الامین مشن: نورالاسلام کا بویا ہوا پودا۔ 20 ہزارطلبا کے لیے بنا سائبان

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
الامین مشن: نورالاسلام کا بویا ہوا پودا۔ 20 ہزارطلبا کے لیے بنا سائبان
الامین مشن: نورالاسلام کا بویا ہوا پودا۔ 20 ہزارطلبا کے لیے بنا سائبان

 

 منصور الدین فریدی : نئی دہلی

الامین  مشن ۔۔۔ سال 1987 میں اس تعلیمی مہم کا آغاز صرف سات طلبا کے ساتھ ہوا۔۔۔ 37سال بعد یہ سفر ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ایک پودا اب تناور درخت کی شکل لے چکا ہے۔ جس کی شاخوں نےاسے ایک سائبان بنا دیا ہے۔جس کے سائے تلے 72  تعلیم گاہیں ہیں جن میں 41 رہائشی کیمپس ہیں۔اس کا دائرہ مغربی بنگال کے ساتھ دیگر پانچ ریاستوں تک پھیل چکا ہے۔ جن میں طلبا کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ پہل خاص طور پر دیہی علاقوں کے مسلم طلبا کے لیے تعلیمی شہ رگ بن گئی ہے ۔اس پہل کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں وسائل کی کمی اور مالی مسائل کو دور کیا گیا۔ با صلاحیت اورقابل طلبا کو مواقع فراہم کئے۔

 جی ہاں !مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاوں خلت پور میں قائم الامین مشن اب توجہ کا مرکز ہے۔ جو بنگال کے محمد نورالاسلام کے دماغ کی پیداوار ہے،جنہیں اب بنگال کا سرسید کہا جاتا ہے۔

اس تحریک کی کامیابی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس کے پرچم تلے 72رہائشی کیمپس میں پانچویں سے بارہویں تک کے 20,000 ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔اس کے ساتھ ہزاروں طلبا کو میڈیکل،انجینیرنگ اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی کوچنگ کرائی جارہی ہے تقریباً 40,000 سابق طلباء ہیں جن میں 8,000 ڈاکٹرز اور تقریباً  5,250انجینئرزہیں۔ جبکہ دیگر سابق طلباء مختلف دیگر شعبوں جیسے سول سروسز، قانون اور میڈیا کا حصہ ہیں اور قوم میں تعلیمی و معاشی ترقی کی مثال بنے ہیں۔یہ پہل ایک تحریک بن کر اب تعلیمی وسائل فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،جو خاص طور پر دیہی علاقوں کے غریب اور پسماندہ مسلم طلبا کے لیے تعلیم کی راہوں سے سب سے بڑی رکاوٹ یعنی مالی مسائل کو ہٹا رہی ہے ۔

 ایک ٹیچر کی حیثیت سے نورلااسلام  نے بڑا خواب دیکھا تھا،جو اب الامین مشن کی شکل میں سامنے ہے۔ اس پہل کا نتیجہ ہے کہ آج صرف خلت پور ہیڈکوارٹر میں 1500 سے زیادہ طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو چار کیمپس پر مشتمل ہے۔ دیگر ریاستوں میں مزیدچار کیمپس بھی ہیں۔جن میں ایک رانچی اور پٹنہ میں جبکہ دو دیگر کیمپس مدھیہ پردیش اور تریپورہ میں ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ پہل دوسروں کے لیےقابل تقلید رہی اور دیگرریاستوں میں مختلف کئی اداروں اور تنظیموں نے اسی طرز پر تعلیمی پہل کا آغاز کیا ہے۔

دراصل یہ ایک ادارہ قائم ہوا لیکن ایک تعلیمی تحریک بن گیا۔اہم بات یہ بھی ہے کہ اپنے آغاز کے ساتھ کبھی تھمی نہیں یہ تحریک ،ہر دن اور ہر سال اس کا سفر جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب مضبوط اور گھنے درخت کی 72 شاخیں ہیں ۔ مغربی بنگال کے تقریبا ہر ضلع میں الامین کی شاخ ہے۔ان رہائشی کیمپس کا جال اب ہزاروں طلبا کے مستقبل کو سنوارنے کی ضمانت ہے ۔ بقول نورالاسلام  ہر سال ہمارے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوتا ہے۔ یہی ہے ثبوت اس تحریک کے پھلنے پھولنے کی ۔

صرف 2023میں نیٹ یو جی میڈیکل کے ٹیسٹ کو پاس کرنے والے طلبا کی تعداد دوہزار کے قریب ہے جن میں 275طلبا ایسے ہیں جنہوں نے 600سے زیادہ  مارکس حاصل کئے ہیں 

 کئی دہائیوں کے سفر کے دوران اس ادارے اور اس کے روح رواں  کے لاتعداد  قصے اور واقعات جڑے ہیں  جو اس مشن کے تئیں ان کے جذبے اور جنون کو بیان کرتے ہیں۔ خواہ اس میں تشکیل کا مرحلہ ہو یا پھراس کے آگے کی جدوجہد۔ یا پھر سوچ۔یہ بھی تعلیم کے لیے سرگرم افراد اور اداروں کے لیے رہنمائی کرسکتی ہے ۔
 
awazurdu

الامین مشن کے روح رواں نورالاسلام 

رام کرشن مشن سے ملی تحریک

آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ نور الاسلام  نے اس تعلیمی تحریک کے بارے میں اس وقت سوچا جب وہ مولانا آزاد کالج کے طالب علم تھے۔ ایک پرائیویٹ ٹیوٹر پروفیسر اے چکرورتی نےانہیں رام کرشن مشن  اور سوامی وویکانند کی زندگی  کے بارے میں آگاہ کیا تو نورالاسلام بہت زیادہ متاثر  ہوئے۔اسی وقت ان کے دل میں الامین مشن کا خیال آیا۔ آٹھویں دہائی میں انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی ۔مگر انہیں اس بات کا احساس تھا کہ مسلمانوں میں خود اعتمادی اور اتفاق کی کمی کہیں نہ کہیں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ورنہ ایسی کوئی وجہ نہیں مسلمان رام کرشنا مشن کی طرز پر کوئی پہل کرسکیں ۔

 قرآنی آیت نے دیا حوصلہ 

وہ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مایوسی کفر ہے ،میں نے اس بارے میں سوچا اور پہل کی ۔ میری اس پہل میں ایک قرآنی آیت کا بہت اہم کردار تھا جو سورہ رعد کی آیت نمبر 11 ہے کہ ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہیں بدلیں۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآنی آیت نے انہیں الامین مشن کے ساتھ آگے بڑھنے اور مسلمانوں کی تعلیم کے راستے میں نفسیاتی رکاوٹوں اور مالی رکاوٹوں سے نجات دلانے کے لیے کام کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔خاص طور پر جب کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی بھی قیمت پر علم اور تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور تعلیم کے لیے چین جانے کی بات کہی ہے ۔ایسے میں تعلیم کے بارے میں کسی بھی پہل کے لیے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے ۔

awazurdu

الامین مشن ایک خواب جو حقیقت بن گیا

وقت کی ضرورت تھی یہ تحریک 

 دراصل نورالاسلام نے اس سماجی بحران اور پستی کے اسباب کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا کہ 1947 ہندوستان نے آزادی تو حاصل کر لی تھی لیکن ساتھ ہی اس کا مغربی اور مشرقی حصہ بھی تقسیم ہو گیا۔ جس سے مسلمان بری طرح متاثر ہوئے خاص طور پر مغربی بنگال کے مسلمان ۔بنگال اور متصلہ علاقے دوسری جنگ عظیم میں سامراجی طاقتوں کی بربریت کا نشانہ بھی بنے۔ مرکزی شہر کلکتہ جاپانی ائیر فورس کی بمباری کا شکار ہوا۔ اس مصیبت کے فوری بعد صدی کے بدترین قحط نے بنگال کوبے کس کردیا تھا ۔اس کے بعد تباہ کن فسادات کا سلسلہ، تقسیم در تقسیم کا کرب،1971جنگ کے اثرات اور ملکی سیاست کے داؤ پیچ۔ ان پیہم مصائب نے برصغیر کے اس زرخیز خطے کو خوش حال یاد ایام سے کوسوں دور کردیا تھا۔ مسلمان ان مصائب کا زیادہ شکار ہوئے۔ بالخصوص تقسیم نے آبادی کے قابل عنصر کوغیر متناسب خانوں میں بانٹ کر رکھ دیا۔ نتیجتاً مغربی بنگال کے مسلم سماج کے حصے میں غربت، نیم خواندگی، تعصب، پست ہمتی اور سیاسی استحصال کی کڑوی سوغات آئی۔

 دراصل نورالاسلام نے اس سماجی نفسیات اور  بحران کے ساتھ مجموعی  پستی کے اسباب کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ  1947 ہندوستان نے آزادی تو حاصل کر لی تھی لیکن ساتھ ہی اس کا مغربی اور مشرقی حصہ بھی تقسیم ہو گیا۔ جس سے مسلمان بری طرح متاثر ہوئے خاص طور پر مغربی بنگال کے مسلمان ۔بنگال اور دیگر  علاقے دوسری جنگ عظیم میں سامراجی طاقتوں کی بربریت کا نشانہ بھی بنے۔ پھر صدی کے بدترین قحط نے بنگال کوتباہ کردیا تھا ۔اس کے بعد تباہ کن فسادات کا سلسلہ، تقسیم در تقسیم کا کرب،1971جنگ کے اثرات اور ملکی سیاست کے داؤ پیچ۔ ان حالات میں مسلمان ان مصائب کا زیادہ شکار ہوئے۔ بالخصوص تقسیم نے آبادی کے قابل عنصر کوغیر متناسب طبقوں میں بانٹ کر رکھ دیا۔ نتیجتاً مغربی بنگال کے مسلم سماج کے حصے میں غربت، نیم خواندگی، تعصب، پست ہمتی اور سیاسی استحصال کی کڑوی سوغات آئی۔ یہی وجہ ہے کہ نور الااسلام  نے تعلیمی بیداری کے ساتھ تعلیم کے لیے منظم پلیٹ فارم مہیا کرانے کا عزم کیا ،وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مشن غریب اور پسماندہ اقلیتی طبقے کو بااختیار بنانا اور اس طرح معاشرے کی سماجی و اقتصادی حالت کو ترقی دینا ہے۔  انصاف، مساوات، مساوات اور شفافیت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں معیار اور فضیلت حاصل کرنے کے لیے اور ایسے ہونہار طلبا کی مدد کرنا جو سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ ہیں۔ 

مدرسہ سے مشن تک 

 دراصل نورالاسلام کی پہل پر 1976میں ہوڑہ ضلع میں ایک مدرسے کی بنیاد پڑی۔ جسے سرکاری منظوری کے لیے مزید چھ سال انتظار کرنا پڑا۔ شیخ حنیف،غلام حفیظ، ڈاکٹر معظم حسین، سابق رکن پارلیمنٹ مرنال سین اور صنعت کار مشتاق حسین کی انتھک محنت نے ادارے کو اپنے ابتدائی دور میں وژن اور وسائل کی مضبوط بنیاد فراہم کی۔ سرکاری منظوری کے فوراً بعد انہوں نے مدرسے کے نصاب میں عصری علوم کی شمولیت کا آغاز کیا۔

ایک علیٰحدہ ادارے’’انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر کی بنیاد ڈالی۔ 1976میں ادارے کی وسعت کے لیے نورالاسلام نے تحریک علی گڑھ کی تاریخ بنگال میں دہرائی۔انہوں نے تعلیمی تحریک کو عوامی مشن بنادیا۔ گاؤں کے ہر گھرسے ایک مشت چاول بطور عطیہ لیا گیا۔ ان پرخلوص اعانتوں کے سہارے ادارے کی عمارت تعمیر ہوئی جس نے دیکھتے دیکھتے ترقی کی سیڑھی پر ایک بھرپور جست لگائی۔

سال 1986-87 میں الامین مشن نے صرف سات طلباء کے ساتھ اپنا سفر سے شروع کیا۔ اس کا نصب العین یہ تھا کہ ایک مکمل رہائشی نظام میں اخلاقی اقدار کے ساتھ جدید تعلیم دی جائے جہاں معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباء چاہے ان کی مالی حالت کچھ بھی ہو ایک ساتھ رہیں، سیکھیں اور بڑھیں۔

awazurdu

کارواں بنتا گیا

ابتدائی طور پر ایک مٹھی چاول سے مہم کا آغاز ہوا تھا اور پھر زکوٰۃ اور چندہ نے سہارا دیا۔ اس کے بعد لوگ آگے آنے لگے ۔ جی ڈی چیریٹیبل سوسائٹی کے صنعت کار مشتاق  حسین جیسے لوگ آگے آئے۔ جس کے بعد 1999 میں  لڑکیوں کے لیے الامین مشن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔جس مہم کو نورالاسلام نے شروع کیا تھا اس میں آہستہ آہستہ لوگ  مدد کے لیے آگے آئے۔ساتھ ہی حکومت کے تحت مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن جیسے اداروں کا بھی تعاون ملا ۔

بعد ازاں مشن نے معروف فلم ساز شری مرنال سین سے ایم پی ایل اے ڈی ایس  فنڈ سے گرانٹ حاصل کی۔مشن کو ہوڑہ ضلع میں این ایچ 6 کے پاس  شیخ اکبر حسین کے ذریعے 2 ایکڑ اراضی بھی ملی جو کہ لندن میں مقیم این آر آئی کاروباری تھے۔مشن کو این ایچ 34 کے قریب تقریباً 3 ایکڑ اراضی بھی ملی جو مرشد آباد میں بیلڈنگا اقلیتی ترقیاتی مشن نے تحفے میں دی تھی۔مغربی بنگال کی حکومت نے کولکتہ کے نیو ٹاؤن میں 2 ایکڑ زمین بھی فراہم کی تھی۔

ریاستی حکومت مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ مفت کوچنگ اور اس سے منسلک اسکیموں کے تحت مختلف گرانٹس اور وظائف فراہم کیے ہیں اور اس کوشش میں کافی اخلاقی مدد فراہم کررہے ہیں۔

 ایوارڈس اوراعزازات

الامین مشن ریاستی حکومت کے اعلیٰ اعزاز بنگا ببھوشن سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔ملک کے معروف میڈیا گروپ دی ٹیلی گراف کی جانب سے دئیے جانے والے بیسٹ اسکول ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹ آف آنر کے کئی اعزازات کاالامین مشن مستحق بنا۔امریکی ادارے ایفمی کے 28ویں بین الاقوامی کنونشن میں الامین مشن کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دیا گیا۔سال  2019 میں آئی بی گروپ نے ہبسٹ سپر 30 اساتذہ میں نورالاسلام کو شامل کیا تھا ۔اس کے لیے ہندوستان میں 30,000 سے زیادہ نامزدگیاں آئی تھیں

آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے نورالاسلام نے کہا کہ  میں نے جو خواب دیکھا تھا،وہ حقیقت بن گیا لیکن یہ سفر تھما نہیں ہے ۔ہمارے لیے ہر دن اور ہر سال ایک سنگ میل ہے ۔ ہم بنگال میں جال بجھا چکے ہیں اور اب دیگر ریاستوں میں الا مین کے نئے پودے لگا رہے ہیں جو مستقبل میں ان ریاستوں میں  تعلیم کو آسان بنانے کا کام کریں گے۔ وہ کہتے ہیں یہ ایک مشن ہے۔۔۔ جو ہر دن جاری ہے ۔ ہمیں ہر دن آگے بڑھنا ہے کیونکہ یہی ہمارا مقصد ہے ۔