ادتی بھادری
متحدہ عرب امارات میں ایک جوہری بجلی گھر پر ڈرون حملے کے باعث آگ لگ گئی۔ ابو ظہبی کے حکام نے گزشتہ روز اتوار 17 مئی کو یہ اطلاع دی۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے کسی پر الزام عائد نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ متحدہ عرب امارات پر زور دے رہا ہے کہ وہ خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر قبضہ کرے۔
چند روز قبل وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اپریل کے آغاز میں ایران کے خلاف خفیہ فوجی حملے کیے تھے۔ ان میں سے ایک حملہ اسی لاوان جزیرے پر واقع ایک آئل ریفائنری پر کیا گیا تھا۔ اماراتی حکام نے اس حملے کا کبھی عوامی طور پر اعتراف نہیں کیا۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر یہ تنازع میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔
پورے تنازع کے دوران خلیجی ممالک نے خاصی احتیاط اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ جب اسرائیل اور امریکہ ایران پر حملے کر رہے تھے تو تہران نے اپنے خلیجی پڑوسیوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اگرچہ زیادہ تر حملے ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے لیکن تہران نے شہری انفراسٹرکچر اور مالی و توانائی مراکز کو بھی نشانہ بنایا۔ تہران کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ امریکہ پر براہ راست حملہ نہیں کرسکتا اس لیے وہ خطے میں موجود امریکی اڈوں اور ان شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مجبور ہے جہاں اس کے مطابق امریکی فوجی اہلکار موجود رہتے ہیں۔ اس کے باوجود تقریباً تمام خلیجی ممالک نے جوابی کارروائی سے گریز کیا۔ بلکہ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی اور امریکی اہلکاروں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے خلیجی اڈوں کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی۔ تمام خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات پر ہوئے جہاں تقریباً 3000 ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔

اگر یہ حملے خلیجی سلامتی اور معیشت کے لیے نقصان دہ تھے تو آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک مختلف نوعیت کا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ عالمی معیشت کی سب سے اہم گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان الجابر کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا 1 ارب بیرل تیل سے محروم ہوچکی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے لیے یہ معاملہ وجودی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی آمدنی سے جڑی ہوئی ہے۔ اب اسے محسوس ہورہا ہے کہ اس کی یہ آمدنی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ یہی صورتحال بڑی حد تک اس کے اوپیک اور اوپیک پلس سے یکم مئی سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کا سبب بنی۔
متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے تھا کیونکہ اوپیک کی پابندیوں سے آزاد ہوکر وہ زیادہ خام تیل پیدا اور برآمد کرسکے گا۔ ایک اور وجہ یہ تھی کہ وہ جغرافیائی طور پر اپنے قریب خریدار تلاش کرنا چاہتا تھا۔ ہندستان کے لیے یہ اچھی خبر تھی کیونکہ وہ نہ صرف متحدہ عرب امارات کا قریبی تزویراتی شراکت دار ہے بلکہ جغرافیائی طور پر بھی قریب ہے۔
🚨🇦🇪According to a UAE report, the attack came from the western regions it could be Saudi Arabia or the Houthis in Yemen who did that. https://t.co/3xb6y4DeHg pic.twitter.com/0xlhAFfHUY
— Hamza ⚓️ (@Humzazi) May 17, 2026
اسی لیے 4 مئی کو فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹری زون پر ہونے والا حملہ ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے اگر آبنائے ہرمز کے بحران کا جلد کوئی حل نہ نکالا گیا۔
4 مئی کو ایران سے آنے والے ایک ڈرون حملے نے متحدہ عرب امارات کے فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹری زون کو نشانہ بنایا جس کے باعث آگ لگ گئی۔ اس حملے میں 3 ہندستانی کارکن بھی زخمی ہوئے۔ ہندستان نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے حالیہ ابو ظہبی دورے کے دوران بھی اس موقف کو دہرایا۔ ہندستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ جہاز رانی اور تجارت کی حمایت کی۔

ہندستانی کارکنوں کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ فجیرہ توانائی پلانٹ کی اہمیت کیا ہے؟
فجیرہ آئل ٹرمینل ایف زیڈ سی ایک اہم 1.177 ملین مکعب میٹر پر مشتمل آزاد ساحلی ذخیرہ گاہ ہے جو خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات میں مہارت رکھتی ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ فجیرہ بندرگاہ خلیج عمان میں آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے۔ اب جبکہ آبنائے ہرمز بند ہے تو عالمی رسد کے لیے اس بندرگاہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اسی لیے متحدہ عرب امارات اپنی مغرب سے مشرق تک جانے والی آئل پائپ لائن کی تعمیر تیز کررہا ہے جو فجیرہ بندرگاہ سے جڑے گی تاکہ تیل کی برآمدات دوگنی کی جاسکیں۔
یہ معاملہ ہندستان کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تقریباً 40 لاکھ ہندستانی متحدہ عرب امارات میں رہتے اور کام کرتے ہیں جن میں فجیرہ میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ فجیرہ آئل ٹرمینل کے ذریعے ہندستان کو تیل کی سپلائی جاری رکھی جاسکتی ہے جبکہ تیل کی پیداوار بھی بڑھائی جاسکتی ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران سے ہندستان کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کی زیادہ تر توانائی سپلائی آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اور اس میں رکاوٹ نے اس کی توانائی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے جیسا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے معیشت پر پڑنے والے اثرات سے ظاہر ہے۔
Highlights from a productive UAE visit, which will deepen our bilateral friendship… pic.twitter.com/e8D8Wuuz0j
— Narendra Modi (@narendramodi) May 15, 2026
مودی کے حالیہ دورہ امارات کے دوران دونوں ممالک نے فجیرہ میں متحدہ عرب امارات کے پیٹرولیم ذخائر میں ہندستان کی شراکت سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے۔فجیرہ کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا اب صرف آبنائے ہرمز کے دباؤ کی حکمت عملی نہیں رہا بلکہ یہ متحدہ عرب امارات کی معاشی شہ رگ کو براہ راست نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے اور اس نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد میں فوجی دستے بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے خفیہ طور پر ایران پر فضائی حملے کیے ہیں تو پھر یہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران ایک ماہ سے زائد عرصے سے امارات پر حملے کر رہا تھا۔ ایران کا الزام ہے کہ متحدہ عرب امارات نے امریکیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے کر ان حملوں کو دعوت دی۔
متحدہ عرب امارات میں الظفرہ فوجی اڈے پر امریکی فوجی موجود ہیں۔ ایران کے الزامات کو اس انکشاف سے تقویت ملتی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ متحدہ عرب امارات نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔ تاہم اسرائیل نے ایران کے حملوں سے تحفظ کے لیے اپنے مشہور آئرن ڈوم نظام کی کچھ بیٹریاں اور انٹرسیپٹرز متحدہ عرب امارات منتقل کیے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی مسلسل ناکہ بندی اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا ایران کے لیے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اب تک دنیا کے بیشتر ممالک نے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے جبکہ خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے کئی ممالک ایران کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر حملے آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ صورتحال بدل سکتی ہے۔