نئی دہلی:مالویہ نگر کے فلورش اسٹیز ہوٹل میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے حادثے کے دوران متعدد افراد کی زندگیاں بچانے والے ریاض الدین منصوری نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ صرف انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت کیا تھا اور وہ اپنی دکان کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے کسی قسم کی مالی امداد یا عوامی چندہ قبول کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ مگر جماعت اسلامی ہند سمیت متعدد تنظیموں اور دیگر حضرات نے ریاض الدین منصوری کی قربانی اور خدمات کو سراہتے ہوئے مالی نقصان کی جزوی تلافی کے طور پر کچھ رقم بھی پیش کی۔ جب یہ رقم ریاض الدین منصوری کو دی گئی تو وہ جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ یہ منظر اس بات کی علامت تھا کہ معاشرہ اپنے محسنوں کو پہچانتا ہے اور ان کی قدر کرنا جانتا ہے۔
یاد رہے کہ مالویہ نگر کے ریاض الدین منصوری آج کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے۔ چند روز قبل مالویہ نگر کے ایک ہوٹل میں لگنے والی ہولناک آگ کے دوران جب لوگ اپنی جان بچانے کے لیے عمارت کی بالائی منزلوں سے چھلانگ لگانے پر مجبور تھے، اُس وقت ریاض الدین منصوری نے غیر معمولی حاضر دماغی اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا۔ریاض الدین منصوری کی قریب ہی گدّوں کی دکان ہے۔ حادثے کی شدت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنی دکان کے تمام گدّے سڑک پر بچھا دیے تاکہ اوپر سے کودنے والے افراد زمین پر گر کر شدید زخمی یا جاں بحق نہ ہوں۔ ان کی اس فوری تدبیر اور جرات مندانہ اقدام کے باعث تقریباً ایک درجن افراد کی جانیں بچ گئیں۔ تاہم انسانیت کی خدمت کے اس عمل میں انہیں لاکھوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ریاض الدین منصوری کے اس جذبے کو سلام کرنے کے لیے شہر کے وکلا کے ایک گروپ نے مالویہ نگر کا دورہ کیا اور ان سے ملاقات کی ۔ ایڈوکیٹ وریندر کاسانہ نے کہا کہ "ریاض الدین نے انسانیت کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے اور معاشرے کو یہ پیغام دیا ہے کہ جب بھی ضرورت پیش آئے تو دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی دکان میں موجود لاکھوں روپے مالیت کے گدوں، رضائیوں، چادروں اور دیگر سامان کی کوئی پروا نہیں کی۔ انہوں نے بے لوث انداز میں اپنی دکان کا سارا سامان استعمال کرتے ہوئے جلتے ہوئے ہوٹل میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کی۔ سڑک پر گدے بچھا دیے تاکہ اوپر سے کودنے والے افراد محفوظ رہ سکیں۔ ان کا یہ ایثار، ہمدردی اور جرات مندانہ اقدام انسانیت کی خدمت کی ایک روشن مثال ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔"
Delhi: Advocate Virendra Kasana says, "Riyazuddin has set an example of great humanity and shown society that whenever there is a need, one must always step forward to help others. He did not care about his shop’s mattresses, quilts, sheets, or goods worth lakhs of rupees. He… pic.twitter.com/Z1k7woCIx4
— IANS (@ians_india) June 6, 2026
وکلا کے ایک وفد نے بھی ریاض الدین منصوری کو ایک لاکھ روپئے نقد کا انعام دیا
دکاندار ریاض الدین منصوری نے کہا کہ "میں دل کی گہرائیوں سے سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اپنی ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔ ہم نے یہ کام کسی ذاتی فائدے یا لالچ کے لیے نہیں بلکہ صرف انسانیت اور سماج کی خدمت کے جذبے کے تحت کیا۔ صورتحال انتہائی خطرناک تھی۔ ہوٹل میں پھنسے ہوئے لوگوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی اور وہ مدد کے لیے فریاد کر رہے تھے۔ ہم نے فوری طور پر اپنی دکان کا تمام سامان باہر نکال کر سڑک پر ڈال دیا تاکہ لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔ اندر سات آٹھ افراد موجود تھے جبکہ ہم تقریباً بارہ سے پندرہ افراد کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب رہے۔ ایسے وقت میں انسانیت کا تقاضا یہی تھا کہ جو ممکن ہو وہ کیا جائے، اور ہم نے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔"
Delhi: Shopkeeper Riyazuddin Mansoori says, "I express my heartfelt thanks and gratitude. We did this act not for any personal gain or greed, but purely on the basis of humanity and for society. It was a very dangerous situation. We could hear people shouting for help, asking to… pic.twitter.com/45OUBhI9Vs
— IANS (@ians_india) June 6, 2026
حال ہی میں ایک انٹرویو میں ریاض الدین منصوری نے کہا تھا کہ میں نے جو کچھ کیا انسانیت کے لیے کیا۔ مجھے اپنی دکان کے نقصان کی کوئی تلافی نہیں چاہیے اور نہ ہی میں نے یہ کام کسی انعام یا مالی فائدے کے لیے کیا تھا۔ تاہم ان کی بے مثال انسان دوستی، ایثار اور جرات نے ملک بھر میں لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ مختلف سماجی، مذہبی اور رفاہی تنظیمیں، کاروباری حلقے اور انفرادی طور پر متعدد افراد ان کی خدمات کے اعتراف میں مالی تعاون اور اعزازات پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاض الدین منصوری کا اقدام محض چند افراد کی جانیں بچانے کا واقعہ نہیں بلکہ انسانیت، ہمدردی اور قربانی کی ایک ایسی مثال ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

جماعت اسلامی ہند نے دیا اعزاز
اسی سلسلے میں جماعت اسلامی ہند دہلی نے ریاض الدین منصوری کو ایک لاکھ روپے کے خصوصی اعزاز سے نوازا ہے اور ان کی انسانی خدمت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ جماعت کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ یہ رقم کسی نقصان کے ازالے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے جس نے مشکل ترین حالات میں انسانیت کو سب سے مقدم رکھا۔ جماعت اسلامی ہند دہلی کے امیر حلقہ محمد سلیم اللہ خان کی قیادت میں ایک وفد نے مالویہ نگر کا دورہ کیا۔ وفد نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔ وفد نے ریاض الدین منصوری سے ملاقات کرکے ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔
محمد سلیم اللہ خان نے کہا کہ ریاض الدین منصوری نے ثابت کر دیا کہ مشکل حالات میں مذہب، ذات پات اور برادری کی تمام تقسیمیں بے معنی ہو جاتی ہیں اور انسان کی اصل پہچان اس کی انسان دوستی اور ہمدردی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی قوتیں سرگرم ہیں، ریاض الدین منصوری جیسے افراد ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور انسانی اقدار کے حقیقی نمائندے بن کر سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منصوری نے مالی نقصان کی پروا کیے بغیر تقریباً دو لاکھ روپے مالیت کے گدے استعمال کیے اور اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال کر دوسروں کی جانیں بچانے کی کوشش کی۔ ان کا یہ جذبہ ایثار اور خدمت خلق عوامی خدمت کے اعلیٰ ترین نمونوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔وفد کے ارکان نے ریاض الدین منصوری کے اقدام کو قابل تقلید اور متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد معاشرے میں باہمی اعتماد، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعزاز صرف ایک فرد کی بہادری کا اعتراف نہیں بلکہ انسانیت کے عظیم جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔وفد نے امید ظاہر کی کہ ریاض الدین منصوری کا یہ مثالی کردار نئی نسل کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا اور معاشرے میں بھائی چارے، محبت، خدمت خلق اور انسانی ہمدردی کے جذبات کو مزید مضبوط کرے گا۔
ریاض الدین منصوری کی یہی عاجزی اور بے لوثی ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو بن کر سامنے آئی ہے۔ وہ آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ صرف انسانی جانوں کو بچانے کے لیے کیا تھا، جبکہ معاشرہ ان کے اس جذبۂ ایثار کو سلام پیش کرتے ہوئے مختلف انداز میں ان کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔