دانش علی:بانڈی پورہ کے سرسبز اور دلکش گاؤں ارگام میں واقع ایک خاموش درگاہ آج بھی عقیدت مندوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہ درگاہ کشمیر کے معروف صوفی شاعر اور روحانی رہنما حضرت لالا ارگامیؒ کی ہے، جن کا کلام آج بھی وادی کے طول و عرض میں عقیدت کے ساتھ سنا جاتا ہے۔جب میں ارگام پہنچا تو وہاں میری ملاقات حضرت لالا ارگامیؒ کے صاحبزادے اور موجودہ سجادہ نشین حبیب اللہ ملک سے ہوئی۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے والد کی زندگی کے کئی ایسے پہلو بیان کیے جو ایک عام انسان کے روحانی عروج کی داستان سناتے ہیں۔
حبیب اللہ ملک بتاتے ہیں کہ لالا ارگامیؒ کا اصل نام لالا ملک تھا اور ان کی پیدائش 11 مارچ 1923 کو ارگام میں ہوئی۔ والد داؤد ملک دودھ کے کاروبار سے وابستہ تھے، مگر بچپن ہی میں والد کے انتقال نے خاندان کو معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ لالا ارگامیؒ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی لیکن حالات کی وجہ سے آٹھویں جماعت کے بعد تعلیم ترک کرنا پڑی۔ گھر کی ذمہ داریوں نے انہیں مزدوری پر مجبور کیا، مگر ان کے دل میں موسیقی اور شاعری کا شوق مسلسل پروان چڑھتا رہا۔


انہوں نے کہا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ راتوں کو جمع ہوتے، ساز بجاتے اور گانے کی مشق کرتے تھے۔ اسی شوق نے آگے چل کر ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔لالا ارگامیؒ کی زندگی کا سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کی ملاقات گاندربل کے معروف بزرگ شاہ بابا سادورہؒ سے ہوئی۔ ابتدا میں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کے سامنے گاتے رہے، مگر جلد ہی یہ تعلق عقیدت اور روحانی تربیت میں بدل گیا۔
حبیب اللہ ملک کے مطابق شاہ بابا سادورہؒ نے لالا ارگامیؒ کی صلاحیتوں کو پہچان لیا تھا۔ انہی کی حوصلہ افزائی سے انہوں نے شاعری اور نعت گوئی کی طرف قدم بڑھایا۔ رفتہ رفتہ ان کے اشعار میں تصوف، عشقِ رسول ﷺ اور انسان دوستی کے رنگ نمایاں ہونے لگے۔مرشد کے انتقال کے بعد لالا ارگامیؒ شدید روحانی اضطراب کا شکار رہے۔ اسی دوران ایک اور بزرگ نے انہیں روحانی رہنمائی فراہم کی اور ان کے سفر کو نئی سمت دی۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی شہرت کشمیر کے مختلف علاقوں تک پہنچنے لگی۔حبیب اللہ ملک بتاتے ہیں کہ ان کے والد نہ صرف شاعر تھے بلکہ خود سارنگی بھی بجاتے تھے۔ وہ محفلوں میں اپنا کلام خود پیش کرتے اور سامعین پر وجد طاری ہو جاتا تھا۔ ان کی شخصیت میں سادگی، محبت اور روحانیت کا ایسا امتزاج تھا جس نے ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مریدین کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ کشمیر کے مختلف اضلاع کے علاوہ جموں کے علاقوں سے بھی لوگ ان سے روحانی فیض حاصل کرنے آنے لگے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ہر سال 7 مئی کو ایک خصوصی اجتماع مقرر کیا تاکہ تمام عقیدت مند ایک جگہ جمع ہو سکیں۔26 مئی 1988 کو لالا ارگامیؒ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی تعلیمات اور شاعری آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حبیب اللہ ملک کو سجادہ نشین مقرر کیا گیا، جنہوں نے بعد میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر مکمل طور پر اس روحانی مشن کو اپنا لیا۔ارگام کی اس خاموش درگاہ میں بیٹھے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ لالا ارگامیؒ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک ایسی روحانی روایت کے امین تھے جس نے محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام عام کیا۔ ان کا کلام آج بھی وادی کشمیر کی صوفیانہ روح کا ترجمان ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار بنا ہوا ہے۔