سنجیو شریواستو : بی بی سی کے سربراہ سے کچوری فروش تک

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 25-02-2026
  سنجیو شریواستو : بی بی سی کے سربراہ سے کچوری فروش تک
سنجیو شریواستو : بی بی سی کے سربراہ سے کچوری فروش تک

 



آواز دی وا ئس: نیو دہلی 

 صحافت کی دنیا میں ایک طویل اورباوقارسفرطےکرنے کے بعد سینئر صحافی سنجیو شریواستو نے ایک مختلف راستہ اختیار کرتے ہوئے کچوری کی دکان شروع کی ہے۔ بی بی سی کے انڈیا کے ہیڈجیسے باوقار منصب پر فائز رہنے والے  سنجیو شریواستو کا یہ قدم سوشل میڈیا اور میڈیا حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

ایک ممتاز صحافی سنجیو شریواستو کے اس نیے کردار کو دنیا کے سامنے لانے والے بھی ایک صحافی اروندچوٹیہ ہیں- سوشل میڈیا پر   سنجیو شریواستو سے گفتگو کے دوران تقریباً 10 منٹ کی ویڈیو میں سنجیو شریواستو نے اس فیصلے کے پس منظر کی کہانی بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں تبدیلی اور قلبی اطمینان کی تلاش نے انہیں یہ نیا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دی

کوئی کام چھوٹا نہیں

انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ صحافت نے انہیں بہت کچھ دیا لیکن اب وہ کچھ مختلف اور زمین سے جڑا ہوا کام کرنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ اصل عزت کام سے ہوتی ہے پیشے سےنہیں۔ دیانت داری اور محنت سے کیا گیا ہر کام قابل احترام ہوتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں کہ آپ نے اتنا الگ کام کیا ہے۔کبھی لگا نہیں کہ لوگ کہیں گے کہ سنجیوشریواستو کچوری بیچ رہے ہیں؟ سنجیو شریواستو کہتے ہیں کہ ہاں مجھے اس بات کا احساس ہوا لیکن اگر کرنا ہی ہے تو میں زندگی میں بہت کچھ کر چکا ہوں، کچھ چیزیں رہ گئی تھیں وہ کر رہا ہوں۔ یہ میرا شوق تھا۔

 کچوری بچپن کا شوق اور ذائقہ

 بچپن سے کچوری سے وابستگی ہے۔ اپنی پسند کی کچوری کھانے کا شوق تھا،وہیں سے بات شروع ہوئی۔ کچھ چیزیں دماغ کے کسی کونے میں رہ جاتی ہیں، موقع ملا تو کر لیا۔ نہیں ملتا تو نہیں کرتے، اب مل گیا تو کر لیا۔ آگے یہ کہانی چلتی رہے گی۔  چالیس سال کے کیریئر میں کبھی کچوری پر رپورٹنگ نہیں کرنی پڑی، لیکن میں کھانے پینے کا شوقین ہوں۔ عمر 66 سال ہے، لیکن میں کچوریوں کا دیوانہ ہوں۔ میرا ننھیال بیکانیر کا ہے۔ وہاں لوگ کہتے تھے کہ بیکانیر کی آبادی سے زیادہ کچوریاں بن جاتی ہیں اور صبح سات بجے تک بک جاتی ہیں۔

آخر کیوں؟

جب سنجیو شریواستو سے دریافت کیا گیا کہ صحافی عام طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا یوٹیوب چینل شروع کرتے ہیں یا کسی اور صحافتی سرگرمی میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن اپ نے کچوری فروشی کا راستہ کیوں اختیار کیا تو انہوں نے کہا کہ ویسے میرا بھی ایک چھوٹا موٹا یوٹیوب چینل ہے لیکن اس کی لاکھوں میں فالوونگ نہیں ہے، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ آج کل جس کی بھی لاکھوں میں بڑی تعداد ہے وہ یا تو اس طرف کھیل رہا ہے یا اس طرف۔ یا تو آپ پرو بی جے پی، پرو مودی ہیں یا اینٹی بی جے پی، اینٹی مودی ہیں۔ تو اینٹی مودی والے اینٹی مودی چینل کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے اور پرو مودی والے پرو مودی کو سنیں گے۔

سنجو شریواستو مزید کہتے ہیں کہ تو ہمارے جیسے جو درمیانی راستے والے ہیں، جو مسئلہ کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، کبھی مودی صحیح لگیں گے، کبھی غلط لگیں گے، تو اس درمیانی راستے کی کوئی بڑی تعداد نہیں ہے۔ جیسے ایک بڑے سی این این کے بانی نے کہا تھا کہ پہلے کٹّر صحافت کا زمانہ تھا، لوگ اسے دیکھتے تھے۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ ہم ریفری کو کیوں دیکھیں، ہم تو یا اس ٹیم کے ساتھ ہیں یا اس ٹیم کے ساتھ۔آج کل کچھ صحافی ادارہ چھوڑ کر یوٹیوب شروع کرتے ہیں تو آزادی اظہار کا ذکر کرتے ہیں۔ میں ایسا نہیں کرتا۔ میری زندگی میں کچھ لوگ بہت اہم رہے،جیسے بھیرون سنگھ جی۔ان سے میرے بہت اچھے تعلقات تھے۔ انڈین ایکسپریس کا دفتر چترنجن پارک میں تھا اور بی جے پی کا دفتر بھی قریب تھا۔ ان سے روز ملاقات ہوتی تھی۔ عمر میں مجھ سے بہت بڑے تھے لیکن ہمیشہ دوست کی طرح برتاؤ کیا۔

لوگوں کی پسند بدل گئ

صحافت پر گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ میرا ماننا ہے کہ آج کل زیادہ تر لوگ وہی بات سننا پسند کرتے ہیں جو ان کے اپنے خیالات سے میل کھاتی ہو۔ اسی وجہ سے اعتدال پسند یا درمیانی سوچ رکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ ممکن ہے میں بہت سادہ اور سیدھا کام کر رہا ہوں اس لیے لوگ زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ میری فالوونگ ہزاروں میں ہے نہ کہ لاکھوں یا ملین میں۔ پچھلے ہفتے بھی میں نے اپنے یوٹیوب چینل پر دو ویڈیوز اپ لوڈ کیں۔ کبھی کبھار ٹی وی پر بھی آ جاتا ہوں اگرچہ مجھے ٹی وی کی بحثیں زیادہ بامعنی محسوس نہیں ہوتیں۔

جے پور میں کہاں ہے دکان
سنجیو شریواستو سر کی کچوری کی دکان تھرو بیک دیسی  باپو نگر میں ہے۔ انہوں نے  پچھلے ہفتے ہی یہ نئی دکان کھولی ہے اور یہاں تین طرح کی کچوری کے علاوہ اور بھی کافی چیزیں ہیں جن میں کھیر ہے، گاجر کا حلوہ ہے، گلاب جامن  بہت اچھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وڑا پاؤ وغیرہ بہت اچھا ہے، بالکل بمبئی اسٹائل۔ یہ ابھی شروع کیا ہے، وڑا پاؤ اور کچوری دونوں میرا شوق تھا۔ وہ بات چیت کے دوران مزید کہتے ہیں کہ پہلے لوگ مجھے فون میں سنجیو بی بی سی یا ایکسپریس کے نام سے محفوظ کرتے تھے۔ ابھی ایک گاہک نے مجھے سنجیو مٹر کچوری کے نام سے محفوظ کیا، مجھے مزہ آیا۔ یہ بھی ایک پہچان ہے۔ نئی چیز کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پرانی چھوڑ دی۔
 
 
 گلابی نگر کا ایک نیا ٹھکانا
سنجو شریواستو کہ اس نئی کچوری شاپ کا سوشل میڈیا پر خوب ہنگامہ ہے ، ان کے دوست سوشل پیٹ فارمز پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں اور اس کو ایک بڑا اور اہم قدم قرار دے رہے ہیں -ان کے کچھ دوستوں نے نئی دکان کو اپنا نیا ٹھکانہ بھی قرار دیا ہے ایسی ہی ایک  راجندر بورا لکھتے ہیں کہ--- آج کی شام خاص تھی۔ جے پور کے باپو نگر میں نند کشور پاریک مارگ جو پہلے منگل مارگ کہلاتا تھا وہاں واقع تھرو بیک دیسی کیفے شاپ میں کچوری کھانے کی دعوت تھی۔ یہ دعوت صحافت کے ہمارے پرانے ساتھی بھائی سنجیو شریواستو نے دی تھی جنہوں نے صحافت میں نمایاں نام کمانے کے بعد یہ کیفے شروع کیا ہے۔ایسا ہرگز نہ سمجھئے کہ صحافیوں کی حالت اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ کچوریاں بیچنے لگے ہیں۔ سنجیو کو بچپن ہی سے کچوری کھانے کا شوق رہا ہے اور اسی جذبے کے تحت وہ اس نئے تجربے سے گزر رہے ہیں۔آج شام انہوں نے اس نئے کھلے کیفے کا تعارف کرانے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک غیر رسمی گپ شپ رکھی تھی۔ اس کیفے کی خاص پہچان مٹر کی کچوری ہے اور اس کے ساتھ سموسے مرچی بڑے اور گاجر کا حلوہ بھی پیش کیا گیا۔ صحافیوں کی محفل تھی تو چائے کے کئی دور چلنے ہی تھے اور دنیا جہان کی باتیں بھی ہونی تھیں۔اس نشست میں بزرگ ترین صحافی آدرنیہ ملاپ چند ڈانڈیا کے ساتھ صحافت یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سنی سبستین موجود تھے۔ روزنامہ نوجیوتی کے سابق مدیر مہیش شرما۔ ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک صحافی مصنف اور مصور ونود بھاردواج۔ سینئر صحافی اشوک چترویدی اور سینئر صحافی پرکاش بھنڈاری بھی شریک تھے۔ بھائی مہیش شرما اپنی اہلیہ مصنفہ اور شاعرہ اوما جی اور بیٹی کے ساتھ آئے تھے۔
 صحافت سے کاروبار تک کا سفر
 سوشل میڈیا پر ایک صحافی کے کچوری فروش بننے پر الگ الگ رائے سامنے ارہی ہے مگر بیشتر افراد نے ان کی سراہنا کی ہے - لوگوں کا ماننا ہے کہ تقریباً تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک میڈیا میں سرگرم رہنے کے بعد انہوں نے کچوری کی دکان کھول کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ کیریئر کے کسی بھی مرحلے پر نئی شروعات کی جا سکتی ہے۔میڈیا سے وابستہ دوستوں  نے ان کے اس فیصلے کو جرات مندانہ اور حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ کچھ لوگ اسے بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے اور ذاتی انتخاب کی آزادی کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
 ایک سماجی پیغام 
سنجیو شریواستو کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ روایتی کیریئر ہی کامیابی کا واحد معیار نہیں ہوتا۔ ہنر، محنت اور خودداری کے ساتھ کیا گیا ہر کام بامقصد اور باوقار ہوتا ہے۔سینئر صحافی کا یہ قدم نہ صرف روایتی راستے سے ہٹ کر ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پیشہ ورانہ شناخت سے ہٹ کر انسان کی اصل پہچان اس کے کام اور اس کے نقطہ نظر سے بنتی ہے۔