ایرانی نسل کی انوشہ انصاری ،جو امریکی پرچم کے ساتھ بنی تھیں دنیا کی پہلی مسلم خاتون خلائی سیاح

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 11-07-2026
ایرانی نسل  کی انوشہ انصاری ،جو امریکی پرچم کے ساتھ بنی تھیں دنیا کی پہلی مسلم خاتون خلائی سیاح
ایرانی نسل کی انوشہ انصاری ،جو امریکی پرچم کے ساتھ بنی تھیں دنیا کی پہلی مسلم خاتون خلائی سیاح

 



زیبا نسیم : ممبئی 

آج ایران اور امریکہ آمنے سامنے ہیں ،جنگ کا سماں ہے ،امریکہ اور اسرائیل کے حملے ہورہے ہیں ،ایران کے جوابی حملوں کا دور بھی جاری ہے۔سیاسی ،سفارتی اور فوجی بحران نے دنیا کو ایک  نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے ۔ مگر یہ جان کر آپ حیران ہوں گے کہ خلا میں پہنچنے والی پہلی خاتون خلاباز(سیاح) کا تعلق ایران سے تھا ۔مگر تاریخی کارنامہ امریکہ کی شہریت اختیار کرنے کے بعد امریکی پرچم تلے انجام دیا تھا ۔ جنہیں اسپیس ورلڈ  انوشہ انصاری کے نام سے جانتی ہے۔ا

نوشہ انصاری دنیا کی پہلی خاتون خلائی سیاح، پہلی ایرانی خلاباز، دوسری فارسی بولنے والی خلاباز اور اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے خلا کا سفر کرنے والی دنیا کی چوتھی شخصیت بنیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ بعض ذرائع انہیں خلا میں جانے والی پہلی مسلم خاتون بھی قرار دیتے ہیں، اگرچہ اس دعوے پر خلائی تاریخ کے بعض ماہرین اختلاف کرتے ہیں۔

انوشہ انصاری  نے نہ صرف خلائی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کیا بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا میں بھی ایک منفرد مقام حاصل کیا۔انوشہ انصاری ایک خلاباز، مہم جو، مقرر، کامیاب کاروباری خاتون اور امریکہ میں مقیم نمایاں ایرانی نژاد شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کم عمری میں ستاروں تک پہنچنے کا خواب دل میں بسایا، وطن چھوڑا اور مسلسل محنت و عزم کے ذریعے اپنے خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ یوں وہ عالمی خلائی سیاحت کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوانے میں کامیاب رہیں۔ 

انوشہ انصاری  کے بچپن کی ایک یادگار تصویر 

مشہد کی ہیں انوشہ انصاری

دلچسپ بات یہ ہے کہ انوشہ انصاری  کی پیدائش اسی سرزمین پر ہوئی ہے جسے ہم مشہد  کے نام سے جانتے ہیں ۔ایران کا ایک ایسا مقدس شہر جہاں حال ہی میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین عمل میں آئی ہے ۔ انوشہ انصاری 12 ستمبر 1966ء کو مشہد میں پیدا ہوئیں۔ 1984میں نوعمری کے دوران انوشہ انصاری اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ منتقل ہوئیں۔ انہوں نے ورجینیا کی *جارج میسن یونیورسٹی* سے الیکٹرانکس اور کمپیوٹر انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، جبکہ ملازمت کے ساتھ ساتھ *جارج واشنگٹن یونیورسٹی* سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹرز بھی مکمل کیا۔

شادی اور  نئی دوڑ

سال1993میں انہوں نے اپنے شوہر *حمید انصاری اور دیور امیر انصاری کے ساتھ مل کر Telecom Technologies, Inc. کی بنیاد رکھی۔ کمپنی نے ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور صرف چند برسوں بعد تقریباً 55 کروڑ امریکی ڈالر کے معاہدے کے تحت *Sonus Networks* نے اسے خرید لیا۔ اس کامیابی نے انوشہ انصاری کو امریکہ کی ممتاز کاروباری شخصیات میں شامل کر دیا۔

کاروباری کامیابی کے باوجود انوشہ انصاری کا اصل خواب خلا تک پہنچنا تھا۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ مل کر X Prize Foundationکو لاکھوں ڈالر کا ڈونیشن  دیا، جس کے نتیجے میں Ansari X Prizeوجود میں آیا۔ اس کا مقصد نجی شعبے کو خلائی تحقیق میں آگے بڑھانا تھا۔ اس مقابلے نے دنیا بھر میں نجی خلائی صنعت کی ترقی کو نئی رفتار دی اور بعد میں اسی تحریک نے جدید تجارتی خلائی کمپنیوں کی راہ ہموار کی۔

انوشہ انصاری اپنے شوہر حمید انصاری کے ساتھ 

 خواب خلا کا

ان کا خواب خلا کی سیر کا تھا جس کے سبب اپنے بچپن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے  Space Adventures Ltd. کے ذریعے خلائی سفر کا انتظام کیا۔ اگرچہ اس معاہدے کی تفصیلات خفیہ رکھی گئیں، تاہم اندازہ ہے کہ انہوں نے اس مشن میں شرکت کے لیے تقریباً *2 کروڑ امریکی ڈالر* ادا کیے۔انہوں نے روس کے *اسٹار سٹی* میں سخت خلائی تربیت حاصل کی۔ ابتدا میں انہیں جاپانی کاروباری شخصیت *دایسوکے اینوموتو* کے متبادل کے طور پر منتخب کیا گیا تھا، مگر طبی وجوہات کی بنا پر اینوموتو کی دستبرداری کے بعد انوشہ انصاری کو *Soyuz TMA-9* کے مرکزی عملے میں شامل کر لیا گیا۔

18ستمبر 2006ء کو انوشہ انصاری نے روسی خلا باز میخائل تیورین اور امریکی خلا باز مائیکل لوپیز الیگریا کے ساتھ قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے خلا کی جانب پرواز کی۔ دو روز بعد ان کا خلائی جہاز کامیابی کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) سے جا ملا، جہاں انہوں نے آٹھ روز قیام کیا۔اس دوران انہوں نے یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے لیے انسانی جسم پر خلائی ماحول کے اثرات سے متعلق مختلف سائنسی تجربات انجام دیے۔

ایران کا شکریہ

 دلچسپ بات  یہ ہے کہ انو شہ انصاری  نے  خلائی سفر پر روانگی سے ایک روز قبل ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے فلکیات سے متعلق پروگرام "آسمانِ شب" (Night's Sky) میں شرکت کی۔پروگرام کے میزبانوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ایرانی عوام کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کی، جس پر انوشہ انصاری نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے اپنے ذاتی بلاگ پر مسلسل تحریری پیغامات شائع کیے، جس کے باعث وہ خلا سے بلاگ لکھنے والی دنیا کی پہلی شخصیت بن گئیں۔

انوشہ انصاری کا خلائی سفر 

خلا کا سفر اور واپسی

۔18 ستمبر 2006پیر کے روز، عالمی وقت (UTC) کے مطابق صبح 04:59 بجے انوشہ انصاری نے سوئیوز TMA-9 خلائی جہاز کے ذریعے قازقستان کے بائیکونور کاسموڈروم سے خلاء کے لیے روانگی اختیار کی۔ان کے ساتھ روسی کمانڈر میخائل تیورین (Mikhail Tyurin) اور ناسا کے فلائٹ انجینئر مائیکل لوپیز الیگریا (Michael Lopez-Alegria) بھی موجود تھے۔

جبکہ 29ستمبر 2006 کو وہ Soyuz TMA-8کے ذریعے بحفاظت قازقستان واپس پہنچیں، خلائی جہاز قازقستان کے میدانوں میں آرکالیک(Arkalyk) سے تقریباً 90 کلومیٹر شمال میں اترا۔زمین پر اترنے کے بعد ایک سرکاری اہلکار نے انہیں سرخ گلاب پیش کیے جبکہ ان کے شوہر حمید انصاری نے ان کا استقبال کرتے ہوئے انہیں محبت بھرا بوسہ دیا۔

ایک خواہش ۔ ایک تنازعہ

انوشہ انصاری چاہتی تھیں کہ اپنے خلائی لباس پر امریکی پرچم کے ساتھ ایران کے ایک غیر سیاسی سہ رنگی پرچم کی علامتی نمائندگی بھی شامل کریں، جس پر موجودہ ایرانی حکومت کا نشان موجود نہ ہو۔ ان کا مقصد امریکہ اور ایران، دونوں ممالک کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا، کیونکہ دونوں نے ان کی زندگی اور شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ناسا اور روسی حکام کے مشورے کے بعد انہوں نے اپنے خلائی لباس پر ایرانی پرچم نہ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے لباس میں ایرانی پرچم کے تینوں رنگوں کی علامتی جھلک برقرار رکھی اور اپنے سرکاری فلائٹ پیچ میں بھی ایرانی پرچم کو شامل رکھا۔ ان کا یہ سفر صرف ایک خلائی مشن نہیں تھا بلکہ دنیا بھر کے نوجوانوں، خصوصاً خواتین کے لیے یہ پیغام تھا کہ خواب اگر سچے جذبے اور محنت کے ساتھ دیکھے جائیں تو آسمان بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

انوشہ انصاری نے اپنی زندگی پر کتاب بھی لکھی

  انوشہ انصاری کو خلا، سائنس، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے میدان میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کے نمایاں اعزازات درج ذیل ہیں:

  • 2000:ورکنگ وومن میگزین کی جانب سے سال کی ممتاز کاروباری خاتون کا اعزاز۔
  • 2001:معروف امریکی جریدے فارچیون کی کامیاب کاروباری شخصیات کی فہرست میں شمولیت۔
  • 2009:نیشنل سینٹر فار وومن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی(NCWIT) کا پہلا سمنز انوویٹر ایوارڈ، جو ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں خواتین کاروباری شخصیات کو دیا جاتا ہے۔
  • 2012:جارج میسن یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری۔
  • 2015:نیشنل اسپیس سوسائٹی کا اسپیس پائنیر ایوارڈ، جو خلائی شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
  • 2017:ایرانی ہدایت کار اصغر فرہادی کی آسکر یافتہ فلم دی سیلز مین کے لیے ان کی جانب سے آسکر قبولیت کی تقریر پڑھنے کا اعزاز۔
  • ایلس آئی لینڈ میڈل آف آنرسے نوازا جانا۔
  • ورلڈ اکنامک فورمکے ینگ گلوبل لیڈر کے اعزاز کا حصول۔
  • ورلڈ اکنامک فورمکی گلوبل فیوچر کونسل کی رکن اور یونیسکو کی خیرسگالی سفیر کے طور پر خدمات انجام دینا۔

خلائی سفر کے بعد

خلائی مشن کے بعد انوشہ انصاری نے Prodea Systemsکی بنیاد رکھی، جو انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کے شعبے میں ایک جدید ٹیکنالوجی کمپنی ہے۔ وہ اس کی پہلی چیف ایگزیکٹو آفیس بھی رہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کی داستان My Dream of Stars: From Daughter of Iran to Space Pioneerکے عنوان سے قلم بند کی، جس میں ایران سے امریکہ، کاروباری کامیابیوں اور خلا تک کے سفر کی مکمل روداد بیان کی گئی ہے۔آج انوشہ انصاری صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت یا خلائی مسافر نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت ہیں کہ علم، ہمت، محنت اور بلند حوصلہ انسان کو زمین کی حدود سے آگے بھی لے جا سکتا ہے۔ ان کی زندگی دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ خوابوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

 انوشہ انصاری کون ہیں؟

انوشہ انصاری ایرانی نژاد امریکی انجینئر، کاروباری شخصیت اور پہلی ایرانی نژاد خاتون ہیں جنہوں نے 2006 میں خلا کا سفر کیا۔ وہ پہلی نجی خاتون خلائی سیاح بھی ہیں۔

انوشہ انصاری کی ابتدائی زندگی

انوشہ انصاری 12 ستمبر 1966 کو ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئیں اور 1984 میں امریکہ منتقل ہو گئیں۔ انہوں نے انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم امریکہ میں حاصل کی۔

انوشہ انصاری نے خلا میں کب سفر کیا؟

وہ پہلی ایرانی نژاد خاتون اور پہلی نجی خاتون خلائی سیاح ہیں۔ خلا سے بلاگ لکھنے والی پہلی شخصیت ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔

انوشہ انصاری کا کاروباری سفر

انہوں نے 1993 میں ٹیلی کام ٹیکنالوجیز کمپنی قائم کی جو بعد میں کروڑوں ڈالر میں فروخت ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے پروڈیا سسٹمز کی بنیاد رکھی۔

انصاری ایکس پرائز کیا ہے؟

یہ نجی خلائی تحقیق کی حوصلہ افزائی کے لیے قائم کیا گیا عالمی انعام ہے۔ اس نے تجارتی خلائی صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔