آواز دی وائس
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف بحثیں شروع ہو گئی ہیں۔ ان نتائج کے بعد مسلم سماج میں بھی کسی حد تک بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ اسی پس منظر میں آواز دی وائس کے چیف ایڈیٹر عاطر خان نے ایک ویڈیو کے ذریعے سماج کو حقیقت پسندانہ سوچ اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں خوف زدہ ہونے کے بجائے سماج کو اپنی سیاسی سوچ کا نئے سرے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
بی جے پی کی جیت سے خوفزدہ ہونا غلط
عاطر خان نے واضح کیا کہ اگر بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت ملک کے آئین اور قانون سے بڑی نہیں ہوتی۔ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے۔ اس لیے صرف حکومت کی تبدیلی سے کسی کے وجود یا حقوق کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ منفی ماحول سے دور رہتے ہوئے حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔
’وکٹم ہڈ سنڈروم‘ سے باہر آنے کی ضرورت
عاطر خان نے اس موقع پر ’وکٹم ہڈ سنڈروم‘ یعنی خود کو مسلسل مظلوم سمجھنے والی ذہنیت کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق مسلم سماج کو اب اس سوچ سے باہر نکلنا چاہیے۔ پرانے خیالات اور بے بنیاد خوف کو تھامے رکھنے سے سماج ترقی نہیں کر سکتا۔ بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی حالات کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی صورتحال کے مطابق اپنی سوچ میں لچک پیدا کرنا ضروری ہے۔
سیاسی فکر میں لچک ضروری
سیاسی جماعتوں کی جیت اور شکست جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ کسی ایک جماعت کی کامیابی سے پورے سماج کو نقصان ہوگا یہ سوچ درست نہیں۔ سماج کو چاہیے کہ وہ روایتی اور فرسودہ سیاسی تصورات سے باہر نکل کر نئے حقائق کا سامنا کرے۔ بے بنیاد خوف سے نکل کر آئین پر مکمل اعتماد رکھنا اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھنا ہی موجودہ حالات میں مناسب راستہ ہے۔ عاطر خان کے اس واضح اور بے باک تجزیے سے مسلم سماج کو ایک مثبت اور نئی سمت ملنے میں یقیناً مدد مل سکتی ہے۔