اخْلاقیات :قرآن اور پیغمبر اسلام کی نظر میں

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 1 Years ago
اخْلاقیات :قرآن اور پیغمبر اسلام  کی نظر میں
اخْلاقیات :قرآن اور پیغمبر اسلام کی نظر میں

 

 

 علی احمد 

حقیقت میں حسن اَخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں:معافی کو اختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا،جاہلوں سے اعراض کرنا، قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا،محروم کرنے والے کو عطا کرنا،ظلم کرنے والے کو معاف کردینا،خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا،کسی کو تکلیف نہ دینا،نرم مزاجی، بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پالینا، غصہ پی جانا، عفو ودرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا بھی شامل ہے۔

  معاشرتی اور اجتماعی زندگی سنوارنے میں اخلاق کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، بلکہ معاشرت کی پہلی اینٹ اخلاقِ حسنہ ہی ہیں۔ حسن اخلاق کے بغیر انسان نہ صرف یہ کہ انسان نہیں رہتا؛ بلکہ درندگی و بہیمیت پر اتر آتا ہے۔ انسانیت کا زیور حسنِ اخلاق ہے۔

دین ِاسلام میں اخلاقیات کی بہت زیادہ اہمیت ہے وجہ یہ کہ عبادات اور اخلاقیات ہی اسلامی تعلیمات کے دو بنیادی ستون ہیں۔علم کے معنی ’’جاننا‘‘ ہے اور اس علم کا استعمال ’’ادب و اخلاق‘‘ ہے۔ یعنی قرآن و حدیث سے حاصل ہونے والے علم کو دنیا میں استعمال کیسے کرنا ہے؟ اس کے متعلق ادب اور اخلاق ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔مسلمان جب حُسنِ اخلاق سے اپنی حیات کو آراستہ کرلے، تو پھر وہ بارگاہ خداوندی اور مخلوق خداوندی، دونوں میں مقبول ہوجاتا ہے۔دین میں اخلاقِ حُسنہ کی اہمیت اجاگرکرنے والے کلمات مبارکہ پیش ہیں

قرآن مقدس میں حسن اخلاق کی اہمیت

اسلام میں چونکہ اخلاق بھی دوسرے مذہبی امور کی طرح ایک عبادت ہے۔ اس لیے اس کی غرض وغایت بھی، ہر قسم کی دنیاوی، نفسانی اور ذاتی اغراض سے پاک ہونی چاہیے۔ اگرایسا نہیں ہے تو اس کی حیثیت کچھ نہیں ہے، اور نہ ان اخلاقی اْمور کا کوئی اْخروی فائدہ ہو گا:

اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا ) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے، اور جو آخرت میں طالب ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے۔ ( ۱۴۵  آل عمران ٌ 

کوئی بھلائی کا کام اگر بد نیتی ، ریاکاری اور نمایش کے جذبے سے کیا جائے تو وہ باطل ہوگا، اور اس کا کوئی اجر نہ ملے گا بلکہ الٹا آخرت میں وبال جان بن جائے گا۔

البقرہ ۲۶۴    مومنو! اپنے صدقات کو احسان رکھنے اور ایذا دینے سے برباد نہ کرو۔ؤ

إنّک لعلٰی خُلُق عظیم

سورۃالقلم ۵٢)

یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ حسن اخلاق کے عظیم مرتبہ پر فائز ہیں۔

حدیث رسول میں حسن اخلاق کی اہمیت

عن ابی الدرداء عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: مامِن شیء أثقلُ في الميزان من حُسن الخُلق ( ابوداؤد ،رقم٤٧٩٩)

٭…نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ میرے یہاں تم میں سے سب سے محبوب شخص حسن اخلاق سے متصف شخص ہے۔ ‘‘ (بخاری)

٭…قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! انسا ن کو عطاکردہ بہترین چیز کیا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’حسن اخلاق۔‘‘ ( شعب الایمان )

٭…نواسؓ بن سمعان سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے نیکی اور گناہ کے متعلق  سوال کیا تو آ پﷺ نے فرمایا : ’’ نیکی اور اچھائی حسن اخلاق ہے ، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور لوگوں کاا س پر مطلع ہونا تمہیں ناپسندیدہ گزرے ۔‘‘ ( صحیح مسلم)گویا نبی کریم ﷺ نے نیکی کو حسن اخلاق کے مترادف بتایا جبکہ گناہ کو ضد فرمایا۔ گناہ وہ ہے جو تمہیں شک وتردد میں مبتلا کردے ۔ جس سے اطمینان قلب حاصل نہ ہو اور تمہاری طبیعت پر وہ ناگوار گذرے۔

٭…حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپﷺ فرماتے ہیں: ’ مومن کے میزان میںروزِ قیامت سب سے زیادہ بھاری اور وزنی چیز اس کے حسن اخلاق ہوں گے۔ اللہ عزو جل فحش گوئی کرنے والے اور بد گو کو ناپسند کرتے ہیں‘‘۔ (ترمذی)

٭…مخلوق کے ساتھ لطف ومہربانی سے پیش آنا اور کلفت ومشقت دور کرنے کا سامان کرنا حسن اخلاق ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر امت مسلمہ کو ابھارا اوراس پر اجر وثواب کا وعدہ فرمایا ہے: ’’ اللہ عزوجل نرم خو ہیں، وہ نرمی کو پسند فرماتے ہیں، نرم خوئی پر وہ کچھ عطا کرتے ہیںجو دوسرے امور پر عطا نہیں کرتے۔ ‘‘ (صحیح مسلم)

٭…حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، آپﷺ نے فرمایا :’’ جس کو نرمی کا حصہ عنایت کیا گیا، اس کو دنیا وآخرت کی بھلائی کا حصہ دیا گیا۔ جس کو اس سے محرو م کر دیا گیا، اس کو دنیا وآخرت کے خیر وبھلائی سے محروم کردیا گیا۔‘‘ (مسند احمد)

٭…حیا کا تعلق بھی حسن اخلاق سے ہے ۔زیدؓ بن طلحہ سے مروی ہے،رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ ہر دین میں اخلاق ہیں۔ اسلام کے اخلاق میں سے ’’ حیا ‘‘ ہے (ابن ماجہ)اور ایک روایت میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ پہلے انبیا کے کلام میں یہ بات مروی ہے کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو۔‘‘ (بخاری)