بیکانیر: ایک مولوی کی منظوم اردو رامائن جو بن گئی مذہبی رواداری کی مثال

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
بیکانیر: ایک مولوی کی منظوم اردو رامائن جو بن گئی مذہبی رواداری کی مثال
بیکانیر: ایک مولوی کی منظوم اردو رامائن جو بن گئی مذہبی رواداری کی مثال

 

منصور الدین فریدی : آواز دی وائس

 

رنج  حسرت کی گھٹا سیتا کے دل پر چھا گئی

گویا جوہی کی کلی تھی ،اوس سے مرجھا گئی

دیکھنے کو ظاہرن ہنومان جی کی چل گئی

ورنہ سیتا کی آہیں  تھیں کہ لنکا جل گئی۔

یہ ہیں منظوم اردو رامائن کے چند خوبصورت اشعار۔ جو رامائن کو ایک منفرد اور انوکھے انداز میں پیش کرتی ہے بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی گواہی بھی دیتی ہے ۔

بیکانیر میں ہر سال دیوالی کے موقع پر ’محفل رامائن‘ میں اس کا سماں بندھتا ہے۔اس کی تاریخ یا کہانی بھی ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کیونکہ منظوم اردو رامائن ایک کشمیری پنڈت شاگرد کے اصرار پرمولوی بادشاہ حسین خان رعنا لکھنؤی کی پیش کش ہے۔ جو بیکانیر کے ایک ممتاز شاعر رہے ہیں یاد رہے کہ یہ اردو رامائن 1935 میں لکھی گئی تھی ۔ جس کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں گولڈ میڈل کا حقدار مانا تھا

جبکہ بیکا نیر کے مہاراجہ گنگا سنگھ نے اس کو اسکولی نصاب میں شامل کیا تھا۔یاد رہے کہ مولوی بادشاہ حسین خان رعنا لکھنؤی بیکانیر میں اردو فارسی پڑھاتے تھے۔ اپنے ایک کشمیری پنڈت شاگرد کے خواہش پرانہوں نے رام چرت مانس کو اردو نظم کی شکل میں ترتیب دیاتھا۔

بیکانیر میں منظوم اردو رامائن کا اہتمام پریٹن لیکھک سنگھ (ٹورازم رائٹرز ایسوسی ایشن)کے زیر اہتمام ہوتا ہے جس کے روح رواں شہر میں ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سے وابستہ ڈاکٹر ضیا الحسن قادری ہیں ۔جنہوں نے شہر کی اس گمنام تہذیب اور روایت کو بزرگوں کی زبانی سنا اور پھر 2012 میں ایک نیک پہل کی بسمہ اللہ کی۔ جس کے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے بلکہ مقبول ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ  مولوی رعنالکھنوی کی اردو رامائن کے دوبارہ جلوہ افروز ہونا بیکانیر کے لیے باعث فخر رہا۔ بقول قادری صاحب اردو رامائن ایک بہترین پیشکش ہے کیونکہ مولوی رعنالکھنوی نے رام جی کے بن باس سے ایودھیا واپسی تک کے سفر کو نصف گھنٹے کی اردو رامائن میں جس خوبصورتی کے ساتھ سمیٹا ہے اس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی ہے۔

awazurdu

منظوم اردو رامائن کو دوبارہ زندہ کرنے والے ڈاکٹر ضیا الحسن قادری 

قصہ منظوم  اردو رامائن کا

دراصل یہ اردو رامائن مولوی بادشاہ حسین خان رعنالکھنوی کی دین ہے ۔ بقول قادری صاحب یہ آزادی سے قبل کا واقعہ ہے۔ رعنالکھنوی جو کہ اترپردیش کے سندیلا سے آکر بیکانیرمقیم ہوئے تھے۔ وہ اردو اور فارسی کے استاد اور شاعر بھی تھے۔ان کے ایک شاگرد نے جو کہ کشمیری پنڈت تھا،انہیں مطلع کیا کہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں تلسی داس جینتی کے موقع پر منظوم رامائن کا مقابلہ رکھا گیا ہے۔اس لیے رامائن کو منظوم کی شکل میں پیش کریں۔ مگر مولوی رعنالکھنوی نے کہا کہ چونکہ انہوں نے رامائن پڑھی نہیں ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ۔جس پر کشمیری پنڈت شاگرد نے مولوی رعنالکھنوی سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں ہر دن آپ کو رامائن پڑھ کر سناوں گا۔ جس پر مولوی رعنالکھنوی راضی ہوگئے۔ ہر روز ان کا شاگرد انہیں رامائن سناتا تھا اور وہ سننے کے ساتھ لکھتے بھی تھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رامائن مکمل ہونے کے کچھ دنوں بعد مولوی رعنالکھنوی نے منظوم اردو رامائن پیش کردی۔ جس کے بعد شاگرد نے اسے بنارس بذریعہ ڈاک روانہ کردیا ۔

کچھ دنوں بعد خبر ملی کہ مولوی رعنالکھنوی کی منظوم اردو رامائن نے بازی مار لی ہے اور گولڈ میڈل کی حقدار بنی ہے ۔بیکانیر کے لیے ایک بڑی خبر تھی،مذہبی رواداری کا نمونہ تھی،سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں یہ گولڈ میڈل مشہور کشمیری پنڈت دانشور سر تیج بہادر سپرو نے بیکانیر میں آکر دیا تھا۔

محفل رامائن کا ایک منظر

نصاب میں شمولیت

جب مولوی رعنالکھنوی کی منظوم اردو رامائن کی مقبولیت کی خبر بیکانیر کے مہاراجہ گنگا سنگھ کو ملی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ یاد رہے کہ مولوی رعنالکھنوی سندیلا سے بیکانیر مہاراجہ گنگا سنگھ کے لیے 1913سے 1919تک بادشاہوں کے فرامین کا ترجمہ کیا تھا۔ اس گولڈ میڈل کی خوشی میں ناگرک بھنڈار میں ایک تقریب ہوئی،جس میں مولویرعنالکھنوی نے اردو رامائن سنائی ۔مہاراجہ گنگا سنگھ اس کو سن کر اس قدر خوش ہو ئےکہ اس نظم کو فوری طور نصاب کا حصہ بنانے کا اعلان کردیا۔ بہرحال تقسیم ملک کے بعد حالات بدلے،نفرت کی آندھی چلی ۔اس کے بعد اردو رامائن کے صفحات بھی اس میں اڑ گئے اور بکھر گئے۔ لوگ آہستہ آہستہ اسے بھول گئے ۔مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کا فقدان ہوا تو اردو رامائن بھی تاریخ کے صفحات میں گم گئی۔

کیسے ہوئی اردو رامائن کی واپسی

بقول ڈاکٹر ضیا الحسن قادری میں نے برسوں تک اردو رامائن کے قصے سنے،شہر کے بزرگوں کی زبانی اس کی کہانیاں سنیں یہاں تک کہ مولوی رعنالکھنوی کے ایک شاگردمحمد ابراہیم غازی کی زبانی بھی ان یادوں کو سنا جو بیکانیر کی تہذیب کی علامت تھیں ۔ اس کے بعد 2006میں راجستھان سکینڈری بورڈ آف ایجوکیشن نے اردو رامائن کو بارہویں کے نصاب کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد 2012میں منظوم اردو رامائن سنانے کا آغاز ہوا ۔

اب ہر سال شہر میں دیوالی کے موقع پر یہ محفل سجتی ہے اور شہر کے ہندو اور مسلمان ایک ساتھ بیٹھ کر اسے سنتے ہیں اب یہ ایک روایت بن گئی ہے جسے شہر کی تہِذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گواہ مانا جاتا ہے۔

ڈاکٹر قادری کہتے ہیں کہ بیکانیر ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کا ایک خوبصورت نمونہ رہا ہے ،منظوم اردو رامائن پیش کرنے اور اسے شہر میں سالانہ ایونٹ بنانے کا مقصد اپنی روایات اور تہذیب کو زندہ رکھنا ہے جو آج کے ماحول میں یقینا خطرے میں ہیں ۔آج جو معاشرے میں دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں ،فاصلہ پیدا کیے جارہے ہیں لیکن ہماری گنگا جمنی تہذیب ایک اثاثہ ہے۔ اسےمحفوظ رکھنے کے لیے منظوم اردو رامائن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے،جو بہت ہی دلچسپ اور مذہبی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور تھا جب غیر مسلم شعرا بنی کی شان میں نعت پڑھا کرتے تھے اور مسلم شعرا ہندو اوتاروں کی تعریف میں ۔یہ ہماری مشترکہ تہذیب رہی ہے۔ مذہبی رواداری ہماری ہندوستانی تہذیب کی بنیاد رہی ہے۔

awazurdu

 منظوم اردو رامائن  پیش کرتے ہوئے اسد علی اسد

علی کی زبانی

اس اردو رامائن کو ہر سال اپنے منفرد انداز میں پڑھنے کے لیے ایک چہرے کو جانا جاتا ہے جو اسد علی اسد  ہیں ، ہر فن مولا شخصیت کے مالک ہیں اسد علی اسد۔جو کہ افسانہ نگار،ڈرامہ نگار اور ترجمہ نگار بھی ہیں ،وہ راجستھان اردو اکاڈمی کے سابق ممبر بھی ہیں جنہوں نے اپنے منفرد انداز کے سبب  اردو رامائن کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔اسد علی اسد سے پوچھا کہ رامائن کو اردو میں پیش کرنے کا مقصد کیا ہے اور آخر وہ کیوں اس میں اتنی دلچسپی رکھتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ آج ہندوستان میں اردو رامائن کی اشد ضرورت ہے اس کے پڑھنے سے ہر مذہب اور طبقے کے لوگ ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔ جس سے آپس کے اختلافات اور تفریق باقی نہیں رہتی۔یہ ہمارے معاشرے میں پیار و محبت  اور امن و شانتی کا سبق دیتی ہے۔ دینا میں اس وقت ہر جانب نفرت اور تشدد کا ماحول ہے۔ ایسے میں پیار و محبت کا پیغام کسی بھی جانب سے آئے تو اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ اس کے اہتمام کا مقصد بس یہی ہے۔انہوں نے اپنی بات کو شاعرانہ انداز میں کچھ اس انداز میں پیش کیا ۔۔۔۔

سانس سانس میں خدا بسا ہے، روم روم میں رام

سیدھے سادے انساں کو جھگڑے سے کیا کام

مندر سے کب مسجد لڑتی، کب گيتا سے قران

لوگ روٹیاں سینک رہے ہیں لےکر ان کا نام

بیکانیر کی منظوم اردو رامائن ۔

کارواں بنتا گیا 

در اصل 2012میں  ڈاکٹر ضیا الحسن قادری نے اردو رامائن کو منظوم شکل میں پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو ان کے ساتھ ان کے ادبی اور سماجی حلقے کے دوست احباب تھے۔اگر اسد علی اسد نے اردو رامائن کو پڑھنے کا آغاز کیا تو اس کے لیے  کوچرفیملی نے چھت مہیا کی، اپنے ہوٹل کا کانفرنس ہال اس کے لیے پیش کیا۔ جو کہ  دھیان چند کوچر کا تھا۔جن کا انتقال 2014میں ہوا تھا۔اب ان اہلیہ  کملا کوچر اس مہم میں جڑ گئی ہیں ۔اس سلسلے میں آہستہ آہستہ مزید لوگ جڑتے چلے گئے۔اگر اسد علی اسد  نے منظوم اردو رامائن کا آغاز کیا تو اب کچھ سال سے اس میں ایک نام اور جڑ گیا جو ذاکر ادیب کا ہے ۔جو ایڈتشنل ایجوکیشنل ایڈمنسٹریٹیو افسر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں ۔وہ اردو اکاڈمی کے رکن ہیں اور شاعری کا شوق بھی رکھتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ میں نے منظوم اردو رامائن میں حصہ داری کا آغاز کیا ۔یہ ہماری تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔اس لیے اس کا حصہ بننا ایک ایک اعزاز ہے

تشہیر بہت کم ملی

بیکانیر کی تاریخ میں مولوی رعنالکھنوی اردو رامائن کے سبب ہی زندہ رہے ہیں ،ورنہ تقسیم ملک کے بعد بہت کچھ اس دھول میں لپٹ کر نظروں سے اوجھل ہوگیا جوتقسیم کی آندھی لے آئی تھی۔ قادری صاحب نے آواز دی وائس کو بتایا کہ اردو رامائن کے بارے میں انٹر نیٹ پر بھی زیادہ مواد نہیں ،لیکن اس کے باوجود دہلی کے ذاکر حسین کالج کے پروفیسر مکل چترویدی نے رابطہ کیا اور اردو رامائن حاصل کی۔ انہوں نے ہندی میں پڑھنے کے بعد اسے انگلش میں پیش کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک آرٹیکل بھی لکھا۔ اسی طرح ماضی میں بی بی سی نے دو منٹ کی ایک ویڈیو فلم بنائی تھی۔2021میں مدھیہ پردیش اردو اکاڈمی نے ڈرامہ فیسٹول میں ہندو اوتاروں کے قصیدے لکھنے والے مسلم شعرا پر ایک ڈرامہ پیش کیا تھا اس میں مولوی رعنالکھنوی کا کردار شامل کیا گیا تھا۔ لیکن مولوی رعنالکھنوی اور اردو رامائن کو ابتک وہ تشہیر یا مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی جس کے وہ حقدار تھے۔

awazurdu

محفل رامائن کا ایک منظر

بقول قادری صاحب رعنا لکھنوی موسم سرما کی چھٹیوں میں جب 1943میں اپنے وطن سندیلا گئے تو وہیں انتقال ہوگیا ۔ مگر وہ ایک ایسی یادگار چھوڑ گئے جو انہیں ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے صفحات پر پتھر کی لکیر بنا گئی ہے۔بیکانیر اس سپوت کو اب ہر سال یاد کرتا ہے اور ریاست کا بچہ بچہ اپنی تعلیم کے دوران ان کے بارے میں نصابی کتاب میں پڑھتا ہے ۔ جو نئی نسل کو یاد دلا رہا ہے کہ ہماری تہذیب مشترکہ ہے،ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کے نبی ہوں یا اوتار سب کی عزت و احترام کیا ہے ۔سب کو اچھے الفاظ میں یاد کیا ہے۔ یہی ہے ہندوستان اور اسی ہندوستان کو ہمیں زندہ رکھنا ہے ۔

نوجوانو! آپ نے دیکھی وفائے لکشمن حکمرانوں اس طرح سے پورا کرتے ہیں وچن

پڑھ کے دیکھو ساری رامائن کہ وہ کیا کر گئے کیسے اچھے دیوتا تھے نام زندہ کر گئے