نئی دہلی : آواز دی وائس
ملک آج آرمی ڈے منا رہا ہے ،فوج کی قربانیوں کو یاد کر رہا ہے ۔ملک کے عظیم شہیدوں میں ایک نام حوالدار عبدالحمید کا ہے ۔ انہیں ہندوستانی حکومت نے بعد از شہادت پرم ویر چکر سے نوازا تھا۔آپ کو بتا دیں کہ شہید حوالدار عبدالحمید نے پاکستان کے خلاف 1965 کی جنگ میں پاکستان کے 8 پیٹن ٹینک تباہ کیے تھے۔نویں ویں ٹینک کو تباہ کرنے کی کارروائی کے دوران وہ شہید ہو گئے تھے۔
حوالدارعبدالحمید نے جس جیپ میں جنگ میں حصہ لیا تھا اور پاکستان کو دھول چٹائی تھی ۔وہ آج بھی ملک کے لیے یادگار ہے ۔جس پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔یہ تمام گولیوں کے نشانات ان کی عظیم قربانی کی یاد دلا رہی ہیں ۔یہ وہی گاڑی ہے جس میں وہ سفر کیا کرتے تھے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایک سپاہی اپنے ملک کے لیے کس طرح سب سے بڑی قربانی دیتا ہے۔
Army Day - The Jeep of Shaheed Hawaldar Abdul Hamid
— mansooruddin faridi (@mfaridiindia) January 15, 2026
آرمی ڈے ۔ یاد کرو قربانی #ArmyDay #ARMY pic.twitter.com/dMaUKxYX29
یہ حقیقت ہے کہ جنگیں صرف جدید ہتھیاروں اور تکنیکی برتری سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ اصل امتحان انسانی حوصلے جذبات اور بہادری کا ہوتا ہے۔ تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ وسائل سے مالا مال اور طاقتور قومیں اکثر غرور میں مبتلا ہو کر یہ سمجھنے لگتی ہیں کہ وہ ناقابل شکست ہیں۔ ایسی قومیں یہ بھول جاتی ہیں کہ اسلحہ تو خریدا جا سکتا ہے مگر بہادر سپاہی ماؤں کی تربیت اور قوم کے عزم سے پیدا ہوتے ہیں۔
ستمبر 1965 کی جنگ اسی حقیقت کی روشن مثال ہے۔ پاکستان نے امریکی ساختہ پیٹن ٹینکوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کھیم کرن کے محاذ پر حملہ کیا۔ اس وقت پیٹن ٹینک دنیا کے جدید ترین اور خطرناک ہتھیار سمجھے جاتے تھے جبکہ ہندوستانی فوج کے پاس ان کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید اینٹی ٹینک ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔ اس کے باوجود میدان جنگ میں حالات نے وہ رخ اختیار کیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہی حالات میں ہندوستانی فوج کی 4 گرینیڈیرز کے حولدار عبدالحمید نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنی آر سی ایل بندوق اور جیپ کے ذریعے پیٹن ٹینکوں کا مقابلہ کیا۔ گنے کے کھیتوں میں چھپ کر انہوں نے نہایت قریب سے ٹینکوں کو نشانہ بنایا اور دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔ چند ہی دنوں میں انہوں نے کئی ٹینک تباہ کیے اور کئی پر قبضہ کیا۔ یہ کارنامہ عسکری تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
آخرکار مادر وطن کے دفاع میں وہ شہید ہو گئے مگر ان کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ ان کی بہادری نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حوصلوں سے جیتی جاتی ہیں۔ آج بھی جب کسی فوجی چھاؤنی میں دشمن کے چھوڑے گئے ٹینک دیکھے جاتے ہیں تو وہ حولدار عبدالحمید کی عظیم قربانی اور بے مثال جرات کی یاد دلاتے ہیں۔