نئی دہلی / آواز دی وا ئس
رنگوں کا تہوار ہولی، جب برصغیر کے ساتھ ساتھ دنیا کے کونے کونے میں فضا رنگوں سے گلزار ہوتی ہے، تو وہ سر زمین یا وہ مقام جہاں اس تہوار کا آغاز ہوا، ویران رہتا ہے، جسے دنیا پرہلاد مندر کے نام سے جانتی ہے جو پاکستان کے شہر ملتان میں ایک کھنڈر کی شکل میں موجود ہے، ایک بےنشان مندر، جس کی دیواریں ہیں تو گنبد گرایا جاچکا ہے، جو ماضی کی یادوں کی مانند ہے
پہلے آپ کو بتا دیں کہ ہولی کا تہوار ہندو کیلنڈر کے پھاگن مہینے میں پورے چاند کے دن منایا جاتا ہے۔ یہ دو روزہ تقریبات پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے دن ہولیکا دہن کی رسم ادا کی جاتی ہے جبکہ دوسرے دن رنگوں کا تہوار منایا جاتاہےجسےدھول وندھن کہا جاتا ہے۔ہندو مت کے مذہبی رہنماؤں کے مطابق قدیم شہر ملتان جو کبھی برصغیر پاک و ہند کی ایک عظیم سلطنت کا مرکز سمجھاجاتاتھا، علم و دانش کا گہوارہ تھا۔روایت کے مطابق وید اشلوک، عقائد،مذاہب،ثقافت،فلسفہ، علم و ہنر، ادب اور رسوم و رواج یہیں سے پورے ہندوستان میں پھیلے۔
ہولی کا تہوار بادشاہ پرہلاد کے اس واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے جب وہ دہکتے ہوئے الاؤ میں ڈالے جانے کے باوجود زندہ بچ گیا تھا۔ یہ روایت ہولیکا دہن کی رسم اور رنگوں کے دن سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے،جسے خوشی اور نیکی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔تاریخی روایات کے مطابق ہولی کے تہوار کی ابتدا موجودہ پاکستان کے شہر ملتان سے منسوب کی جاتی ہے۔ بعض مؤرخین اور مقامی روایات کے مطابق یہ تہوار پرہلاد پوری مندر سے شروع ہوا، جو قدیم ملتان میں واقع تھا۔
.webp)
بقول ایک پاکستانی قلم کار سجاد اظہر۔۔۔تاریخی قلعے کی فصیلوں کے اندر ایک طرف 13ویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بہاؤالدین زکریا کا شاندار مزار ایستادہ ہے، جہاں روزانہ عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ اسی احاطے کے قریب وہ مقام بھی موجود تھا جہاں کبھی پرہلاد کا قدیم مندر کھڑا تھا،جواب ماضی کی ایک ٹوٹی ہوئی یاد بن چکا ہے۔ یہ منظر ملتان کی تہذیبی تاریخ کے دو مختلف ادوار کو ایک ساتھ پیش کرتا ہے۔تاریخی حوالوں میں بیان کیا گیا ہے کہ پرہلاد پوری کا اصل مندر راجکمار پرہلاد سے منسوب تھا، جو راجہ ہرنیا کشپ کا بیٹا تھا۔
ہولی ہے ہولکا سے ماخوذ
پرہلاد کا مندر ہندوؤں کے تہوار ہولی سے منسوب تھا۔ ہولی ہر سال ہندو مہینہ پھلگونا کی پورن ماشی کو منائی جاتی ہے اور اسے دنیا کے نمایاں رنگین تہواروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق ہولی کا لفظ سنسکرت کے لفظ "ہولکا" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی نیم پختہ بھٹہ کے ہیں۔ ایک اور روایت میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نام راجہ ہرنیا کشپ کی بہن ہولیکا سے منسوب ہے، جو پرہلاد کو آگ میں جلانے کی کوشش میں خود جل کر ہلاک ہو گئی تھی۔
پاکستان کے قلم کار سجاد اظہر کے مطابق ۔۔۔معروف محقق مولانا نور احمد خان فریدی نے اپنی کتاب تاریخ ملتان جلد اول میں اس واقعے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق راجکمار پرہلاد بچپن ہی سے توحید پر یقین رکھتا تھا جبکہ اس کا باپ خود کو دیوتا کہلواتا تھا۔ ملتان کا قدیم نام کشپ پورہ بھی اسی نسبت سے بتایا جاتا ہے۔روایت میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ پرہلاد ایک دن کمہار کی بھٹی کے پاس سے گزرا جہاں اس نے دیکھا کہ شدید آگ کے باوجود ایک بلی اور اس کے بچے محفوظ نکل آئے۔ اس واقعے نے اس کے دل میں یہ یقین مضبوط کر دیا کہ ایک اعلیٰ طاقت موجود ہے جو اپنی مخلوق کی حفاظت کرتی ہے۔ جب اس نے یہ بات اپنے والد کے سامنے کہی تو راجہ سخت برہم ہوا اور اسے سزا دینے کا حکم دیا۔مختلف روایات کے مطابق پرہلاد کو قلعے کی فصیل سے گرایا گیا، گرم تیل میں ڈالا گیا اور دریا میں غرق کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ہر بار وہ محفوظ رہا۔ آخرکار راجہ کی بہن ہولیکا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسے آگ سے محفوظ رہنے کا ورد حاصل تھا، پرہلاد کو گود میں لے کر آگ میں بیٹھی۔ نتیجتاً پرہلاد محفوظ رہا جبکہ ہولیکا جل کر ہلاک ہو گئی۔ اسی واقعے کی یاد میں ہندو برادری آج بھی ہولی کا تہوار مناتی ہے۔
مندر اب تقریبا بے نشان
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ 1992 میں بابری مسجد کے سانحے کے بعد ملتان میں موجود پرہلاد مندر سے منسوب بعض آثار کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں اس تاریخی روایت کے بعض نشانات ختم ہو گئے۔ پاکستان کے مقامی مصنفین جیسے اخلاق احمد قادری اور عرفان شہزاد نے بھی اپنی تحریروں میں اس واقعے کو ملتان کی تہذیبی تاریخ کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قدیم ملتان برصغیر کی ایک اہم علمی اور ثقافتی مرکز رہا ہےجہاں سے مختلف مذاہب،فلسفوں اورثقافتی روایات نے جنم لیا۔مقامی روایات کےمطابق قیام پاکستان کے بعد بھی کئی برسوں تک ملتان میں ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی اس تہوار میں شریک ہوتے رہے۔ آج بھی ملتان اور گرد و نواح کے دیہات میں شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر رنگ پھینکنے کی روایت موجود ہے۔
خستہ حال پرہلاد مندر کا منظر
مذہبی رسم نہیں بلکہ ثقافتی تہوار
تاریخی اور سماجی تجزیہ نگاروں کے مطابق وقت کے ساتھ مذہبی تہواروں کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے، کئی تہوار ثقافتی رنگ اختیار کر چکے ہیں۔ ہولی بھی اب صرف مذہبی رسم نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، خوشی اور باہمی محبت کے اظہار کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ملتان سے منسوب ہولی کی روایت تاریخی اور ثقافتی حوالوں سے اہمیت رکھتی ہے۔ یہ داستان برصغیر کی مشترکہ تہذیبی وراثت اور ثقافتی تنوع کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔