نئی دہلی : آواز دی وائس
ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست میں جذباتی نعروں اور دھواں دھار تقریروں کا ذکر اکثر ہوتا ہے۔ لیکن کیا محض جذباتی تقریریں کسی معاشرے کے سیاسی اور سماجی مسائل حل کرسکتی ہیں؟ کیا مسلم قیادت کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہونا چاہیے یا ایک ایسی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنا بھی ضروری ہے جو مسلمانوں کے مسائل کو ملک کے مجموعی مسائل سے جوڑ سکے؟
معروف اردو صحافی اور مصنف معصوم مرادآبادی نے اپنی حالیہ کتاب میں ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کی سیاسی زندگی اور فکر کو موضوع بنایا ہے۔ ڈاکٹر فریدی 1974 میں وفات پا گئے تھے لیکن ان کی سیاست کا بنیادی تصور آج بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے ایک طرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ اردو اور فرقہ وارانہ فسادات جیسے مسلم مسائل پر آواز اٹھائی تو دوسری طرف اپنی سیاست کو صرف مسلم شناخت تک محدود نہیں کیا۔آواز دی وائس کے پوڈ کاسٹ ’’دین اور دنیا‘‘ میں ثاقب سلیم نے معصوم مرادآبادی سے ڈاکٹر فریدی کی شخصیت۔ ان کی سیاست۔ ان کے سیاسی نظریات اور موجودہ دور میں ان کی فکر کی معنویت پر تفصیلی گفتگو کی۔ پیش ہیں اس گفتگو کے اہم حصے۔


سوال۔ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کون تھے اور ہندوستانی سیاست میں ان کی کیا اہمیت ہے؟
معصوم مرادآبادی: ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی بنیادی طور پر ایک فزیشن تھے۔ وہ ٹی بی کے ماہر ڈاکٹر تھے اور انہوں نے انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی تھی۔ جس زمانے میں وہ ڈاکٹر بنے اس وقت ہندوستان میں ٹی بی ایک بہت بڑی بیماری تھی۔وہ ان چند ڈاکٹروں میں شمار ہوتے تھے جو اس مرض کے علاج میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ بہت سے مریض دوسرے مقامات سے ناکام ہوکر ان کے پاس آتے اور صحت یاب ہوکر واپس جاتے تھے۔وہ چاہتے تو اپنی طبی مہارت کے ذریعے بہت دولت کما سکتے تھے لیکن انہوں نے خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ صبح کے وقت معمولی فیس پر مریض دیکھتے تھے اور شام کو مستحق مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔
سوال۔ ان کی انسان دوستی کا کوئی واقعہ بھی آپ نے اپنی کتاب میں شامل کیا ہے؟
معصوم مرادآبادی: ایک مریض نے پہلے ان سے مفت علاج کرایا۔ بعد میں اسے خیال آیا کہ شاید مفت علاج کی وجہ سے اسے پوری توجہ نہیں دی گئی۔ وہ فیس لے کر دوبارہ ڈاکٹر فریدی کے پاس گیا۔ڈاکٹر فریدی نے اسے پہچان لیا اور پوچھا کہ تم تو پہلے آچکے ہو۔ مریض نے بتایا کہ وہ یہ دیکھنے آیا ہے کہ فیس دینے کے بعد علاج مختلف ہوتا ہے یا نہیں۔ڈاکٹر فریدی نے اسے وہی دوا تجویز کی جو پہلے دی تھی۔ ان کا جواب تھا کہ اگر وہ مریضوں کے ساتھ اس طرح کا امتیاز کریں گے تو خدا کے سامنے کیا جواب دیں گے۔
سوال۔ ڈاکٹر فریدی سیاست میں کیسے آئے؟
معصوم مرادآبادی: انہوں نے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ذریعے سیاست میں قدم رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آزادی کے بعد مسلمانوں کی حالت اور ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بہت سے سوالات موجود تھے۔1947 کے حالات نے مسلمانوں کے اندر خوف اور بے یقینی پیدا کردی تھی۔ ڈاکٹر فریدی کے ایک بھائی پاکستان چلے گئے تھے۔ لیکن ڈاکٹر فریدی نے فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان میں رہیں گے اور اسی ملک میں اپنے سیاسی اور سماجی مسائل کے لیے جدوجہد کریں گے۔انہوں نے جذباتی نعروں کی سیاست کے بجائے مین اسٹریم سیاست کا راستہ اختیار کیا۔
سوال۔ ان کی سیاسی فکر کی بنیادی خصوصیت کیا تھی؟
معصوم مرادآبادی: وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستانی مسلمان اس ملک کا حصہ ہیں۔ ان کی تقدیر ہندوستان کی تقدیر سے الگ نہیں ہوسکتی۔اس لیے ان کی سیاست غیر جذباتی۔ جمہوری اور سیکولر بنیادوں پر قائم تھی۔ ان کے سیاسی ساتھیوں میں بڑی تعداد غیر مسلموں کی تھی اور سیاسی حلقوں میں ان کا احترام کیا جاتا تھا۔


سوال۔ لیکن بعد میں وہ مسلم سیاست کی طرف بھی آئے۔ اس تبدیلی کی وجہ کیا تھی؟
معصوم مرادآبادی: انہوں نے دیکھا کہ سیکولر سیاسی جماعتیں مسلم مسائل کی بات تو کرتی ہیں لیکن جب عملی اقدامات کا وقت آتا ہے تو کئی مرتبہ پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔اس تجربے نے ان کی سیاسی سوچ میں تبدیلی پیدا کی۔ انہوں نے پہلے مسلم مجلس سے مشاورت کی اور بعد میں مسلم مجلس قائم کی۔لیکن ان کی مسلم سیاست مسلم لیگ جیسی شناختی سیاست نہیں تھی۔ مسلم لیگ کے بعض لوگوں نے تو ان کے خلاف امیدوار بھی کھڑے کیے۔
سوال۔ ڈاکٹر فریدی کے سیاسی ایجنڈے میں کون سے مسائل سب سے اہم تھے؟
معصوم مرادآبادی: ان کی سیاست کے تین بڑے محور تھے۔پہلا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسئلہ تھا۔دوسرا اردو کے حقوق کا مسئلہ تھا۔تیسرا فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف جدوجہد تھا۔یہ تینوں مسائل ان کے لیے صرف مسلم مسائل نہیں تھے بلکہ ہندوستانی معاشرے سے متعلق مسائل تھے۔سوال۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تحریک میں ان کا کردار کیا تھا؟
معصوم مرادآبادی: جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا مسئلہ اٹھا تو ڈاکٹر فریدی پوری قوت کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوگئے۔اس وقت ان کی طبیعت خراب تھی اور وہ جیل بھی گئے۔ حکومت کی طرف سے انہیں یہ پیغام دیا گیا کہ اگر وہ ایک شرط قبول کرلیں تو انہیں رہا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ جب تک ان کے تمام ساتھی رہا نہیں کیے جاتے وہ بھی جیل سے باہر نہیں نکلیں گے۔جب باقی ساتھی رہا ہوئے تب ہی وہ بھی جیل سے باہر آئے۔
سوال۔ اردو کے مسئلے پر ڈاکٹر فریدی کا کیا موقف تھا؟
معصوم مرادآبادی: وہ اردو کے حقوق کے بڑے حامی تھے۔ اتر پردیش اسمبلی میں انہوں نے اردو میں اظہار خیال کی اجازت کے لیے آواز اٹھائی۔ان کی دلیل یہ تھی کہ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی اور اسی ملک میں پروان چڑھی۔ اس کے فروغ میں غیر مسلم ادیبوں۔ شاعروں اور دانشوروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔اس لیے اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان قرار دینا درست نہیں۔


سوال۔ فرقہ وارانہ فسادات کے بارے میں ان کی سوچ کیا تھی؟
معصوم مرادآبادی: وہ فرقہ وارانہ فسادات کو صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں سمجھتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ فساد میں کسی ایک برادری کے لوگ ہی متاثر نہیں ہوتے۔ عام شہری مارے جاتے ہیں۔ غریب لوگوں کا نقصان ہوتا ہے اور پورے معاشرے کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے فرقہ وارانہ فسادات سے نمٹنے کے لیے ایک الگ فورس کی ضرورت کی بات بھی اپنے دور میں کی تھی۔
سوال۔ کیا ریپڈ ایکشن فورس کے تصور سے بھی ان کی سوچ کا تعلق جوڑا جاسکتا ہے؟
معصوم مرادآبادی: انہوں نے اپنے زمانے میں تجویز دی تھی کہ فرقہ وارانہ فسادات سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص فورس ہونی چاہیے۔بعد کے زمانے میں ریپڈ ایکشن فورس جیسی فورس وجود میں آئی۔ اس لحاظ سے ان کی سوچ اپنے وقت سے آگے نظر آتی ہے۔
سوال۔ ڈاکٹر فریدی صرف مسلم مسائل تک محدود نہیں تھے۔ ان کی سیاست کا وسیع دائرہ کیا تھا؟
معصوم مرادآبادی: وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان ایک کثیر لسانی۔ کثیر ثقافتی اور کثیر جہتی معاشرہ ہے۔یہاں مختلف مذاہب۔ ذاتیں۔ طبقات اور شناختیں ہیں۔ اس لیے صرف ایک شناخت کی بنیاد پر سیاست کامیاب نہیں ہوسکتی۔وہ مسلمانوں کے مسائل اٹھاتے تھے لیکن ساتھ ہی دیگر محروم طبقات اور سماجی گروہوں کے مسائل کو بھی اپنی سیاست میں شامل کرتے تھے۔
سوال۔ کیا ڈاکٹر فریدی نے ذاتوں اور مختلف سماجی طبقات کے اتحاد کی بات بھی کی تھی؟
معصوم مرادآبادی: جی ہاں۔ انہوں نے بہت پہلے یہ سمجھ لیا تھا کہ مختلف سماجی طبقات کو ایک سیاسی اتحاد میں لانا ضروری ہے۔انہوں نے پیر یار جیسے رہنماؤں کو لکھنؤ بلایا اور مختلف طبقات کے درمیان اتحاد بنانے کی کوشش کی۔آج تقریباً ہر سیاسی جماعت ذاتوں اور سماجی گروہوں کے تناسب اور اتحاد کی سیاست کرتی ہے۔ ڈاکٹر فریدی نے یہ تصور بہت پہلے پیش کردیا تھا۔
سوال۔ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر فریدی شناختی سیاست کے بجائے اتحاد کی سیاست کے حامی تھے؟
معصوم مرادآبادی: بالکل۔ ان کا بنیادی تصور یہی تھا کہ مسلمان اپنے مسائل کی بات کریں لیکن خود کو الگ تھلگ نہ کریں۔وہ مسلمانوں کے مسائل کو ہندوستان کے مجموعی مسائل کے ساتھ جوڑتے تھے۔ان کے نزدیک ایک مسلمان کی ایک شناخت مسلمان ہونے کی ہے لیکن دوسری شناخت ہندوستانی شہری ہونے کی بھی ہے۔ اس لیے قومی مسائل سے الگ ہوکر مسلمانوں کے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔
سوال۔ آج بھی بہت سے لوگ جذباتی تقریروں کو قیادت کی علامت سمجھتے ہیں۔ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
معصوم مرادآبادی: یہ ایک مسئلہ ہے۔ مسلمانوں میں ایسے شخص کو اپنا لیڈر مان لینے کا رجحان دیکھا گیا ہے جو بڑے گھر میں رہتا ہو۔ گاڑی سے چلتا ہو اور جذباتی تقریریں کرکے اسلام کے لیے جان دینے کی باتیں کرتا ہو۔جذباتی اور لچھے دار تقریریں وقتی طور پر اچھی لگتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔آج بھی بعض مقررین ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا عملی سیاست یا زمینی کام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
تقریر ایک فن ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہے لیکن صرف تقریر کی حد تک رہ کر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔
سوال۔ پھر حقیقی سیاسی قیادت کیا ہونی چاہیے؟
معصوم مرادآبادی: حقیقی قیادت لوگوں کو صرف جذباتی طور پر مشتعل نہیں کرتی بلکہ انہیں راستہ دکھاتی ہے۔جلسوں میں دھواں دھار تقریریں کرکے لوگوں کے جذبات بھڑکا دینا آسان ہے۔ اصل مشکل یہ ہے کہ کوئی واضح حکمت عملی پیش کی جائے۔لوگوں کو بتایا جائے کہ آگے کس راستے پر چلنا ہے۔ کون سا مسئلہ کیسے حل ہوگا اور اس کے لیے کیا عملی اقدامات ضروری ہیں۔


سوال۔ ڈاکٹر فریدی کے بعد ان کی سیاسی فکر کو آگے بڑھانے والوں میں کون لوگ شامل تھے؟
معصوم مرادآبادی: ان کے اثرات مختلف لوگوں پر پڑے۔ محمد ادیب ان کے اہم سیاسی ساتھیوں میں رہے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یونین کے صدر بھی رہے اور بعد میں راجیہ سبھا کے رکن بنے۔جاوید حبیب بھی ڈاکٹر فریدی سے بہت متاثر تھے۔ ان کے انتقال کے بعد جاوید حبیب نے ان پر کتاب بھی لکھی۔پروفیسر اختر الواسع بھی ان کے ساتھ جیل میں رہے۔ اعظم خان بھی اس دور کی طلبہ سیاست سے وابستہ تھے۔ عارف محمد خان بھی علی گڑھ کی طلبہ سیاست میں اہم کردار ادا کرچکے تھے۔ان لوگوں نے بعد میں مختلف سیاسی جماعتوں اور شعبوں میں اپنا کردار ادا کیا۔
سوال۔ کیا ان افراد نے ڈاکٹر فریدی کی سیاست کو آگے بڑھایا؟
معصوم مرادآبادی: یہ کہنا مشکل ہے کہ کسی نے مکمل طور پر ڈاکٹر فریدی کی فکر کو آگے بڑھایا۔ بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں سیاست کی اور مختلف سیاسی راستے اختیار کیے۔ڈاکٹر فریدی کی اصل فکر ایک وسیع اور فکری سیاست تھی۔ اس مکمل تصور کو بعد میں کسی نے اسی شکل میں آگے نہیں بڑھایا۔
سوال۔ جاوید حبیب نے ڈاکٹر فریدی کی فکر کو کس حد تک آگے بڑھایا؟
معصوم مرادآبادی: میرے خیال میں ڈاکٹر فریدی کی فکر کا سب سے واضح عکس جاوید حبیب میں نظر آتا ہے۔بابری مسجد کے مسئلے پر بھی وہ جذباتی سیاست کے بجائے مذاکرات کے حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندو مسلم تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں اور مسئلے کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔وہ مختلف مذاکرات میں شریک بھی ہوئے۔
سوال۔ جاوید حبیب کی سیاست دانوں سے گفتگو کا انداز کیسا تھا؟
معصوم مرادآبادی: ان کا انداز بہت بے باک تھا۔ایک مرتبہ وہ اٹل بہاری واجپئی سے ملاقات کے لیے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ میں حیران تھا کہ وہ وزیر اعظم کے سامنے کس طرح بے تکلفی سے گفتگو کررہے تھے۔ان کے وی پی سنگھ اور نرسمہا راؤ سے بھی اچھے تعلقات تھے۔ان کا مقصد سیاسی خوشامد نہیں تھا بلکہ اپنے نقطۂ نظر کو واضح انداز میں سامنے رکھنا تھا۔


سوال۔ ڈاکٹر فریدی کی فکر 2026 میں نئی نسل کے لیے کیوں اہم ہے؟
معصوم مرادآبادی: ہماری نئی نسل میں سیاسی اور فکری مطالعہ بہت کم ہے۔حیرت کی بات ہے کہ آزادی کے بعد کی مسلم سیاست پر تحقیق کرنے والا شخص بھی ڈاکٹر فریدی سے واقف نہیں تھا۔اگر آپ سیاست میں آتے ہیں تو آپ کو سیاسی تاریخ معلوم ہونی چاہیے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ سے پہلے لوگوں نے کیا سوچا اور کیا کام کیا۔صرف کھادی پہن لینا یا سیاست میں داخل ہوجانا سیاسی شعور کی علامت نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کی سوچ کیا ہے۔ آپ کے پاس ملک اور ملت کے مسائل کا حل کیا ہے۔
سوال۔ ڈاکٹر فریدی سے آج کی نوجوان نسل سب سے بڑا سبق کیا سیکھ سکتی ہے؟
معصوم مرادآبادی: سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کو الگ کرکے حل نہیں کیا جاسکتا۔مسلمان اپنے مسائل اٹھائیں لیکن انہیں مین اسٹریم کے ساتھ جوڑیں۔ غیر مسلموں کو ساتھ لے کر چلیں اور ان لوگوں کو بھی ساتھ شامل کریں جو انصاف اور انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مسئلہ ہو۔ اردو کا مسئلہ ہو یا فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ ہو۔ ان سب کو ہندوستان کے مجموعی مسائل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
سوال۔ کیا آج مسلمانوں کو شناختی سیاست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے؟
معصوم مرادآبادی: میرے خیال میں ضرور ہے۔اگر مسلمان خود کو مکمل طور پر الگ کرکے سیاست کریں گے تو وہ خود کو محدود کرلیں گے۔ہندوستان ایک وسیع معاشرہ ہے۔ یہاں مختلف طبقات اور شناختیں ہیں۔ اس لیے کامیاب سیاست کے لیے اتحاد اور اشتراک ضروری ہے۔ڈاکٹر فریدی نے بہت پہلے یہ سمجھ لیا تھا کہ اپنے مسائل کو ملک کے مسائل کے ساتھ جوڑ کر ہی زیادہ مؤثر سیاسی جدوجہد کی جاسکتی ہے۔
سوال۔ کیا آج مسلم سیاست میں ڈاکٹر فریدی جیسی قیادت نظر آتی ہے؟
معصوم مرادآبادی: مجھے تو ایسی قیادت بہت کم نظر آتی ہے۔
آج سیاست میں بہت سے لوگوں کا ہدف عہدہ حاصل کرنا ہے۔ کوئی ایم ایل اے بننا چاہتا ہے۔ کوئی ایم ایل سی۔ کوئی راجیہ سبھا جانا چاہتا ہے اور کوئی کسی ادارے کا چیئرمین بننا چاہتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ عوام کے لیے کیا کیا جارہا ہے۔اگر سیاست عوامی فلاح کے لیے ہے تو پھر غریب کے روزگار۔ بچوں کی تعلیم۔ مکان اور بنیادی ضروریات کے مسائل بھی سیاست کا حصہ ہونے چاہئیں۔ڈاکٹر فریدی اقتدار کی سیاست کے آدمی نہیں تھے۔ ان کی توجہ فکری اور سماجی تبدیلی پر تھی۔
سوال۔ آخر میں آپ 2026 کی نوجوان نسل کو ڈاکٹر فریدی کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
معصوم مرادآبادی: تاریخ پڑھیے۔ اپنی سیاسی تاریخ کو جانیے۔ ان لوگوں کے بارے میں پڑھیے جنہوں نے آپ سے پہلے مسائل پر سوچا اور جدوجہد کی۔ڈاکٹر فریدی کا مطالعہ اس لیے ضروری ہے کہ انہوں نے یہ بتایا کہ مسلم مسائل کو قومی مسائل سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔وہ مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتے تھے لیکن ساتھ ہی دوسرے محروم طبقات کے حقوق کو بھی اپنی سیاست کا حصہ بناتے تھے۔
آج اگر نئی نسل ان کی فکر کو سمجھے تو اسے یہ احساس ہوسکتا ہے کہ سیاست صرف جذباتی تقریروں اور نعروں کا نام نہیں بلکہ فکری تیاری۔ عملی جدوجہد۔ اتحاد اور عوامی خدمت کا نام بھی ہے۔
ثاقب سلیم اور معصوم مرادآبادی کی یہ گفتگو دراصل ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کی شخصیت کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کے بنیادی سوالات کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ڈاکٹر فریدی کی سیاست میں مسلم مسائل کی آواز بھی تھی اور قومی سیاست میں شمولیت کا تصور بھی۔ وہ اردو اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حقوق کے لیے لڑے لیکن فرقہ وارانہ فسادات کو پورے ہندوستان کا مسئلہ قرار دیا۔ان کی فکر کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ مسلمان اپنے مسائل کے لیے جدوجہد ضرور کریں لیکن خود کو ملک کے باقی معاشرے سے الگ نہ کریں۔2026 میں ان کی سیاسی فکر کا سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ جذباتی تقریر وقتی جوش پیدا کرسکتی ہے لیکن پائیدار سیاسی تبدیلی کے لیے فکری تیاری۔ عملی حکمت عملی اور وسیع سماجی اتحاد ضروری ہے۔