سری نگر:آواز دی وائس
ابتدا میں ان کا خواب عربی یا فارسی کے پروفیسر بننے کا تھا۔ سول سروس میں آنے کا خیال بعد میں پیدا ہوا جب ان کے دوستوں اور اساتذہ نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے انہیں اس سمت میں آنے کا مشورہ دیا۔
اس کا انکشاف ڈاکٹر عبدالحفیظ شاہ مسعودی نے کیا جو کہ جموں کشمیر کے ایک سینئر کے اے ایس افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ممتاز ادیب محقق اور ثقافتی شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
ان کا تعلق ضلع کپواڑہ کے ایک خوبصورت اور دور دراز گاؤں کچانامہ سے ہے جہاں قدرتی حسن کے ساتھ ایک سادہ دیہی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں سوشل ویلفیئر سے لے کرانفارمیشن ٹیکنالوجی تک کئی اہم محکموں میں خدمات انجام دی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ پہاڑی زبان ادب اور ثقافت کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرم رہے ہیں اور متعدد تحقیقی و ادبی تصانیف کے مصنف ہیں۔
یاسمین خان کے ساتھ اس تفصیلی نشست میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی پیشہ ورانہ سفر علمی دلچسپیوں اور موجودہ سماجی و انتظامی مسائل پر کھل کر گفتگو کی۔

ابتدائی زندگی اور سروس میں آنے کا سفر
ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ ان کا بچپن ایک دیہی ماحول میں گزرا جہاں سادگی اور فطرت سے قربت نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور استاد کیا اور کرن کے ایک اسکول میں تدریسی خدمات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ان کا خواب عربی یا فارسی کا پروفیسر بننا تھا۔ سول سروس میں آنے کا خیال بعد میں پیدا ہوا جب ان کے دوستوں اور اساتذہ نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے انہیں اس سمت میں آنے کا مشورہ دیا۔انہوں نے 1995 میں سول سروس امتحان کے لیے درخواست دی اور طویل عمل کے بعد 1999 میں ان کا انتخاب ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف اضلاع میں سوشل ویلفیئر افسر کے طور پر خدمات انجام دیں اور پھر بتدریج اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔
مختلف سرکاری ذمہ داریاں اور تجربات
طویل کیریئر میں ڈاکٹر شاہ نے بارہمولہ کپواڑہ اور پلوامہ جیسے اضلاع میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ ڈپٹی ڈائریکٹر جوائنٹ ڈائریکٹر انڈسٹریز اینڈ کامرس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کپواڑہ اور لیک کنزرویشن مینجمنٹ اتھارٹی میں وائس چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔اس کے علاوہ وہ فلوریکلچر کے ڈائریکٹر اور مختلف محکموں میں اسپیشل سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ موجودہ وقت میں وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ میں اسپیشل سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
پالیسی اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پالیسی سازی اور اس کے عملی نفاذ میں فرق ایک حقیقت ہے۔ اس کی بڑی وجہ عوامی توقعات سیاسی دباؤ اور انتظامی رکاوٹیں ہیں۔ڈاکٹر شاہ نے ایک دلچسپ مثال دیتے ہوئے کہا کہ اکثر لوگ انصاف کے نام پر دراصل اپنے حق میں فیصلہ چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سوچ نظام کو متاثر کرتی ہے اور شفاف عمل درآمد میں رکاوٹ بنتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کوئی افسر ایمانداری سے کام کرے تو اسے مزاحمت اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اس کے باوجود اصولوں پر قائم رہنا ضروری ہے۔

ڈیجیٹل کشمیر اور ٹیکنالوجی کا کردار
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا ایک انقلابی قدم ہے جو عوامی خدمات کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ کشمیر میں ابھی بھی ڈیجیٹل ڈیوائیڈ موجود ہے مگر وقت کے ساتھ یہ فرق کم ہو رہا ہے۔ زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے جیسے منصوبے جاری ہیں مگر انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی کے باعث یہ عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے۔
ادب ثقافت اور پہاڑی زبان سے وابستگی
ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ ادب اور ثقافت سے ان کا تعلق خاندانی ورثہ ہے۔ وہ شروع سے ہی جموں کشمیر کلچرل اکیڈمی سے وابستہ رہے ہیں اور ان کی تخلیقات مختلف ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ ایک سرکاری افسر کے لیے ادب سے جڑے رہنا آسان نہیں ہوتا مگر انہوں نے ہمیشہ اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق انسان کے اندر کا تخلیق کار زندہ رہنا چاہیے۔

کتاب شاردہ ٹو سنسد کی اہمیت
ان کی حالیہ کتاب شاردہ ٹو سنسد ایک اہم تحقیقی کام ہے جس میں پہاڑی ثقافت اور شناخت کے تاریخی سفر کو بیان کیا گیا ہے۔ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ شاردہ قدیم دور کی ایک عظیم علمی درسگاہ تھی جو نالندہ اور ٹکشلا کے ساتھ شمار ہوتی تھی۔ بعد میں یہ ایک مذہبی اور ثقافتی علامت بن گئی۔کتاب میں شاردہ رسم الخط کی تاریخ اور اس کے ارتقا کو بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی حالیہ قانون سازی کا ذکر بھی ہے جس کے ذریعے پہاڑی طبقے کو شیڈول ٹرائب کا درجہ دیا گیا۔
شاردہ رسم الخط اور اس کی تاریخی حیثیت
انہوں نے وضاحت کی کہ شاردہ رسم الخط برہمی رسم الخط سے نکلا اور دیوناگری کے درمیان ایک اہم مقام رکھتا ہے۔یہ رسم الخط صدیوں تک مختلف زبانوں کے لیے استعمال ہوتا رہا مگر وقت کے ساتھ اس کا استعمال ختم ہو گیا۔ اس کے باوجود یہ کشمیر کی تہذیبی یادداشت کا اہم حصہ ہے۔
پہاڑی ثقافت کے معمار اور علمی شخصیات
انہوں نے پہاڑی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے نذیر احمد مسعودی اور دیگر بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب دراصل انہی لوگوں کی خدمات کا اعتراف بھی ہے اور نئی نسل کو اپنی شناخت سے جوڑنے کی ایک کوشش ہے۔
ریزرویشن کے بارے میں نقطہ نظر
ریزرویشن کے حوالے سے انہوں نے ایک متوازن رائے پیش کی۔ ان کے مطابق اصولی طور پر سب کو برابر مواقع ملنے چاہئیں مگر عملی طور پر محروم طبقات کے لیے ریزرویشن ضروری ہو جاتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ریزرویشن کو وقتی ہونا چاہیے اور وقتاً فوقتاً اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے میں توازن برقرار رہے۔
بیوروکریسی کے چیلنجز اور دباؤ
انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی میں کام کرتے ہوئے کئی طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ کئی بار ایسے فیصلے بھی لینے پڑتے ہیں جو ذاتی طور پر مشکل ہوتے ہیں مگر وہ حالات کی ضرورت ہوتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے رہنمائی
ڈاکٹر شاہ نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی زندگی کا واضح ہدف مقرر کریں اور پوری محنت اور توجہ کے ساتھ اس کے حصول کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمت عوامی خدمت کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ نجی شعبہ مالی ترقی کے لیے زیادہ مواقع دیتا ہے۔ اس لیے ہر نوجوان کو اپنی ترجیحات کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔یہ تفصیلی گفتگو ڈاکٹر عبدالحفیظ شاہ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب بیوروکریٹ ہیں بلکہ ایک حساس ادیب اور ثقافت کے علمبردار بھی ہیں۔ان کی زندگی اور خیالات نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں اور یہ انٹرویو کشمیر کے سماجی ثقافتی اور انتظامی منظرنامے کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔