گینگٹوک :اے محمد مشتاق نے اتوار 4 جنوری کو سکّم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا۔ جسٹس مشتاق نے ریاست کے گورنر اوم پرکاش ماتھر کے سامنے لوک بھون گانگٹوک میں منعقدہ تقریب میں حلف لیا۔ اس طرح جسٹس مشتاق سکّم ہائی کورٹ کے 24 ویں چیف جسٹس بن گئے۔ وہ جسٹس بسوناتھ سومادر کی جگہ لے رہے ہیں جو حال ہی میں سبکدوش ہوئے۔
جسٹس مشتاق اس وقت کیرالہ ہائی کورٹ کے سب سے سینئر جج ہیں۔ انہیں 23 جنوری 2014 کو کیرالہ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی ریٹائرمنٹ 31 مئی 2029 کو متوقع ہے۔یہ تقرری 18 دسمبر 2025 کو ہندوستان کی سپریم کورٹ کے کولیجیم کی سفارش پر ہوئی جس کی صدارت جسٹس سوریا کانت کر رہے تھے۔ مرکزی حکومت نے 3 جنوری 2026 کو اس تقرری کی منظوری دی۔
جسٹس اے محمد مشتاق نے 1989 میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ انہوں نے کیرالہ کے شہر کنور میں اپنے قانونی کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے مختلف عدالتوں اور قانونی اداروں میں وکالت کی۔ تقریباً سات برسوں میں انہوں نے ایک ماہر وکیل اور ثالث کے طور پر نمایاں شناخت حاصل کی۔
ان کے پیشہ ورانہ سفر میں کنور یونیورسٹی کے مستقل قانونی مشیر کی حیثیت سے خدمات شامل ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں ٹیلی کام کمپنیوں اور مقامی اداروں کی نمائندگی بھی کی۔جسٹس اے محمد مشتاق متبادل تنازعات کے حل کے نظام سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے کیرالہ میڈی ایشن سینٹر میں ثالث کے طور پر کام کیا۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف آربیٹریشن اینڈ میڈی ایشن میں فیکلٹی ممبر بھی رہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے بین الاقوامی مرکز برائے متبادل تنازعات کے حل اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف آربیٹریشن اینڈ میڈی ایشن میں ثالثی کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا تعلق قومی اور بین الاقوامی قانونی اداروں سے بھی رہا جن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس لا اور انڈین سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا شامل ہیں۔
انہیں 23 جنوری 2014 کو کیرالہ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں 10 مارچ 2016 کو انہیں مستقل جج بنا دیا گیا۔ 18 ستمبر 2019 سے وہ ہائی کورٹ کی کمپیوٹرائزیشن کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔بعد میں جسٹس اے محمد مشتاق نے 5 جولائی سے 21 ستمبر 2024 تک کیرالہ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داری بھی ادا کی۔