سرسید احمد خان کے وہ ہندو رفقا جو ان کی زندگی اور تحریک کی شان بنے

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 27-03-2026
سرسید احمد خان کے وہ ہندو رفقا جو ان کی زندگی اور تحریک  کی شان بنے
سرسید احمد خان کے وہ ہندو رفقا جو ان کی زندگی اور تحریک کی شان بنے

 



منصورالدین فریدی : نئی دہلی 

سرسید احمد خان اورعلی گڑھ تحریک کے بارے میں لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ سرسید کوئی خالص مسلم کردار ہے جو صرف مسلمانوں یا مسلم یونیورسٹی کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ مگراس طرف زیادہ توجہ نہیں دی جاتی کہ سرسید کے کتنے دوست اور ساتھی غیر مسلم تھے، جواس تحریک میں شامل تھے، ہمیشہ اس کا حصہ رہے یا اب بھی اس کا حصہ ہیں، جبکہ سرسید احمد خان نے اپنے ہندو ساتھیوں اور دوستوں کا کس طرح احترام کیا۔ ان پہلووں کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔

سر سید احمد خان کی شخصیت برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسے مصلح کی حیثیت سے نمایاں ہے جنہوں نے نہ صرف تعلیم کے میدان میں انقلاب برپا کیا بلکہ سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ تہذیب کے تصور کو بھی فروغ دیا۔اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے مخلص حامی تھے۔ انہوں نے اپنے گرد ایسے رفقا جمع کیے جو مذہب سے بالاتر ہو کر تعلیم اور سماجی اصلاح کے مشترکہ مقصد کے لیے سرگرم عمل تھے۔

ان کے قریبی ہندو ساتھیوں نے نہ صرف ان کے تعلیمی منصوبوں میں حصہ لیا بلکہ علی گڑھ تحریک کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔تحریک علی گڑھ کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے اپنے دور کے مشکل حالات میں یہ پیغام عام کیا کہ ترقی کا راستہ باہمی اتحاد، رواداری اور علم دوستی سے ہو کر گزرتا ہے۔

وہ نام جو یاد کئے جانے کی ضرورت ہے

اگر ہم سرسید احمد خان کے غیر مسلم یا ہندو ساتھیوں اور دوستوں کی بات کریں تو ایک طویل فہرست ہے ۔ بعض نمایاں ہندو ساتھی اور معاونین میں کئی ایسے نام شامل ہیں جنہوں نے ان کی تعلیمی اور سماجی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔

ان میں ایک نام تھا راجہ جے کشن داس۔ جو سرسید کے نہایت قریبی اور معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے سائنٹفک سوسائٹی کے قیام اور علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھنے میں بھرپور تعاون دیا اور ہر مرحلے پر سرسید کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔

اس کے ساتھ ایک نام بابو شیام پرشاد کا بھی ہے جو سرسید کے نظریات کے حامی تھے۔ وہ ان کے تعلیمی منصوبوں میں شریک رہے اور جدید تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں کی تائید کرتے رہے۔

اسی طرح پنڈت بدری ناتھ بھی ان کے با اعتماد ساتھی تھے جنہوں نے بھی سائنٹفک سوسائٹی میں سرسید کا ساتھ دیا۔ وہ علمی سرگرمیوں میں شریک رہے اور اس ادارے کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایک اور نام بابو جیوتی پرشاد کا ہے جوغازی پور میں سرسید کے علمی اور سماجی کاموں کے معاون تھے۔ انہوں نے مقامی سطح پر سرسید کے مشن کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام شخصیات اس بات کی روشن مثال ہیں کہ سرسید کی تحریک محض ایک کمیونٹی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں مختلف مذاہب کے افراد نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔

سر سید کے نزدیک ہندوستان ایک مشترکہ تہذیبی ورثہ تھا جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے سہارے اور طاقت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ علمی اور سماجی سطح پر گہرے روابط رکھتے تھے اور ان کے تہواروں میں بھی شریک ہوتے تھے۔

راجہ جے کشن  کی گود میں ۔بسمہ اللہ کی رسم 

ممتاز تاریخ داں اور اے ایم یو ای ریٹائرڈ چیف پی آراو راحت ابرار کے مطابق ۔۔۔ سرسید احمد خان نے اپنے پوتے راس مسعود کی بسم اللہ کی رسم روایت کے برعکس مسجد کے بجائے اسٹریچی ہال میں ادا کی تھی۔اس موقع پر سر سید نے ایک ہندو شخصیت راجہ جے کشن داس کی گود میں بچے کو بٹھا کر بسم اللہ کرائی۔ یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ سر سید کے نزدیک مذہبی ہم آہنگی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی رویہ تھا جسے انہوں نے اپنی زندگی میں اپنایا۔

راحت ابرار کا کہنا تھا کہ سرسید احمد خان نے راجہ جےکشن داس کا اس طرح استقبال کیا جیسے وہ ان کے اپنے بھائی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے پوتے میں بھی وہ خصوصیات دیکھنا چاہتا ہوں جو راجہ جے کشن میں ہیں۔عام تاثر یہی ہے کہ سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک صرف مسلمانوں تک محدود رہی لیکن ایسا نہیں تھا ۔یہ تحریک ایسی تھی جس نے دیگر مذاہب کے سماجی رہنماوں کو بھی سرگرم کیا ۔ان کی سوچ اور جدوجہد نے دور رس اثرات مرتب کیے۔ ان کی تحریک کے اثرات صرف ایک طبقے تک محدود نہیں رہے بلکہ دیگر حلقوں نے بھی ان کے تعلیمی ماڈل سے رہنمائی حاصل کی۔

اگر بات کریں راجہ جے کشن  داس کے ساتھ دوستی کی تو  اس کا سبب مراد آباد کا ایک یتیم خانہ تھا جو سرسید نے بدترین خشک سالی کے بعد قائم کیا تھا ،راجہ جے کشن اس کو دیکھنے آئے تو ان کا خیال تھا کہ اس میں صرف مسلم بچے ہوں گے مگر اس کے برعکس اس میں سرسید کو ہر طبقہ کے یتیم بچوں کی خدمت کرتے پایا ۔جس کے بعد انہوں نے سرسید کا ساتھ نہیں چھوڑا

 سرسید ماڈل اور  ڈی وی اے 

  مہارشی دیانند سرسوتی نے آریہ سماج تحریک کی بنیاد رکھی اور بعد میں ان کے پیروکاروں نے تعلیمی میدان میں نمایاں کام کیا۔ وہ بھی سرسید  کے بہت  قریبی ہو گئے تھے ، ان کے ایک پیرو کار لالہ لاجپت رائے نے کھلے طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ جب ڈی اے وی کالج اور دیانند اینگلو ویدک ادارے قائم کیے گئے تو اس میں سرسید کے علی گڑھ ماڈل کو ہی مثال بنایا گیا ۔ اس ماڈل کی بنیاد جدید تعلیم اور سماجی اصلاح کے امتزاج پر تھی۔ لاجپت رائے کا ایک خط اے ایم یو کے سرسید ہاوس میوزیم میں موجود ہے جس میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے ۔

دیانند سرسوتی کی حمایت

یاد رہے سوامی دیانند سرسوتی نے ہندو سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں جیسے اندھی رسومات اور توہمات کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی ۔ وہ لوگوں کو ویدوں کی اصل تعلیمات کی طرف لانا چاہتے تھے لیکن بہت سے لوگ رسم و رواج میں الجھے ہوئے تھے۔ ۔ خاص طور پر بنارس جو سناتن دھرم کا بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا وہاں ان کے خیالات کی وجہ سے انہیں مارا پیٹا بھی گیا۔

ایسے حالات میں سر سید احمد خان نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے انہیں اپنے گھر مدعو کیا۔ سر سید نے کھلے دل کے ساتھ ان کی بات سنی اور نہایت وسعت نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر پر ویدوں کا سنایا۔ یہ عمل ان کی رواداری۔ سیکولر سوچ اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال تھا۔سوامی دیانند کے قریبی ساتھیوں میں راجا جے کشن داس بھی شامل تھے جو ان کے بڑے مداح تھے۔ جب بھی سوامی دیانند علی گڑھ آتے تو وہ انہی کے گھر قیام کرتے تھے اور سر سید احمد خان بھی وہیں آ کر ان سے ملاقات کرتے تھے۔

گائے کا احترام

دراصل 1857 کی بغاوت کی بنیاد ہی گائے پر رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ سرسید نے ہندو بھائیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے پہلے دن ہی کہا تھا کہ میرے کالج میں گائے کا گوشت نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ وہ ہاسٹل تھا۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے راحت ابرار کہتے ہیں کہ ایک دفعہ لڑکے بقرعید میں ذبح کرنے کے لیے گائے لائے تھے۔ سرسید اپنے گھر پر تھے۔ کسی نے انہیں اس کی خبر کی تو وہ دوڑ کر ہاسٹل پہنچے اور گائے کو ذبح ہونے سے روکا ۔ یہی نہیں اس کے بعد حکم دیا کہ جس لڑکے نے بھی زندگی میں ایسا کیا ہو اس کو باہر کا راستہ دکھا دیا جائے گا ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا

دراصل سرسید کا یہ قول کہ ہندو اور مسلمان ہندوستان کی دو آنکھیں ہیں، ان کے وسیع النظر اور ہمہ گیر فکر کی عکاسی کرتا ہے۔دراصل سر سید احمد خان کی جدوجہد محض ایک تعلیمی تحریک نہیں تھی بلکہ ایک ایسا سماجی وژن تھا جس کی بنیاد اتحاد، برداشت اور مشترکہ ترقی پر قائم تھی۔