قرآن و حدیث کی روشنی میں ماں کی اہمیت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 10-05-2026
 قرآن و حدیث کی روشنی میں ماں کی اہمیت
قرآن و حدیث کی روشنی میں ماں کی اہمیت

 



زیبا نسیم : ممبئی

 ماں اللہ کی تخلیق کردہ ممتا کا مجسمہ ہے، جو بچے کی پہلی دھڑکن، پہلی مسکراہٹ اور ہر سانس میں پنہاں ہوتی ہے، جیسے زمین ماںِ زمین کی طرح پالتی ہے۔ جذباتی طور پر، اس کی قربانیاں آنکھیں نم کر دیتی ہیں,راتوں کی نیندیں، درد کی آہوں، اور لامتناہی محبت کا سمندر جو ہمیشہ بہتا رہتا ہے، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماں نہ صرف اللہ کی نعمت بلکہ جنت کا راستہ اور زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے

 اسلام کی روشن روشنی میں ماں کی اہمیت کو دیکھیں تو قرآنِ مجید فرماتا ہے: "ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ نیکی کا حکم دیا، ماں نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر اسے جنا" (46:15)، جبکہ نبیِ رحمت ﷺ نے فرمایا: "تمہاری جنت ماں کے قدموں تلے ہے"

اسلام نے والدین خصوصاً ماں کے مقام کو غیر معمولی عظمت دی ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار والدین کے ساتھ حسنِ سلوک احترام اور شکرگزاری کی تلقین کی گئی ہے جبکہ احادیثِ نبویہ میں ماں کی خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ ذیل میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ماں کی اہمیت کو واضح کیا جا رہا ہے۔

  1. قرآنِ مجید میں ماں کا مقام

(الف) ماں کی قربانی اور تکلیف کا اعتراف

قرآنِ مجید ماں کی حیثیت بیان کرتے ہوئے انسان کو یاد دلاتا ہے کہ ماں نے حمل اور پیدائش کے مراحل میں تکلیفیں برداشت کیں۔

"ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے اسے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر پیٹ میں اٹھائے رکھا اور تکلیف ہی کے ساتھ اسے جنا۔" (46:15)

یہ آیت انسان کو ماں کی محنت درد اور قربانی کا احساس دلاتی ہے تاکہ وہ ماں کے حقوق پہچانے اور ناشکری سے بچے۔

(ب) والدین کے ساتھ بہترین اخلاق اور دعا کی تعلیم

قرآن صرف اچھے برتاؤ کا حکم نہیں دیتا بلکہ گفتگو کے آداب عاجزی اور دعا بھی سکھاتا ہے۔

"والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔ انہیں اُف تک نہ کہو۔ ادب کے ساتھ بات کرو۔ اور کہو۔ اے میرے رب۔ ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔" (17:23-24)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کے بڑھاپے میں ان کی خدمت نرمی احترام اور ان کے لیے دعا کرنا دینی ذمہ داری ہے۔

(ج) اطاعت کی حد۔ شرک میں کسی کی بات نہیں مانی جائے گی

اسلام والدین کی اطاعت کا درس دیتا ہے لیکن ایمان کے معاملے میں اصول واضح ہے۔

"اگر وہ تجھے مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے تو ان کی بات نہ مان۔" (29:8)

اسی کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا۔

"اطاعت نہ کر مگر دنیا میں ان کے ساتھ انصاف اور اچھے برتاؤ کے ساتھ رہ۔" (31:14-15)

یعنی عقیدے میں غلط بات نہیں مانی جائے گی لیکن دنیاوی معاملات میں والدین حتیٰ کہ غیر مسلم ہوں ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور اچھا ساتھ برقرار رہے گا۔

  1. احادیثِ نبویہ میں ماں کی عظمت

(الف) جنت کا راستہ۔ ماں کی خدمت

نبی کریم ﷺ نے ماں کی خدمت کو جنت کے ساتھ جوڑ دیا۔

"تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔" (احمد نسائی)

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ماں کی اطاعت خدمت اور دلجوئی انسان کے لیے جنت کے بڑے اسباب میں سے ہے۔

(ب) حسنِ صحبت میں ماں کا حق سب سے زیادہ

ایک شخص کے سوال پر نبی ﷺ نے تین بار ماں کا نام لے کر ماں کے حق کو مقدم کیا۔

"سب سے زیادہ حق دار کون۔ فرمایا۔ تمہاری ماں۔ پھر تمہاری ماں۔ پھر تمہاری ماں۔ پھر تمہارا باپ۔" (بخاری مسلم)

یہ واضح کرتا ہے کہ عام حالات میں خدمت توجہ اور حسنِ سلوک کے معاملے میں ماں کا درجہ سب سے بلند ہے۔

(ج) والدین کے انتقال کے بعد بھی حقوق باقی رہتے ہیں

اسلام میں والدین کے حقوق صرف زندگی تک محدود نہیں۔

"ان کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کرو۔ ان کے وعدے پورے کرو۔ ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کا احترام کرو۔" (ابو داؤد ابن ماجہ)

یعنی ماں کے انتقال کے بعد بھی دعا صلہ رحمی اور ان کے تعلقات کی پاسداری کے ذریعے نیکی جاری رہتی ہے۔

(د) والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ

نبی ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو بڑے گناہوں میں شمار فرمایا۔

"کبیرہ گناہ۔ والدین کی نافرمانی۔" (بخاری مسلم)

یہ بتاتا ہے کہ ماں باپ کو دکھ دینا یا ان کے حقوق ادا نہ کرنا معمولی نہیں بلکہ سخت وعید والا عمل ہے۔

(ہ) غیر مسلم ماں کے ساتھ بھی بھلائی

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت اسماءؓ کی والدہ مشرکہ تھیں پھر بھی نبی ﷺ نے فرمایا۔

"اپنی ماں کے ساتھ بھلائی کرو۔" (بخاری مسلم)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کے ساتھ اچھا سلوک دین نسل یا حالات کی قید سے بلند ہو کر ایک عظیم اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے۔

قرآن و حدیث سے یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ اسلام میں ماں کا مقام انتہائی بلند ہے۔ ماں کی تکلیفوں کو یاد رکھنا اس کے ساتھ نرم گفتگو کرنا اس کی خدمت کرنا اس کے لیے دعا کرنا اور اس کی دلجوئی کو دین کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر والدین غیر مسلم ہوں تب بھی دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ انصاف احترام اور حسنِ سلوک لازم ہے۔ خلاصہ یہ کہ ماں کی خدمت اور عزت نہ صرف اخلاقی فریضہ ہے بلکہ اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کا مضبوط ذریعہ بھی ہے۔