منصور الدین فریدی : نئی دہلی
عظیم مجاہد آزادی آصف علی کے مجسمے پر کتے لوٹ رہے ہیں۔ جی ہاں!آوارہ کتوں کی آرام گاہ ہے بن چکا ہے مجسمہ کا چبوترا اور پارک ۔ کووں اور کبوتروں کی بیٹ سے لت پت ہے قد آور مجسمہ ۔۔۔ یہ وہی آصف علی ہیں، جو آزادی سے قبل قائم ہونے والی عارضی حکومت میں پہلے وزیر ریلوے رہے۔ وہی شخصیت جنہیں آزادی کے بعد امریکہ میں ہندوستان کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا۔ یہ وہی رہنما ہیں جنہوں نے ہندوستان کے ریلوے اسٹیشنوں پر ہندو پانی مسلم پانی کی صداؤں کا خاتمہ کیا،اج اس عظیم شخصیت کا مجسمہ ملک و قوم کے لیے ایک المیہ بنا ہوا ہے۔ پرانی دلی اور نئی دہلی کی دہلیز پر قائم مجسمہ انتہائی مصروف گزرگاہ دہلی گیٹ پر ایک بلند و بالا قومی ترنگے کے سائے تلے خاموش کھڑا ہے۔ کبھی آزادی کی جدوجہد اور ملک کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اس عظیم رہنما کے اس مجسمہ کی خستہ حالی اپنے محسنوں اور قومی تاریخ کے ساتھ ہمارے بدلتے ہوئے رویے کا ایک افسوسناک عکس بھی ہے۔
پچھلے دو برس کے دوران جب بھی میں دہلی گیٹ سے گزرا تو ملک کی راجدھانی کے قلب میں واقع اس انتہائی مصروف چوراہے پر فلک بوس قومی پرچم کے سائے تلے کھڑے اس مجسمے کو ہمیشہ خستہ حال پایا۔ حالت یہ تھی کہ مجسمے پر کبوتروں اور کووں کی بیٹ جمی ہوئی تھی اور اس کے اردگرد گندا پانی اور کیچڑ پھیلا رہتا تھا۔ نشہ کرنے والوں اور فقیروں کے ساتھ آوارہ جانور بھی اس کے آس پاس منڈلاتے نظر آتے تھے۔ ہر بار دل میں یہی امید پیدا ہوتی کہ شاید اس مجسمے کے بھی دن پھریں گے اور اسے بھی اچھے دن نصیب ہوں گے۔ لیکن اس سال 15 اگست کو جب میں دوبارہ دہلی گیٹ سے گزرا تو منظر تقریباً وہی تھا۔ آصف علی کا یہ مجسمہ اپنی بد نصیبی اور بے حسی کا بوجھ اسی خاموشی کے ساتھ اٹھائے کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر بے اختیار یہ مصرعہ یاد آیا کہ ''نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں''۔
سوال یہ ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں اپنا سب کچھ قربان کرنے والے ایک عظیم مجاہد آزادی کی یاد کے ساتھ آخر ہمارا یہ سلوک کیوں ہے؟


افسوسناک اورالمناک ہے یہ منظر
اس سال 15 اگست کو بھی جب میں دہلی گیٹ سے گزرا تو آصف علی کا مجسمہ اسی یتیمی کی حالت میں کھڑا نظر آیا۔ یہ وہ دن تھا جب پورا ملک اپنے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے اور انہیں خراج عقیدت ادا کرتا ہے۔ مگر اسی دن آصف علی کا مجسمہ گویا اپنی بے بسی اور لاچاری کی داستان خاموش زبان میں سنا رہا تھا۔ اس منظر کی ایک اور تلخ تصویر یہ تھی کہ اسی شام دلی چھ کے نام سے مشہور پرانی دہلی میں جشن آزادی کے نام پر لاکھوں روپے کی آتش بازی کی گئی۔ گھنٹوں تک آسمان چینی پٹاخوں کی رنگ برنگی روشنی سے جگمگاتا رہا۔ مگر افسوس کہ اسی فصیل بند شہر کی وہ مسلم قیادت جو آئے دن اپنے نظر انداز کیے جانے اور بڑھتے ہوئے امتیاز و تعصب کی شکایت کرتی ہے وہ اپنی ہی چوکھٹ پر کھڑے آصف علی کے مجسمے کو خراج عقیدت پیش کرنے کا کوئی اہتمام نہ کرسکی۔ جشن آزادی کے نام پر کوئی تقریب تو دور کی بات وہاں چند پھول چڑھانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔
یہ صورت حال ہمیں ایک تلخ سوال کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ ایک طرف ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے مجاہدین آزادی کو تاریخ اور قومی منظرنامے سے فراموش کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہماری اپنی چوکھٹ پر موجود ایک ایسے مجاہد آزادی کی یادگار ہماری نظروں سے اوجھل ہے جس نے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنے اور نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے روشناس کرانے کے بجائے ہم نے جشن آزادی کو محض چھتوں پر ہونے والی آتش بازی تک محدود کر دیا ہے۔ شاید اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ جس شہر کی گلیوں میں آزادی کے نعرے گونجتے رہے وہاں آج ایک عظیم مجاہد آزادی کا مجسمہ ہماری بے حسی کا خاموش گواہ بنا کھڑا ہے۔

پارک کے سامنے کبوتروں کے لیے دانوں کی فروخت
پارک بنا کوڑے دان
میں کئی سال سےاس مجسمہ کی حالت دیکھ رہا ہوں ،کئی حکومتیں آئیں اور گئیں مگر آصف علی کے مجسمے کی یتیمی جوں کی توں رہی ، مجسمے کے ارد گرد گندگی،کوڑا اور کیچڑ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں بلکہ ایک ایسی مصروف ترین کراسنگ پر یہ پارک واقع ہے جہاں 16سڑکوں کاجال بچھا ہے۔پارک میں گھاس کی جگہ جھاڑیوں نےلے لی ہے،جس میں ملبہ اور گندگی کا ڈھیر لگا ہے ۔آہنی ریلنگ کہیں چور ہضـم کرچکے ہیں تو کہیں زنگ آلودہ ہیں۔
آصف علی کےمجسمے کی خستہ حالی کےکئی اسباب ہیں جن میں ایک کبوتروں کی مہمان نوازی ہے ، صبح سے شام تک کبوتروں کو دانے کھلانے کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے،پارک کی سڑک پر دانے ہی دانے بکھرے ہوئے ہیں ۔ جس کے لیے باقاعدے دانے فروخت ہوتے ہیں ،لوگ دانے خرید کر مجسمے ارد گرد ڈال دیتے ہیں ، اس کے ساتھ پانی کے انتہائی گندے برتن اس مجسمے کو چار چاند لگا رہے ہیں ۔ گندگی کا اندازہ تصا ویر اور ویڈیو سے زیادہ آپ کو صرف اس مقام پر پہنچ کر ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ گندے پانی اور کیچڑ کی سڑن ناقابل برداشت ہے ۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مجسمے کی کوکھ میں کاروں کی قطاریں نظر آتی ہیں،جو مجسمے کی ناک کے نیچے چل رہے پارکنگ کے کاروبار کی برکت ہیں۔ دن میں سینکڑوں کاریں اورٹو وہیلرزآتے اور جاتے ہیں ۔ جو کہ موٹی کمائی کا ذ ریعہ ہے ۔ مصروف ترین شاہراہ پر پارکنگ کی سہولت کسی نعمت سے کم نہیں لیکن اس کی قیمت مجسمہ ادا کررہا ہے ۔
اس پارک میں مقامی دوکاندار بھی کوڑا پھیک رہے ہیں ۔ ایک مرتبہ مجھے مجسمے کے سامنے سڑے ہوئے کیلوں کا ڈھیر نظر آیا۔ آوارہ کتے مجسمے کے آس پاس لوٹتے نظر آتے ہیں ۔ یہ مجسمہ اس گندگی کے ساتھ نشہ خوروں کا دیدار بھی کررہا ہے ۔ دن دھاڑے نشہ خور اسی کے نیچے آرام فرماتے ہیں ،فقیروں کے لیے بھی ہوا خوری کا بہترین مقام ہے ۔۔

نہرو اور آزادکے ساتھ درمیان میں آصف علی
کون تھے آصف علی
آصف علی ہندوستان کے ان عظیم آزادی پسند رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی ملک کی آزادی کے لیے وقف کردی۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’تلاشِ ہند‘ کے پیش لفظ میں ان کی علمی صلاحیتوں کا خصوصی ذکر کیا ہے۔آصف علی نے ماڈل پرائمری اسکول، اینگلو عربک اسکول اور سینٹ اسٹیفن کالج سے تعلیم حاصل کی۔ 1909 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے اور 1912 میں قانون کی تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس آئے۔ وکالت کے ساتھ صحافت، ادب اور سیاست میں بھی سرگرم ہوگئے۔
سال1916 میں انہوں نے دہلی میں ہوم رول لیگ کی شاخ قائم کی اور 1917 میں کانگریس کے اجلاس میں شرکت کی۔ 1919 میں برطانوی حکومت نے انہیں سیاسی سرگرمیوں کے باعث گرفتار کیا، تاہم انہوں نے عدالت میں خود اپنا دفاع کرکے باعزت رہائی حاصل کی۔گاندھی جی کی ستیہ گرہ تحریک میں بھی آصف علی نے اہم کردار ادا کیا۔ 1920 میں عدم تعاون تحریک کے دوران انہوں نے وکالت چھوڑ دی اور آزادی کی جدوجہد میں پوری طرح شامل ہوگئے۔ اس دوران کئی بار گرفتار ہوئے اور میاں والی سمیت مختلف جیلوں میں قید رہے۔سال1930 کی شہری نافرمانی تحریک اور 1942 کی ہندوستان چھوڑو تحریک میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ گوالیا ٹینک میدان میں کانگریس کا پرچم لہرانے کے حوالے سے ان کا نام خاص طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت کا مقدمہ بھی لڑا۔سال1935 میں وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1946 کی عبوری حکومت میں ریلوے و ٹرانسپورٹ کے وزیر بنے۔ آزادی کے بعد واشنگٹن میں ہندوستان کے پہلے سفیر، اڑیسہ کے گورنر اور سوئٹزرلینڈ میں سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ہندو پانی مسلم پانی“ کے خلاف ایک عملی قدم
تقسیم ہند سے پہلے فرقہ پرستی کے خلاف آواز بلند کرنے والے رہنماؤں میں آصف علی کا نام بھی نمایاں ہے۔ ستمبر 1946ء میں جواہر لال نہرو کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہوئی تو آصف علی کو ریلوے کا قلم دان سونپا گیا۔ اس تقرری کے بعد مہاتما گاندھی نے اپنے جریدے ہریجن میں ایک مضمون کے ذریعے امید ظاہر کی کہ آصف علی ریلوے اسٹیشنوں پر رائج ”ہندو پانی“ اور ”مسلم پانی“ کی آوازوں اور مذہبی بنیاد پر پانی کی تفریق کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے قدم اٹھائیں گے۔آصف علی نے گاندھی کی اس امید کو عملی شکل دینے کی کوشش کی اور ریلوے اسٹیشنوں پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے پانی کی الگ الگ فراہمی کے رواج کو ختم کرنے کی سمت قدم اٹھایا۔ اس اقدام نے انہیں مذہبی تفریق کے خلاف عملی جدوجہد کرنے والی شخصیات میں نمایاں کیا اور یہ پیغام دیا کہ عوامی سہولیات مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونی چاہییں۔
آصف علی کا انتقال یکم اپریل 1953 کو برن، سوئٹزرلینڈ میں ہندوستان کے سفیر کی حیثیت سے ہوا۔ ان کی زندگی آزادی، قربانی، قومی یکجہتی اور ثابت قدمی کی روشن مثال ہے۔

آصف علی روڈ: دہلی کے بزنس سینٹر سے زوال پذیر ورثے تک
آصف علی روڈ کبھی دہلی کا سب سے اہم مالیاتی اور تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔ 1950 سے 1980 کی دہائی تک یہاں دفتر قائم کرنا بڑے کاروباری اداروں کے لیے وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پرانی دہلی کے بڑے کاروباری خاندانوں کا خواب ہوتا تھا کہ ان کا دفتر آصف علی روڈ پر ہو۔ 1940 کی دہائی میں یہاں منصوبہ بند انداز میں تجارتی عمارتوں کی تعمیر شروع ہوئی۔ چار بلاکس پر مشتمل اس منصوبے میں چار منزلہ عمارتوں اور تہہ خانوں کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی۔ اس دور میں آصف علی روڈ کی عمارتیں دہلی کی بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوتی تھیں۔
1950 کی دہائی تک آصف علی روڈ ایک بڑے تجارتی مرکز کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ دہلی اسٹاک ایکسچینج سمیت کئی بڑی دوا ساز کمپنیوں انجینئرنگ اداروں بیمہ کمپنیوں مالیاتی اداروں اور ٹائپ رائٹر کمپنیوں کے دفاتر یہاں قائم تھے۔ کندن ہاؤس لکشمن ہاؤس جمنا بھون اور ایسل ہاؤس جیسی عمارتیں اس دور کی تجارتی شناخت بن گئیں۔ 1954 میں ڈیلائٹ سنیما کے افتتاح نے آصف علی روڈ کو کاروباری مرکز کے ساتھ ساتھ ایک اہم ثقافتی اور سماجی مرکز بھی بنا دیا۔ ڈیلائٹ سنیما میں فلموں کی نمائش کے علاوہ براہ راست ثقافتی پروگرام بھی منعقد ہوتے تھے۔
1970 کی دہائی میں کنّوٹ پلیس کے اطراف بلند و بالا دفتری عمارتوں کی تعمیر کے بعد تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بتدریج تبدیل ہونے لگا۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں متعدد بڑی کمپنیاں گڑگاؤں اور نوئیڈا منتقل ہوگئیں۔ بڑی کمپنیوں کی منتقلی کے بعد آصف علی روڈ کی تجارتی رونق مسلسل کم ہوتی گئی اور آج اس علاقے میں پہلے کے مقابلے میں بہت کم بڑے کاروباری ادارے باقی رہ گئے ہیں۔
آج آصف علی روڈ شہری بے اعتنائی اور تاریخی تعمیراتی ورثے کے زوال کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ٹوٹی ہوئی فٹ پاتھیں اور خستہ حال عمارتیں علاقے کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ متعدد تاریخی عمارتیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث تیزی سے بوسیدہ ہو رہی ہیں۔ ڈیلائٹ سنیما اور ہمدرد بلڈنگ ان چند عمارتوں میں شامل ہیں جن کے بیرونی ڈھانچے اب بھی نسبتاً محفوظ ہیں۔ مقامی لوگوں کاکہنا ہےکہ کم کرایے پر رہنے والے پرانے کرایہ داروں کے باعث بعض مالکان عمارتوں کی مرمت پر سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ نتیجتاً دہلی کے ایک اہم تاریخی تجارتی مرکز کی عمارتیں رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہو رہی ہیں۔ آصف علی روڈ کی موجودہ حالت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تاریخی عمارتوں اور مجسموں کا تحفظ صرف ماضی کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ شہر کی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنا بھی ہے۔.
Dogs Have Been Roaming Over the Statue of Freedom Fighter Asif Ali#FreedomFighters #Muslims, #india
— mansooruddin faridi (@mfaridiindia) August 23, 2026
.https://t.co/d6xBhbavP4 pic.twitter.com/hPyqgLqDMh