فیفا ورلڈ کپ :عقیدہ الگ،نسل جدا مگر ملک کے لیے سب ایک

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 28-06-2026
فیفا ورلڈ کپ :عقیدہ الگ،نسل جدا مگر ملک کے لیے سب ایک
فیفا ورلڈ کپ :عقیدہ الگ،نسل جدا مگر ملک کے لیے سب ایک

 



منصور الدین فریدی : نئی دہلی 
کسی کو نسل پرستی کا سامنا ہے ،کسی کو مذہبی تعصب کا اور کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بننا پڑرھا ہے ۔ زندگی میں اس قسم کی مشکلات عام ہیں ،ٹکراو ہے لیکن جب بات ملک کی آتی ہے،قومی پرچم کی ہوتی ہے تو سب ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں  ۔ایسا صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ کھیل کے میدان میں بھی ہوتا ہے ۔جس کا نمونہ امریکہ ۔ کینیڈا اور میکسیکو میں جاری  فیفا ورلڈ کپ میں مل رہا ہے ۔  جہاں دنیا بھر کے شائقین سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں وہیں یہ عالمی ٹورنامنٹ ایک اور اہم حقیقت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ کئی ایسے ممالک جو اپنے اندر سماجی اور سیاسی تقسیم کا سامنا کر رہے ہیں ان کی قومی فٹ بال ٹیمیں مذہبی اور نسلی تنوع کے باوجود اتحاد اور باہمی احترام کی روشن مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔ مختلف عقائد اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی ایک ہی مقصد کے لیے مل کر کھیل رہے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اختلافات کے باوجود مشترکہ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
فٹ بال ورلڈ کپ میں شریک کئی ممالک اس وقت سماجی اور سیاسی تقسیم کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ان کی قومی ٹیمیں مختلف مذہبی اور نسلی پس منظر رکھنے والے کھلاڑیوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی ایک مثبت مثال پیش کر رہی ہیں۔ یہ منظر خاص طور پر مغربی یورپ کی ٹیموں میں نمایاں ہے جہاں ماضی میں زیادہ تر کھلاڑی سفید فام اور عیسائی ہوتے تھے۔ اب ان ٹیموں میں مسلمان اور عیسائی دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی شامل ہیں جو کھلے طور پر اپنے عقائد کا اظہار کرتے ہیں۔
سیاسی اور سماجی موضوع 
انگلینڈ کی قومی ٹیم میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان کھلاڑی شامل ہوا ہے۔ فرانس کی ٹیم میں پروٹسٹنٹ عیسائی کیتھولک عیسائی اور مسلمان پس منظر رکھنے والے کئی کھلاڑی موجود ہیں۔ اسپین کے نوجوان سپر اسٹار لامین یامال ایک عملی مسلمان ہیں۔ اسی طرح سویڈن کے یاسین عیاری نے تیونس کے خلاف دو گول کرنے کے بعد میدان میں سجدہ کرکے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ان کے والد کا تعلق بھی تیونس سے ہے۔یہ تمام ممالک گزشتہ برسوں میں مسلم تارکین وطن کی آمد کے باعث سیاسی اور سماجی بحثوں کا مرکز رہے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ورلڈ کپ کی متنوع ٹیمیں معاشروں کے لیے کوئی مثبت پیغام رکھتی ہیں۔
بین المذاہب ہم آہنگی کے علمبردار ایبو پٹیل کے مطابق اس کا جواب یقینی طور پر ہاں میں ہے۔ ان کے نزدیک یہ صرف علامتی نہیں بلکہ عملی مثال بھی ہے کہ مختلف عقائد رکھنے والے لوگ ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
ایبو پٹیل کا کہنا ہے کہ جب عیسائی کھلاڑی صلیب کا نشان بناتے ہیں اور مسلمان کھلاڑی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ ان کی مذہبی شناخت ان کے لیے اہم ہے اور یہی شناخت انہیں بہتر انسان اور بہتر کھلاڑی بننے میں مدد دیتی ہے۔ وہ گول کرتے ہیں اپنی اپنی دعائیں کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔ یہی حقیقی ٹیم ورک اور معاشرتی ہم آہنگی کی مثال ہے۔
فرانس میں نسل پرستی کے باوجود
 فیفا ورلڈ کپ 2026  میں فرانس نے جب ناروے کو 4-1 سے شکست دی تو اس میں  عثمان ڈیمبیلے کی شاندار ہیٹ ٹرک میچ شامل تھی ۔جس ملک میں مسلمانوں کو بدترین نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا ہو  اس ملک کے لیے عثمان کی کامیابی ایک بڑا پیغام ہے۔لیکن اس سے اہم بات یہ تھی کہ 2028 ورلڈ کپ کی فاتح فرانس میں سات مسلمان کھلاڑی تھے جن میں تارکین وطن  بھی شامل تھے جنہوں نے فرانس کو یادگار عروج بخشا تھا ۔
انگلینڈ میں اسلامو فوبیا 
انگلینڈ میں  فٹ بال کی نچلی سطح پر کھیلنے والے مسلم کھلاڑیوں کو اسلاموفوبیا کے جن تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر وہ اس  کے باوجود پیچھے نہیں ہٹے ۔انگلینڈ کے ڈیجیڈ اسپینس کو ذرائع ابلاغ نے سینئر انگلش ٹیم کا پہلا مسلمان کھلاڑی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ کا حصہ بننا ان کے لیے اعزاز ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے نوجوان ان سے حوصلہ حاصل  کریں۔انہوں نے بین الاقوامی سطح پر کبھی اس کی شکایت نہیں کی اور اپنے کھیل سے ہی مخالفوں اور دشمنوں کو اپنا مداح بنا لیا ۔ اسی طرح  انگلینڈ کے مارک گیہی ایک عیسائی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کلب کے زمانے میں کھیل کے دوران مذہبی پیغامات تحریر کرکے اپنے عقیدے کا اظہار کیا تھا جس پر کافی بحث ہوئی۔ مگر اب قومی سطح پر سب ایک ہیں 
اسپین میں  نیا دور
فیفا ورلڈ کپ میں اسپین کے مسلم اسٹار  لامین یامال جو مراکشی نژاد والد کے بیٹے ہیں فلسطینی پرچم لہرانے کے باعث بھی عالمی خبروں کا حصہ بنے۔ ان کے اس اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آیا۔ لیکن  وہ اسپین کی ٹیم کا حصہ ہیں اور امید بھی۔ جب بات ملک کی آئی اور پرچم کی تو لا مین یامال کی پہلی ذمہ داری ملک کے وقار کا دفاع ہے 
عراق کی خلیج 
عراق کی قومی ٹیم مذہبی اور نسلی تنوع کی ایک اہم مثال ہے۔ اس ٹیم میں کرد سنی مسلمان شیعہ مسلمان اور عیسائی کھلاڑی شامل ہیں۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ عراق میں عیسائی آبادی گزشتہ دو دہائیوں میں بہت کم ہوچکی ہے۔ ٹیم کے عیسائی کھلاڑی ایمار شیر اپنے ایمان کا اظہار سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی کرتے رہتے ہیں۔
امریکہ کے کرسچین پولیسیچ بھی اپنے عیسائی عقیدے کے حوالے سے کھل کر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ بائبل کے مطالعے کے اجتماعات کی قیادت کرتے ہیں اور اپنے مذہبی عقائد سے متعلق پیغامات عوام کے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں۔ ان کے کئی ساتھی کھلاڑی بھی اپنے ایمان کے اظہار میں کسی جھجھک کا شکار نہیں ہوتے۔
مصر کا سورج
 مصر کے محمد صلاح اس حوالے سے سب سے زیادہ معروف نام ہیں۔ وہ سنی مسلمان ہیں اور میدان کے اندر اور باہر اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں۔ گول کرنے کے بعد ان کا سجدہ شکر دنیا بھر میں مشہور ہے۔ تحقیق کے مطابق جب وہ انگلش لیگ میں لیورپول کے لیے کھیلنے لگے تو مداحوں کی جانب سے اسلام مخالف پیغامات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔اس سے قبل انہیں بھی نفرت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن انہوں نے انگلینڈ کی سرزمین پر ایک کلب کی نمائندگی کرتے ہوئے اس اثر کو ختم کیا ۔وہ خود مصر میں اتحاد کا پیغام دے رہے ہیں خواہ ان کے سیاسی اور مذہبی نظریات کچھ بھی ہوں لیکن جب بات ملک کےلیے کھیلنے کی ہو تی ہے تو سب ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں 
کروشیا کے تجربہ کار کپتان لوکا مودریچ ایک کیتھولک عیسائی ہیں۔ وہ اکثر ایسی حفاظتی پٹیاں استعمال کرتے ہیں جن پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کی تصاویر موجود ہوتی ہیں۔ ورلڈ کپ کے لیے روانگی سے قبل انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اجتماعی عبادت میں بھی شرکت کی۔
 فٹ بال اور قوم پرستی کا پیغام 
ورلڈ کپ کی یہ مثال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد باہمی احترام اور مشترکہ مقصد کے تحت نہ صرف ایک ٹیم بنا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر کامیابی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔فیفا ورلڈ کپ ایک ایسا عالمی ٹورنامنٹ ہے جو نسل، مذہب، زبان اور ثقافت کی تفریق سے بالاتر ہو کر دنیا بھر کے شائقین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے، جہاں مختلف قوموں، مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کھیل کے ذریعے اتحاد، احترام اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔