آواز دی وائس : نئی دہلی
موجودہ عالمی حالات میں جب ایران، امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو ایک بنیادی سوال شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ اگر مسلمان ایک امت ہیں تو پھر ان کے درمیان اختلافات اور تصادم کیوں پیدا ہوتے ہیں۔یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ فکری اور مذہبی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ عام طور پر عوامی سطح پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ امت ایک ایسی وحدت ہے جو کبھی تقسیم نہیں ہو سکتی، مگر عملی دنیا میں اس کے برعکس صورتحال نظر آتی ہے۔ اسی تضاد کو سمجھنے کے لیے یہ گفتگو ایک اہم فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آواز دی وائس کے خاص پروگرام ’دین اور دنیا‘ میں میزبان ثاقب سلیم کے ساتھ ممتاز اسلامی اسکالر عبدالمعید ازہری نے دین اور دنیا کے مختلف پہلووں پر تفصیلی گفتگو کی جنہوں نے بڑی بے باکی کے ساتھ مسلمانوں کے مسائل اور الجھنوں پر روشنی ڈالی ۔
امت کا مفہوم: ایک ہمہ گیر اور متحرک تصور
عبدالمعید ازہری امت کے تصور کو ایک وسیع اور لچکدار دائرے میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امت صرف مذہبی شناخت کا نام نہیں بلکہ ایک سماجی اور اجتماعی حقیقت بھی ہے۔قرآن میں امت کا لفظ مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ اس کا مفہوم سیاق و سباق کے مطابق بدل جاتا ہے۔ کہیں یہ ایک مذہبی گروہ کے لیے آتا ہے اور کہیں ایک معاشرتی یا سیاسی اکائی کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔مدینہ کی ابتدائی اسلامی ریاست اس کی بہترین مثال ہے جہاں مسلمان، یہودی اور عیسائی سب ایک مشترکہ سیاسی نظام کا حصہ تھے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امت کا تصور صرف مذہبی وحدت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عملی سماجی ڈھانچے کی بھی نمائندگی کر سکتا ہے۔

امت مسلمہ: روحانی رشتہ اور اخلاقی ذمہ داری
جب امت مسلمہ کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد وہ تمام مسلمان ہوتے ہیں جو ایک عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ تعلق بنیادی طور پر روحانی ہے، جو لوگوں کے دلوں کو جوڑتا ہے اور ان کے درمیان بھائی چارے کا احساس پیدا کرتا ہے۔تاہم ازہری اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ رشتہ سیاسی وحدت کا تقاضا نہیں کرتا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمان اپنے اپنے قومی نظام، آئین اور سیاسی ڈھانچے کے تابع ہوتے ہیں۔اس لیے امت مسلمہ کو ایک عالمی سیاسی نظام کے طور پر دیکھنا ایک غلط فہمی ہے، جبکہ اسے ایک اخلاقی اور روحانی برادری کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔
کلما: ایک ایسا رشتہ جو سرحدوں سے بلند ہے
ازہری کے مطابق کلما ایک ایسا نظریاتی اور روحانی بندھن ہے جس کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی۔چاہے کوئی شخص ہندوستان میں ہو، ایران میں ہو یا کسی اور ملک میں، اس کا ایمان ایک ہی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یہی چیز مسلمانوں کے درمیان ایک اندرونی ربط پیدا کرتی ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ انسان ایک زمینی حقیقت کا بھی حصہ ہے۔ اس کا تعلق ایک ملک، ایک معاشرے اور ایک تہذیب سے ہوتا ہے۔ اس لیے کلما کو سیاسی نظام کی بنیاد بنانا عملی دنیا میں ممکن نہیں۔
قومیت اور جغرافیائی سرحدیں: ایک ناگزیر حقیقت
گفتگو میں یہ نکتہ بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ جغرافیائی سرحدیں اسلام کے خلاف نہیں ہیں بلکہ انسانی معاشرے کی ایک فطری ضرورت ہیں۔مدینہ کی ریاست سے لے کر خلافت کے مختلف ادوار تک، ہر جگہ جغرافیائی حدود موجود رہی ہیں۔ یہ حدود نظم و نسق، تحفظ اور اجتماعی زندگی کے استحکام کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ازہری کے مطابق اصل مسئلہ سرحدوں کا نہیں بلکہ ان کے اندر قائم ہونے والے نظام کا ہے۔ اگر نظام انصاف پر مبنی ہو تو سرحدیں ایک مثبت کردار ادا کرتی ہیں، اور اگر ظلم ہو تو وہی سرحدیں مسائل کا سبب بن جاتی ہیں۔

اسلام کا مرکزی اصول: انصاف اور توازن
ازہری بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام کی اصل روح انصاف ہے۔قرآن کی تعلیمات کے مطابق بہترین امت وہ ہے جو بھلائی کو فروغ دے اور برائی کو روکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کا تصور کسی بھی قسم کے ظلم یا ناانصافی کی حمایت نہیں کرتا۔یہاں تک کہ اگر کوئی مسلمان بھی ظلم کر رہا ہو تو اس کی حمایت کرنا جائز نہیں بلکہ اسے روکنا ہی اصل دینی ذمہ داری ہے۔ یہی اصول امت کے تصور کو ایک اعلیٰ اخلاقی مقام دیتا ہے۔
برصغیر کا تناظر: جذبات، تہذیب اور انسانیت
گفتگو میں برصغیر خصوصاً ہندوستان کے مسلمانوں کے مزاج پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ازہری کے مطابق اس خطے کے لوگوں میں ایک خاص جذباتی اور انسانی پہلو پایا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ صرف مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانی بنیاد پر بھی ردعمل دیتے ہیں۔اسی لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر ظلم ہوتا ہے تو یہاں کے لوگ اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، چاہے متاثرہ افراد کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔
مسلکی اختلافات: ایک حقیقت مگر رکاوٹ نہیں
امت کے اندر مختلف مسالک کا وجود ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سنی، شیعہ، بریلوی، سلفی اور دیگر مکاتب فکر کے درمیان فکری اختلافات موجود ہیں، مگر اس کے باوجود ایک بنیادی عقیدہ انہیں جوڑے رکھتا ہے۔ازہری کے مطابق یہ اختلافات امت کے تصور کو ختم نہیں کرتے بلکہ اسے ایک وسیع اور ہمہ گیر دائرہ بناتے ہیں جس میں مختلف نقطہ نظر رکھنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں۔

جذبات اور سیاست: ایک باریک فرق
گفتگو میں ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ عالمی مسائل پر لوگوں کا ردعمل اکثر جذباتی اور انسانی بنیادوں پر ہوتا ہے، نہ کہ خالص سیاسی بنیادوں پر۔جب لوگ کسی مظلوم کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس ملک کی سیاسی پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ بلکہ یہ ایک انسانی ردعمل ہوتا ہے جو انصاف اور ہمدردی کے جذبے سے پیدا ہوتا ہے۔
اقبال کا تصور: ایک متوازن تعبیر
گفتگو میں علامہ اقبال کے نظریات کا بھی حوالہ دیا گیا۔ازہری کے مطابق اقبال نے جغرافیائی سرحدوں کی مکمل نفی نہیں کی بلکہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ ایمان اور روحانیت کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہوتے۔ان کے اشعار کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی قومی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک وسیع انسانی اور روحانی تعلق کو بھی قائم رکھ سکتا ہے۔
انسانیت: سب سے بڑا رشتہ اور مشترکہ قدر
ازہری کے مطابق سب سے بڑی قدر انسانیت ہے جو تمام اختلافات سے بالاتر ہے۔مذہب، قوم اور ریاست اپنی جگہ اہم ہیں مگر جب بات ظلم اور انصاف کی ہو تو انسانیت کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ یہی وہ اصول ہے جو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
امت، قومیت اور انسانیت کا متوازن امتزاج
اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ امت ایک روحانی اور اخلاقی رشتہ ہے جو مسلمانوں کو جوڑتا ہے۔ قومیت ایک عملی اور سیاسی حقیقت ہے جو انسان کی شناخت اور ذمہ داریوں کو متعین کرتی ہے۔اور انسانیت وہ قدر ہے جو ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرتی ہے۔اگر ان تینوں کو صحیح انداز میں سمجھ لیا جائے تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں مذہبی وابستگی، قومی وفاداری اور انسانی ہمدردی ایک ساتھ موجود ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جو امن، استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد بن سکتا ہے۔