قربانی کی اصل روح اور ہماری ذمہ داریاں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-05-2026
قربانی کی اصل روح اور ہماری ذمہ داریاں
قربانی کی اصل روح اور ہماری ذمہ داریاں

 



 زیبا نسیم : ممبئی
قربانی اسلام کی عظیم عبادات میں سے ایک ہے جو محض جانور ذبح کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایمان۔ اخلاص۔ تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کا عملی اظہار ہے۔ یہ عبادت انسان کو اس حقیقت کا شعور دیتی ہے کہ بندگی کا اصل مفہوم اپنی خواہشات۔ اپنی انا اور اپنی پسند کو اللہ کے حکم کے سامنے جھکا دینا ہے۔ قربانی کی تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بے مثال اطاعت سے وابستہ ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے سب سے محبوب بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بڑھاپے میں عطا ہونے والے بیٹے کی محبت کے باوجود انہوں نے نہ کوئی سوال کیا اور نہ کسی تردد کا اظہار کیا بلکہ اللہ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے اسلام نے قربانی کی روح قرار دیا ہے۔

قربانی کا حقیقی مقصد

قربانی کا مقصد صرف جانور کا خون بہانا نہیں بلکہ اپنے اندر موجود غرور۔ خود نمائی۔ حسد۔ دنیا پرستی اور نفسانی خواہشات کو ختم کرنا ہے۔ قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک نہ جانور کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس کے حضور انسان کا تقویٰ اور نیت پہنچتی ہے۔ اگر عبادت کے پیچھے اخلاص نہ ہو تو ظاہری عمل اپنی اصل اہمیت کھو دیتا ہے۔

قربانی دراصل انسان کے اندر ایثار اور ہمدردی پیدا کرتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ چیز بھی قربان کی جا سکتی ہے۔ اسی جذبے کے ذریعے انسان اپنے رب کے قریب ہوتا اور روحانی پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔

موجودہ دور میں قربانی کا بدلتا رجحان

بدقسمتی سے آج قربانی کی اصل روح دھندلا سی گئی ہے۔ عبادت کے بجائے اسے نمود و نمائش اور سماجی برتری کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ جانور کی قیمت۔ نسل۔ وزن اور خوبصورتی کو اصل اہمیت دی جانے لگی ہے جبکہ اخلاص اور تقویٰ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

عید الاضحیٰ کے دنوں میں جانوروں کی تصاویر۔ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر نمائش کا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے قربانی کو ایک روحانی عبادت کے بجائے فیشن اور مقابلے کی شکل دے دی ہے۔ بعض لوگ صرف دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے مہنگے جانور خریدتے ہیں اور پھر ان کی تشہیر کرتے ہیں۔ یہ طرز عمل قربانی کی اصل روح کے منافی ہے۔

اسراف اور غیر ضروری نمائش

کئی مقامات پر قربانی کے جانوروں کو گلیوں اور سڑکوں میں باندھ کر لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ ٹریفک جام۔ شور و ہنگامہ اور غیر ضروری ہجوم معاشرتی بے ترتیبی کو جنم دیتا ہے۔ بعض افراد جانوروں کو غیر معمولی طور پر موٹا دکھانے کے لیے انجکشنز اور مصنوعی خوراک استعمال کرتے ہیں جو نہ صرف جانوروں کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ عبادت کی نیت پر بھی سوال کھڑے کرتے ہیں۔

اسی طرح چوراہوں میں جانوروں کی نمائش۔ چراغاں اور ان کی تشہیر قربانی کو عبادت کے بجائے تفریح اور فخر کی علامت بنا دیتی ہے۔ اسلام نے ہر عبادت میں سادگی اور اعتدال کی تعلیم دی ہے اس لیے فضول خرچی اور دکھاوا کسی طور مناسب نہیں۔

نیت کی درستگی کی اہمیت

قربانی کی قبولیت کا انحصار نیت پر ہے۔ اگر نیت اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو تو معمولی قربانی بھی اللہ کے نزدیک عظیم بن جاتی ہے لیکن اگر دل میں ریاکاری اور خود نمائی ہو تو قیمتی سے قیمتی جانور بھی عبادت کی روح سے خالی رہتا ہے۔مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قربانی کو رسم یا معاشرتی دباؤ کے بجائے خالص عبادت سمجھے۔ یہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور سنت ابراہیمی کی پیروی کے جذبے کے ساتھ ادا کیا جانا چاہیے۔

قربانی اور سماجی ذمہ داری

قربانی کا ایک اہم مقصد معاشرے میں مساوات۔ محبت اور ہمدردی کو فروغ دینا بھی ہے۔ قربانی کے گوشت میں غریبوں۔ یتیموں۔ بیواؤں اور ضرورت مندوں کا حق شامل ہے۔ اگر قربانی صرف اپنے قریبی رشتہ داروں اور آسودہ حال لوگوں تک محدود ہو جائے تو اس کا سماجی مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ خوشیوں میں دوسروں کو شریک کیا جائے۔ قربانی کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات تک خوشی پہنچانا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ایک بڑی نیکی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو اسلامی معاشرے میں بھائی چارے اور مساوات کو مضبوط بناتا ہے۔

قربانی کا عملی پیغام

قربانی انسان کو صبر۔ شکر۔ اطاعت اور ایثار کا درس دیتی ہے۔ یہ عبادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہر خواہش اور ہر تعلق سے بڑھ کر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی قیامت تک انسانیت کے لیے اطاعت اور وفاداری کی روشن مثال رہے گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کو اس کی اصل روح کے مطابق ادا کریں۔ صرف جانور پر چھری چلانے کے بجائے اپنے اندر موجود تکبر۔ حسد۔ ریاکاری اور نافرمانی کو بھی ختم کرنے کی کوشش کریں۔ جب قربانی اخلاص۔ سادگی اور تقویٰ کے ساتھ ادا کی جائے گی تو یہی عبادت انسان کی روحانی تربیت اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنے گی۔

قربانی کا حقیقی حسن اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے اور اس عبادت کو دکھاوے کے بجائے خالص بندگی کے جذبے کے ساتھ ادا کرے۔