رام پوررضا لائبریری: ایک انمول خزانہ کا ڈھائی سو سالہ سفر

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
رام پوررضا لائبریری:  ایک انمول وراثت  کا ڈھائی سو سالہ سفر
رام پوررضا لائبریری: ایک انمول وراثت کا ڈھائی سو سالہ سفر

 

معصوم مرادآبادی

مغربی اترپردیش کا شہر رامپور جہاں اپنے پرسکون طرززندگی کے لیے مشہور ہے تو وہیں اس کی شہرت کا بنیادی حوالہ یہاں کی رضا لائبریری ہے ، جو ایشیاء کے کتب خانوں میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی۔ اس لائبریری کی خصوصیت اتنی ہی نہیں ہے کہ یہاں نادرونایاب کتابیں،قلمی نسخے اور پینٹنگ موجود ہیں بلکہ جس عمارت‘حامد منزل ’ میں یہ لائبریری قایم ہے ، وہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی لائبریری ہو جو ایک ایسے محل میں قایم کی گئی ہے جس کے ستون وگنبدپر سونے کی ملمع کاری ہے اور جہاں سو سال پہلے آویزاں کئے گئے قمقمے اب بھی ویسے ہی روشن ہیں ۔ جی ہاں یہ رضا لائبریری ہے جو اپنے قیام کے ڈھائی سوسال پورے کررہی ہے۔

میں نے گزشتہ ہفتہ اس لائبریری میں کچھ وقت گزارا، اور وہاں سے آپ کے لیے کچھ موتی چن کر لایا ہوں۔سبھی جانتے ہیں کہ آزادی سے قبل ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں جو شخصی حکومتیں قایم تھیں اور جن کی قیادت نوابین کرتے تھے ، ان میں کئی ریاستیں ایسی بھی تھیں جنھوں نے اپنے وسائل کا بڑا حصہ علم وفن کی توسیع وتبلیغ پر صرف کیا۔ ان میں اولین ریاست حیدرآباددکن کی تھی جہاں کا سالارجنگ میوزیم اور لائبریری اس کے گواہ ہیں ، جبکہ دوسرا نام ریاست رامپور کا ہے، جہاں کی رضا لائبریری اپنے نادر ونایاب مخطوطوں اور نوادرات کی وجہ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی۔گزشتہ تیس برسوں سے یہاں لائبریرین کی خدمات انجام دے رہے ڈاکٹر ابوسعد اصلاحی نے اس لائبریری کے تعلق سے نہایت کارآمد معلومات فراہم کیں ۔ انھیں اگر اس لائبریری کا انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔

awazurdu

درحقیقت کتب خانوں کے قیام اور ان کی ترقی میں مسلمانوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں ، انھیں تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔مسلمانوں نے جن جن فنون میں عروج حاصل کیا ، علم وکمال کے ساتھ ساتھ علمی ذخیرے بھی وہاں محفوظ کردئیے ۔کتابیں جمع کرنے کا یہ ذوق وشوق اتنا عام تھا کہ حکمراں اور والیان ریاست کے علاوہ ہر خوشحال گھرانے کو کتابوں سے شغف اور انھیں جمع کرنے کا جنون تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لائبریریوں کے علاوہ جگہ جگہ شخصی کتب خانے بھی موجود ہیں۔

عہدوسطیٰ کے مسلمان دوسری ہم عصر قوموں سے اس اعتبار سے ممتاز نظر آتے ہیں کہ اس عہد میں یوروپ کے لوگ کتب خانے کے اہتمام سے عام طورپر ناواقف تھے ، کتابوں سے عام استفادے پر پابندی تھی اور انھیں زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھا ، اس وقت مسلم ریاستوں میں بڑے بڑے کتب خانے قایم تھے ، جہاں دنیا بھر کے علوم کے ذخائر گوشے گوشے سے لاکر جمع کیا جاتے تھے اور ان کی شہرت سن سن کر تشنگان علم وادب دوردراز کا سفر کرکے وہاں آتے تھے ۔یہ کتب خانے اسلامی علوم وفنون اور مسلمانوں کے علمی کارناموں کی زندہ مثال تھے ۔اس میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا کہ مشرق ومغرب نے بغداد اور قرطبہ کے کتب خانوں اورمدرسوں سے جو اکتساب کیا تھا ، وہ موجودہ دور کی علمی وتہذیبی ترقیوں کی اساس ہے ۔ مشہور مورخ ایچ جی ویلز کے الفاظ میں ‘‘اسلامی تمدن ،مشرقی تمدن کا پیش رو ہے ۔بصرہ ، کوفہ ، قاہرہ ، بغداد اور قرطبہ وغیرہ یونیورسٹیاں علم وحکمت کا مرکزتھیں اور تمام جہان میں نور پھیلارہی تھیں۔’’

 رامپور رضا لائبریری کی بنیادریاست کے بانی نواب فیض اللہ خاں(1774تا1794)نے رکھی تھی، جو علم وفن کے سرپرست اور علم دوست انسان تھے ، لیکن اس کتب خانے کی ترقی کا اصل دور نواب محمدسعید خاں کی مسند نشینی (1840)سے شروع ہوتا ہے ۔ انھوں نے دیگر محکموں کی اصلاح کے ساتھ کتب خانے کی طرف توجہ دی۔قلمی کتابوں کی فراہمی کے ساتھ نادر ونایاب کتابوں کی نقلیں بھی کرائیں۔بعدازاں نواب کلب علی خاں نے 1865میں اپنی مسند نشینی کے بعد اس کتب خانے کو چارچاند لگائے۔نواب حامد علی خاں کی1889میں تخت نشینی کے بعد مسیح الملک حکیم اجمل خاں اس لائبریری کے افسراعلیٰ مقرر ہوئے اور انھوں نے عربی کتب کی طرف خاص توجہ دی۔نواب حامد علی خاں کے انتقال کے بعد 1930نواب رضا علی خاں نے زمام حکومت سنبھالی تو مولوی نجم الغنی خاں (مولف‘ اخبار الصنادید’)کو لائبریری کا ناظم مقرر کیا ۔1932میں ان کے انتقال کے بعد مولانا امتیازعلی خاں عرشی کو کتب خانہ کا ناظم بنایا گیا ، جو رضا لائبریری کے سب سے مشہور ناظم کہے جاتے ہیں۔عرشی صاحب کی شخصیت علمیوادبی کارناموں کی وجہ سے خاص طورپر مقبول ہے۔

awazurdu

1947میں ملککی آزادی کے بعد 1949میں ریاست رامپور صوبہ اترپردیش میں ضم ہوگئی تو نواب رضا علی خاں نے یہ کتب خانہ قوم کے نام وقف کردیا اور اس کا نام اسٹیٹ لائبریری سے بدل کر رامپور رضا لائبریری رکھا گیا۔1951میں اس کے انتظام کے لیے ایک ٹرسٹ بناکر تمام مصارف یوپی حکومت نے اپنے ذمہ لے لیے ۔1957میں لائبریری قدیم عمارت سے ‘حامدمنزل ’ میں منتقل ہوگئی ، جسے نواب حامد علی خاں نے 1905میں ایک محل کی طرز پر تعمیر کرایا تھا ۔ یہ خوبصورت عمارت انڈو یوروپین طرز کا بہترین نمونہ ہے ۔عمارت کے اندر انتہائی حسین گیلری ، جس سے متصل کشادہ کمرے میں گیلری کی بلند محرابوں میں سنگ مرمر کے خوبصورت مجسمے ہیں ۔کمروں کی چھتیں اور دیواریں رنگ وروغن سے سجی ہوئی ہیں ۔ اس عمارت کا سب سے خوبصورت حصہ دربار ہال ہے جس کی چھتیں سونے سے سجائی گئی ہیں ۔ہال میں نادر اور بیش قیمت جھاڑفانوس اس کی خوبصورتی کو چارچاند لگاتے ہیں ۔یہ بات بھی عجیب ہے کہ گزشتہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ان جھاڑفانوسوں کے قمقمے اسی آب وتاب کے ساتھ روشن ہیں۔1975میں سابق وزیرتعلیم پروفیسر نورالحسن کی کوششوں سے مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایکٹ پاس کرکے اسے اپنی تحویل میں لے کر قومی ادارہ بنادیا۔اس وقت یہ لائبریری مرکزی وزارت ثقافت کے زیرانتظام ہے اور 2024 میں اپنے قیام کے ڈھائی سوسال پورے کررہی ہے، جس کی تقریبات کا آغاز یہاں گزشتہ ماہ ہوچکا ہے۔اس لائبریری میں ایک لاکھ مطبوعہ کتابوں کے علاوہ اردو ، عربی ، فارسی ، سنسکرت اور ہندی کے ہزاروں نادر ونایاب نسخے موجود ہیں ، جن کی تفصیل آئندہ پیش کی جائے گی۔