منصور الدین فریدی : نئی دہلی
مغل دور میں حج ایک منفرد حیثیت رکھتا تھا ،جس کو شہنشاہ اکبر نے ہر ممکن آسان بنانے کی کوشش کی تھی،آج کے دور میں جسے سرکاری حج اور سبسڈی کےساتھ مقدس سفر کہا جاتا ہے ۔ درحقیقت کہ اس کا آغاز مغل دور میں ہوا تھا ،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہی حج کبھی انعام ہوتا تھا تو کبھی ایک خاموش سزا۔ بظاہر یہ روحانی سفر دکھائی دیتا تھا لیکن اس کے پیچھے کئی بار اقتدار کی گہری چالیں چھپی ہوتی تھیں۔بادشاہ اس کے ذریعے اپنے مخالفین کو دور کرتے اپنی حکمرانی مضبوط کرتے اور بعض اوقات وفاداری کا انعام بھی دیتے۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جو ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ طاقت اور سیاست کس طرح مقدس روایات کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
سرکاری حج کا آغاز اور اکبر کی پالیسی
مغل بادشاہوں میں سب سے پہلے جلال الدین محمد اکبر نے سرکاری سطح پر حج کا باقاعدہ انتظام کیا۔ اس نے نہ صرف حاجیوں کو مالی مدد فراہم کی بلکہ ان کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ سن 1575 کے بعد پرتگالیوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت بحیرہ احمر کے راستے زائرین کے جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت ملی۔ اس کے بعد اکبر نے حکم دیا کہ ہر سال ہندوستان سے ایک منظم قافلہ حج کے لیے روانہ کیا جائے۔
اکبر نے ایک بزرگ شخصیت کو میر حج مقرر کیا جو حاجیوں کے قافلے کی قیادت کرتے تھے۔ ساتھ ہی اپنے قابل اعتماد درباری عبدالرحیم خان خاناں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے تین بحری جہاز رحیمی کریمی اور سالاری کو حجاج کرام کے لیے مخصوص کریں تاکہ وہ بلا معاوضہ جدہ تک سفر کر سکیں۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت تھا کہ مغل دربار حج کو ایک بڑی ذمہ داری اور اعزاز سمجھتا تھا۔

حج بطور سزا
مگر اس کہانی کا سب سے دلچسپ اور پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ مغل دور میں حج کا حکم ہمیشہ خوشی کی خبر نہیں ہوتا تھا۔ مغلیہ دور میں لوگوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر حج پر بھیجا جاتا تھا۔ ان میں مذہبی فریضے کی ادائیگی مذہبی تعلیم حاصل کرنا اچھی خدمات کے صلے میں انعام دینا اور ناکامیوں کی سزا شامل تھی۔حج کو سیاسی جلاوطنی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ممکنہ حریفوں اور مخالفین کو دربار اور سیاست سے دور رکھنے کے لیے انہیں حج پر روانہ کر دیا جاتا تھا۔بعض اوقات صرف کسی شخص کو حج پر بھیجنے کی دھمکی ہی نافرمان امرا اور علما کو قابو میں رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوتی تھی۔بعض اوقات یہی حکم کسی درباری کے لیے جلاوطنی یا سزا کا اعلان بن جاتا تھا۔جو امیر یا درباری بادشاہ کے لیے خطرہ بن سکتا تھا اسے سلطنت سے دور رکھنے کے لیے حج پر بھیج دیا جاتا تھا۔ چونکہ حج ایک مقدس فریضہ تھا اس لیے کسی کو براہ راست معزول یا قتل کرنے کے بجائے اسے حج پر روانہ کرنا ایک نرم اور قابل قبول طریقہ سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح یہ ایک سیاسی ہتھیار بھی بن گیا جس کے ذریعے مخالفین کو اقتدار کے مرکز سے دور کیا جاتا تھا۔
سفر میں خطرات اور پراسرار انجام
اس دور میں حج کا سفر آج کی طرح آسان اور محفوظ نہیں تھا۔ کئی لوگ جو حج کے نام پر روانہ کیے گئے وہ راستے ہی میں قتل کر دیے گئے یا کبھی واپس نہ آ سکے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو واپسی کے بجائے کسی دوسرے محفوظ خطے میں رہنے لگے۔ اس طرح حج بعض افراد کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی جلاوطنی بن جاتا تھا۔

مغل تاریخ میں اس کی کئی نمایاں مثالیں ملتی ہیں۔
1۔ ہمایوں نے اپنے بھائی کامران مرزا کو اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے پہلے ان کی بینائی ختم کی اور پھر انہیں حج پر روانہ کر دیا۔ کامران مرزا نے چار مرتبہ حج کیا اور آخرکار 1557 میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔
2۔اکبر نے اپنے بااعتماد مشیر بیرم خان سے ناراض ہو کر انہیں بھی حج پر جانے کا حکم دیا۔ بیرم خان دہلی سے روانہ ہوئے مگر احمد آباد میں ایک افغان نے انہیں قتل کر دیا اور وہ مکہ پہنچنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔
3۔ جہانگیر نے اپنے فارسی طبیب حکیم صدرا کو بیماری کے علاج میں کوتاہی پر مکہ بھیج دیا۔ اسی طرح اورنگزیب کے دور میں ایک بڑے قاضی کو جو اکثر بادشاہ سے اختلاف کرتے تھے استعفیٰ دے کر حج پر جانے کا حکم دیا گیا۔
4- مرزا عزیز کوکہ کی مثال بھی دلچسپ ہے۔ وہ اکبر کی مذہبی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے اور حج پر چلے گئے۔ مگر واپسی پر انہوں نے بادشاہ کے نظریات قبول کر لیے جس کے نتیجے میں انہیں معافی مل گئی۔
_(1).jpg)
یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ حجاز ایک ایسی جگہ بن گیا جہاں شکست خوردہ امرا باغی عناصر اور تخت کے خواہشمند افراد کو بھیجا جاتا تھا۔ یہ ایک طرح کی سیاسی جلاوطنی تھی جہاں سے واپسی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح حج کا سفر عبادت کے ساتھ ساتھ اقتدار کی سیاست کا حصہ بھی بن گیا۔
جان بچی تو لاکھوں پائے
مغل دور کی تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ بادشاہوں کے عتاب کے سبب حج پر جانے والے بعض باغی یا منحرف افراد واپس بھی آئے اور بادشاہ کی معافی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یعنی دربار سے مفاہمت کے بعد اپنی جان بچا لی۔ ان میں ایک اہم نام مرزا عزیز کا ہے جو اکبر کی مذہبی پالیسیوں سے اختلاف کے باعث حجاز چلے گئے تھے۔ وہاں سے بھی ان کی اکبر کے ساتھ لفظی کشمکش جاری رہی۔مؤرخ ملا عبدالقادر بدایونی اپنی معروف کتاب ’’منتخب التواریخ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مرزا عزیز بعد میں واپس آئے اور ’’دینِ الٰہی‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے سجدہ اور مریدی کے دوسرے درباری طریقے بھی اپنائے اور اپنی داڑھی بھی منڈوا دی۔ اس کے بعد اکبر نے انہیں معاف کردیا اور ان کی جان بخشی ہوگئی۔

بادشاہ کیوں نہ کرسکے حج
یہ تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو ہے کہ بے پناہ وسائل اور طاقت رکھنے کے باوجود مغل بادشاہ خود حج ادا نہ کرسکے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سلطنت کی ذمہ داریاں اور مسلسل جنگیں تھیں۔ کسی بھی بادشاہ کے لیے طویل عرصے تک تخت اور دارالحکومت سے دور رہنا آسان نہیں تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اکبر کو اپنی زندگی میں تقریباً 24 بڑی جنگوں اور بے شمار بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اکبرنامہ کے مصنف اور دربار اکبری کے ممتاز مشیر ابوالفضل نے اس محرومی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 7 اکتوبر 1576 کو اجمیر شریف میں اکبر نے احرام باندھا تھا۔ تاہم سلطنتی ذمہ داریوں کے باعث وہ حاجیوں کے قافلے کے ساتھ صرف کچھ دور تک ہی سفر کرسکے اور پھر قافلے کو رخصت کرکے واپس لوٹ آئے۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ شہنشاہ نے سرکاری سرپرستی میں حج کے قافلے روانہ کیے۔ کبھی حج کو انعام بنایا اور کبھی سزا۔ لیکن خود حجاز کا سفر مکمل نہ کرسکے۔