رکشا بندھن پر خان سر کا یتیم خانہ بنانے کا اعلان، کہا کینسر اسپتال تقریباً تیار ہے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-08-2026
 رکشا بندھن پر خان سر کا یتیم خانہ بنانے کا اعلان، کہا کینسر اسپتال تقریباً تیار ہے
رکشا بندھن پر خان سر کا یتیم خانہ بنانے کا اعلان، کہا کینسر اسپتال تقریباً تیار ہے

 



 پٹنہ: معروف ماہرِ تعلیم خان سر نے جمعہ کو پٹنہ کے شری کرشن میموریل ہال میں طالبات کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا، جہاں متعدد طالبات نے انہیں راکھی باندھی۔آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے خان سر نے رکشا بندھن کے موقع پر خواتین اور بچیوں کو مبارک باد دی اور خواہش ظاہر کی کہ اس تہوار کو عالمی سطح پر منایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’تمام بہنوں کے لیے میری نیک خواہشات ہیں۔ اللہ کرے وہ زندگی میں کامیاب ہوں، اپنی زندگی خوشی سے گزاریں اور ہمیشہ خوش رہیں۔ اسی لیے رکشا بندھن دنیا بھر میں منایا جانا چاہیے۔ ہم اسے عالمی جشن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

خان سر نے مزید بتایا کہ گزشتہ رکشا بندھن کے موقع پر انہوں نے کینسر اسپتال بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس منصوبے میں تقریباً دو ماہ کی تاخیر ہوئی۔ ان کے مطابق اسپتال آئندہ دو سے تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ’’اس رکشا بندھن پر ہم نے ایک یتیم خانہ کھولنے کا وعدہ کیا ہے، جہاں بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے۔‘‘

رکشا بندھن، جسے راکھی بھی کہا جاتا ہے، ہندو برادری کا ایک اہم تہوار ہے جو بھائی اور بہن کے درمیان محبت، خلوص اور تحفظ کے رشتے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ تہوار ہندوستانی برادریوں کی جانب سے دنیا کے مختلف حصوں میں بھی منایا جاتا ہے اور ہندو کیلنڈر کے مطابق شراون ماہ کی پورنیما کے دن آتا ہے۔’رکشا بندھن‘ دو سنسکرت الفاظ سے مل کر بنا ہے۔ ’رکشا‘ کے معنی تحفظ اور ’بندھن‘ کے معنی رشتہ یا بندھن کے ہیں۔ اس طرح یہ نام محبت، اپنائیت اور تحفظ کے عہد پر مبنی رشتے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس تہوار کی مرکزی رسم میں بہن اپنے بھائی کی کلائی پر راکھی باندھتی ہے اور اس کی صحت، خوشحالی اور لمبی عمر کے لیے دعا کرتی ہے، جبکہ بھائی روایتی طور پر بہن کی حمایت اور حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔ اس موقع پر مٹھائی اور تحائف کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔

وقت کے ساتھ رکشا بندھن کا دائرہ حقیقی بہن بھائیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ کزنز اور دیگر قریبی رشتوں میں بھی راکھی باندھنے کی روایت عام ہوئی ہے۔رکشا بندھن سے متعلق کئی روایات اور داستانیں بھی مشہور ہیں۔ ان میں ایک روایت بھگوان کرشن اور دروپدی سے منسوب ہے۔ روایت کے مطابق کرشن کی انگلی زخمی ہونے پر دروپدی نے اپنی ساڑی کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر ان کی انگلی پر باندھ دیا تھا۔ اس جذبۂ محبت سے متاثر ہوکر کرشن نے ہمیشہ ان کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔