شب برات کی حقیقت اور فضیلت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-02-2026
شب برات کی حقیقت اور فضیلت
شب برات کی حقیقت اور فضیلت

 



زیبا نسیم - ممبئی

شب برات شعبان کی 15 ویں رات کو کہا جاتا ہے۔ قرآن حکیم میں اسے لیلۃ مبارکہ کہا گیا ہے اور احادیث میں لیلۃ النصف من شعبان کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس رات کو برات یعنی نجات کی رات اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت اور فضل سے بے شمار گناہ گار بندوں کو جہنم کے عذاب سے نجات عطا فرماتا ہے۔

شب برات کی فضیلت سے متعلق احادیث بہت سے صحابہ کرام سے مروی ہیں۔ ان میں حضرت ابو بکر صدیق۔ حضرت علی المرتضی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص۔ حضرت معاذ بن جبل۔ حضرت ابو ہریرہ۔ حضرت ابو ثعلبہ خشنی۔ حضرت عوف بن مالک۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری۔ حضرت ابو امامہ باہلی اور حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔

سلف صالحین اور اکابر علماء کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات عبادت کرنا ان کا مستقل معمول تھا۔ اس رات عبادت۔ ذکر۔ دعا اور وعظ و نصیحت کی محافل منعقد کرنا بدعت نہیں بلکہ احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے عمل کے عین مطابق ہے۔ امت مسلمہ صدیوں سے اس رات کی فضیلت پر عمل کرتی چلی آ رہی ہے۔صحابہ کرام۔ تابعین۔ تبع تابعین اور ائمہ حدیث نے اپنی کتب میں شب برات کا واضح ذکر کیا ہے۔ بہت سے محدثین نے شعبان کی پندرہویں رات کے عنوان سے مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔ جب ائمہ حدیث کسی موضوع پر مستقل باب قائم کرتے ہیں تو یہ ان کے عقیدے اور موقف کی دلیل ہوتا ہے۔

امام ترمذی۔ امام نسائی۔ امام ابن ماجہ۔ امام احمد بن حنبل۔ امام ابن خزیمہ۔ امام ابن حبان۔ امام ابن ابی شیبہ۔ امام بزار۔ امام طبرانی۔ امام بیہقی۔ امام ابن ابی عاصم اور دیگر ائمہ حدیث اس رات کی فضیلت کے قائل تھے۔ وہ خود بھی اس رات عبادت کرتے تھے۔ روزہ رکھتے تھے۔ قبرستان جاتے تھے اور امت کے لیے دعا کرتے تھے۔

احادیث کی روشنی میں شب برات

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ رکھنے والے کے سوا سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں رات قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ غروب آفتاب سے فجر تک اپنی رحمت کا اعلان فرماتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس رات بے شمار لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور کینہ رکھنے والے اور ناحق قتل کرنے والے کے سوا سب کو معاف فرما دیتا ہے۔

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کی مغفرت فرماتا ہے اور بغض رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس رات ایک منادی ندا دیتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت مانگنے والا۔ ہے کوئی سوال کرنے والا۔ زانی اور مشرک کے سوا ہر ایک کو عطا کیا جاتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں ہوتی۔ ان میں شعبان کی پندرہویں رات بھی شامل ہے۔

اکابر علماء کی آراء

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت میں بہت سی احادیث اور آثار وارد ہوئے ہیں اور سلف صالحین اس رات عبادت کیا کرتے تھے۔انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس رات اکیلے یا جماعت کے ساتھ عبادت کرے تو یہ بہتر عمل ہے۔علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شام کے بڑے تابعین اس رات کی بہت تعظیم کرتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے۔ان تمام دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ شب برات کی فضیلت ثابت ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اس سلسلے کی تمام احادیث ضعیف ہیں۔ بہت سی احادیث حسن کے درجے تک پہنچتی ہیں۔ محدثین کے نزدیک فضائل کے باب میں ضعیف روایت بھی قابل قبول ہوتی ہے۔شب برات میں عبادت کرنا۔ تلاوت کرنا۔ ذکر کرنا۔ دعا مانگنا اور اللہ سے مغفرت طلب کرنا مستحب ہے۔ جو شخص اس رات کی عبادت کو بدعت کہتا ہے وہ دراصل احادیث نبویہ اور سلف صالحین کے عمل کا انکار کرتا ہے۔

شب برات میں عبادت کا طریقہ

اس رات اکیلے عبادت کرنا بھی درست ہے اور اجتماعی عبادت کرنا بھی درست ہے۔ ہر شخص اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق عمل کرے۔ اصل مقصد دل کی اصلاح اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔اجتماعی عبادت سے دینی رغبت پیدا ہوتی ہے اور سستی دور ہوتی ہے۔ اس میں تعلیم اور تربیت کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے۔ تاہم اجتماعی عبادت کسی صاحب علم اور باعمل عالم کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔