منصور الدین فریدی / نئی دہلی
مسلم خواتین کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا اصل مسئلہ مذہب نہیں بلکہ غربت، وسائل کی کمی اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے، جو تعلیم اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں جبکہ خواتین کے مسائل کو کسی ایک زاویے سے سمجھنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سماجی، معاشی، تعلیمی اور ثقافتی عوامل کو یکجا دیکھنا ضروری ہے-اگر ایک جانب آئین تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے لیکن عملی زندگی میں یہ برابری ہر جگہ نظر نہیں آتی تودوسری جانب اسلام نے عورت کو تعلیم، عزت اور معاشرتی مقام دیا ہے لیکن مسئلہ اس کے نفاذ کا ہے
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کامیاب ترین ممتاز مسلم خواتین نے ان خیالات اور احساسات کا اظہار راجدھانی میں کیا-آوازِ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ ہندوستان میں مسلم خواتین : حقوق، حقائق اور رکاوٹیں کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن میں مقررین نے مسلم خواتین کی موجودہ صورتحال،ان کے سماجی و تعلیمی مسائل، میڈیا کے بیانیے اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق جیسے اہم موضوعات پر سنجیدہ اور جامع گفتگو کی گئی۔مقررین نے اپنے ذاتی تجربات، مشاہدات اور تحقیقی نقطہ نظر کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ خواتین کے مسائل کو یک رخی انداز میں نہیں بلکہ وسیع سماجی، معاشی اور ثقافتی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
.webp)
سینئر صحافی صبا نقوی، انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر صبیحہ حسین، سی آر ڈی ڈی پی اور اے آئی سی ڈبلیو ای ٹی ای کی چیئرپرسن ڈاکٹر شبستان غفار اور سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فردوس قطب وانی نے تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اپنے تجربات اور تحقیق کی بنیاد پر مقررین نے مسلم خواتین کو درپیش حقوق، وسائل کی کمی، سماجی رکاوٹوں اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔جو کہ ایک رسمی مکالمہ نہیں بلکہ یہ زمینی حقیقت سماجی سوچ قانون اور شناخت کے کثیر جہتی پہلوؤں پر گہرے غور و فکر کا ایک اہم پلیٹ فارم بن کر سامنے آئی۔
.webp)
ہمیں ایک مشترکہ سماج کے لیے سوچنا ہوگا:صبا نقوی
ممتاز صحافی صبا نقوی نے کہا کہ میں ایک صحافی ہوں اور سیاست و سماج کو قریب سے دیکھتی ہوں۔ میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک خاص طبقے کو نشانہ بنا کر اس کے بارے میں خوف یا غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ اس طرح کی باتیں نہ صرف معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہیں بلکہ نفرت کو بھی بڑھاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی بحران یا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات سب پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم کسی ایک طبقے کو الگ کر کے نہ دیکھیں بلکہ ایک مشترکہ سماج کے طور پر سوچیں۔ ہمیں میڈیا کے بیانیے سے آگے بڑھ کر خود حقیقت کو دیکھنا اور سمجھنا چاہیے تاکہ ہم ایک منصفانہ اور متوازن رائے قائم کر سکیں
میرا سوال یہ ہے کہ ہم میڈیا کی پیش کردہ تصویر اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق کو کیسے سمجھیں اور خاص طور پر مسلم طبقات کے حوالے سے جو تاثر بنایا جاتا ہے اس کا حقیقی زندگی سے کیا تعلق ہے۔ میں یہ بات اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہنا چاہتی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی بحران یا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات سب پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم کسی ایک طبقے کو الگ کر کے نہ دیکھیں بلکہ ایک مشترکہ سماج کے طور پر سوچیں۔ ہمیں میڈیا کے بیانیے سے آگے بڑھ کر خود حقیقت کو دیکھنا اور سمجھنا چاہیے تاکہ ہم ایک منصفانہ اور متوازن رائے قائم کر سکیں۔
وہ کہتی ہیں کہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں تھی اور یہ وہ زمانہ تھا جب نائن الیون کا واقعہ ہو چکا تھا۔ اس کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کے بارے میں ایک خاص طرح کا خوف اور تاثر پیدا ہو گیا تھا۔ اسی دوران میری ملاقات ایک مصری لڑکی سے ہوئی جس کا نام امیمہ عبداللطیف تھا۔ وہ حجاب پہنتی تھی اور ایک بااعتماد اور باصلاحیت طالبہ تھی۔میں نے دیکھا کہ وہ جہاں بھی جاتی لوگوں کے تاثرات بدل جاتے لیکن اس نے کبھی اپنے اعتماد کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ وہ ہر جگہ اپنا تعارف خود کراتی تھی۔ اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ کسی بھی شناخت کے ساتھ جینا ایک چیلنج ہو سکتا ہے لیکن اصل طاقت انسان کے اپنے اعتماد اور حوصلے میں ہوتی ہے۔زندگی کے ان مختلف تجربات نے مجھے یہ سمجھایا کہ عورت چاہے کسی بھی معاشرے سے تعلق رکھتی ہو اسے اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی پڑتی ہے۔ اگر آپ کے اندر سوال کرنے کی ہمت ہے اور آپ کو اپنے فیصلوں پر یقین ہے تو آپ ہر رکاوٹ کو عبور کر سکتے ہیں۔
صبا نقوی کہتی ہیں کہ میں ایران بھی کئی بار گئی ہوں جہاں خواتین چادر پہنتی ہیں۔ کچھ نہیں پہننا چاہتیں لیکن وہاں شرح خواندگی بہت زیادہ ہے جو اسی فیصد سے بھی زیادہ ہے اور اس میں انقلاب کے بعد مزید اضافہ ہوا۔ میں نے وہاں ارنا نیوز ایجنسی کا دفتر بھی دیکھا جہاں پورا فلور خواتین صحافیوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ چادر میں ملبوس تھیں مگر ان کے چہرے کھلے تھے اور وہ تیزی سے ادھر ادھر کام کر رہی تھیں۔ یہ منظر میرے لیے بہت یادگار تھا۔اس لیے ہمیں دقیانوسی خیالات میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ زندگی میں ہر انسان کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن آج میں جہاں ہوں خود کو خوش نصیب سمجھتی ہوں۔ میں دوسروں کی مدد کر سکتی ہوں اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہوں اور اس کے لیے مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
.webp)
.webp)
تعلیم کی راہ میں رکاوٹ مذہب نہیں دیگر مسائل ہیں- ڈاکٹر شبستان غفار
ڈاکٹر شبستان غفار نے جو کہ سی آر ڈی ڈی پی کی چیئر پرسن ہیں،مسلم خواتین کے مسائل کو ایک وسیع سماجی اور ساختی تناظر میں پیش کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مذہب نہیں بلکہ غربت، وسائل کی کمی اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئین اور اسلام دونوں تعلیم کی حمایت کرتے ہیں لیکن عملی سطح پر اس پر مکمل عمل نہیں ہو رہا۔ڈاکٹر شبستان غفار نے اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کئی علاقوں میں خواتین کو روزمرہ ضروریات کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں، جس سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ کشمیر اور دیگر علاقوں کے تجربات سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مسئلہ بنیادی طور پر مواقع اوروسائل کی کمی کا ہے۔ جب بنیادی ضروریات جیسے گیس یا ایندھن کی کمی ہو تو تعلیم ’یچھے رہ جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں صرف مسلم خواتین کی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ پوری آبادی کی بات کرنی چاہیے کیونکہ دنیا اور ہندوستان میں آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ہمارے تجربے میں سب سے بڑا مسئلہ ساختی یعنی اسٹرکچرل ہے۔ تعلیم کا حق موجود ہے لیکن حقیقت میں اس پر مکمل عمل نہیں ہو رہا۔ میں نہ حکومت کو مکمل طور پر مورد الزام ٹھہراتی ہوں اور نہ عوام کو بلکہ مسئلہ مجموعی نظام میں ہے۔ایک مثال کے طور پر جب میں کمیشن میں تھی اور لڑکیوں کی تعلیم پر کمیٹی کی سربراہ تھی تو ہم نے پورے ملک میں تحقیق کی اور تقریباً ایک سو اسی سفارشات پیش کیں۔ ہم نے دیکھا کہ ہریانہ کے ایک گاؤں میں خواتین کو دو کلو میٹر دور سے پانی لانا پڑتا تھا۔ وہی پانی پینے دھونے اور دیگر کاموں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس میں دو گھنٹے لگ جاتے تھے جو دراصل بچوں کے اسکول جانے کا وقت تھا۔ اس طرح بنیادی سہولتوں کی کمی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔
.webp)
اسلام اور ائین دونوں میں خواتین کو حقوق حاصل ہیں مگر--- ڈاکٹر صبیحہ حسین
ممتاز ماہر تعلیم اور انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ کی سینیئر پروفیسر صبیحہ حسین نے آئینی برابری اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان کا آئین سب کو برابر کے حقوق دیتا ہے چاہے وہ مذہب ہو جنس ہو یا طبقہ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ہر شہری کو یکساں مواقع حاصل ہیں اور کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔لیکن جب ہم زمینی حقیقت کودیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ برابری ہر جگہ یکساں طور پر نظر نہیں آتی۔
انہوں نے اسلامی نقطہ نظر سے خواتین کے حقوق کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے عورت کو تعلیم، عزت اورمعاشرتی مقام دیا ہے لیکن مسئلہ اس کے نفاذ کا ہے۔ مسلم خواتین کےمسائل کو صرف مذہب کے دائرے میں نہیں بلکہ سماجی اور معاشی حالات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ مسلمان عورت کسی الگ دنیا سے نہیں آئی وہ بھی اسی سماج کا حصہ ہے جس میں باقی تمام عورتیں رہتی ہیں۔ اس کے مسائل بھی بڑی حد تک وہی ہیں جو دیگر خواتین کو درپیش ہیں جیسے غربت تعلیم کی کمی صحت کی سہولتوں کا فقدان اور روزگار کے مواقع کی کمی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنی شناخت اور سماجی رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی عورت کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسے تعلیم مواقع اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ جب تک یہ بنیادی چیزیں مضبوط نہیں ہوں گی تب تک کسی بھی طبقے کی خواتین مکمل طور پر بااختیار نہیں بن سکتیں۔اس لیے ہمیں وسیع نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم خواتین کو الگ کر کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ ایک عورت کی جدوجہد دراصل پورے سماج کی جدوجہد ہوتی ہے۔
انہوں نے اپنی ذاتی تعلیمی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ محدود وسائل کے باوجود خاندانی حمایت نے انہیں آگے بڑھنے میں مدد دی۔ ان کے مطابق اساتذہ اور اداروں کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے خاص طور پر پہلی نسل کے طلبہ کے لیے۔
ہر عورت کی زندگی ایک جدوجہد سےبھرپور ہوتی ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سےتعلق رکھتی ہو۔ عورت کی زندگی آسان نہیں ہوتی لیکن چونکہ یہاں خاص طور پر مسلم خواتین کی بات ہو رہی ہے اس لیے ہم اسی پر توجہ دے رہے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم خواتین کو زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مشکلات ہر عورت کے حصے میں آتی ہیں۔جب میں نے اپنی تعلیم کا سفر شروع کیا تو اس وقت حالات آج کے مقابلے میں زیادہ مختلف تھے۔ نوے کی دہائی میں ایک مسلم لڑکی کا بڑے تعلیمی ادارے میں داخلہ لینا خود ایک بڑا چیلنج تھا۔ میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی وسائل محدود تھے لیکن میرے والدین نے میری تعلیم پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے ہر مشکل کے باوجود مجھے آگے بڑھنے کا موقع دیا۔
.webp)
.webp)
خواتین کو مہر کے معاملے میں سنجیدگی سے فیصلہ لینا چاہیے- فردوس قطب وانی
سپریم کورٹ کی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فردوس قطب وانی نے کہا کہ مسلم خواتین کو درپیش مسائل کا تعلق زیادہ ترقانون کی عدم دستیابی سے نہیں بلکہ وسائل کی کمی، سماجی دباؤ اور شعور کی کمی سے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان میں قوانین کی کوئی کمی نہیں ہے اور اسلام نے بھی خواتین کو وراثت اور ازدواجی معاملات سمیت کئی بنیادی حقوق پہلے ہی فراہم کر دیے ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان حقوق کے صحیح نفاذ اور سمجھ کا ہے۔
انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مسلم خواتین اپنے حقوق سے ناواقف ہیں۔ عدالتوں میں بڑی تعداد میں ایسی خواتین آتی ہیں جو اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہوتی ہیں اور ان کے لیے آواز بھی اٹھاتی ہیں۔ تاہم سماجی دباؤ، خاندانی رکاوٹیں اور معاشرتی خوف انہیں کھل کر سامنے آنے سے روکتے ہیں۔
فردوس قطب وانی نے تعلیم کے فقدان کو ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکثر لڑکیوں کو قرآن تو پڑھایا جاتا ہے لیکن اس کا مفہوم اور اس میں دیے گئے حقوق نہیں سمجھائے جاتے۔ اس وجہ سے خواتین اپنے دینی اور قانونی حقوق سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتیں۔
انہوں نے مہر کے معاملے پر خصوصی توجہ دلائی اور کہا کہ نکاح کے وقت خواتین کو اپنے حقوق، خاص طور پر مہر، کو سنجیدگی سے طے کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے معاشی تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے معاملات میں انتہائی کم مہر مقرر کیا جاتا ہے جو عملی طور پر کسی کام کا نہیں ہوتا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے اور گھروں میں ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جہاں لڑکیاں خود مختار بن سکیں۔ ان کے مطابق اصل تبدیلی گھریلو سطح سے شروع ہوتی ہے۔
حجاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ان کا ذاتی اور شعوری فیصلہ تھا اور اس کے ذریعے انہوں نے دیگر خواتین کو بھی حوصلہ دیا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بعض اوقات مذہبی شناخت کی بنیاد پر تعصب کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، لیکن مضبوط ارادہ اور خاندانی تعاون اس کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کی تعلیمات کو ادھورا سمجھنے کے بجائے مکمل طور پر جاننا ضروری ہے، کیونکہ بہت سے مسائل غلط فہمیوں کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آگاہی کے ساتھ ساتھ عملی اقدام بھی کرنا ہوگا۔
.webp)
خواتین کے تئیں سوچ بدلنی ہوگی - پروفیسر ببلی پروین
آواز خواتین کی اعزازی کنوینر اور پینل ڈسکشن کی بھی میزبانی کرنے والی پروفیسر ببلی پروین نے خواتین کی زندگی کوجدوجہد اور خود سپردگی کے تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ اکثر عورت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے حقوق سےدستبردار ہو جائے لیکن اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے خواتین کی آزادی کے حوالے سے رسمی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف دن منانے سے حقیقی تبدیلی نہیں آتی بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اصل مقصد خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہونا چاہیے
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ مکالمہ، تعلیم، اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔یہ پروگرام اس بات کی واضح مثال تھا کہ مسلم خواتین کے مسائل کو صرف مذہب کے دائرے میں محدود کر کے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ایک جامع اور متوازن نقطہ نظر ضروری ہے۔ تعلیم، معاشی مواقع، سماجی رویے اور پالیسی سازی وہ بنیادی عوامل ہیں جن پر توجہ دے کر حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔