انیکا کی زندگی کی جنگ، مسلمانوں نے بڑھایا مدد کا ہاتھ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-02-2026
انیکا کی زندگی کی جنگ، مسلمانوں نے بڑھایا مدد کا ہاتھ
انیکا کی زندگی کی جنگ، مسلمانوں نے بڑھایا مدد کا ہاتھ

 



اندور: آواز دی وا ئس

 اندور میں ایک معصوم بچی انیکا شرما کی مدد کے لیے جاری کراوڈ  فنڈ مہم اب فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت بن گئی ہے۔ اندور کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بچی کے لیے چندہ دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں ۔ایک بار پھر انسانیت نے مذہب سے بلند ہو کر اپنی پہچان قائم کی۔ تین سالہ انیکا شرما ایک سنگین بیماری ایس ایم اے ٹائپ 2 کا سامنا کر رہی ہے۔ اس مرض کے علاج کے لیے اسے زولجینسما نامی انجکشن درکار ہے جس کی قیمت تقریباً 9 کروڑ روپے ہے۔ یہ ایک ایسی رقم ہے جو کسی بھی عام خاندان کے لیے ناممکن محسوس ہوتی ہے۔جس کے سبب شہر کی مختلگ این جی اوز نے مورچہ سنبھالا ہے اور سڑک سڑک اور گھر گھر پہنچ کر عطیات قبول کرنے کا آعاز کیا ہے 

 مشکل کی گھڑی میں شہر کے لوگوں نے مثال قائم کر دی۔ عوامی تعاون سے بڑی مقدار میں فنڈ جمع کیا گیا اور خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ رضاکار گھر گھر گئے اپیلیں کیں اور لوگوں نے کھلے دل سے عطیات دیے۔ بلکہ اس مہم کو جاری رکھتے ہوئے رمضان المبارک میں  دوبارہ  مسلم علاقوں میں آنے کی دعوت دی ہے تاکہ مزید فنڈ اکٹھا ہوسکے ۔زیادہ سے زیادہ  مدد کی جاسکے ۔

اہم بات یہ ہے کہ کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ بچی کس مذہب سے تعلق رکھتی ہے بلکہ سب نے صرف ایک معصوم جان کو بچانے کا مقصد سامنے رکھا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت آج بھی زندہ ہے۔ جب معاشرہ نفرت اور تقسیم کی خبروں سے گھرا ہو ایسے وقت میں اندور کی یہ مثال امید کی روشنی بن کر سامنے آئی ہے۔ مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں نے کندھے سے کندھا ملا کر ثابت کیا کہ اصل شناخت انسان ہونا ہے۔

انیکا کی جدوجہد ابھی جاری ہے مگر اس کے ساتھ کھڑا یہ متحد معاشرہ اس بات کی علامت ہے کہ مشکل وقت میں دلوں کو جوڑنے والی طاقت نفرت سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

مسلمانوں کا ہاتھ اور ساتھ 

اس مہم کے ایک کرتا دھرتا نے ہیمانشو سونی سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ ---  اپنی ننھی فرشتہ انیکا شرما کے لیے فنڈ جمع کرنے کی جدوجہد کے دوران ہم اندور کے بمبئی بازار پہنچے اور وہاں جو منظر دیکھا وہ ہر حد اور ہر فرق سے بالاتر خالص انسانیت کی تصویر تھا۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ خیرات اور ہمدردی کا پیغامدیتا ہے۔ ہم امید لے کر وہاں گئے تھے اور دعاؤں اور محبتوں کا خزانہ لے کر واپس لوٹے۔

مقامی پارشد دکانداروں اور بازار میں موجود لوگوں کی شاندار حمایت سے مختصر وقت میں تقریباً 1.20 لاکھ روپے انیکا کے لیے جمع ہو گئے۔لوگوں نے نہ صرف دل کھول کر تعاون کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ عید سے پہلے دوبارہ آئیں کیونکہ اس وقت رش زیادہ ہوگا اور اس ننھی مجاہد تک مزید مدد پہنچ سکے گی۔

یہی وہ محبت ہے جو مذہب برادری اور ہر اختلاف سے اوپر ہوتی ہے۔کل بمبئی بازار کے لوگوں نے ثابت کر دیا کہ سب سے پہلے انسانیت ہے۔دل کی گہرائیوں سے ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے انیکا کا ساتھ دیا اور اس کی زندگی کی جنگ میں امید کی شمع روشن کی۔

ابتک ساڑھے چار کروڑ  روپئے ہوگئے اکھٹا 

دراصل اندور میں تین سالہ معصوم انیکا شرما شاید یہ نہیں جانتی کہ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے اس کے والدین ہر روز ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس میں وقت، پیسہ اور امید تینوں ایک ساتھ داو پرہیں۔اس مرض کا علاج ممکن ہے لیکن اس کی قیمت پورے 9 کروڑ روپے ہے۔ صرف ایک انجکشن اور انیکا ایک معمول کی صحت مند زندگی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔گزشتہ تین چار ماہ سے انیکا کے والدین کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے اس ناممکن دکھائی دینے والی رقم کو جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہر اس دروازے پر دستک دی جہاں سے امید کی کوئی کرن نظر آئی۔ چاہے وہ سیاست دان ہوں صنعت کار تاجر سماجی کارکن یا معروف شخصیات۔گلوکارہ پلک مچھل اور اداکار سونو سود جیسے لوگوں نے بھی انیکا کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ جب بھارتی کرکٹ ٹیم جے پور سے اندور پہنچی تو انیکا کی ماں نے کپتان روہت شرما سے بھی اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے اپیل کی۔ ان تمام کوششوں اور لاکھوں لوگوں کی مدد کے باوجود اب تک تقریباً 4.5 کروڑ روپے ہی جمع ہو سکے ہیں۔ یعنی منزل ابھی آدھی دور ہے۔ لیکن سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ علاج کے لیے ایک اور شرط بھی ہے اور وہ ہے انیکا کا وزن۔

وزن کا معاملہ 

ڈاکٹروں کے مطابق ساڑھے 13 کلو وزن ہونے سے پہلے یہ انجکشن لگانا لازمی ہے۔ عمر کے ساتھ وزن بڑھنا فطری عمل ہے لیکن انیکا کے والدین کے لیے یہی فطرت خوف بن چکی ہے۔ وہ ہر روز دعا کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا وزن آہستہ آہستہ بڑھے تاکہ انہیں کچھ اور وقت مل سکے۔ اسی خوف کی وجہ سے انیکا کو وہ خوراک نہیں دی جا رہی جو ہر بچے کو ملنی چاہیے۔ اسے نہ روٹی دی جاتی ہے نہ چاول بلکہ صرف جوس دودھ اور پھل دیے جا رہے ہیں تاکہ وزن قابو میں رہے۔اس وقت انیکا کا وزن تقریباً ساڑھے 10 کلو ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں وہ ساڑھے 13 کلو تک پہنچ سکتی ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اب آخری امید کے طور پر ایک انوکھا مشن سامنے آیا ہے بچی کو بچائیں گے بچے۔

اسکولوں سے اپیل

ایک این جی او کے ساتھ مل کر انیکا کے والدین نے اندور کے تمام اسکولوں سے اپیل کی ہے کہ اگر شہر کے ساڑھے چار لاکھ طلبہ صرف 100 100 روپے بھی عطیہ کر دیں تو باقی ساڑھے چار کروڑ روپے جمع کیے جا سکتے ہیں۔