اگر کشمیری زبان جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نہ چلی تو صرف بولی بن کر رہ جائے گی۔ - پدم شری پروفیسر شفیع شوق

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 10-02-2026
 اگر کشمیری زبان جدید ٹیکنالوجی  کے ساتھ نہ چلی تو  صرف بولی بن کر رہ جائے گی۔ - پدم شری پروفیسر شفیع شوق
اگر کشمیری زبان جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نہ چلی تو صرف بولی بن کر رہ جائے گی۔ - پدم شری پروفیسر شفیع شوق

 



دانش علی : سرینگر

کشمیری زبان ہماری پہچان ہے اور جب تک یہ زندہ ہے تب تک کشمیری قوم زندہ ہے۔ اگر کشمیری زبان جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ساتھ نہ چلی تو وہ صرف بولی بن کر رہ جائے گی۔

 ان خیالات کا اظہار سری نگر میں  پدم شری 2026 کے لیے منتخب معروف ادیب پروفیسر محمد شفیع شوق نے آواز و وائز سے گفتگو میں کیا- انہوں نے پدم شری کے لیے انتخاب کو وادی کشمیر کے لیے اعزاز قرار دیا اور کہا کہ اصل مقصد شہرت نہیں بلکہ زبان اور سماج کی خدمت ہے

 انہوں نے جدید دور کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیری زبان جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نہ چلی تو وہ صرف بولی بن کر رہ جائے گی۔ آج کمپیوٹر یونیکوڈ ڈیجیٹل اشاعت اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور ہے اس لیے کشمیری کو ٹیکسٹ ٹو اسپیچ اسپیچ ٹو ٹیکسٹ اور ترجمہ نظام سے جوڑنا ضروری ہے۔

رسم الخط کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کشمیری کا منظور شدہ اسکرپٹ نستعلیق ہے اور اسے آسان اور معیاری بنانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ تحریری روایت مضبوط ہو سکے۔ جو زبان اپنی تحریر کو مستحکم رکھتی ہے وہی ترقی کرتی ہے۔

نوجوانوں سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہر قوم میں ایک چھوٹا طبقہ دوسری زبانوں کو وقار سمجھتا ہے مگر کشمیری سماج کی بڑی آبادی آج بھی کشمیری بولتی ہے۔ شادی بیاہ موسیقی اور روزمرہ زندگی میں کشمیری زبان ہمیشہ زندہ رہے گی۔

 اپنی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر شوق نے کہا کہ انہوں نے کشمیری گرامر کشمیری لغت اور کلاسیکی شاعروں کے تراجم پر کام کیا ہے۔ ان کی ایک سو سے زیادہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جو طلبہ اور محققین کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

پدم شری جیسے اعزاز پر انہوں نے کہا کہ ایوارڈ حوصلہ بڑھاتے ہیں اور ذمہ داری میں اضافہ کرتے ہیں۔ اصل مقصد شہرت نہیں بلکہ زبان اور سماج کی خدمت ہے۔

آخر میں انہوں نے کشمیری طلبہ کو پیغام دیا کہ وہ کشمیری کے ساتھ اردو انگریزی فارسی سنسکرت اور ہندی بھی پڑھیں اور کشمیری میں سائنسی اور تحقیقی موضوعات پر لکھیں تاکہ زبان کو مضبوط بنایا جا سکے۔

سنیئے آواز دی وائس پر مکمل انٹرویو ۔۔۔۔۔۔