عید پر شاعروں کی سوغات

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 20-03-2026
عید پر شاعروں کی سوغات
عید پر شاعروں کی سوغات

 



زیبا نسیم : ممبئی

رمضان المبارک کے بعد جب عید کا چاند بھی ایک سسپنس پیدا کرتا ہے ،روزے داروں میں عید کی خوشی منانے کی بھی بہت جلدی رہتی ہے ۔ کی خوشیوں کو شعرا نے اپنے اپنے انداز میں نہایت دلنشین طریقے سے پیش کیا ہے۔ کبھی عید کے چاند کو محبت کی علامت بنایا گیا تو کبھی اس دن کی مسرت کو دل کے جذبات سے جوڑا گیا۔ کسی شاعر نے عشق کی کیفیت بیان کی تو کسی نے عاشق اور معشوق کے تعلق کو عید کے تناظر میں سجا دیا۔ یوں عید محض ایک تہوار نہیں رہی بلکہ ایک احساس بن کر شاعری میں ڈھل گئی جس کے مختلف اور دلکش پہلو سامنے آتے ہیں۔

اگر شاعروں کی نظر سے عید کو دیکھا جائے تو یہ صرف خوشی کا اظہار نہیں بلکہ انسانی جذبات کی ایک مکمل تصویر دکھائی دیتی ہے۔ کہیں انتظار کی کیفیت ہے کہیں وصال کی خوشی اور کہیں جدائی کا درد بھی عید کے اشعار میں جھلکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کی شاعری میں تنوع اور گہرائی دونوں موجود ہیں جو قاری کے دل کو چھو لیتی ہے۔

ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب عید کارڈز مبارکباد دینے کا سب سے اہم ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی بازاروں میں عید کارڈز کی رونقیں لگ جاتیں اور ان کارڈز پر مشہور شعرا کے خوبصورت اشعار درج ہوتے تھے۔ لوگ ان اشعار کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے اور اپنے پیاروں تک دل کی بات پہنچاتے تھے۔ یہ روایت نہ صرف تہذیبی حسن کی عکاس تھی بلکہ اردو شاعری کے فروغ کا بھی ایک ذریعہ تھی۔

پیار عید کے دن

گلے لگائیں کریں تم کو پیار عید کے دن

اِدھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن

غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کی

عیاں ہے قدرتِ پروردگار عید کے دن

سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میری

رہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن

وہ سال بھر سے کدُورت بھری جو تھی دل میں

وہ دُور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن

کہیں ہے نغمۂ بلبل ،کہیں ہے خندہ گل

عیاں ہے جوشِ شبابِ بہار عید کے دن

سویاں دودھ شکر میوہ سب مہیا ہے

مگر یہ سب ہے مجھے ناگوار عید کے دن

نظیر اکبر آ بادی

اب نذیر بنارسی کا کلام پیش خدمت ہے

 پیار بھری عید کی ادا

بچھڑے ہوؤں کو بچھڑے ہوؤں سے ملائے ہے

ہر سمت عید جشن محبت منائے ہے

انسانیت کی پینگ محبت بڑھائے ہے

موسم ہر اِک اُمید کو جھولا جھلائے ہے

ہم سب کو اپنے گھیرے میں لینے کے واسطے

چاروں طرف سے گھِر کے گھٹا آج آئے ہے

شہزادیِ بہار کی آمد ہے باغ میں

ہر ایک پھول راہ میں آنکھیں بچھائے ہے

ہے کتنی پیاری پیار بھری عید کی ادا

اپنا سمجھ کے سب کو گلے سے لگائے ہے

سچ پوچھئے تو یہ بھی محبت کا ہے ثبوت

جو رائے آپ کی ہے وہی میری رائے ہے

دیجے دعائیں عید کے تیوہار کو نذیرؔ

اِک بھیڑ آج آپ سے ملنے کو آئے ہے

نذیر بنارسی

 آج کس کی دید ہے ؟

کیوں اشارہ ہے افق پر آج کس کی دید ہے

الوداع اے ماہ رمضاں وہ ہلالِ عید ہے

مسجدوں میں سب جمع ہو جائیں گے خورد و کلاں

دُور ہو دل کی کدورت یہ سوالِ عید ہے

مسلموں کے سر جھکے ہیں سجدہِ اللہ میں

کیا اخوت کا سبق ہے، کیا کمالِ عید ہے

آج غربا بھی امیروں کے گلے مل جائیں گے

کچھ نہیں تفریق ہوگی یہ وصالِ عید ہے

ہے مسلمانوں پہ واجب صدقہ عیدالفطر

پا کے روزی خوش ہیں غربا یہ نہال عید ہے

زیب دیتا ہے لباس نو نئے انداز میں

تن بدن بھی ہے معطر یہ جمالِ عید ہے

عید آئی اور کیا کیا یاد تازہ کر گئی

سوچ بچھڑوں کی ہے دل میں اور خیالِ عید ہے

نثار کبریٰ عظیم آ بادی

 چپکے سے کہا

چاکِ دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند

اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند

ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے

اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چھپا عید کا چاند

جانے کیوں آپ کے رخسار مہک اُٹھتے ہیں

جب کبھی کان میں چپکے سے کہا عید کا چاند

دُور ویران بسیرے میں دیا ہو جیسے

غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عید کا چاند

لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے

آج بھی خلد کی رنگین فضا عید کا چاند

تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں

گھول کر درد کے ماروں نے پیا عید کا چاند

چشم تو وسعتِ افلاک میں کھوئی ساغرؔ

دل نے اِک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند

ساغر صدیقی