی اور گمنام بھی تعلقہ دار بھی اور رعایا بھی، مجسٹریٹ بھی اور چپراسی بھی ، پر آج کسی کو کس سے شناخت کیا جائے۔ سب سے بڑے مہاراجہ اور شہنشاہ اعظم کی راجدھانی کے حدود شروع ہو گئے۔ اب نہ کوئی راجہ ہے نہ ٹھاکر سب کے سب اس کی پر جا کل کے کل اس کے چاکر سارے کے سارے اسی کی رعایا ہیں، مالک کے دربار کی سرحدیں شروع ہو گئیں ۔ اب نہ کوئی امیر ہے نہ کوئی وزیر نہ کوئی عالم ہے نہ کوئی حاکم نہ کوئی خان بہادر ہے نہ کوئی لیڈر سارے کے سارے اس مالک الملک کے غلام ہیں۔۔۔۔ اب نہ ہیٹ ہے نہ پگڑی نہ عمامہ ہے نہ شملہ نہ ترکی ٹوپی ہے نہ گاندھی کیپ نہ قمیض ہے نہ معائنہ کوٹ ہے نہ شیروانی نہ کالر ہے نہ ٹائی نہ پتلون ہے نہ پاجامہ سب کی زبان پر لبیک لبیک کے ترانے ہیں اور سب کے جسموں پر بے سلی دو دو چادر یں ....... اس دربار کی وردی سب سے انوکھی ' سب سے نرالی سب سے الگ ہے۔ یہاں قدر زریں کلاہوں کی نہیں۔ یہاں عزت رنگیں قباؤں کی نہیں، یہاں طلب صرف کفن پوشوں کی ہے۔ ان کی جو جیتے جی مردوں کا لباس پہن چکے ہیں .... مبارک ہیں وہ جو زندگی میں اپنے نفسوں کو مردہ کر چکے ہیں۔ ان کا نفس بھی تو مردہ نفس من چکا ہے۔ فَلا رفت وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِى الْحَج،لڑنا، جھگڑنا، شہوتوں اور خواہشوں میں مبتلا ہونا زندوں کا کام ہے۔ مردوں کو بھی کسی رفث اور فسوق اور جدال میں مبتلا دیکھا ۔

مولانا دریا بادی کے اس اقتباس سے مجھے معا ڈاکٹر علی شریعتی کے وہ تاثرات یاد آتے ہیں جو ان کی معرکہ آرا کتاب " حج میں ایک جگہ مرقوم ہیں اور جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم فانی انسانوں نے اپنے ارد گرد بہت سی دیوار یں چن رکھی ہیںرنگ و نسل کی دیوار میں لباس و عداوت کی دیوار میں آقا و غلام کی دیواریں ، ظالم و مظلوم کی دیوار یں استحصال کرنے والوں اور استحصال کا شکار ہونے والوں کی دیوار یں، قوی اور کمزور کی دیوار یں غذا پانے والوں اور بھو کے رہنے والوں کی دیوار یں عزت اور حقارت کی دیواریں، عرب اور عجم کی دیوار یں (۷)۔ ہاں رنگا رنگ متنوع لباس بھی مصنوعی دیوار یں پیدا کرتا ہے جس سے لوگوں کے مابین مغائرت جنم لیتی ہے اور من و تو کے امتیازات پیدا ہوتے ہیں۔ سچا حج ان دیواروں ان تمام دیواروں کو گرا دیتا ہے !!

ذرا تصور فرمائیے انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سفید رنگ سمندر کا سفید رنگ جو سب رنگوں کے یکجا ہونے سے وجود میں آتا ہے۔ جو اعلی روحانیت کی علامت اور کثرت فی الوحدت کا مظہر ہے۔

مولا نا دریا بادی کے حج کا یہ سفر نامہ ایک سطح پر ایک تاسف نامہ کا گہرا تاثر پیدا کرتا ہے۔ یوں محسوس ہو تا ہے کہ مسلم کلچر کے زوال نے ان کی پوری شخصیت کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ حرم کعبہ اور روضہ رسول صلى الله عليه وسلم پر پہنچ کر جو تمام ملت کے افراد کا مرکز اعظم اور مرکز واحد ہے، ہر سوچنے والا دماغ اور درد دل رکھنے والا فرد غور کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وسیع کرہ ارض پر پھیلی ہوئی مختلف رنگ اور نسل و لباس اور لسان عادات اور آداب کی حامل اس بے کراں اور رنگارنگ لہریں پیدا کرتی امت کو ایک کثیر مدت تک ایک مرکز پر یکجا کرنے والے دین کے پیرو آج زوال اور محکومی کی چکی میں کیوں پس رہے ہیں ؟ کیا کیا ممالک کیا کیا تمدنی مراکز مسلم ملت کے ہاتھ سے چھن گئے۔ جدہ کی زیارت مولانا دریا بادی کو مسلم ماضی کی طرف مراجعت پر مجبور کرتی ہے۔ شعور کی رو انہیں بغداد و قرطبه بیروت و بیت المقدس اور بصرہ و بیجاپور کے اس دور کی طرف لے جاتی ہے جب ان مراکز نے مسلم تہذیب کی عظمت اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی لیکن جن کی حالت آج مور کی آخری سسکی (The Last Sigh of the Moorسے مماثل ہو کر رہ گئی ہے۔ مولانا کے اس گہرے اور دلدوز تاسف کی تہہ میں مسلم عظمت کی باز آفرینی کی خواہش شدت سے کروٹیں لے رہی ہے۔ تاسف اور مال کا یہ رنگ اور زوال و ادبار کی یہ گھٹا آج بھی اس سفر نامے کی تسوید کے تقریباً ستربرس بعد بھی اس طرح چھائی ہوئی ہے اور حج کے بعض جدید سفر ناموں میں بھی وہی آواز گونج رہی ہے جو ایک عرصہ پہلے مولانا دریا بادی کے اس سفر نامے میں ابھری تھی۔

ایلی ایلی لما شبقتنی کی کامل مصداق !

اقبال نے فرنگ کی لامرکزیت کا سبب اس کا بے حرم ہو نا قرار دیا تھا:

حتمی وحدت سے ہے اندیشہ غرب کہ تہذیب فرنی ہے حرم ہے۔

مگر ملت اسلامیہ تو ایک حرم ایک مرکز رکھتی ہے۔ پھر یہ وحدت سے کیسے تہی ہو گئی ؟ یہ ہمارے آپ کے سب کے سوچنے کا کام ہے۔ مولانا دریا بادی کا سفر حجاز اور بعض دیگر سفر نامہ ہائے حج کی سب سے بڑی دین یہی ہے کہ یہ ہماری دلوں میں احساس زیاں اور کرب زوال پیدا کر کے ہمیں ایک نئی اور تازہ ترحیات کے آغاز کا حوصلہ دیتے ہیں.

سفر حجاز کے بعض ابواب اپنی تاثر آفرینی کے ضمن میں بے مثال قرار دئیے جاسکتے ہیں مثلا الوداع مدینہ دیار حبیب صلى الله عليه وسلم اور چل چلاؤ وغیرہ۔ الوداع کے باب سے دعا کا ایک قرینہ ملاحظہ ہو:

مردوں کو جلانے والے مالکمایوسوں کو خوش خبری دینے والے مولا  بیکسوں کی دستگیری کرنے والے آقادلوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والے پروردگار تجھ سے بھاگا ہوا تیر انا فرمان غلام تیرے اور تیرے حبیب صلى الله عليه وسلم کے آستان پاک پر سر رکھنے کو  حاضر ہو رہا ہے۔ دعاؤں کا قبول کرنا تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور دعاؤں کی توفیق دینا بھی تیرے ہی ہاتھ میں :

اے خدائے پاک بے انباز و یار دست گیر و جرم مارا در گذار یاد وہ مارا سخن ہائے رقیق کہ ترا رحم آوراد آں اے رفیق ہم دعا از تو، اجات ہم ز تو ایمنی از تو ، مهایت هم ز تو گر خطا گفتیم، اصلاحش تو کن مصلحی تو از تو اصلاح سخن (۸)

لیکن مولانا دریا بادی کے اس سفر نامے میں ذاتی اور ملی تاسف کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ انہوں نے اپنے مرقع نگار قلم سے سواد مکہ و مدینہ اور جوار عرب کی خوب منظر کشی کی ہے۔ تاریخی واقعات اور جغرافیائی حقائق پر ان کی نظر گہری ہے۔ مقامات مقدسہ کا ذکر آیا ہے تو کوئی قابل ذکر مقام بغیر تفصیلی ذکر اور مناسب معلومات کے چھوڑا نہیں گیا۔ جنت المعلی اور جنت البقیع کا ذکر آیا ہے تو جہاں قبر پرستی اور قبہ آرائی کی مذمت کی ہے وہیں اس وقت کے حکمران (ابن سعود) کی قبر شکنی اور مبارک مزارات کو شکستہ کھنڈروں بلکہ گھوروں تک میں تبدیل کر دینے پر ماتم اور احتجاج بھی کیا ہے۔ روضہ رسول صلى الله عليه وسلم کا ذکر کیا ہے تو جہاں اس  کےلئے اپنی اٹوٹ چاہت کا ذکر کیا ہے وہیں ملا علی قاری عیاض مالکی اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے استشہاد کر کے زیارت روضئہ رسول کے آداب بھی واضح کر دیئے ہیں۔ حرمین شریفین سے تمام تر عقیدت اور محبت کے باوجود مولانا نے حزم واحتیاط اور آداب زیارت کو کلیہ ملحوظ رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ  تاثیر اور گداز کے باب میں بہت کم سفر نامے اس کے مقابل رکھے جاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا دریا بادی کے نام حسرت موہانی کے ایک غیر مطبوعہ مکتوب کا اندراج بے محل نہ ہو گا جو یکم مارچ  ۱۹۳۲ء کو لکھا گیا تھا:

"السلام علیکم!

سفر حجاز کے متعلق آپ کے مضامین سچ میں نظر سے گزرے تھے مگر اس وقت ان

کے مطالعے میں تسلسل کا عصر موجود نہ تھا۔ اب پرسوں محبی ظفر الملک صاحب سے لے کر ان کو ایک بار پھر کتابی شکل میں دیکھا تو آنکھوں کو کچھ اور ہی عالم نظر آیا۔ جزاكم الله فی الدارین کئی بار آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو ئیں ، فالحمد لله على ذالك (۹)

اسی طرح مولانا مسعود عالم ندوی نے سفر حجاز کے تاثیر و گداز میں ڈوبے ہوئے اسلوب کا ذکر یوں کیا تھا۔ صبح کو امیر شکیب ارسلان کا سفر نامہ حج (الار تسامات اللطاف في خاطر الحاج الى اقدس مطاف) پڑھتارہا۔ زبان و بیان کی خوبی کے کیا کہنے مگر سوز و درد کی کمی محسوس ہوئی ۔ سفر حج کی روداد یں بہت پڑھی ہیں مگر اب تک دل و دماغ پر جو اثر مولانا عبد الماجد دریابادی کے سفر نامہ حج کا ہے اسے امیر شکیب کی بلاغت محو نہیں کر سکتی۔ (۱۰)

مختصر یہ کہ سوزو گداز کی یہ لہر بہر سفر حجاز میں جاری و ساری ہے۔ پورے سفر نامے کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ مسلمان ادبار و پستی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل سکیں گے ؟ یہ سوال جتنا سنگین کل تھا اتنا ہی آج بھی ہے مکہ کے مہاجر کو اپنے رب کا نام پکارنے توحید کا کلمہ بلند کرنے کو قبا کا ایک ٹھکانا مل گیا تھا۔ کیا اس محبوب کی امت میں کوئی قبا نہیں اور اسے خدانخواستہ ہمیشہ بھٹکتے ہی رہنے دیا جائے گا (۱۱)