آواز دی وا ئس: نیو دہلی
صحافت کی دنیا میں ایک طویل اورباوقارسفرطےکرنے کے بعد سینئر صحافی سنجیو شریواستو نے ایک مختلف راستہ اختیار کرتے ہوئے کچوری کی دکان شروع کی ہے۔ بی بی سی کے انڈیا کے ہیڈجیسے باوقار منصب پر فائز رہنے والے سنجیو شریواستو کا یہ قدم سوشل میڈیا اور میڈیا حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
ایک ممتاز صحافی سنجیو شریواستو کے اس نیے کردار کو دنیا کے سامنے لانے والے بھی ایک صحافی اروندچوٹیہ ہیں- سوشل میڈیا پر سنجیو شریواستو سے گفتگو کے دوران تقریباً 10 منٹ کی ویڈیو میں سنجیو شریواستو نے اس فیصلے کے پس منظر کی کہانی بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں تبدیلی اور قلبی اطمینان کی تلاش نے انہیں یہ نیا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دی
Thanks dear @zafarabbaszaidi 🙏 https://t.co/rDOvyjkCrO
— Sanjeev Srivastava (@JournoSanjeev) February 22, 2026
کوئی کام چھوٹا نہیں
انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ صحافت نے انہیں بہت کچھ دیا لیکن اب وہ کچھ مختلف اور زمین سے جڑا ہوا کام کرنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ اصل عزت کام سے ہوتی ہے پیشے سےنہیں۔ دیانت داری اور محنت سے کیا گیا ہر کام قابل احترام ہوتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں کہ آپ نے اتنا الگ کام کیا ہے۔کبھی لگا نہیں کہ لوگ کہیں گے کہ سنجیوشریواستو کچوری بیچ رہے ہیں؟ سنجیو شریواستو کہتے ہیں کہ ہاں مجھے اس بات کا احساس ہوا لیکن اگر کرنا ہی ہے تو میں زندگی میں بہت کچھ کر چکا ہوں، کچھ چیزیں رہ گئی تھیں وہ کر رہا ہوں۔ یہ میرا شوق تھا۔
.webp)
.webp)
کچوری بچپن کا شوق اور ذائقہ
بچپن سے کچوری سے وابستگی ہے۔ اپنی پسند کی کچوری کھانے کا شوق تھا،وہیں سے بات شروع ہوئی۔ کچھ چیزیں دماغ کے کسی کونے میں رہ جاتی ہیں، موقع ملا تو کر لیا۔ نہیں ملتا تو نہیں کرتے، اب مل گیا تو کر لیا۔ آگے یہ کہانی چلتی رہے گی۔ چالیس سال کے کیریئر میں کبھی کچوری پر رپورٹنگ نہیں کرنی پڑی، لیکن میں کھانے پینے کا شوقین ہوں۔ عمر 66 سال ہے، لیکن میں کچوریوں کا دیوانہ ہوں۔ میرا ننھیال بیکانیر کا ہے۔ وہاں لوگ کہتے تھے کہ بیکانیر کی آبادی سے زیادہ کچوریاں بن جاتی ہیں اور صبح سات بجے تک بک جاتی ہیں۔
آخر کیوں؟
جب سنجیو شریواستو سے دریافت کیا گیا کہ صحافی عام طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا یوٹیوب چینل شروع کرتے ہیں یا کسی اور صحافتی سرگرمی میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن اپ نے کچوری فروشی کا راستہ کیوں اختیار کیا تو انہوں نے کہا کہ ویسے میرا بھی ایک چھوٹا موٹا یوٹیوب چینل ہے لیکن اس کی لاکھوں میں فالوونگ نہیں ہے، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ آج کل جس کی بھی لاکھوں میں بڑی تعداد ہے وہ یا تو اس طرف کھیل رہا ہے یا اس طرف۔ یا تو آپ پرو بی جے پی، پرو مودی ہیں یا اینٹی بی جے پی، اینٹی مودی ہیں۔ تو اینٹی مودی والے اینٹی مودی چینل کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور پرو مودی والے پرو مودی کو سنیں گے۔
سنجو شریواستو مزید کہتے ہیں کہ تو ہمارے جیسے جو درمیانی راستے والے ہیں، جو مسئلہ کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، کبھی مودی صحیح لگیں گے، کبھی غلط لگیں گے، تو اس درمیانی راستے کی کوئی بڑی تعداد نہیں ہے۔ جیسے ایک بڑے سی این این کے بانی نے کہا تھا کہ پہلے کٹّر صحافت کا زمانہ تھا، لوگ اسے دیکھتے تھے۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ ہم ریفری کو کیوں دیکھیں، ہم تو یا اس ٹیم کے ساتھ ہیں یا اس ٹیم کے ساتھ۔آج کل کچھ صحافی ادارہ چھوڑ کر یوٹیوب شروع کرتے ہیں تو آزادی اظہار کا ذکر کرتے ہیں۔ میں ایسا نہیں کرتا۔ میری زندگی میں کچھ لوگ بہت اہم رہے،جیسے بھیرون سنگھ جی۔ان سے میرے بہت اچھے تعلقات تھے۔ انڈین ایکسپریس کا دفتر چترنجن پارک میں تھا اور بی جے پی کا دفتر بھی قریب تھا۔ ان سے روز ملاقات ہوتی تھی۔ عمر میں مجھ سے بہت بڑے تھے لیکن ہمیشہ دوست کی طرح برتاؤ کیا۔
.webp)
لوگوں کی پسند بدل گئ
صحافت پر گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ میرا ماننا ہے کہ آج کل زیادہ تر لوگ وہی بات سننا پسند کرتے ہیں جو ان کے اپنے خیالات سے میل کھاتی ہو۔ اسی وجہ سے اعتدال پسند یا درمیانی سوچ رکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ ممکن ہے میں بہت سادہ اور سیدھا کام کر رہا ہوں اس لیے لوگ زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ میری فالوونگ ہزاروں میں ہے نہ کہ لاکھوں یا ملین میں۔ پچھلے ہفتے بھی میں نے اپنے یوٹیوب چینل پر دو ویڈیوز اپ لوڈ کیں۔ کبھی کبھار ٹی وی پر بھی آ جاتا ہوں اگرچہ مجھے ٹی وی کی بحثیں زیادہ بامعنی محسوس نہیں ہوتیں۔
.webp)
.webp)