دن میں پانچ بار وضو کرتے ہیں، تو ملک کو گندا کیسے کر سکتے ہیں؟ سحر بھاملا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-05-2026
 دن میں پانچ بار وضو کرتے ہیں، تو ملک کو گندا کیسے کر سکتے ہیں؟ سحر بھاملا
دن میں پانچ بار وضو کرتے ہیں، تو ملک کو گندا کیسے کر سکتے ہیں؟ سحر بھاملا

 



نئی دہلی : آواز دی وائس 

دن میں پانچ بار وضو کرنے سے نہ صرف جسمانی صفائی ہوتی ہے بلکہ انسان میں نظم و ضبط اور ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر انسان خود کو صاف رکھ سکتا ہے تو وہ اپنے ماحول اور ملک کو بھی صاف رکھنے کی ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔

آواز دی وائس کے خاص پوڈ کاسٹ ’دین اور دنیا ‘ میں  ممبئی کی ممتاز شخصیت  سحر بھاملا  نے ان خیالات کا اظہار کیا  جو کہ ایک سماجی کارکن ہیں جو خاص طور پر ماحولیات کے میدان میں کام کرتی ہیں۔ وہ اپنی تنظیم بھاملا فاؤنڈیشن کے ذریعے صفائی، پلاسٹک کے خاتمے اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ وہ غریب اور ضرورت مند افراد کی مدد کے مختلف منصوبوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ گفتگو کا محور دین، صفائی، تعلیم، سماجی رویے اور فلاحی کام تھے۔ شہر بھاملا نہ صرف ماحولیاتی مسائل پر کام کرتی ہیں بلکہ سماجی بہتری کے مختلف پہلوؤں میں بھی سرگرم ہیں۔

بنیاد گھر میں ہی پڑ گئی 

 سحر بھاملا  نے کہا کہ جہاں تک ماحولیات کے شعبے میں میری دلچسپی کا تعلق ہے تو اس کی بنیاد میرے گھریلو ماحول میں ہی پڑ گئی تھی۔ میری تنظیم بھاملا فاؤنڈیشن تقریباً 30 سال پرانی ہے جسے میرے والد آصف بھاملا نے قائم کیا تھا۔ ابتدا میں یہ ایک چھوٹا سا اقدام تھا جس کا مقصد اپنے علاقے میں بہتری لانا تھا مگر وقت کے ساتھ یہ ایک بڑی تنظیم میں تبدیل ہو گئی۔ میرے والد آج بھی اسی لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور میں ان سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔

تعلیم کے دوران بھی میرا ماحول ایسا تھا جہاں عوامی خدمت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں روزانہ یہ سب کچھ دیکھتی رہی اور انسان فطری طور پر اپنے والدین سے ہی سیکھتا ہے۔ جہاں دوسرے بچے کھیلوں یا مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہوتے تھے وہاں میں اکثر اپنے والد کے دفتر میں وقت گزارتی تھی۔ ابتدا میں صرف مشاہدہ کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ لوگوں سے بات چیت میں دلچسپی بڑھتی گئی۔ مجھے ان کی باتیں سننا اچھا لگتا تھا اور اگرچہ میں ہر مسئلے کا حل نہیں نکال سکتی تھی لیکن ان کی بات سننا بھی میرے لیے اہم محسوس ہوتا تھا۔

صفائی ہی کیوں ؟

 جب ماحولیات کی بات ہوتی ہے تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اسی میدان میں کام کیوں کیا جائے جبکہ اور بھی بہت سے شعبے ہیں جیسے مریضوں کی مدد کرنا۔ بیماریوں پر کام کرنا۔ سڑک حادثات میں زخمی لوگوں کی مدد کرنا۔ جانوروں کے لیے کام کرنا۔ تو پھر ماحولیات ہی کیوں۔میرا خیال ہے کہ یہ ایک اندرونی لگاؤ تھا۔ آہستہ آہستہ دلچسپی پیدا ہوئی اور اچھا لگنے لگا۔ ہم بڑے گروپ بنا کر ساحل کی صفائی کے لیے جاتے تھے اور یہ ایک سرگرمی بن گئی تھی۔ یہ بورنگ نہیں تھا بلکہ ایک دلچسپ عمل تھا۔ اور جیسے میں نے کہا کہ مجھے لوگوں کے ساتھ رہنا پسند ہے۔ یہی چیز مجھے اس کام کی طرف لے آئی۔

وہ کہتی ہیں کہ  مجھے لگا کہ اگر میں ایک بار صفائی کر دوں گی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مجھے یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہائی ٹائیڈ اور لو ٹائیڈ کیا ہوتے ہیں۔ ہم نے صفائی کی لیکن پھر پانی آیا اور دوبارہ وہی کچرا واپس آ گیا۔ تب سے لے کر آج تک ہم یہ کام کر رہے ہیں اور سمندر کی لہریں بار بار کچرا واپس لے آتی ہیں۔ اسی عمل سے مجھے یہ سمجھ آیا کہ صرف ساحل صاف کرنا کافی نہیں ہے کیونکہ انسان ایک حد تک ہی یہ کام کر سکتا ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ جو بچے اور رضاکار آتے ہیں وہ خود دیکھیں اور سمجھیں کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں جو چیزیں چند سیکنڈ یا منٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں جیسے پلاسٹک بیگ یا پلاسٹک اسٹرا وہ بعد میں ماحول کے لیے کتنا بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔

پلاسٹک کا استعمال  نہ کریں 

 بات ماحولیات کی  ہے تو میرا ماننا ہے کہ اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لے آئیں جو آپ کے لیے مشکل نہ ہوں تو آپ اس زمین کا بھی خیال رکھ سکتے ہیں اور اپنی صحت کا بھی۔ ہمیں پلاسٹک کی بوتل سے پانی نہیں پینا چاہیے کیونکہ پلاسٹک صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

لیکن ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اگر کوئی روزانہ کام پر جانے والا انسان ہے جو بھاگ دوڑ میں رہتا ہے تو آپ اسے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مہنگی شیشے کی بوتل خریدے۔ وہ اپنی سہولت کے لیے سستی پلاسٹک کی بوتل ہی لے گا۔ لوگوں میں یہ عادت بھی کم ہے کہ وہ اپنے ساتھ پانی لے کر چلیں۔ حالانکہ میں یہی مشورہ دیتی ہوں کہ گھر سے اپنی بوتل لے کر جائیں کیونکہ ہر دفتر میں فلٹر موجود ہوتا ہے۔ لیکن سب کو مہنگی چیز خریدنے کا کہنا ممکن نہیں ہے۔

پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنا ضروری ہے۔ آج کل روزانہ ایسی خبریں آتی ہیں کہ پلاسٹک مٹی میں ہے۔ ہوا میں ہے۔ حتیٰ کہ ہمارے جسم میں بھی داخل ہو رہا ہے۔ اس سے کئی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ آج ہم جو کھانا کھا رہے ہیں وہ بھی مکمل طور پر صحت مند نہیں رہا۔ کم عمر بچوں میں بھی تھائرائڈ اور ذیابیطس جیسی بیماریاں دیکھی جا رہی ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں میں کیمیکلز اور دودھ میں ملاوٹ کی خبریں بھی سامنے آتی ہیں۔

دین اور دنیا کا توازن 

 سحر بھاملا کہتی ہیں کہ میں آپ کو ایک بڑی اور واضح مثال دیتی ہوں۔ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف دینی کاموں تک محدود نہیں تھے بلکہ ایک کامیاب اور باوقار تاجر بھی تھے۔ اپنے وقت میں وہ دیانت داری اور سچائی کے لیے جانے جاتے تھے۔ لوگوں نے انہیں ان کے کردار اور کاروباری امانت داری کی وجہ سے عزت دی۔یہ بات درست ہے کہ انہوں نے ابتدا میں اپنے بہترین اخلاق اور تجارت کے ذریعے مقام حاصل کیا اور بعد میں نبوت ملی۔ اسلام میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ انسان صرف دین میں مشغول رہے اور دنیا کو چھوڑ دے۔ ایک انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرے۔ اگر وہ صرف عبادت میں لگا رہے تو اپنے گھر والوں کی ضروریات کیسے پوری کرے گا۔ اس لیے دین اور دنیا کے درمیان توازن بہت ضروری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ  اللہ کی عبادت کو بھی غیر ضروری طور پر مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ ہمیں صرف پانچ وقت نماز کا حکم دیا گیا ہے اور قرآن کی تلاوت کا۔ اگر دیکھا جائے تو پانچ وقت نماز میں پورے دن کا بہت تھوڑا وقت لگتا ہے۔ یہ ایک عام اور قابل عمل طرز زندگی ہے۔ کئی معاشروں میں لوگ اسے آسانی سے اپناتے ہیں۔ اس لیے اسے مشکل بنا کر پیش کرنا درست نہیں ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ جو شخص دیندار ہو وہ اپنی دنیاوی ذمہ داریاں چھوڑ دے اور ہر وقت عبادت میں ہی لگا رہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریاں بھی نبھائے اور اللہ کی عبادت بھی کرے۔ یہی درست راستہ ہے۔