شہید اگنی ویر دانش عالم کی انتہائی جذباتی ماحول میں سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسوم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 16-06-2026
 ایک سپوت کی شہادت: اگنی ویر دانش عالم کی  انتہائی جذباتی ماحول میں سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسوم کی ادائیگی
ایک سپوت کی شہادت: اگنی ویر دانش عالم کی انتہائی جذباتی ماحول میں سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسوم کی ادائیگی

 



نئی دہلی  : آسام کے ضلع جورہاٹ میں پیش آئے بھارتی فضائیہ  کے اے این-32 طیارہ حادثے نے ملک کو ایک اور بہادر سپوت سے محروم کر دیا۔ اس المناک حادثے میں شہید ہونے والے بہار کے ضلع بھوجپور کے نوجوان اگنی ویر جوان دانش عالم کا جسدِ خاکی اتوار کے روز ان کے آبائی گاؤں قائم نگر پہنچا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ اپنے وطن کے اس بہادر بیٹے کو آخری خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ترنگے میں لپٹا ہوا جب دانش عالم کا تابوت ان کے گھر کی دہلیز پر پہنچا تو پورا گاؤں غم اور سوگ کی فضا میں ڈوب گیا۔ والدین، بہنوں اور دیگر اہلِ خانہ کی آہ و بکا سے ہر آنکھ نم ہو گئی۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی میت دیکھ کر والدین پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور وہاں موجود ہر شخص اس دلخراش منظر کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا۔

نعروں کی گونج

کوئلور بلاک کے تحت واقع گاؤں  قائم نگر میں آخری دیدار کے لیے عوام کا ایک جم غفیر جمع ہو گیا۔ نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد اپنے محبوب سپوت کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس موقع پر فضا ’’بھارت ماتا کی جے‘‘، ’’دانش عالم امر رہے‘‘ اور ’’وطن کے شہید کو سلام‘‘ جیسے نعروں سے گونج اٹھی۔ضلع بھوجپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تنئے سلطانیہ، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راج سمیت متعدد اعلیٰ انتظامی افسران نے شہید کے جسدِ خاکی پر پھول چڑھا کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس کے علاوہ بہٹا ایئر فورس اسٹیشن سے آنے والے فضائیہ کے افسران اور جوانوں نے مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ شہید دانش عالم کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور ان کی بے مثال خدمات کو سراہا۔

خوش مزاج اور اخلاق مند جوان

اس موقع پر بہٹا ایئر فورس اسٹیشن کے ونگ کمانڈر کے کے جھا نے کہا کہ دانش عالم نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور فرض شناس جوان تھے۔ انہوں نے مختصر مدت میں اپنی محنت، دیانت داری اور قومی خدمت کے جذبے سے سب کے دل جیت لیے تھے۔ ونگ کمانڈر نے کہا کہ ’’دانش عالم نے ملک کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے اور قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘‘

شہید کے چاچا شہاب الدین انصاری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ خاندان ایک ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہوا ہے، لیکن انہیں اپنے بھتیجے کی شہادت پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر خاندان کے دیگر بچوں کو بھی ملک کی خدمت کا موقع ملا تو ہم انہیں بھی وطن کی حفاظت کے لیے آگے بھیجنے سے دریغ نہیں کریں گے۔‘

واضح رہے کہ دانش عالم، محمد فاروق عالم اور اختری بیگم کے اکلوتے بیٹے تھے۔ انہوں نے 29 جون 2025 کو بھارتی فضائیہ میں اگنی ویر کے طور پر اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا۔ نوجوان دانش عالم نے کم عمری میں ہی ملک کی خدمت کا خواب دیکھا تھا اور اسی جذبے کے تحت فضائیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

بچپن سے خواب تھا 

اہلِ خانہ کے مطابق اگنی ویر وایو دانش عالم بچپن ہی سے ملک کی خدمت کا خواب رکھتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ فوج میں شامل ہو کر وطن کے لیے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیں۔ اپنی محنت، لگن اور عزم کے بل پر وہ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کامیاب ہوئے اور اگنی ویر وایو کے طور پر منتخب ہوئے۔

29 جون 2025 کو انہوں نے بیہٹا ایئر فورس اسٹیشن میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ ابتدائی تقرری کے بعد انہیں تربیت کے لیے بیلگاوی (کرناٹک) بھیجا گیا، جہاں انہوں نے سخت فوجی تربیت مکمل کی۔ ٹریننگ کے اختتام پر ان کی تعیناتی جورہاٹ ایئر فورس اسٹیشن، آسام میں کی گئی، جہاں وہ گزشتہ سال اکتوبر سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

چھٹی سے واپسی پر موت 

عیدالاضحیٰ (بقرعید) کے موقع پر وہ چند دنوں کے لیے اپنے گھر آئے تھے اور اہلِ خانہ کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنے کے بعد 30 مئی کو دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر روانہ ہو گئے تھے۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ چند روز بعد وہ وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے بعد قومی پرچم میں لپٹے ہوئے واپس اپنے گاؤں لوٹیں گے۔شہید دانش عالم کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے لوگ اپنے ہیرو کو الوداع کہنے کے لیے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ بعد ازاں قائم نگر بازار کے قبرستان میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

جہاز کے حادثے کی ویڈیو 

دانش عالم آج اگرچہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی بہادری، فرض شناسی اور حب الوطنی کی داستان ہمیشہ زندہ رہے گی۔ انہوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ قوم کے حقیقی محافظ وہی ہوتے ہیں جو وطن کی خاطر اپنی سب سے قیمتی متاع بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔