زیبا نسیم : ممبئی
حیدرآباد کا نام آتا ہے تو ایک جانب اگر نوابی دور ذہن پر چھا جاتا ہے تو دوسری جانب حلیم کا ذائقہ زبان پر آجاتا ہے۔ تہذیب اور تاریخ کو حلیم کا ذائقہ مزید دلچسپ بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ اب یہ ڈش حیدرآباد کی نوابی شان کی مانند ہے۔ اس کو حیدرآباد کی پہچان مانا جاتا ہے ۔ یہ ڈش اب زندگی کا حصہ ہے ۔خٓں طور پر رمضان میںان کی مانگ کئی گنا پڑھ جاتی ہے ۔ جب حیدرآباد میں شام ڈھلتی ہے، افطار کی صدا بلند ہوتی ہے تو حیدرآباد کی گلیاں آہستہ آہستہ پکے ہوئے گوشت گندم اور گھی کی خوشبو سے معطر ہو جاتی ہیں۔
دکن کے بے شمار ذائقوں میں حیدرآبادی حلیم ایک ایسی ڈش ہے جو وقت روایت اور جغرافیے کی حدوں سے آگے نکل چکی ہے۔ کبھی یہ شاہی دسترخوان کی زینت تھی اور آج ہر طبقے کے لوگ اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ یہ محض ایک کھانا نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے جو نظامی باورچی خانوں کی یادگار اور رمضان کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اب ید یٖز ورسہ دکن میں اس روایت کو پوری احتیاط کے ساتھ زندہ رکھا گیا ہے تاکہ شائقین کو اس کلاسیکی ذائقے کا اصل لطف مل سکے۔
اگرچہ حلیم سال بھر دستیاب رہتی ہے مگر رمضان میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ روزے کے بعد افطار میں یہ نہایت مرغوب سمجھی جاتی ہے کیونکہ گندم کی دیرپا توانائی گوشت کی پروٹین اور گھی کی حرارت جسم کو فوری طاقت فراہم کرتی ہے۔ حیدرآباد میں رمضان کا تصور حلیم کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے،صدیوں سے یہ رمضان کی تقریبات کا لازمی حصہ رہی ہے اور شہر کی تہذیب اور ذوق کا اہم نشان بن چکی ہے۔


کہاں سے آئی حلیم
حلیم کی ابتدا عرب دنیا کے پکوان ہریس سے ہوئی، جسے ایرانی اور افغانی تاجروں نے برصغیر میں متعارف کرایا۔ یعنی کہ حلیم ایک قدیم عربی پکوان ہریس سے جنم لینے والی ڈش ہے۔ جو مغل دور میں عرب تاجروں خاص طور پر تارکین وطن کے ذریعے ایران اور افغانستان کے راستے حیدرآباد پہنچی۔ یہ چھٹے نظام محبوب علی خان کا دور تھا جب حلیم نے ہندوستانی سرزمین پر قدم رکھا تھا ،جبکہ ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے عہد میں اسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس ڈش کو نظامی سرپرستی حاصل ہوئی جس کے باعث اس میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ عرب اور مقامی اثرات کے سنگم نے اسے شاہی باورچی خانوں کی زینت بنا دیا اور وقت کے ساتھ یہ عام لوگوں کی بھی پسندیدہ غذا بن گئی۔
سادہ غذا بنی چٹ پٹی ڈش
حلیم کی تیاری صبر اور مہارت کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ عام کھانوں کی طرح جلدی تیار نہیں ہوتی بلکہ گھنٹوں تک مسلسل ہلانے اور دم پر رکھنے سے اس کا خاص ملائم مزاج پیدا ہوتا ہے۔حلیم کی تیاری میں تقریباً 21اقسام کے اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں جن میں الائچی، لونگ، شاہ زیرہ، دار چینی، کالی مرچ، گیہوں کا روا، باسمتی چاول، مختلف دالیں (مونگ، مسور، ماش)، ادرک لہسن، دیسی گھی، کاجو، بادام اور تلی ہوئی پیاز شامل ہیں۔
ابتدا میں یہ گندم گوشت گھی اور ثابت دالوں سے تیار کی جانے والی سادہ غذا تھی مگر دکن کی سرزمین پر آ کر اس نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا۔ مقامی مصالحوں کے دلکش امتزاج اور دھیمی آنچ پر پکانے کے طریقے نے اسے منفرد بنا دیا۔
گوشت گندم اور مصالحے اس طرح یکجان ہو جاتے ہیں کہ گوشت ریشے ریشے ہو کر آمیزے میں گھل جاتا ہے۔ بغیر ہڈی کے کوٹا ہوا گوشت ثابت گندم دالیں زعفران الائچی دارچینی اور خالص دیسی گھی اس کے ذائقے اور غذائیت کو دوچند کر دیتے ہیں۔ یوں حیدرآبادی حلیم مقبول ہوئی ۔ آج بھی بعض مقامات پر روایتی انداز اور اصل اجزا کے ساتھ اسے تیار کیا جاتا ہے تاکہ پرانے دور کا ذائقہ برقرار رہے۔


جی آئی ٹیگ
جی آئی ٹیگ کو عموماً کسی پکوان کے معیار اور اس کی انفرادیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ حیدرآبادی حلیم کے سلسلے میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اسے شہر سے باہر اسی اصل روایت اور ذائقے کے ساتھ تیار کرنا ممکن نہیں سمجھا جاتا۔حیدرآباد حلیم میکرز ایسوسی ایشن کے 6000 سے زائد اراکین کی مسلسل محنت کے نتیجے میں اگست 2010 میں اس ڈش کو جی آئی ٹیگ حاصل ہوا۔ تب سے یہ اعزاز اس بات کو مزید مضبوط بناتا ہے کہ حیدرآبادی حلیم اپنی مقبولیت اور شہرت کی واقعی حقدار ہے۔ سال 2019 میں مدت مکمل ہونے کے بعد اس جی آئی ٹیگ کی دوسری بار تجدید بھی کی گئی۔ مزید یہ کہ 2022 میں اسے سب سے مقبول جی آئی کا خطاب بھی دیا گیا جس میں اس نے رس گلہ، بیکانیر بھجیا اور رتلامی سیو جیسی علاقائی طور پر پسند کی جانے والی اشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔یہ اعزاز پسٹا ہاؤس کے ڈائریکٹر نے وصول کیا جو حیدرآباد میں حلیم پیش کرنے والے اولین اور معروف ریستوران کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
حلیم ایک ڈش اور ایک صنعت
حلیم صرف ایک پکوان نہیں بلکہ حیدرآباد کی ایک مضبوط اور وسیع صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اس کا کاروبار تقریباً 800 کروڑ روپے تک پہنچا تھا جبکہ موجودہ سیزن میں اس کے 1000 کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔گزشتہ سیزن میں لگ بھگ 50 لاکھ پلیٹ حلیم فروخت ہوئی تھیں اور اس بار یہ تعداد 60 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہر بھر میں تقریباً 6000 مراکز ایسے ہیں جہاں حلیم فروخت کی جاتی ہے جبکہ بڑے ہوٹلوں میں روزانہ 25000 کلو تک حلیم تیار کی جاتی ہے۔
اس سیزن میں اندازاً ایک لاکھ افراد کو براہ راست یا بالواسطہ روزگار حاصل ہوتا ہے جن میں باورچی ڈیلیوری عملہ اور دیگر کارکن شامل ہوتے ہیں۔ حیدرآبادی حلیم کی مانگ صرف ملک کے مختلف شہروں تک محدود نہیں بلکہ اسے امریکہ برطانیہ اور خلیجی ممالک تک بھی برآمد کیا جاتا ہے۔مشہور برانڈز میں پستہ ہاؤس جیسے اداروں نے حیدرآبادی حلیم کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔