دین اور دنیا ۔ اسلام اور جمہوریت میں تضاد نہیں ۔ سید محمود اختر
آواز دی وائس : نئی دہلی
جمہوریت پر مکمل مایوسی درست نہیں۔اسلام اور جمہوریت میں تضاد نہیں،جمہوریت صرف انتخابات تک محدود نہیں جبکہ تعلیم اور ہنر کامیابی کی کنجی ۔۔۔۔
آواز دی وائس کے خصوصی پوڈکاسٹ ’دین اور دنیا ‘میں ریٹائرڈ آئی آر ایس افسر اور سابق سفارت کار سید محمود اختر سے ایک طویل اور سنجیدہ گفتگو کے دوران ان تاثرات کا اظہار کیا ۔ سید محمود اختر نہ صرف ہندوستانی بیوروکریسی میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ خدمات انجام دے چکے ہیں بلکہ وہ نیپال میں سفارتی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔میزبان نوجوان تاریخ داں ثاقب سلیم کے ساتھ گفتگو میں ہندوستانی مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کے درمیان جمہوریت کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات، سوشل میڈیا کے اثرات، سماجی فاصلے، معاشی مواقع اور دینی و دنیاوی زندگی کے توازن جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
جمہوریت کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ
گفتگو کا آغاز اس سوال سے ہوا کہ کیا ہندوستانی مسلمان، خاص طور پر نوجوان، جمہوریت سے مایوس ہو رہے ہیں۔ میزبان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایسے بیانیے نظر آتے ہیں جن میں بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جمہوریت ایک اسلامی نظام نہیں ہے یا ہندوستان کا جمہوری نظام مسلمانوں کے خلاف ہے۔
اس پر سید محمود اختر نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ مسلمانوں کا جمہوریت پر سے مکمل اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض حلقوں میں وقتی مایوسی ہو سکتی ہے لیکن اسے پوری کمیونٹی کی سوچ قرار دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور جمہوریت کے درمیان کوئی بنیادی تضاد نہیں ہے۔
ان کے مطابق اگر اسلامی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو حضور اکرم ﷺ کے زمانے اور خلفائے راشدین کے دور میں حکومت کا نظام مشاورت اور اجتماعی فیصلوں پر مبنی تھا۔ وہاں بادشاہت یا جبر کا نظام نہیں تھا بلکہ لوگوں کی رائے اور مشورے سے معاملات طے ہوتے تھے۔ اس لیے یہ کہنا کہ جمہوریت اسلامی اصولوں سے متصادم ہے درست نہیں۔
سوشل میڈیا اور خوف کا بیانیہ
سید محمود اختر نے سوشل میڈیا کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج سوشل میڈیا ایک بڑی لائبریری کی طرح ہے جہاں ہر طرح کی معلومات اور آراء دستیاب ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ وہاں خوف اور شکوک کو بڑھانے والی باتیں بھی تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔
ان کے مطابق بعض نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے اس لیے وہ جمہوریت کے بارے میں منفی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ تاریخ اور زمینی حقیقتوں کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے آزادی ہند کے عظیم رہنما **مولانا ابوالکلام آزاد** کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ہندوستانی قومیت اور جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ ان کے الفاظ میں ہندوستان کی وحدت ناقابل تقسیم ہے اور مسلمان اس قوم کا اہم حصہ ہیں۔
جمہوریت کو صرف انتخابات سے نہ ناپا جائے
گفتگو کے دوران ایک اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ اکثر نوجوان جمہوریت کو صرف انتخابی سیاست سے جوڑ دیتے ہیں۔ یعنی وہ یہ دیکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ یا اسمبلیوں میں مسلمانوں کے کتنے ارکان موجود ہیں۔سید محمود اختر نے کہا کہ جمہوریت صرف ایم ایل اے اور ایم پی کی تعداد کا نام نہیں ہے۔ جمہوری نظام کئی ستونوں پر قائم ہوتا ہے۔ ان میں عدلیہ، بیوروکریسی، مقامی حکومتیں اور سول سوسائٹی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ خود سول سروس میں آئے تھے تو اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ لیکن آج کے مقابلے میں اس تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ مسلمان سول سروس کے امتحانات میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح عدلیہ میں بھی مسلمان نوجوان اور نوجوان خواتین آگے بڑھ رہی ہیں۔
تعلیم اور میرٹ کی اہمیت
سید محمود اختر نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کے لیے میرٹ اور تعلیم بنیادی عوامل ہیں۔ ان کے مطابق صرف شکایت کرنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ کمیونٹی کو اپنی کمزوریوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر اور فنی مہارتیں بھی بہت اہم ہیں۔ مسلمانوں میں دستکاری، کڑھائی، دست ساز مصنوعات اور دیگر ہنر کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ اگر ان صلاحیتوں کو جدید مواقع کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو معاشی ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے پروگراموں جیسے ہنر ہاٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے مختلف برادریوں کے ہنرمندوں کو اپنے فن کو پیش کرنے اور معاشی مواقع حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔
گھیٹوائزیشن اور سماجی فاصلے
گفتگو کا ایک اہم موضوع شہروں میں مسلمانوں کی الگ بستیوں کا مسئلہ بھی تھا۔ میزبان نے کہا کہ اکثر بڑے شہروں میں مسلمان مخصوص علاقوں میں رہتے ہیں اور یہ علاقے اکثر پسماندہ سمجھے جاتے ہیں۔
اس پر سید محمود اختر نے کہا کہ یہ مسئلہ دونوں طرف کے عوامل کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے لوگوں کے درمیان رہنا پسند کرتے ہیں۔ دوسری طرف بعض اوقات اکثریتی سماج بھی انہیں اپنے علاقوں میں قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل شمولیتی ترقی اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے میں ہے۔ جب معاشرے کے تمام طبقات کو برابر مواقع ملیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ میل جول بڑھے گا تو یہ فاصلے کم ہو سکتے ہیں۔
صفائی اور سماجی رویے
گفتگو کے دوران ایک حساس موضوع بھی زیر بحث آیا جس میں بعض لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ مسلم بستیوں میں صفائی کا معیار کم ہوتا ہے۔ اس پر سید محمود اختر نے واضح کیا کہ اسلام میں صفائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں جسم، لباس اور ماحول کی پاکیزگی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے محلوں اور معاشرتی ماحول کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دیں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
معاشی مواقع اور بینک قرضے
ایک اور سوال یہ تھا کہ کیا مسلمانوں کو کاروبار کے لیے بینک قرضے حاصل کرنے میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پر سید محمود اختر نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ بینک عام طور پر مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ بینک قرض دینے سے پہلے دستاویزات، منصوبہ بندی اور مالی قابلیت کو دیکھتے ہیں۔ اگر درخواست گزار کے پاس درست منصوبہ اور ضروری دستاویزات ہوں تو اسے قرض حاصل کرنے میں مشکل نہیں ہونی چاہیے۔
سرکاری مسلمان” کی اصطلاح
سوشل میڈیا پر ایک اصطلاح “سرکاری مسلمان” بھی زیر بحث رہتی ہے جس کے ذریعے بعض لوگ ان مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو حکومت یا سرکاری اداروں میں کام کرتے ہیں۔
اس بارے میں سید محمود اختر نے کہا کہ اپنی طویل سرکاری ملازمت کے دوران انہوں نے کبھی یہ اصطلاح نہیں سنی۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص ایمانداری سے کام کرے اور سب کے ساتھ انصاف کرے تو اس طرح کے الزامات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
ماضی اور حال کا فرق
انہوں نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات ہوتے تھے لیکن وہ عموماً محدود ہوتے تھے اور جلد قابو میں آ جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج شاید ایسے واقعات کم ہوں لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے نفرت اور بدگمانی کا ماحول زیادہ پھیل جاتا ہے۔
دین اور دنیا کا توازن
گفتگو کے آخر میں میزبان ثاقب سلیم نے پوڈکاسٹ کے مرکزی سوال کی طرف رخ کیا کہ دین اور دنیا کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔
سید محمود اختر نے کہا کہ ان کے نزدیک دین اور دنیا کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ عبادات انسان کے ذاتی تعلق کو مضبوط کرتی ہیں جبکہ معاشرتی زندگی میں اصل اہمیت اخلاق اور کردار کی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انسان معاشرے میں نکلتا ہے تو اس کے اخلاق اور رویے ہی اس کی اصل پہچان بنتے ہیں۔ اگر مسلمان اچھے اخلاق، ایمانداری اور حسن سلوک کا مظاہرہ کریں تو وہ خود بخود معاشرے میں مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روشنی بانٹنے سے روشنی کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ اسی طرح اگر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی اور خیر بانٹیں تو معاشرے میں ہم آہنگی اور امن کو فروغ مل سکتا ہے۔اس طرح یہ گفتگو اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ ہندوستانی معاشرے میں مشترکہ ترقی، باہمی احترام اور مثبت سوچ کے ذریعے بہت سی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے اور جمہوریت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔