ممبئی: معروف گلوکارہ سنندا شرما نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بیان کیا جس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے قریبی کشمیری دوست نے ایک روز قرآنِ مجید کی ایک آیت کا مفہوم ان کے ساتھ شیئر کیا، جس نے محبت، ازدواجی تعلقات اور خود احتسابی کے بارے میں ان کی سوچ کو نئی جہت عطا کی۔ سنندا کے مطابق یہ تعلیم محض مذہبی پیغام نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور تعلقات کو سمجھنے کا ایک گہرا اصول ہے، جس نے انہیں اپنی ذات اور رشتوں پر نئے انداز سے غور کرنے کی ترغیب دی۔
سنندا شرما، جو جانی تیرا ناںدوجی وار پیارمورنی اور پاگل نہیں ہونا جیسے مقبول پنجابی گانوں سے شہرت رکھتی ہیں، نے کہا کہ قرآن کی اس آیت نے انہیں یہ احساس دلایا کہ انسان جن لوگوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیتا ہے، ان کا تعلق اس کی اپنی شخصیت، اقدار اور جذباتی کیفیت سے بھی ہوتا ہے۔
قرآن کا پیغام اور رشتوں کی حقیقت
سنندا نے بتایا کہ ان کے دوست بلال احمد نے انہیں قرآن کی اس آیت کا مفہوم سمجھایا کہ "پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔"انہوں نے کہا کہ اس تعلیم کو انہوں نے صرف ایک مذہبی ہدایت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی تعلقات کی ایک نفسیاتی حقیقت کے طور پر سمجھا۔ ان کے مطابق انسان عموماً انہی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے جن کی سوچ، اقدار اور جذباتی رویے اس سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
انسان اپنی ہی کیفیت کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے
گلوکارہ نے کہا کہ جب وہ "کمزوریوں" کی بات کرتی ہیں تو اس سے مراد کسی شخص کی اخلاقی برائی نہیں بلکہ اس کی جذباتی عادات، رویے اور شخصیت کی وہ خصوصیات ہیں جو اس کے تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنے رشتوں میں مخلص نہیں یا اس کے رویے میں کوئی نمایاں کمزوری ہے تو زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ وہ انہی خصوصیات کے حامل افراد کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ اس کے برعکس مثبت سوچ، دیانت داری اور اچھے اخلاق رکھنے والے افراد بھی عموماً اپنے جیسے لوگوں سے مضبوط تعلق قائم کرتے ہیں۔سنندا کے مطابق کسی بھی کامیاب رشتے کی بنیاد صرف محبت نہیں بلکہ اقدار، مزاج اور جذباتی ہم آہنگی ہوتی ہے
مشکلات انسان کو بہتر بناتی ہیں
سنندا شرما نے کہا کہ اس قرآنی تعلیم نے انہیں مایوس ہونے کے بجائے خود کو بہتر بنانے کی ترغیب دی۔ ان کے مطابق زندگی میں آنے والی ناکام محبتیں، جذباتی مشکلات اور دل شکستگی دراصل انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہیں اور اسے مستقبل کے بہتر رشتے کے لیے تیار کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آخرکار ہر انسان کو اس کے مزاج اور اقدار سے ہم آہنگ ساتھی مل جاتا ہے، لیکن اس منزل تک پہنچنے سے پہلے پیش آنے والی آزمائشیں انسان کو پہلے سے زیادہ مضبوط، سمجھدار اور بالغ بنا دیتی ہیں۔سنندا نے اس پورے تصور کو سزا یا بدقسمتی کے بجائے خود احتسابی، شخصیت سازی اور روحانی ارتقا کا سفر قرار دیا
سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی
سنندا شرما کی اس گفتگو کو سوشل میڈیا پر مثبت ردعمل ملا۔ متعدد صارفین نے مختلف مذاہب کے درمیان احترام، مکالمے اور ایک دوسرے کی تعلیمات سے سیکھنے کے جذبے کو سراہا، جبکہ کئی لوگوں نے اسے محبت، رشتوں اور خود احتسابی کے حوالے سے ایک فکر انگیز گفتگو قرار دیا