ڈاکٹر بشیر بدر کاانتقال، اردو غزل کا روشن چراغ بجھ گیا

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 28-05-2026
                          ڈاکٹر بشیر بدر کاانتقال، اردو غزل کا روشن چراغ  بجھ گیا
ڈاکٹر بشیر بدر کاانتقال، اردو غزل کا روشن چراغ بجھ گیا

 



 بھوپال : پدم شری ایوارڈ یافتہ اور عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر بشیر بدر اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ انہوں نے جمعرات 28 مئی کو دوپہر تقریباً 12 بجے بھوپال کے علاقے عیدگاہ ہلز میں واقع اپنی رہائش گاہ پر 91 برس کی عمر میں آخری سانس لی۔

اطلاعات کے مطابق بشیر بدر کافی عرصے سے علیل تھے اور عمر سے متعلق مختلف مسائل کا سامنا کر رہے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے ادبی دنیا میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بشیر بدر اردو شاعری کا ایک ایسا معتبر نام تھے جنہوں نے کئی دہائیوں تک اپنی منفرد غزلوں کے ذریعے قارئین اور سامعین کے دلوں پر راج کیا۔ ان کی شاعری میں محبت۔ جدائی۔ تنہائی۔ رشتوں کی نزاکت۔ یادوں کی کسک اور انسانی جذبات کی سادگی بھرپور انداز میں جھلکتی تھی ،وہ جب بھی کسی مشاعرے میں شریک ہوتے تو سامعین بڑی بے تابی سے ان کا انتظار کرتے۔ ان کا منفرد لہجہ اور سادہ مگر دل میں اتر جانے والا انداز انہیں دیگر شعرا سے ممتاز بناتا تھا۔بشیر بدر کی شاعری آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی ادبی سرمایہ رہے گی اور اردو ادب میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

یادداشت گنوانے کے بعد بشیر بدر کی ایک ویڈیو ان کی اہلیہ کے ساتھ

شاعری سے ان کا تعلق بچپن ہی سے قائم ہو گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے سات برس کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کا کلام کسی معتبر ادبی جریدے میں شائع ہو اور یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب ان کے اشعار معروف ادبی رسالے “نگار” میں شائع ہوئے۔

ڈاکٹر بشیر بدر کچھ عرصہ محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے مگر ان کی اصل پہچان شاعری بنی۔ بعد میں وہ میرٹھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئے جبکہ زمانہ طالب علمی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے تھے۔

جدید اردو غزل میں بشیر بدر کا نام ایک منفرد حیثیت رکھتا تھا۔ انہوں نے غزل کو نئی زبان۔ نئے استعارے اور نئی حسیت عطا کی۔ ان کے شعری مجموعے “اکائی” اور “امیج” نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی جبکہ ان کی شاعری نے اردو داں طبقے کے ساتھ غیر اردو قارئین کو بھی متاثر کیا۔

بشیر بدر کا یہ شعر ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا:

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اپک حساس انسان ایک عظیم شاعر

 ڈاکٹر بشیر بدر جدید اردو غزل کا ایک نہایت معتبر اور مقبول نام تھے۔ انہوں نے اردو شاعری کو نئی فکر۔ نئی زبان اور نئی حسیت عطا کی تھی۔ ان کی شاعری میں محبت۔ تنہائی۔ انسانی رشتوں کی نزاکت اور بدلتے ہوئے سماجی حالات کی جھلک نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں دکھائی دیتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا کلام خواص کے ساتھ عوام میں بھی بے حد مقبول ہوا۔

بشیر بدر 15 فروری 1935ء کو ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی تھی اور اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ علمی ماحول نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو مزید نکھارا تھا اور بعد میں وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے تھے۔

ان کی زندگی میں ایک بڑا سانحہ اس وقت پیش آیا تھا جب دہلی میں ان کا گھر آتش زدگی کا شکار ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں ان کے قیمتی مسودات اور برسوں کی ادبی محنت ضائع ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد وہ بھوپال منتقل ہو گئے تھے جہاں انہوں نے اپنی ادبی زندگی کو نئے انداز میں جاری رکھا تھا۔

بشیر بدر کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی سادگی اور روانی تھی۔ انہوں نے غزل کو مشکل الفاظ اور ثقیل تراکیب سے نکال کر عام فہم زبان عطا کی تھی۔ ان کے کئی اشعار زبان زد عام ہو چکے تھے اور مشاعروں میں بے حد پسند کیے جاتے تھے۔

حکومتِ ہند نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پدم شری سے نوازا تھا جبکہ ساہتیہ اکیڈمی نے بھی ان کی خدمات کو سراہا تھا۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں “آہٹ”۔ “آس”۔ “اکائی” اور “امیج” شامل تھے۔

ڈاکٹر بشیر بدر۔ اردو غزل کا ایک یادگار عہد

ڈاکٹر بشیر بدر جدید اردو غزل کے ان ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے شاعری کو نئی تازگی۔ نیا اسلوب اور نئی لفظیات عطا کی تھیں۔ وہ 15 فروری 1935 کو کانپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا جبکہ ان کے والد کا نام سید محمد نظیر تھا۔ کم عمری ہی سے انہیں تعلیم اور ادب سے گہرا شغف تھا۔ صرف چودہ برس کی عمر میں ہائی اسکول فرسٹ ڈویژن سے پاس کیا تھا اور بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔تعلیم کے زمانے ہی میں ان کی ادبی صلاحیتیں نمایاں ہونے لگی تھیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے تھے۔ بعد میں میرٹھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوئے اور تدریسی خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

نئی اردو غزل کو نیا لہجہ دینے والے شاعر

بشیر بدر نے اردو غزل کو روایتی دائرے سے نکال کر ایک نئی سمت عطا کی تھی۔ ان کی شاعری میں جدید انسان کی نفسیات۔ اس کے جذبات۔ تنہائی۔ رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور روزمرہ زندگی کے احساسات بڑی خوبصورتی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے تھے۔ انہوں نے غزل میں ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال کی تھیں جنہیں اس سے پہلے غزل میں کم جگہ ملی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا کلام عام قاری سے لے کر سنجیدہ ادبی حلقوں تک یکساں مقبول ہوا تھا۔

بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی اور بے ساختگی تھی۔ انہوں نے بول چال کی عام اردو کو شعری حسن کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا تھا کہ ان کے اشعار زبان زد عام ہو گئے تھے۔ ان کی غزلوں میں ایک ہلکی سی ڈرامائی کیفیت اور کہانی پن بھی محسوس ہوتا تھا جو قاری کو اپنی طرف متوجہ رکھتا تھا۔

اعزازات اور ادبی خدمات

ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ ساہتیہ اکیڈمی اور مختلف ریاستی اردو اکیڈمیوں نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے متعدد اعزازات پیش کیے تھے۔

 ان کے شعری مجموعوں میں “اکائی”۔ “آمد”۔ “آسمان” اور “آہٹ” خاص طور پر بے حد مقبول ہوئے تھے۔ ان کا کلیات بھی شائع ہو چکا تھا جسے اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔بشیر بدر نے اردو غزل کو ایک ایسا نیا اور دلنشیں لہجہ عطا کیا جو ایک طرف کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا تھا تو دوسری جانب جدید احساسات اور عصری جذبات کی بھرپور ترجمانی بھی کرتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ انہیں مرزا غالب کے بعد غیر اردو داں طبقے میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے شعراء میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی شاعری نے نہ صرف اردو قارئین بلکہ دیگر زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادب دوستوں کے دلوں میں بھی خاص جگہ بنائی۔