جدوجہدِ سبھاش چندر بوس

Story by  اے ٹی وی | Posted by  Shah Imran Hasan | 12 d ago
نیتا جی جینتی اور جدوجہدِ سبھاش چندر بوس

 

awazthevoice

 

علی شاہد دلکش،کوچ بہار گورنمنٹ کالج،مغربی بنگال

عسکری خدمات کی رو سے مجاہد آزادی اور قائدِ تحریکِ آزادی کا تذکرہ ہوتا ہے تو ایک نمایاں اور روشن نام ذہن کے پردے میں گردش کرنے لگتا ہے ، وہ کوئی اور نہیں صرف اور صرف نیتا جی سبھاش چندر بوس کا ہی ہے۔ سبھاش چندر بوس تحریک آزادئِ ہند کے ان صف اول کے قائدوں میں تھے جو عالمی شناخت شخصیت کے حامل تھے۔ سبھاش چندر بوس کی پیدائش 23/ جنوری 1897ء کو اڑیسہ (قدیم صوبہ بنگال) کے کٹک میں ہوئی تھی۔

لہذا ان کی گراں قدر حب الوطنی اور ملکی خدمات کے مدنظر ہی ان کے یوم ولادت کو روایتی طور پر پورے بھارت میں نیتا جی جینتی (یومِ ولادتِ نیتا جی) منایا جاتا ہے۔ حکومت ہند اس رو سے عظیم مجاہد آزادی نیتا جی سبھاش چندر بوس کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتی ہے۔ جب کہ واضح طور پر حکومت مغربی بنگال، اڑیسہ، تری پورہ اور جھارکھنڈ ان کے یوم پیدائش کے دن دفتری چھٹی دے کر اس روز کو قومی جذبہ کے تحتcelebrate کرتی ہے۔ واضح ہو کہ سال 2021ء میں نیتا جی کے 124ویں یوم پیدائش کو پہلی بار "پراکرم دِوس" PRAKRAM DIVAS کے طور پر منایا گیا۔

سبھاش چندر بوس ہی وہ ہندوستانی مجاہدِ آزادی تھے، جنھوں نے بھارت کو آزاد کرانے کی جدو جہد کے تحت انگریزوں سے لڑنے کے لیے ایک فوج کو تشکیل دی۔ اس کو پوری دنیا " آزاد ہند" کے نام سے جانتی ہے۔ یہ بات طشت از بام ہے کہ برصغیر کو انگریزوں کے ناپاک قدم سے صاف کروانے کے لیے جتنی بھی تحریکیں اٹھیں ہیں۔ ان میں ایک مؤثر تحریک "آزاد ہند فوج" یا "انڈین نیشنل آرمی" بھی تھی، جس کی قیادت سبھاش چندر بوس کے ہاتھوں میں تھی۔ یہ فوج ہندوستانیوں شہریوں پر مشتمل تھی جن میں ہندو ، مسلمان اور سکھ بھی شامل تھے ۔

اس فوج کا قیام دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں جرمنی ، اٹلی اور جاپان کے زیر اثر برما میں ہوا ۔ اور اس نے اتحادی طاقتوں (برطانیہ ، امریکہ، اور فرانس) کے خلاف باضابطہ اعلانِ جنگ کیا۔ اگرچہ ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس سے برصغیر کی آزادی کی تحریک کو خاصی تقویت ملی۔

1913 میں سبھاش چندر بوس کا داخلہ اڑیسہ، کٹک کے ایک ہائی سکول سے میٹریکولیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد پریزیڈنسی کالج کلکتہ میں ہوا۔ ان دنوں وہاں کا رجحان زیادہ تر سوشل سروس کی طرف تھا اور آپ اپنا وقت اپاہجوں کی سیوا اور دکھیا بندوں کے مدد کرنے میں مصروف کیا کرتے تھے۔ جب آپ ایف۔اے میں تعلیم پارہے تھے تو آپ کی زندگی نے پہلی بار پلٹا کھایا۔

ہندوستان کے مہاپرشوں اور مہاتماؤں کے جیوں چرتر کا آپ پر گہرا اثر پڑ چُکا تھا۔ اچانک ایک روز آپ نے دنیا کو ترک کرنے کا فیصلہ کرلیا اور چپ چاپ گھر بار اور دنیاوی سُکھ چھوڑ کر گورو کی تلاش میں گھر سے نکل کر ہردوار کا رُخ کیا۔ ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ آپ پیدائشی باغی تھے تو اس میں کوئی متحیر بات نہیں۔

بتاتا چلوں کہ آپ نے  بی۔اے کا امتحان اول ڈویژن میں پاس کیا۔ پھر 1919میں ولایت چلے گئے.ذہانت کی بات چلے تو یہ بھی ظاہر ہو کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس انڈین سول سروس کے مقابلے میں بھی شریک ہوئے اور بہترین پوزیشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تب ب آپ کے لیے دنیاوی سُکھ و عیش و آرام کا راستہ کھل گیا تھا کیونکہ انڈین سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ بہترین سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے تھے۔

آپ چاہتے تو کسی ضلع کا کمشنر بن کر لاکھوں روپیہ کما لیتے لیکن قدرت نے ان کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا مزید ولایت کے سفر نے تو ان کے سینے میں آزادی کی روح پھونک دی تھی۔ لہذا نیتا جی نے نہایت سرگرمی سے سیاسیات میں حصّہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے اُجڑے ہوئے دیش کو غیروں کے آہنی پنجرے سے نجات دلانے کا تہیہ کرلیا۔

جان لیا جائے کہ اُن دِنوں پہلی عالمگیر جنگ ختم ہوچکی تھی، جنگ کے دوران برطانوی حکومت نے ہندوستانیوں سے جو وعدے کئے تھے، جنگ کے خاتمہ پر انہیں بھلا دیا گیا۔ حکومت کے خلاف ہندوستانیوں کے دلوں میں غم وغصے کی آگ بھڑک چکی تھی۔ اب انہیں حکومت برطانیہ کی نیک نیتی پرشک ہونے لگا تھا۔ جلیانوالہ باغ، امر تسر میں ہزاروں پُرامن اور نِہتے ہندوستانیوں کے قتلِ عام سے ملک کے طول و عرض میں بغاوت کے شعلے بھڑک اُٹھے۔ اس اثناء میں انڈین نیشنل کانگریس میں بھی رجعت پسندوں کا اثر زائل ہوچکا تھا اور لوگ یہ سمجھ چکے تھے کہ حکومت سے محض درخواستیں کرنے اور پروٹسٹ کے ریزولیوشن پاس کرنے سے ملک کو آزادی نصیب نہ ہوگی۔

نتیجے کے طور پر 1922ء میں آپ نے سی۔آر۔داس کے ہمراہ  انڈین نیشنل کانگریس کے گیا سیشن میں شمولیت کی۔ کانگریس میں دو دھڑے بن چکے تھے ایک کونسلوں سے فائدہ اُٹھانے کے حق میں تھا دوسرا کونسلوں کا بائیکاٹ کرنا چاہتا تھا۔ سی۔آر۔داس کونسلوں کے حامی تھے۔ انہوں نے اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے "سوراج پارٹی" کی بنیاد رکھی۔ سبھاش چندر بوس نے ایک سچے پیروکار کی طرح اپنے سیاسی گرو سی۔آر۔داس کا ساتھ دیا اور الیکشن پروپیگنڈہ میں دن رات ایک کر دیئے۔ بعد ازاں بوس سوراج پارٹی کے اخبار ھارورڑ کے چیف ایڈیٹر بنائے گئے اور اپریل 1924ء میں کلکتہ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بن گئے۔

دوسری جانب 1920ء میں جب انڈین نیشنل کانگریس کے ناگپور سیشن میں ہندوستانیوں نے عملی کاروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت سے عدم تعاون کا ریزولیوشن پاس کردیا تھا۔ جبکہ جلیانوالہ باغ کے حادثے سے لوگوں کے جذبات اس قدر مشتعل ہوچکے تھے کہ رابندرناتھ ٹیگور نے سر کا خطاب ترک کر دیا اور وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر سرسنکرن نائر نے بطور پروٹسٹ کونسل کی ممبری ٹھکرا دی۔ چنانچہ سبھاش بوس نے استعفیٰ دے دیا۔ نابغۂ حالات

1924؁ء  میں بنگال میں پھر سخت گیری کا دور شروع ہوا۔ حکومت سوراج پارٹی کی سرگرمیوں سے گھبرا اُٹھی تھی۔ اسے اس بات کا احساس ہو چکا تھا کہ اگر بنگال میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہروں کو ضرب و کرب نہ لگایا گیا تو حالات خطرناک صورت اختیار کرجائیں گے۔اس لئے احتیاطی اقدام کے طور پر حکومت نے بنگال آرڈی نینس پاس کردیا۔

اس آرڈی نینس کے روسے حکومت کسی کو محض شبہ کی بناء پر مقدمہ چلائے بغیر نظر بند کرسکتی تھی۔ اس آرڈی نینس کا پہلا وار سبھاش بوس اور "سوراج پارٹی" کے کئی دیگر سرکردہ لیڈروں پر ہوا۔ سبھاش پھر گرفتار کرلئے گئے اور بغیر مقدمہ چلائے نظر بند بھی کردیئے گئے۔ سی۔آر۔داس نے ان گرفتاریوں کی سخت مذمت کی اور کلکتہ کارپوریشن میں منعقدہ ایک پروٹسٹ میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا:

"اگر دیش سے محبت کرنا جرم ہے، تو میں بھی مجرم ہوں ۔ اگر سبھاش بوس مجرم ہیں تو نہ صرف میں بلکہ ہر بنگالی مجرم ہے۔"

قابلِ ذکر طور پر جنوری 1930ء کو لاہور کے عوامی جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے سبھاش بوس نے کہا"چونکہ ہم اپنے بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم ان کی اندھا دھند پیروی بھی کریں۔ ہمارے لیڈر نوجوانوں سے گھبراتے ہیں لیکن آزادی ہمیشہ نوجوانوں کے تحریک سے ہی آیا کرتی ہے ہندوستان کی نجات ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ترکی کے نوجوانوں نے کمال پاشا پیدا کیا روس نے لینن پیدا کیا۔ آپ میں سے بھی کئی لینن اور کمال پاشا بن سکتے ہیں بشرطیکہ آپ اپنے وطن کو آزاد کرانے کا تہہ کرلیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔"

 اکتوبر کو سبھاش بوس وائسرائے ہند سے دہلی میں ملے جب ملاقات کے بعد باہر نکلے تو صحافیوں کے ایک ہجوم نے انہیں گھیرلیا اور وائسرائے کے ساتھ بات چیت کے متعلق متعدددریافت کئے سبھاش بوس نے مسکراتے ہوئے کہا:

"میں کبھی دو زبانوں میں نہیں بولا کرتا."

تاریخ دان ششیر کمار بوس اپنی کتاب "دی گریٹ سکیپ" میں لکھتے ہیں:

"میں اشوک کو بتا ہی رہا تھا کہ کیا معاملہ ہے کہ انشورنس ایجنٹ ضیاالدین (دوسرے بھیس میں سبھاش) جو ذرا فاصلے پر اتارے گئے تھے، گھر میں داخل ہوئے۔ وہ اشوک کو انشورنس پالیسی کے بارے میں بتا ہی رہے تھے کہ انھوں نے کہا کہ ہم شام کو یہ باتیں کریں گے۔ نوکروں کو حکم دیا گیا کہ ضیاالدین کے آرام کے لیے ایک کمرے میں انتظامات کریں۔ ان کی موجودگی میں اشوک نے مجھے انگریزی میں ضیاءالدین کا تعارف کروایا جبکہ چند منٹ قبل میں نے ہی انھیں اپنی کار سے اشوک کے گھر کے قریب اتارا تھا۔ پھر الصبح وہ ایک جرمن انجینیئر اور دو دیگر افراد کے ہمراہ وہاں سے نکل گئے۔

المختصر نیتا جی نے افغانستان کی سرحد پار کی، ازبکستان کے شہر سمرقند پہنچے، اور پھر وہاں سے ٹرین کے ذریعے ماسکو چلے گئے۔ تاہم وہاں سے سبھاش چندر بوس جرمنی کے دارالحکومت برلن پہنچے۔

واضح ہو کہ جب سبھاش چندر بوس بحفاظت جرمنی پہنچے تو ان کے بھائی شرد چند بوس بیمار رابندر ناتھ ٹیگور سے ملنے کے لیے شانتی نکیتن گئے۔ وہاں انھوں نے اس عظیم شاعر کو بوس کی انگریزی پہرے سے فرار کی خبر سنائی۔

نتیجتاً اگست 1941 میں اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل لکھی گئی اپنی آخری کہانی 'بدنام' میں ٹیگور نے افغانستان کے پتھریلے راستوں پر آزادی کی تلاش میں سرگرداں ایک تنہا شخص کا دل میں اتر جانے والا خاکہ کھینچا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ نیتا جی کی موت ایک راز ہے۔ ابھی یہیں قلم کو روک رہا ہوں۔  زندگی باقی رہی تو پھر تفصیلات کے ساتھ ملاقات ہوگی۔