مودی حکومت میں انجمن اسلام کو کبھی کسی امتیاز یا تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ ڈاکٹر ظہیر قاضی

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 26 d ago
مودی حکومت میں انجمن اسلام کو کبھی کسی امتیاز یا تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ پدم شری ڈاکٹر ظہیر قاضی
مودی حکومت میں انجمن اسلام کو کبھی کسی امتیاز یا تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ پدم شری ڈاکٹر ظہیر قاضی

 

منصور الدین فریدی :نئی دہلی

مودی حکومت آئی تو ایک بے چینی تھی،مسلمان تشویش کا شکار تھا، تعصب اور امتیاز برتے جانے کا خوف تھا  مگر آپ کو ایمانداری کے ساتھ بتا رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ’انجمن‘ کو اور اس کے ساتھ جڑے ’اسلام‘کو کبھی بھی کسی امتیاز یا تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔۔۔۔ بلکہ انجمن اسلام  کو حکومت کی جانب سے ہر سطح اور موڑ پر بھرپور تعاون اور مدد ملی ہے۔ بات چاہیے پرانے تعلیمی اداروں کی توسیع کی ہو یا پھرنئے اداروں کی منظوری کی ۔حکومت نے ہمیشہ ساتھ دیا ۔۔۔۔

ممبئی میں ڈیڑھ سو سال کی ضخیم تاریخ کی مالک ’انجمن اسلام ‘ کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے ان تاثرات کا اظہار آواز دی وائس کے ساتھ بات چیت میں کیا جنہیں یوم جمہوریہ کے موقع پر ان کی چالیس سالہ تعلیمی جدوجہد کے لیے ’’پدم شری‘نوازا گیا ہے۔ وہ پیشہ سے ایک معالج ہیں لیکن انہوں نے  اپنے میڈیکل پروفیشن کے ساتھ  تعلیمی تحریک سے جڑنے کا فیصلہ کیا ۔جبکہ آج ان کی تعلیمی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ پچھلے پندرہ سال سے میڈیکل پروفیشن کو اپنا ایک چوتھائی وقت دیا ہے جبکہ  تعلیمی تحریک یعنی کہ انجمن اسلام کو ایک تہائی۔۔۔۔

 ڈاکٹر ظہیر قاضی کہتے ہیں اگر کوئی مثبت ہے،مددگار ہے اور مخلص ہے تو اس کا اعتراف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونا چاہیے ۔میں آپ کو ایمانداری کے ساتھ بتا رہا ہوں کہ جب 2014 میں مودی حکومت کا ظہور ہوا تھا تو ایک خوف کا ماحول تھا یا بے چینی تھی۔  میں نے ادارے کی جنرل باڈی کی میٹنگ میں اس قرارداد کو منظور کرایا اور یہ اختیار حاصل کیا تھا کہ حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔یہی ایک مثبت سوچ ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر ضروری مدد ملی،کوئی رکاوٹ نہیں آئی بلکہ امید سے زیادہ تعاون ملا۔ دراصل وزیر اعظم نریندرمودی کا یہ اصول ہے کہ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں آپ کا کام ہوگا ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ انجمن اسلام کے ساتھ کبھی کوئی امتیاز نہیں برتا گیا،ادارے کو کسی تعصب کا کسی بھی سطح پر سامنا نہیں کرنا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ اس میں ایک خاصں بات یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے ادارے کا دامن بالکل صاف ستھرا رکھا ہے،نظام بالکل شفاف ہے،کسی قسم کا کوئی جھول نہیں ہے۔

awazurduانجمن اسلام کے بانی بدرالدین طیب جی اور ادارے سے فارغ ممتاز ہستیاں


انجمن اسلام کے روح رواں ڈاکٹر ظہیر قاضی


awazurduڈاکٹر ظہیر قاضی ایک پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی اور این ایس اے اجیت ڈوبھال کے ساتھ


ہر مشن وقت کے ساتھ قربانی مانگتا ہے

آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ  تعلیمی تحریک کا حصہ بننا میرا شوق تھا جو اب جنون بن چکا ہے۔ میں اپنے میڈیکل پروفیسنل میں بہت مصروف تھا،کئی اسپتالوں کے ساتھ مختلف میڈیکل اداروں سے میری وابستگی رہی اور ہے لیکن میں نے اس بات کو محسوس کیا تھا کہ قوم کو تعلیمی سطح پر بیدار کرنے کے ساتھ صحیح ڈگر پر لانے کا کام بھی ضروری ہے ۔اس کے لیے وقت دینا بھی ضروری تھا۔ اسی سوچ اور فکر کے ساتھ میں انجمن اسلام کے ساتھ جڑ گیا۔ پہلے ممبر بنا ،پھر جنرل سکریٹری اور اس کے بعد صدر کا عہدہ ملا۔ جس پر میں پچھلے پندرہ سال سے فائز ہوں ۔لیکن ایک بات بتا دوں کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ  یہ قربانی مانگتا ہے۔نیت اور ارادے کو شفافیت سے طاقت بخشنی ہوتی ہے ۔

یاد رہے کہ ممبئی میں 149 سال قبل انجمن اسلام کی بنیاد 1874 میں متقی اور ترقی پسند مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے گروپ نے رکھی تھی،مقصد مسلم کمیونٹی کی تعلیم اور سماجی حیثیت کو فروغ دینا تھا۔ اس گروپ کی قیادت کوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر بدرالدین طیب جی کر رہے تھے، جو انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے صدر اور بمبئی ہائی کورٹ کے پہلے قائم مقام چیف جسٹس تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے قیام سے ایک سال قبل 21 فروری 1874 کو ممبئی میں پہلے اردو میڈیم اسکول - انجمن اسلام - قائم کیا گیا تھا۔ ان دانشوروں کا ماننا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم معاشرے میں جدید تعلیم دی جائے۔ اس وقت کے صوبہ بمبئی میں عمرکھڑی کے قریب بابولا ٹینک میں ہائی اسکول میں شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت 120 طلباء اور تین اساتذہ تھے۔ بدرالدین طیب جی کے بڑے بھائی اور پہلے ہندوستانی وکیل قمر الدین طیب جی ایک تاجر ناخدا محمد علی روگے بھی اس مشن میں ساتھ ساتھ تھے۔

awazurdu

awazurduڈاکٹر ظہیر قای مختلف انداز میں 


ایک سے سنتانوے تک 

  وہ کہتے ہیں انجمن اسلام کی شروعات ایک اسکول سے ہوئی اور آج اس میں پری پرائمری اسکولوں سے لے کر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح تک 97 ادارے ہیں جن میں کالج آف انجینئرنگ، پولی ٹیکنک، یونانی میڈیکل کالج، کالج آف ایجوکیشن، کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس، لاء کالج، انسٹی ٹیوٹ آف انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔ مینجمنٹ اسٹڈیز، کالج آف ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹیکنالوجی، کالج آف ہوم سائنس، اسکول آف فارمیسی اور اسکول آف آرکیٹیکٹ  شامل ہیں۔ اس کی ایک مسلم اقلیتی تنظیم ہونے کی وجہ سے بہت شہرت ہے لیکن اس کی چھتری تلے مختلف کمیونٹیز کے 1.10 لاکھ سے زیادہ طلباء کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔اس وقت انجمن کی اولین توجہ معیاری تعلیم، شفافیت، ترقی کی طرف ہے تاکہ عالمی معیار کی تعلیمی سماجی خدمت کی تنظیم بن سکے۔ انجمن نے اس طرح نئی ممبئی میں ایک مربوط تکنیکی کیمپس قائم کیا ہے جس میں انجینئرنگ، مینجمنٹ، فارمیسی، آرکیٹیکچر اور کمپیوٹر ایپلی کیشنز (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کی فیکلٹی ہیں۔ اس کے علاوہ انجمن اسلام 15 ٹرسٹ کے زیر انتظام مختلف پروگراموں کے ذریعے معاشرے کو متعدد خدمات اور سہولیات فراہم کرتی ہے ۔

ادارے کے لیے عمارت نہیں وژن اہم ہے

ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ ادارے صرف عمارت بنانے سے قائم نہیں ہوتے ہیں،اس کے لیے ایک سوچ اور فکر ہوتی ہے ۔ ریسرچ ہوتی ہے،منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ ہم ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتےہیں ،جس میں شفافیت بھی شامل ہے ۔جو کہ کسی بھی ایسے کام میں سب سے اہم ہوتی ہے جو امدادی فنڈ یا عطیات سے انجام دئیے جاتے ہیں ۔یہاں تک کہ ادارے میں جمہوری نظام بھی اس کی روح کو پاکیزہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ انجمن الاسلام میں ہر سال انتخاب ہوتے ہیں ۔تاکہ کسی بھی عہدیدار کا انتخاب صرف اس کی کارکردگی پر ہو ۔ادارہ کا باقاعدہ ہر سال دسمبر میں  بجٹ تیار ہوتا ہے اور فروری  میں اسے منظور کیا جاتا ہے ۔ہم  کسی بھی منصوبہ کا آنکھیں بند کرکے نہیں شروع کرتے ہیں ۔اس خطہ کی ضرورت کو نظر میں رکھا جاتا ہے ۔اب انجمن اسلام  صرف ممبئی تک محدود نہیں رہا،آہستہ آہستہ ہم نے دیگر شہروں کا انتخاب کیا ۔اہم بات یہ ہے کہ اب شمالی ہند سے بھی ہمیں نئی شاخیں قا’م کرنے کی پیشکش کی جارہی ہے،جو کہ زیر غور ہے۔ادارہ کو اگر ٹھوس پیشکش کی گئی اور ہمیں ایسا لگا کہ یہ قابل قبول ہے تو شمالی ہند میں بھی تعلیمی مشن کا آغاز ہوگا ۔ 

 آپ کو بتا دیں کہ وہ مقام جہاں یہ ادارہ کی بنیاد پڑی، آج مرکزی انتظامی دفتر ہے۔ باقی تین ایکڑ کیمپس میں پانچ کالج - دو کیٹرنگ کالج، ایک کالج آف بزنس مینجمنٹ، کالج آف ہوم سائنس اور ایک لاء کالج - قائم کیے گئے،خواتین کے لیے ایک پولی ٹیکنیک، ایک جونیئر کالج اور انگریزی اور اردو دونوں میڈیم میں دو اسکول ہیں۔ اس میں ایک لائبریری اور ایک تحقیقی مرکز بھی ہے، جس میں مشترکہ طور پر 50,000 کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے۔

مسلمانوں میں بڑی تبدیلی

 آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ تعلیم کے تئیں مسلمانوں میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے جسے میں نے پچھلے چالیس سال کے سفر کے دوران محسوس کیا ہے۔ سوچ میں یہ تبدیلی ہے اس تحریک کی کامیابی کا سبب ہے۔ ورنہ ہمیں پرانے متحرک اداروں میں طلبا کی مزید گنجائش پیدا نہ کرنا ہوتی اور نہ ہی نئے ادارے بنانے کی ضرورت ہوتی ۔ ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ پچھلے دس سال میں انجمن اسلام نے جو کامیابی حاصل کی ہیں وہ قابل ستائش ہیں ،بات صرف ملک کی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی اب انجمن اسلام کی موجودگی کا ثبوت مل رہا ہے،دنیا کے کونے کونے میں انجمن اسلام سے فارغ بچے اب بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور اپنے اپنے میدانوں میں کامیابی کے پرچم گاڑ چکے ہیں ۔یہی میرا خواب تھا جو پورا ہوگیا ہے

امریکی وزیر کملا ہیرس نے بھی انجمن اسلام کا دورہ کیا تھا


awazurduامریکی سفیر برائے ہند ایرک گارسیٹی  نے بھی انجمن اسلام کا دورہ کیا تھا


awazurduڈاکٹر ظہیر قاضی اپنے تعلیمی دورے امریکہ کے دوران


انجمن اسلام کے غیر ملکی اشتراک

انجمن اسلام نے ایم آئی ٹی یونیورسٹی، کیمبرج کے ساتھ تبادلے کے منصوبے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ان کی پانچ فیکلٹیز جیسے کہ انجینئرنگ، ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے)، فارمیسی اور ابتدائی تعلیم کے لیے مارچ میں بوسٹن میں تربیت کے لئےجائیں گی۔ یہ انجمن اسلام کے کالسیکر اسکول آف فارمیسی، پنویل کے ساتھ اشتراک کے لیے بالٹی مور، واشنگٹن ڈی سی میں یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف فارمیسی کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ ٹیمپل یونیورسٹی، فلاڈیلفیا (امریکہ) نے انجمن اسلام کے بیرسٹر اے آر انتولے کالج آف لاء سے تعاون کے لیے رابطہ کیا ہے۔

بیٹی بچاؤ ،پڑھاؤ اور بساؤ

بات اگر خواتین کی حصہ داری کی کریں تو جہاں ہم خواتین کو ضرورت کے مطابق ہنر سکھانے کا منظم انتظام کررہے ہیں اور اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں ،وہیں انجمن اسلام کے 97 اداروں میں سے 70 فیصد ٹیچرز خواتین ہیں تو 45 فیصد طالبات ہیں ۔ ہم دو یتیم خانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔بات صرف زندگی کے لیے سایہ مہیا کرنے اور شادی کرانے کی نہیں بلکہ انہیں تعلیم کے ساتھ روزگار سے جوڑنے کی ہے ۔ انجمن اسلام ایک خیراتی ٹرسٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہے، جو لڑکیوں کے لیے دو یتیم خانوں کا انتظام کرتی ہے - ایک ورسووا، ممبئی میں، اور دوسرا بند گارڈن، پونے میں۔ یہاں یتیموں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، تعلیم دی جاتی ہے ،خود کفیل بنایا جاتا ہے اور پھر ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ٖظہیر قاضی  نے کہا کہ ہم نے اسکولوں میں ضرورت مند خواتین کو ٹیلرنگ کی تربیت دی تھی،اہم بات یہ ہے ہر گھر ترنگا گھر گھر ترنگا مہم کے دوران ممبئی میونسپل کارپوریشن نے دس ہزار ترنگوں کا   کا آرڈر دیا تھا۔جو کہ ہمارے مشن کی ایک بڑی کامیابی تھی ۔ باز آباد کاری اور کاونسلنگ سیکشن  - سہارا - عطیات جمع کرکے ضرورت مند طلباء کو مفت اور سبسڈی پر تعلیم فراہم کرتا ہے۔اس کی دوشاخیں ہیں۔ماہم اور ممبرا میں۔ضرورت مند پس منظر کے طلباء کو ان کی فیسوں میں 50 سے 100 فیصد تک رعایت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر قاضی نے کہا کہ ہم اس کا انتظام زکوٰۃ کی رقم اور اندرون خانہ عطیہ فنڈ کی مدد سے کرتے ہیں۔

مستقبل کے لیے سنگ میل

ڈاکٹر ظہیر قاضی کہتے ہیں کہ یہ سفر تھا نہیں ہے ،ہم اپنے نظام کے ساتھ ڈھانچے کو مزید مضبوط اور وسیع کررہے ہیں ۔ جس کے لیے باقاعدہ ریسرچ کی جاتی ہے کہ کہاں اور کس خطہ میں کس قسم کی تعلیم کی ضرورت ہے ۔ پھر کوئی منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔ انجمن الااسلام کا نیا ہدف نئے کیمپسز میں 10,000-12,000 سے زیادہ طلباء کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بائیکلہ کے صابو صدیق کالج کیمپس میں ایک جدید ترین عمارت کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جس میں انکیوبیشن سینٹر کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی کورسز ہوں گے۔ اس کے علاوہ کلیان-بھیونڈی بیلٹ یا پنچگنی میں ایک وسیع میڈیکل ایجو کیشنل کیمپس ہوگا۔ جس میں ایم بی بی ایس کورسز، ایک ڈینٹل کالج، نرسنگ، فزیوتھراپی اور ایک ہومیوپیتھک کالج شامل ہونگے۔ یہی نہیں اس کے ساتھ شولاپور میں ایک نئے کیمپس میں ایک کالج آف فارمیسی، لاء، لڑکیوں کے لیے ایک ڈگری کالج اور ایک ہائی اسکول ہوگا۔ کیٹرنگ، فارمیسی اور ایک ہائی اسکول کا کالج شروع کرنے کے ارادے کے ساتھ، انتظامیہ پنجی، گوا میں جگہ حاصل کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔

awazurduایک پروگرام میں فاتح لڑکیاں 


awazurdu

انجمن اسلام کا نعرہ ہے بیٹی بچاو۔بیٹی پڑھاو اور بیٹی بساو


جشن 150 سال کا

اب جیسا کہ یہ 21 فروری کو اپنے 150 ویں سال میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہا ہے۔ شاندار تقریبات کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ لازمی افتتاحی اور اختتامی تقریبات کے علاوہ ایک لاکھ سے زیادہ سابق طلباء کی دنیا بھر سے الگ الگ اجتماعات کے لیے آنے کی توقع ہے۔ انجمن اسلام کے صدر اور ایک سینئر ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر ظاہر قاضی نے کہا کہ وانکھیڑے یا برابورن  اسٹیڈیم میں افتتاحی تقریب منعقد کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو مدعو کرنے کے منصوبے بھی تیار ہے جبکہ صدر دروپدی مرمو سے اختتامی تقریب کی صدارت کرنے کی درخواست کی جائے گی۔